Wednesday, 15 April 2026
  1.  Home
  2. Nai Baat
  3. Muhammad Irfan Nadeem
  4. Hawaon Ka Rukh

Hawaon Ka Rukh

جان رینے شارٹ1951 میں سکاٹ لینڈ میں پیدا ہوئے، اعلیٰ تعلیم برطانیہ کی معروف جامعات سے حاصل کی اور بعد ازاں امریکہ میں تدریس اور تحقیق سے وابستہ ہو گئے۔ انہوں نے جغرافیہ کو اپنی علمی زندگی کا مرکز بنایا۔ شہریات، عالمی سیاست اور انسانی جغرافیہ پر ان کی تحقیق نے انہیں اس میدان میں ایک معتبر نام بنا دیا ہے۔ جغرافیہ کے موضوع پر انہوں نے متعدد کتب تحریر کیں، جن میں Understanding Cultural and Human Geography خاص طور پر نمایاں ہے۔

اس کتاب میں وہ نہایت دلچسپ اور سادہ انداز میں یہ واضح کرتے ہیں کہ کس طرح جغرافیہ، ماحول اور قدرتی عوامل انسانی تاریخ کے بڑے فیصلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں اور یہی پس منظر ہمیں اس سوال تک لے جاتا ہے کہ آخر 1492 میں کولمبس ہی کیوں نئی دنیا امریکہ تک پہنچا۔ ہندوستان یا چین جیسی عظیم تہذیبیں جو اس وقت علم، معیشت اور ثقافت میں دنیا سے کہیں آگے تھیں اس کارنامے کی طرف نہ بڑھ سکیں؟ مصنف اس سوال کا جواب ایک حیران کن مگر حقیقت سے بھرپور جملے میں دیتا ہے "ہواؤں کا رخ"۔

یہ جواب بظاہر سادہ ہے مگر اس کے اندر تاریخ، جغرافیہ اور تقدیر کی ایک پوری داستان چھپی ہوئی ہے۔ بحرِ اوقیانوس میں چلنے والی ہوائیں دراصل ایک قدرتی نظام کے تحت یورپ سے مغرب کی سمت چلتی ہیں جو بادبانی جہازوں کو دھکیلتے ہوئے امریکہ کے ساحلوں تک بآسانی لے جاتی ہیں۔ پھر یہی ہوائیں شمال مشرق کا رُخ اختیار کرکے واپسی کا راستہ بھی فراہم کرتی ہیں۔ یوں ایک قدرتی دائرہ یا لوپ بن جاتا ہے جو صدیوں تک یورپی مہمات کے لیے شاہراہ بنا رہا۔ یہی وجہ تھی کہ کولمبس کے لیے نئی دنیا امریکہ کا سفر آسان تھا اور وہ اس سفر میں کامیاب ہوگیا۔ اس کے برعکس ہندوستان اور چین کے پاس ایسی کوئی قدرتی سہولت اور قدرتی ہوائیں موجود نہیں تھی جو انہیں مغرب کی سمت اسی آسانی سے لے جا سکتی۔

انسانوں اور اقوام کی کامیابی صرف محنت، ذہانت یا وسائل سے حاصل نہیں ہوتی بلکہ اس میں قدرتی عوامل بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ کہنا شاید غلط نہ ہو کہ قدرت بھی بعض اوقات اپنے فیصلوں کے مطابق حالات اور وسائل مخصوص قوموں کے لیے ہموار کر دیتی ہے۔ کامیابی ایک کثیرالجہتی عمل ہوتاہے جس میں قدرتی مواقع اور انسانی فیصلے دونوں شامل ہوتے ہیں۔ پندرھویں صدی میں ہوائیں اگرچہ یورپ کے حق میں تھیں مگر ان ہواؤں سے فائدہ اٹھانے کے لیے ہمت، جستجو اور خطرہ مول لینے کی صلاحیت بھی درکار تھی۔

اگر کولمبس اور یورپی اقوا م سمندر میں اترنے کا حوصلہ نہ کرتیں تو ہوائیں محض ہوائیں ہی رہ جاتیں، تاریخ نہ بنتیں۔ ہم اکثر یہ سنتے ہیں کہ "محنت کامیابی کی کنجی ہے" لیکن ہواوں کا یہ رخ ہمیں بتاتا ہے کہ اندھی محنت ہمیشہ کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتی بلکہ اگر محنت درست سمت میں نہ ہو یا محنت کے ساتھ ہوائیں آپ کے ساتھ نہ ہوں تو وہ محنت ضائع بھی ہو سکتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم محنت کے ساتھ یہ بھی جانیں کہ "ہواؤں کا رخ" کس طرف ہے، حالات، رجحانات اور مواقع کس سمت جا رہے ہیں۔

پھر صرف ہواؤں کے رُخ کو جان لینا بھی کافی نہیں ہوتا بلکہ ان ہواوں کے رخ کو اپنے حق میں استعمال کرے کا سلیقہ بھی لازم ہے۔ ایک ماہر ملاح صرف یہ نہیں دیکھتا کہ ہوا کس سمت چل رہی ہے بلکہ وہ اپنی کشتی کے بادبان اس انداز سے ترتیب دیتا ہے کہ وہ ہوا کو اپنی منزل کے لیے استعمال کر سکے۔ یہی اصول زندگی، سیاست اور معیشت پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ مستقبل کو جاننے کے لیے بھی ہواؤں کے رخ کا اندازہ ضروری ہے۔

حالات بدلتے ہیں، ترجیحات تبدیل ہوتی ہیں اور نئی قوتیں ابھرتی ہیں۔ جو قومیں ان تبدیلیوں کو بروقت سمجھ لیتی ہیں وہ خود کو نئے حالات کے مطابق ڈھال لیتی ہیں جبکہ باقی قومیں وقت کے دھارے میں پیچھے رہ جاتی ہیں۔ آج اگر ہم اپنے اردگرد نظر ڈالیں تو صاف نظر آتا ہے کہ دنیا ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے۔ طاقت کا توازن بدل رہا ہے، نئی معیشتیں ابھر رہی ہیں اور ٹیکنالوجی انسانی زندگی کے ہر پہلو کو تبدیل کر رہی ہے۔ ایسے میں محض محنت کرنا کافی نہیں بلکہ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ محنت کس سمت میں کی جا رہی ہے۔

بدقسمتی سے ہمارے ہاں اکثر پالیسی سازی جذبات، وقتی مفادات یا روایتی سوچ کے تحت کی جاتی ہے۔ ہم یہ دیکھنے کی زحمت نہیں کرتے کہ دنیا کس سمت جا رہی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی پالیسیوں کو "ہواؤں کے رخ" کے مطابق ترتیب دیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپنی شناخت یا اصولوں کو چھوڑ دیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم حقیقت پسندانہ انداز میں دنیا کو سمجھیں اور اپنے فیصلے اسی کے مطابق کریں۔ ہم یہ دیکھیں کہ آنے والے وقت میں کون سے شعبے اہم ہوں گے، کون سی مہارتیں درکار ہوں گی اور کن مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔

تعلیم، معیشت اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ہمیں ایسی حکمت عملی اپنانا ہوگی جو ہمیں مستقبل کے تقاضوں کے مطابق تیار کرے۔ ہمیں نوجوان نسل کو صرف ڈگریاں دینے کے بجائے انہیں کون سی ایسی صلاحیتیں سکھانا ہوں گی جو بدلتی ہوئی دنیا میں کامیابی کے لیے ضروری ہیں۔ اسی طرح معیشت کو بھی ایسے شعبوں کی طرف موڑنا ہوگا جہاں ترقی کے زیادہ امکانات ہوں۔ ہواؤں کے رخ کو بدلنے کے لیے اجتماعی کوشش درکار ہوتی ہے۔ ایک فرد اپنی زندگی میں تو تبدیلی لا سکتا ہے لیکن قوموں کی تقدیر اجتماعی فیصلوں سے بدلتی ہے۔ اس کے لیے قیادت کا وژن، اداروں کی مضبوطی اور عوام کی شعوری شرکت ضروری ہے۔

دنیا میں وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جو نہ صرف حالات اور ہواوں کے رخ کو سمجھتی ہیں بلکہ انہیں اپنے حق میں استعمال بھی کرتی ہیں۔ یورپ نے بھی یہی کیا تھا اور آج ہمیں بھی اسی کی ضرورت ہے۔ کولمبس اور یورپی اقوام نے ہواؤں کے رخ کو پہچانا، سمندروں میں اترنے کا حوصلہ کیا اور پھر اپنی حکمت عملی کے ذریعے ان قدرتی مواقع کو عالمی طاقت میں بدل دیا۔ آج ہمیں بھی اسی سوچ کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ دنیا بدل رہی ہے اور ہمیں بھی بدلنا ہوگا۔

ہمیں یہ سیکھنا ہوگا کہ ہواؤں کے رخ کو کیسے پہچانا جائے اور پھر انہیں اپنی کامیابی کے لیے کیسے استعمال کیا جائے۔ اگر ہم واقعی کامیابی چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی سوچ کو بدلنا ہوگا۔ ہمیں بے تکی محنت کے بجائے دانشمندانہ محنت کو اپنانا ہوگا۔ ہمیں ہواؤں کے رخ کو پہچاننا ہوگا، انہیں اپنے حق میں موڑنا ہوگا اور اپنی پالیسیوں کو اسی کے مطابق ترتیب دینا ہوگا۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں نہ صرف حال میں کامیاب بنا سکتا ہے بلکہ مستقبل کی قیادت کے قابل بھی کر سکتا ہے۔