Tuesday, 16 June 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Dr. Muhammad Tayyab Khan Singhanvi
  4. Khamosh Mualij

Khamosh Mualij

جدید طب نے انسانی جسم کے علاج کے لیے بے شمار ادویات، جراحی طریقوں اور سائنسی تحقیقات کو فروغ دیا ہے، لیکن بعض اوقات زندگی ایسے حقائق بھی سامنے لے آتی ہے جو انسان کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں کہ صحت اور بیماری کا تعلق صرف دواؤں اور طبی آلات سے نہیں بلکہ انسانی ذہن، احساسات اور رویّوں سے بھی گہرا رشتہ رکھتا ہے۔ گزشتہ چند دہائیوں میں نفسیات، اعصابی سائنس اور طب کے اشتراک سے ہونے والی تحقیقات نے یہ ثابت کیا ہے کہ انسانی جذبات جسمانی صحت پر غیرمعمولی اثرات مرتب کرتے ہیں۔ انہی حقائق میں سے ایک حقیقت ہنسی اور خوش مزاجی کی وہ طاقت ہے جسے آج دنیا "لافٹر تھراپی" کے نام سے جانتی ہے۔

انسانی تاریخ میں بہت سے ایسے افراد گزرے ہیں جنہوں نے اپنے ذاتی تجربات کو اجتماعی فلاح کا ذریعہ بنایا، مگر نارمن کزنز کا نام اس حوالے سے منفرد اہمیت کا حامل ہے۔ وہ بنیادی طور پر ایک صحافی، مصنف اور سماجی کارکن تھے، طبیب نہیں تھے، لیکن اپنی شدید بیماری کے خلاف جدوجہد نے انہیں طبِ نفسی اور انسانی رویّوں کے مطالعے میں ایک نمایاں مقام عطا کیا۔ ان کی زندگی کا اہم ترین سبق یہ تھا کہ بعض اوقات انسان کی ذہنی کیفیت اس کے جسمانی حالات کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

شدید ذہنی دباؤ، مسلسل اضطراب اور اعصابی تناؤ انسانی جسم کے لیے خاموش زہر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ طبی ماہرین آج اس حقیقت پر متفق ہیں کہ مستقل ذہنی دباؤ ہارمونز کے توازن کو بگاڑتا، قوتِ مدافعت کو کمزور کرتا اور متعدد جسمانی بیماریوں کے امکانات بڑھا دیتا ہے۔ دل کے امراض، ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، بے خوابی اور متعدد نفسیاتی عوارض کے پیچھے اکثر ذہنی تناؤ ایک اہم عامل کے طور پر موجود ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جدید طب اب بیماری کے علاج کے ساتھ ساتھ مریض کی ذہنی کیفیت کو بھی خصوصی اہمیت دیتی ہے۔

ہنسی بظاہر ایک سادہ انسانی عمل محسوس ہوتی ہے، لیکن اس کے حیاتیاتی اثرات نہایت گہرے ہیں۔ جب انسان دل کھول کر ہنستا ہے تو دماغ میں ایسے کیمیائی مادے خارج ہوتے ہیں جو درد کے احساس کو کم کرتے اور ذہنی سکون پیدا کرتے ہیں۔ ان میں اینڈورفنز، ڈوپامین اور سیروٹونن جیسے مرکبات شامل ہیں جو قدرتی طور پر خوشی، اطمینان اور راحت کے احساس سے وابستہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خوش مزاج افراد عموماً زندگی کے مسائل کا مقابلہ زیادہ حوصلے اور استقامت سے کرتے ہیں۔

معاشرتی سطح پر بھی ہنسی کی اہمیت غیرمعمولی ہے۔ مسکراہٹ دلوں کے درمیان فاصلے کم کرتی، سماجی تعلقات کو مضبوط بناتی اور باہمی اعتماد میں اضافہ کرتی ہے۔ جو معاشرے مسلسل خوف، غصے، نفرت اور مایوسی کے ماحول میں زندہ رہتے ہیں وہاں ذہنی بیماریوں، عدم برداشت اور سماجی کشیدگی کی شرح نسبتاً زیادہ ہوتی ہے۔ اس کے برعکس امید، خوش مزاجی اور مثبت طرزِ فکر اجتماعی نفسیات کو بہتر بناتے ہیں اور معاشرتی استحکام کو فروغ دیتے ہیں۔

تاہم اس حقیقت کو بھی پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے کہ ہنسی کو ہر بیماری کا مکمل علاج قرار دینا سائنسی احتیاط کے منافی ہوگا۔ سنگین جسمانی امراض کے علاج کے لیے مستند طبی مشورہ، ادویات اور جدید علاجی طریقے ناگزیر ہیں۔ البتہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مثبت ذہنی کیفیت علاج کے عمل کو مؤثر بنانے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ آج دنیا کے متعدد اسپتالوں اور بحالی مراکز میں مریضوں کی ذہنی آسودگی کے لیے تفریحی سرگرمیوں، مزاحیہ پروگراموں اور گروہی مشقوں کو علاج کے معاون حصے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

بدقسمتی سے موجودہ دور میں انسان مادی آسائشوں کے حصول کی دوڑ میں اس قدر مصروف ہو چکا ہے کہ اس نے مسکرانے کے مواقع بھی محدود کر دیے ہیں۔ ڈیجیٹل رابطوں کی فراوانی کے باوجود تنہائی بڑھ رہی ہے، معلومات کی کثرت کے باوجود ذہنی سکون کم ہو رہا ہے اور سہولتوں کے انبار کے باوجود اطمینانِ قلب ناپید ہوتا جا رہا ہے۔ ایسے حالات میں خوشی کے چھوٹے چھوٹے لمحوں کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔

زندگی کی تلخیوں، معاشی مشکلات اور سماجی چیلنجز کے باوجود اگر انسان اپنے اندر امید، شکرگزاری اور خوش مزاجی کو زندہ رکھے تو وہ نہ صرف نفسیاتی دباؤ کا بہتر انداز میں مقابلہ کر سکتا ہے بلکہ اپنی جسمانی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ مسکراہٹ کوئی مہنگی دوا نہیں، قہقہہ کسی نسخے کا محتاج نہیں اور خوش دلی کسی دوا ساز کمپنی کی پیداوار نہیں، یہ وہ قدرتی نعمتیں ہیں جو انسان کو خالقِ کائنات نے عطا کی ہیں۔

شاید اسی لیے کہا جاتا ہے کہ بعض اوقات ایک سچی مسکراہٹ وہ کام کر دیتی ہے جو کئی دوائیں بھی نہیں کر پاتیں۔ ہنسی بیماری کا متبادل نہیں، لیکن صحت کی طرف سفر میں ایک مؤثر رفیق ضرور ہے۔ اگر ہم اپنی روزمرہ زندگی میں خوش مزاجی، مثبت سوچ اور مسکراہٹ کے لیے کچھ وقت نکال لیں تو ممکن ہے ہم نہ صرف زیادہ خوش رہیں بلکہ زیادہ صحت مند بھی۔