Tuesday, 12 May 2026
  1.  Home
  2. Nai Baat
  3. Muhammad Irfan Nadeem
  4. Madinay Ka Shaheed Aur Rasool Allah Ki Baddua

Madinay Ka Shaheed Aur Rasool Allah Ki Baddua

نجد جزیرہ نما عرب کا وسطی علاقہ ہے، یہ مدینہ منورہ سے لے کر یمامہ تک پھیلا ہوا ہے، یہاں کے نخلستان بہت مشہور ہیں، صحرا ؤں کے بیچوں بیچ کہیں کہیں کھجوروں کے باغات اور میٹھے پانے کے چشمے ہیں۔ بعثت نبوی کے وقت نجد کے اس علاقے میں، مدینہ سے کافی فاصلے پر ایک کنواں تھا جسے معونہ کہا جاتا تھا۔ یہ بنو عامر اور بنو سلیم کی ملکیت تھا اور ابلیٰ پہاڑ کے قریب واقع تھا۔

صفر چار ہجری میں نجد کا ایک سردار ابوبراءعامر بن مالک آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ یہ بنو عامر کے معزز لوگوں میں سے تھا مگر قبیلے کی اصل قیادت اس کے بھتیجے عامر بن طفیل کے پاس تھی۔ ابو براءآپ سے بڑے احترام سے پیش آیا، آپ نے اسے اسلام کی دعوت دی، اس نے قبول کیا نہ ہی انکار، بلکہ کہنے لگا آپ اپنے ساتھیوں کا ایک وفد میرے ساتھ بھیج دیں جو اہل نجد کو اسلام کی دعوت دے اس کے بعد ہم قبول اسلام کا فیصلہ کریں گے۔ آپ نے فرمایا: "میں اہل نجد سے مطمئن نہیں ہوں، میرے اصحاب کو وہاں کوئی حادثہ پیش آ سکتا ہے"۔ اس نے کہا: "آپ فکر نہ کریں، یہ تمام لوگ میری امان میں ہوں گے"۔

آپ نے سترحفاظ اورعالم دین صحابہ کرامؓ کو اس کے ساتھ روانہ کر دیا۔ یہ لوگ معونہ کے علاقے میں پہنچے تو ابوبراءکے بھتیجے عامر بن طفیل نے جو بنو عامر کا سردار تھا، دھوکے سے صحابہ کرامؓ پر حملہ کر دیا۔ صحابہ کرام نہتے تھے مگر بہادری سے لڑے اور 68 صحابہ کرام شہید ہو گئے۔ جبرائیلؑ نے رسول اللہ کو واقعے کی اطلاع دی، آپ بہت غمگین ہوئے، کئی دن تک طبیعت بے چین رہی اور آپ اس سانحے کے غم سے نہ نکل سکے۔ صحابہ کرامؓ نے کسی اور واقعے پر آپ کو اتنا غمگین نہیں دیکھا تھا جتنا آپ اس واقعے پر پریشان تھے۔ آپ نے پورا ایک مہینہ قاتلوں کے لیے بد دعا کی اور ہر صبح نماز فجر میں قنوت نازلہ پڑھ کر ان کا نام لے کر ان کے لیے بد دعا کر تے تھے۔

آپ رسول اللہﷺ کی زندگی کا مطالعہ کریں، آپ کو رسول اکرم کی نبوت کے بعد کی زندگی کا ہر دن اذیت اور تکلیف سے بھرپور نظر آئے گا، یہ تئیس سال آپ نے کانٹوں کی سیج پر گزارے تھے، مشقت، حادثات، غم اور تکالیف ہر لمحے آپ کے سامنے بانہیں پھیلائے کھڑے ہوتے تھے مگر آپ کی زبان پر کبھی اُف تک نہیں آیا۔ بد دعا تو دور کی بات آپ نے کبھی شکایت تک نہیں کی۔ کفار مکہ نے آپ پر زندگی اجیرن کر دی تھی، عقبہ ابن ابی معیط جیسے بدبخت نے آپ کے گلے میں چادر ڈال کر آپ کا گلہ گھونٹنے کی کوشش کی مگر آپ نے اسے بد دعا نہیں دی۔ ابوجہل ساری حدیں کر اس کر گیا مگر آپ اس کے اسلام کے لئے دعائیں کرتے رہے۔

آپ کو تین سال شعب ابی طالب کے اندر قید رکھا گیا مگر آپ کی زبان پر شکوہ تک نہیں آیا۔ طائف میں آپ کے ساتھ جو کچھ ہوا اسے پڑھ کر آج بھی آنکھیں برس پڑتی ہیں مگر آپ نے فرشتے کی فرمائش کے باوجود بد دعا نہیں کی۔ ہبار ابن الاسود نے آپ کی لخت جگر سیدہ زینبؓ کو دھکا دے کر اونٹ سے گرا دیا تھا جس سے وہ شدید زخمی ہوگئی تھیں مگر آپ کی زبان پر حرف شکایت نہیں آیا۔

وحشی نے آپ کے محبوب چچا اور عظیم سپہ سالار حضرت حمزہؓ کو شہید کیا مگر آپ نے اسے بھی معاف کر دیا تھا۔ غزوہ احد میں آپ کے دندان مبارک شہید ہوئے مگر آپ کے صبر اور برداشت میں ذرہ بھر فرق نہیں آیا۔ غزوہ خندق میں سارا کفر متحد ہو کر آپ کو زیر کرنے آیا مگر آپ نے بد دعا نہیں کی۔ غزوہ حنین میں آپ پر مشکل وقت آیا مگر آپ دعا گو رہے اور سریہ موتہ میں آپ کے محبوب غلام حضرت زید بن حارثہؓ، جعفر طیارؓ اور عبداللہ بن رواحہؓ جیسے عظیم سپہ سالار شہید ہوئے مگر آپ پر صبر غالب رہا۔

تئیس سالہ مصیبتوں اور مشقتوں سے بھرپور زندگی کے کسی بھی موقع پر آپ کی رحمة اللعالمینی میں کوئی فرق نہیں آیا مگر کیا وجہ ہے کہ آپ بئرمعونہ کے واقعے پر پورا ایک مہینہ بددعا کرتے رہے اور بد دعا بھی نام لے کر کی، کیوں؟ کیونکہ یہ علم کی موت تھی، یہ علم کی شہادت تھی اور یہ ظلم اور دھوکا تھا اور آپ علم کی موت اور ظلم اور دھوکے پر خاموش نہیں رہ سکتے تھے۔ بئر معونہ کے واقعے میں شہید ہونے والے اکثر صحابہ کرامؓ حفاظ، قراء اور عالم دین تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جو دن میں جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر رات کو صفہ کی درسگاہ میں دین کا علم حاصل کرتے تھے۔ انہوں نے اپنی زندگیاں علم دین کے حصول میں صرف کی تھیں اور اب یہ دین کے مبلغ بن کر نجد جا رہے تھے۔ 68 دین کے عالم اور مبلغ صحابہ کرامؓ کی شہادت کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا۔ یہی وجہ تھے کہ رسول اللہ نے ان کو شہید کرنے والوں کے لیے پورا ایک مہینہ بددعا کی تھی۔

ایک عام انسان کی موت اور عالم کی موت میں بڑا فرق ہوتا ہے اور یہ وہی فرق تھا جس کی وجہ سے آپﷺ بددعا پر مجبور ہو گئے تھے۔ آپﷺ سن رسیدہ، بزرگ، مالدار اور عظیم سپہ سالار صحابہ کرامؓ کی وفات پر اتنے دکھی نہیں ہوئے تھے جتنے آپ ان عالم دین اصحاب کی وفات پر ہوئے۔ میں نے جب سے مولانا ادریس صاحب کی شہادت کی خبر سنی ہے میں اس دکھ اور صدمے سے باہر نہیں نکل سکا۔ آخر ہم بحیثیت قوم اور بحیثیت ریاست نبی اکرم کی اس بددعا کو کیوں نہیں سمجھ رہے، ہم رسول اللہﷺ کی بددعا پر کیوں غور نہیں کر رہے اور ہم ان علماءکو کھو کر مطمئن کیوں بیٹھے ہیں۔

میرا یہ یقین ہے کہ اس ملک پاکستان کا سب سے بڑا سرمایہ علماءہیں۔ بلکہ صرف پاکستان ہی کیوں اس دنیا میں سب بڑھ کر علماءہیں، ان سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں اور ان کے جانے سے بڑا کوئی غم اور نقصان نہیں۔ یہ ہیں تو پاکستان ہے، ان کے دم سے اس ملک کی رونقیں ہیں اور ان کے وجود اور آہ سحر گاہی سے اللہ کی رحمتوں اور برکتوں کا نزول ہوتا ہے۔

آخر ہم کیوں نہیں سمجھ رہے کہ اہل علم کی شہادت پر رسول اللہﷺ کی ذات بھی بد دعا پر اتر آئی تھی، ہمیں کیوں اندازہ نہیں ہو رہا کہ یہ شہادتیں معمولی بات نہیں ہے، یہ قیامت کا پیش خیمہ ہیں، یہ پوری دنیا کی تباہی کی نشان دہی ہیں۔ یہ صرف پاکستان نہیں پوری انسانیت کا اجتماعی مسئلہ ہیں، علماءہیں تو دین ہے، دین ہے تو دنیا ہے، جس دن اس دنیا پر کوئی کلمہ گو نہ رہا وہ اس دنیا کا آخری دن ہوگا اور اس کے بعد قیامت ہے۔

لوگ یہاں جمہوریتیں بحال کرنے میں مگن ہیں مگر میرا دکھ اس کے سوا ہے۔ علم اور علماءکی شہادتوں پر خاموشی ہے، ظلم پر پردہ ہے، اہل علم کو چن چن کر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ جس طرز عمل پر رحمة اللعالمین بھی تڑپ اٹھے تھے ہم اسے معمولی واقعہ سمجھ کر زندگی میں مطمئن بیٹھے ہیں، یہ دنیا جن کے دم بہ دم سے قائم ہے ہم انہیں سمجھ ہی نہیں رہے، ہمیں ان کی قدر ہی نہیں ہو رہی اور ہم وہ بدبخت ہیں جو اپنے ہی ہاتھوں سے انہیں شہید کر رہے ہیں۔ ہم میں اور بنو سلیم میں کیا فرق رہ گیا ہے؟ کوفہ اور پاکستان میں کیا فرق رہ گیا ہے۔ یاد رکھیں دو تین صدیوں بعد جب اس امت کی تاریخ لکھی جائے گی تو مستقبل کا مؤرخ ہمارے بارے میں وہی الفاظ درج کرے گا جو آج ہم اہل کوفہ کے بارے میں کرتے ہیں۔ اہل کوفہ آج تک کوفی ہیں اور قیامت تک کوفی ہی رہیں گے۔ کیوں اس لیے کہ انہوں نے اہل علم اور اہل بیت کی قدر نہیں کی تھی۔

رسول اللہﷺ نے فرمایا تھا قیامت کے نزدیک علم اٹھا لیا جائے گا اور اس کی صورت یہ ہوگی کہ اہل علم اٹھا لیے جائیں گے، آج ہم اپنے ہاتھوں سے رسول اللہﷺ کی پیشنگوئیاں پوری کر رہے ہیں، ہمارا کیا بنے گا اور ہم کس منہ سے رسول اللہﷺ کا سامنا کریں گے۔ ہمارے پڑوس میں واقع انڈیا میں آج تک کوئی عالم شہید نہیں ہوا اور ہم مدینہ میں رہ کر علماءکے لاشیں اٹھا اٹھا کر تھک چکے ہیں، انڈیا کے مسلمان ضرور سوچتے ہوں گے یہ کیسا ملک اور کیسی قوم ہے جہاں رسول اللہﷺ کے ورثا محفوظ نہیں اور ان کی لاشیں سڑکوں سے اٹھانا پڑتی ہیں۔