Tuesday, 05 May 2026
    1.  Home
    2. Nai Baat
    3. Muhammad Irfan Nadeem
    4. Chote Madaris, Bare Kaam

    Chote Madaris, Bare Kaam

    چک نمبر 36 ضلع بھکر کا ایک چھوٹا اور عام سا گاؤں ہے، یہاں بلندوبالا عمارتیں ہیں نہ وسیع بازار، ترقی کے شور شرابے ہیں نہ شہرت کے چرچے مگریہاں کی زرخیز زمین نے کئی نامور شخصیات کو جنم دیا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بڑے انسان ہمیشہ بڑے شہروں میں ہی پیدا نہیں ہوتے بلکہ کبھی کسی خاموش بستی، کسی مٹی کے صحن، کسی کچے کمرے اور کسی سادہ ماحول سے بھی ایسے چراغ روشن ہوتے ہیں جن کی روشنی ایک عالم کو منور کرتی ہے۔

    تقسیمِ ہند کے بعد یہاں ایک چھوٹا سا دینی مدرسہ قائم ہوا جس کے روحِ رواں مولانا اللہ دتہ تھے۔ وہ علمِ صرف و نحو کے ماہر، فنونِ عربیہ کے شناور اورمیدان تدریس کے شاہ سوار تھے۔ ان کی شہرت پورے علاقے میں پھیلی ہوئی تھی اور لوگ دور دور سے علمی استفادے کے لیے ان کے پاس آتے تھے۔ سن 1969 میں دو بھائی اس مدرسے میں حفظِ قرآن کے لیے داخل ہوئے۔ ان کے نام عبد الکریم اور عبد الرحیم تھے۔ یہ دونوں بچے اسی مدرسے کے ماحول میں پروان چڑھے، پہلے قرآنِ کریم حفظ کیا، پھر درسِ نظامی کی ابتدائی کتابیں پڑھیں۔

    انتہائی درجات کی کتب کی تدریس کا وہاں اہتمام نہیں تھا لہٰذا یہ دونوں بھائی لاہور شفٹ ہوگئے۔ ان میں سے چھوٹے بھائی کانام عبد الرحیم تھا جو آج مفتی عبد الرحیم کے نام سے معروف ہیں۔ مفتی عبد الرحیم کون ہیں اورآج یہ کیا خدمات سر انجام دے رہے ہیں یہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ سردست یہ واقعہ نما حقیقت بتانے کا مقصد اس امر کی نشاندہی ہے کہ بڑے انسان ہمیشہ بڑے اداروں، بڑے شہروں، بڑے وسائل اور بڑے ناموں سے پیدا نہیں ہوتے بلکہ کبھی کبھار کسی گاؤں کے چھوٹے مدرسے سے بھی ایسا سفر شروع ہوتا ہے جو لاکھوں کروڑوں لوگوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بن جاتا ہے۔

    آج ہمارا موضوع گاؤں، دیہات، قصبوں اور دور دراز بستیوں میں قائم یہی دینی مدارس ہیں جوخاموشی سے خدمتِ دین کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔ یہ وہ مدارس ہیں جنہیں معاشرہ اکثرنظر انداز کر دیتا ہے۔ مگرحقیقت یہ ہے کہ آج اسلامی تہذیب، دینی روایت، علومِ نبوت، قرآن و سنت کی تعلیم، مساجد کی رونق، اذان کی صدااور دین سے وابستہ ایک زندہ روح اس معاشرے میں اگرباقی ہے تو اس کے پیچھے انہی مدارس کا کردار ہے۔

    یہ چھوٹے مدارس موجودہ دور میں اسلامی تاریخ و تہذیب کا آخری مضبوط مورچہ ہیں۔ آج ہماری یونیورسٹیوں میں جدید سائنس، ٹیکنالوجی، مینجمنٹ، انجینئرنگ، طب، قانون اور دنیاوی علوم تو پڑھائے جاتے ہیں مگر قرآن، حدیث، فقہ، تفسیر، عقائد، عربی زبان، اصولِ دین اور علومِ شریعت کی حفاظت، تدریس، اشاعت اور تسلسل کا بوجھ اگر کسی نے اٹھایا ہوا ہے تو وہ یہی مدارس ہیں۔ یہی وہ ادارے ہیں جنہوں نے علمِ دین کی شمعیں بجھنے نہیں دیں، ایمان کی سرحدوں کی حفاظت کی اور نسلوں کو اپنے رب، اپنے نبی ﷺ اور اپنی دینی شناخت سے جوڑے رکھا ہے۔

    گاؤں، دیہات اور دور دراز علاقوں میں قائم یہ مدارس بظاہر چھوٹے، سادہ اور محدود وسائل رکھتے ہیں مگر حقیقت میں یہی وہ بنیادیں ہیں جن پر دینی تعلیم کی مضبوط عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ دنیا بڑی عمارتوں کو دیکھتی ہے، وسیع بجٹ کو اہم سمجھتی ہے، جدید سہولیات کو کامیابی کا معیار مانتی ہے مگر اللہ تعالیٰ نیت، اخلاص، محنت اور خدمت کو دیکھتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ بہت سے ادارے جو ظاہری اعتبار سے چھوٹے تھے مگروہ اثرات اور نتائج کے اعتبار سے بہت بڑے ثابت ہوئے۔ دنیا اکثر چھوٹے مدارس کو نظر انداز کر دیتی ہے کیونکہ ان کے پاس نہ شاندار عمارتیں ہوتی ہیں، نہ جدید فرنیچر، نہ اشتہاری نظام، نہ طاقتور روابط، نہ میڈیا کی توجہ اورنہ فنڈنگ کے ذرائع۔

    یہ اکثر کسی بستی کے کنارے، کسی مسجد کے ساتھ، کسی گلی کے آخر میں یا کسی گاؤں کے درمیان قائم ہوتے ہیں۔ ان کے دروازوں پر ہجوم نہیں ہوتا، ان کی تقریبات پر کیمرے نہیں ہوتے، ان کے نام سوشل میڈیا پر ٹرینڈ نہیں کرتے مگر یہ خاموشی سے وہ کام کر رہے ہوتے ہیں جو بڑے بڑے ادارے بھی نہیں کر سکتے۔ یہ بچوں کو قرآن سے جوڑتے ہیں، نوجوانوں کو مسجد سے جوڑتے ہیں، خاندانوں کو دین سے جوڑتے ہیں اور معاشرے کو اخلاق سے جوڑتے ہیں۔ ان مدارس میں آج بھی بچے چٹائیوں پر بیٹھ کر سبق پڑھتے ہیں۔ کئی طالبعلم گھروں سے روٹیاں اور سالن لا کر گزارا کرتے ہیں، کئی اساتذہ محدود وسائل میں خاموشی سے دین پڑھاتے ہیں اور کئی ذمہ داران بغیر کسی شہرت کے اپنے کندھوں پر اداروں کا بوجھ اٹھائے ہوتے ہیں۔ یہ مدارس اور ان میں پڑھنے پڑھانے والوں کی سادگی امت کی سب سے بڑی قوت اور طاقت ہے۔

    لاریب کہ دنیا وسائل سے متاثر ہوتی ہے مگر تاریخ اخلاص سے بنتی ہے۔ دنیا عمارتوں کی بلندی دیکھتی ہے مگر اللہ نیتوں کی سچائی دیکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کتنے ہی ایسے مدارس ہیں جن کے پاس وسائل نہ ہونے کے برابر ہیں مگر ان کے پاس اخلاص، استقامت، صبر، قربانی اور خدمت کا جذبہ ہے۔ جب اخلاص محنت سے مل جائے تو تھوڑا کام بھی بڑا بن جاتا ہے، چھوٹا چراغ بھی دور تک روشنی دیتا ہے اور خاموش محنت بھی صدیوں تک اثر چھوڑ تی ہے۔

    امت کے کتنے بڑے علمائ، مفتیانِ کرام، محدثین، خطبائ، داعیانِ دین، مصلحین اور فکری رہنما ایسے ہیں جن کے سفر کا آغاز کسی بڑے شہر سے نہیں بلکہ ایسے ہی کسی چھوٹے مدرسے سے ہوا۔ کسی کچے کمرے سے، کسی دیہاتی مسجد سے، کسی گاؤں کے معلم سے، کسی چٹائی پر بیٹھ کر پڑھے گئے سبق سے۔ عظمت ہمیشہ شور سے پیدا نہیں ہوتی بلکہ یہ اکثر خاموشی سے پروان چڑھتی ہے۔ قرآن میں ارشاد ہے، (مفہوم) " انہیں یہی حکم دیا گیا ہے کہ اللہ کی عبادت کریں اور دین کو اسی کے لیے خالص رکھیں"۔ یہی اخلاص ان مدارس کی اصل طاقت ہے۔ یہ ادارے دکھاوے سے نہیں اخلاص سے چلتے ہیں۔ یہ شور سے نہیں دعا سے چلتے ہیں۔ یہ تشہیر سے نہیں قربانی سے چلتے ہیں۔

    گاوں دیہات میں قائم ان مدارس میں خدمت سرانجام دینے والے اساتذہ، کارکنان اور ذمہ داران مبارکباد اور تحسین کے مستحق ہیں۔ میں ان مدارس میں پڑھانے والے اساتذہ سے درخواست کرنا چاہوں گا کہ آپ اپنے کردار پر مطمئن بھی ہوں اور اللہ کا شکر بھی ادا کریں۔ اگرچہ دنیا انہیں کم تر سمجھتی ہے مگر اللہ انہیں برتر جانتا ہے۔ اگرچہ معاشرہ ان کی محنت کا پورا اندازہ نہیں کر پاتا مگر تاریخ ان کے نقوش محفوظ رکھتی ہے۔ میری عوام سے بھی درخواست ہے کہ ان مدارس کی قدر کریں، ان کی خدمات کو پہچانیں، ان کے اساتذہ کا احترام کریں، ان کے طلبہ کی حوصلہ افزائی کریں اور ان اداروں کو معاشرے کی بنیاد سمجھیں۔

    ان کی مالی و اخلاقی معاونت کریں، ان کے خلاف پھیلائے گئے تعصبات سے بچیں اور انہیں معاشرے کے تعمیری ستون کے طور پر دیکھیں۔ آج کی سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ یہ دینی مدارس دین کے قلعے ہیں، یہی ایمان کی فصیلیں ہیں، یہی تہذیبِ اسلام کے محافظ ہیں، یہی نسلوں کے معمار ہیں اور یہی وہ خاموش چراغ ہیں جن کی روشنی سے امت کا راستہ آج بھی منور ہے اور ان شاءاللہ کل بھی منور رہے گا۔