دنیا کی عظیم طاقتیں کبھی اتفاقات پر بھروسہ نہیں کرتیں بلکہ ان کی فتوحات اور مہم جوئی کے پیچھے برسوں کی ریاضت، خفیہ منصوبہ بندی اور تذویراتی چالیں پنہاں ہوتی ہیں۔ اگر ہم پچھلے چھ ماہ یا ایک سال کی عالمی سیاست کے اوراق پلٹ کر دیکھیں تو ایک ایسا بھیانک اور مربوط جنگی منظرنامہ دکھائی دیتا ہے جس کی قیادت امریکہ اور اسرائیل کر رہے تھے۔ یہ امریکہ ایران جنگ کا منظرنامہ تھا جس کی تیاری دنیا کے آنکھوں سے دور پچھلے کئی مہینوں سے کی جا رہی تھی۔
موجودہ ایران جنگ کوئی جذباتی ٹکراؤ نہیں تھا بلکہ ایک ایسا شطرنج کا کھیل تھا جس کے مہرے واشنگٹن اور تل ابیب کے بند کمروں میں بہت پہلے ترتیب دئیے جا چکے تھے۔ بدقسمتی سے مسلم ممالک اور ان کے حکمران عالمی سیاست کی ان باریک لکیروں کو پڑھنے میں ہمیشہ ناکام رہتے ہیں جو آنے والے وقت کے طوفانوں کی نشان دہی کر رہی ہوتی ہیں۔ حالیہ ایران جنگ کے پورے منظر نامے کو سمجھنے کے لیے ہمیں ان پردوں کو چاک کرنا ہوگا جو سفارتی مصلحتوں اور خوشامدانہ بیانات کے پیچھے چھپے ہوئے ہیں۔
امریکی اور یہودی وار ڈاکٹرائن کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ وہ کبھی صرف گولیوں اور بموں سے نہیں لڑتا بلکہ وہ حملے سے پہلے مہینوں اس کی پلاننگ کرتا اور اس کے ہر پہلو کے ممکنہ نتائج پر غور کرتا ہے۔ وہ اپنی معاشی مضبوطی اور دشمن کو معاشی طور پر مفلوج کرنے کے ساتھ اپنے لیے طلب و رسد کے تمام متبادل راستے بھی محفوظ بناتا ہے۔ پچھلے چھ ماہ کی تاریخ گواہ ہے کہ ایران پر براہِ راست فوجی چڑھائی سے پہلے امریکہ نے جس قدر توانائی اور وسائل "پری پلاننگ" پر صرف کیے اس کی مثال ماضی قریب میں نہیں ملتی۔
وائٹ ہاؤس کے پالیسی ساز اس حقیقت سے بخوبی آگاہ تھے کہ ایران کوئی تر نوالہ نہیں، اگر جنگ چھڑتی ہے اور وہ طول پکڑ جاتی ہے تو اس کا سب سے پہلا اور مہلک اثر عالمی معیشت کی شہ رگ یعنی "تیل کی ترسیل" پر پڑے گا۔ ایران کے پاس "آبنائے ہرمز" کی صورت میں وہ ایٹمی بٹن موجود ہے جسے دباتے ہی دنیا کی ایک تہائی تیل کی سپلائی بند ہو سکتی ہے۔ امریکہ جانتا تھا کہ خلیجی ممالک جو تیل کی پیداوار کے مراکز ہیں، اس جنگ میں براہِ راست متاثر ہوں گے اور اگر سپلائی لائن کٹ گئی تو خود امریکہ کے اندر ایندھن کا بحران اسے گھٹنوں کے بل لا کھڑا کرے گا۔
اس بحران سے بچنے کے لیے امریکہ نے ایک ایسا تذویراتی قدم اٹھایا جس کے بارے سوچ کر آج دنیا حیران ہو رہی ہے۔ وینزویلا جو طویل عرصے سے امریکی پابندیوں کی زد میں تھا، چند ماہ قبل اس کے تیل کے ذخائر پر قبضے کی تگ و دو اور وہاں کے سیاسی نظام میں مداخلت دراصل ایران جنگ کی "انشورنس پالیسی" تھی۔ امریکہ کو اندازہ ہوگیا تھا کہ اگر ایران کے خلاف کارروائی کے نتیجے میں خلیجِ فارس کا راستہ بند ہوتا ہے تو وہ وینزویلا کے وسیع ذخائر سے اپنی اور اپنے اتحادیوں کی ضرورت پوری کرے گا۔
یہ محض اتفاق نہیں تھا کہ جس وقت ایران کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا تھا عین اسی وقت وینزویلا میں حکومت کی تبدیلی کی کوششیں تیز کر دی گئی تھیں۔ اس کا دوسرا بڑا مقصد معاشی مفاد تھا۔ امریکہ یہ منصوبہ بنا چکا تھا کہ جب جنگ کے باعث خلیجی تیل مارکیٹ سے غائب ہوگا تو وہ وینزویلا کا تیل مہنگے داموں بیچ کر نہ صرف جنگ کے اخراجات پورے کرے گا بلکہ اپنی معیشت کو بھی بڑا سہارا دے گا۔ یہ وہ استحصال ہے جسے "جنگی منافع خوری" کہا جاتا ہے جہاں خون مسلمانوں کا بہتا ہے اور تجوریاں استعماری طاقتوں کی بھرتی ہیں۔
اس منصوبے کا ایک اور تاریک پہلو خلیجی ممالک کی ترقی کو روک لگانا تھا۔ پچھلی دو دہائیوں میں خلیجی ریاستوں نے تعمیر و ترقی کے جو مینار کھڑے کیے تھے وہ انہیں ایک حد تک خود مختار بنا رہے تھے۔ امریکہ اور اسرائیل کبھی نہیں چاہتے کہ خطے کی کوئی بھی مسلم ریاست اتنی مستحکم ہو جائے کہ وہ ان کے احکامات کو چیلنج کر سکے۔ ایران کے ساتھ جنگ کا خوف دلا کر اور خطے میں عدم استحکام پیدا کرکے ان ممالک کی تمام تر توجہ اور سرمایہ کاری کو دفاعی خریداری کی طرف موڑ دیا گیا۔ آج خلیج کے کھربوں ڈالر ترقیاتی منصوبوں کے بجائے امریکی اسلحہ ساز فیکٹریوں کے پیٹ بھر رہے ہیں۔ یہ ایک ایسی نفسیاتی جنگ تھی جس میں خلیجی ممالک کو یہ باور کرایا گیا کہ ان کا وجود صرف امریکی چھتری کے نیچے ہی محفوظ ہے، حالانکہ حقیقت میں یہ چھتری خود ان کے وسائل پر قبضہ کرنے کا ایک بہانہ تھی۔
اسی عالمی بساط کا ایک نہایت دلچسپ اور اہم رخ پاکستان تھا۔ گزشتہ سال جب بھارت اور پاکستان کے درمیان پلوامہ کے بعد شدید تناؤ پیدا ہوا تھا تو اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ ہم نے دیکھا کہ ٹرمپ جو اپنی صدارت کے آغاز میں پاکستان کو "دھوکہ باز" قرار دیتا تھا اچانک پاکستانی قیادت اور بالخصوص آرمی چیف کے قصیدے پڑھنے لگا۔ وائٹ ہاؤس کے لان میں دی جانے والی عزت اور عالمی فورمز پر پاکستان کی عسکری قیادت کی تعریفیں محض ایک سفارتی تبدیلی نہیں تھی، بلکہ اس کے پیچھے ایک گہرا خوف اور ضرورت چھپی تھی۔
امریکہ اور اسرائیل کے لیے یہ ڈراؤنا خواب تھا کہ اگر ایران پر حملے کی صورت میں پاکستان جو ایک ایٹمی طاقت ہے اور جس کی سرحدیں ایران سے ملتی ہیں، تہران کے ساتھ کھڑا ہوگیا تو انہیں اپنے منصوبوں اور ارادوں کی تکمیل میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ پاک انڈیا جنگ کے بعد انہیں یقین ہو چکا تھا کہ پاکستان کی عسکری مہارت اور اس کا تذویراتی محل وقوع کسی بھی جنگ کا پانسہ پلٹ سکتا ہے۔ اس خطرے کو ٹالنے کے لیے "خوشامد ڈپلومیسی" کا آغاز کیا گیا۔
امریکہ نے پاکستانی قیادت کو یہ احساس دلایا کہ وہ خطے میں پاکستان کو ایک بڑا کھلاڑی مانتا ہے تاکہ پاکستان کو ایران جنگ میں کم از کم "غیر جانبدار" ضرور رکھا جائے۔ یہ خوشامد دراصل ایک جال تھا تاکہ پاکستان کسی بھی طور پر ایران جنگ کا حصہ نہ بنے۔ اسرائیل کے لیے پاکستان ہمیشہ سے ایک بڑا خطرہ رہا ہے اور ایران کے خلاف کسی بھی بڑی مہم جوئی سے پہلے پاکستان کو "انگیج"کرنا ان کی ترجیحات میں شامل تھا۔ یہ پچھلے چھ ماہ کی وہ تاریخ ہے جو بند کمروں میں لکھی گئی جہاں پاکستان کی عسکری قیادت کو رام کرکے اپنا مقصد نکالنے کی کوشش کی گئی۔
جب ہم پچھلے چھ ماہ کی اس پوری تصویر کو جوڑ کر دیکھتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ ایک طرف امریکہ تیل کے متبادل ذرائع پر کام کر رہا تھا، دوسری طرف خلیجی ممالک کی معیشت کو یرغمال بنایا جا رہا تھا اور تیسری طرف پاکستان جیسی بڑی فوجی طاقت کو سفارتی جھانسوں میں الجھایا جا رہا تھا۔ یہ سب اس بڑی جنگ کی تیاری تھی جس کا ہدف صرف ایران نہیں بلکہ پورے خطے کے وسائل اور جغرافیے کو تبدیل کرنا تھا۔ لیکن اس سارے عرصے میں مسلم دنیا کا رویہ کیا رہا؟ یہ سوال سب سے زیادہ تکلیف دہ ہے۔
جب دشمن اپنی صفیں درست کر رہا تھا، جب وہ ایک ایک مہرے کو ناپ تول کر رکھ رہا تھا، جب وہ اپنی معیشت اور توانائی کے تحفظ کے لیے وینزویلا تک رسائی حاصل کر رہا تھا، اس وقت مسلم امہ خوابِ غفلت میں مست تھی۔ اسرائیل اور امریکہ کی اس مشترکہ منصوبہ بندی نے ثابت کر دیا کہ وہ اپنے مفادات کے لیے کتنی دور کی سوچ رکھتے ہیں، جبکہ ہم صرف آج اور کل کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ ہم نے کبھی یہ کوشش نہیں کی کہ اپنا ایک آزاد معاشی بلاک بنائیں یا اپنی دفاعی پالیسیوں کو عالمی طاقتوں کے چنگل سے آزاد کرائیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ آج دشمن ہماری ہی دہلیز پر دستک دے رہا ہے اور ہم اب بھی یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ یہ حملہ اچانک نہیں بلکہ ایک طویل پلاننگ کا نتیجہ تھا۔
حالیہ ایران جنگ اس حقیقت کی گواہی ہے کہ دنیا کی طاقتور ترین لابیاں کس طرح پچھلے ایک سال سے ایران جنگ کی تیاریوں میں مصروف تھی۔ انہوں نے معیشت، سیاست، سفارت کاری اور میڈیا کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا تاکہ جب وہ پہلا فائر کریں تو ان کا دشمن تنہا ہو اور ان کے اپنے مفادات محفوظ ہوں۔ مسلم دنیا کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ اگر اب بھی ہم نے اپنی آنکھیں نہ کھولیں، اگر اب بھی ہم نے دشمن کی ان سازشوں اور پلاننگ کا ادراک نہ کیا تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ حالیہ ایران جنگ صرف ایران کی جنگ نہیں یہ ان تمام ممالک کی بقا کی جنگ ہے جو عالمی یہودی لابی اور عالمی طاقتوں کی آنکھوں میں کھٹکتے ہیں اور ان میں پاکستان سر فہرست ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں اور ان جالوں کا ادراک کریں جو ہمارے لیے بنے جا رہے ہیں۔