Saturday, 28 February 2026
  1.  Home
  2. Nai Baat
  3. Khalid Mahmood Faisal
  4. Dhai Saal Ka Inqilab

Dhai Saal Ka Inqilab

ایسی ہستی جس نے شاہی خاندان میں آنکھ کھولی تو خود کو مصر جیسے بڑے صوبہ کا گورنر پایا، بنی امیہ نے جن گھرانوں کو جاگیروں سے نوازا، ان کا گھرانہ بھی اس سے مستفید ہوا، انکی ذاتی جائیداد کی آمدن پچاس ہزار اشرفی سالانہ تھی، جب وہ پیدا ہوئے تو ان کے زمانہ میں صحابہ اکرامؓ اور تابعین بہ کثرت موجود تھے، آپؒ نے حدیث، فقہ کی پوری تعلیم حاصل کی، محدثین کی صف اول میں شمار کئے جاتے تھے، فقہ میں اجتہاد کا درجہ رکھتے تھے۔

اس کے باوجود رئیسوں کی طرح پوری شان سے رہتے، لباس، خوراک، سواری، مکان، عادات وخصائل سب وہی تھے جو شاہی سرکار میں شہزادوں کے ہوتے ہیں، خلافت جب بادشاہی طرز حکومت میں بدلی، تو جاہلی انقلاب کا فائدہ ان کے بھائی بندوں کو پہنچتے رہے، جو تمدنی اساس نبیﷺ اکرم اور خلفائے راشدین کے دورمیں قائم تھا اس میں بنیادی تبدیلیاں کی گئیں۔

انکی خاندانی عصبیت، ذاتی طمع اور آئندہ اپنی نسلوں کے مالی تحفظ کا پورا تقاضا تھا کہ وہ تخت شاہی پر فرعون بن کر بیٹھیں، عدل و انصاف کی فراہمی کے چکر میں نہ پڑیں، یہ خود صحابی نہیں تھے مگر ایک امتیاز انہیں یہ حاصل تھا کہ انکی والدہ ماجدہ حضرت عمرؓ کی پوتی تھیں، اسکا ہی فیض تھا کہ جب 37 سال کی عمر میں اتفاقی طور پر تخت شاہی ان کے حصہ میں آیا تو انہوں نے محسوس کیا کہ کس قدر عظیم الشان ذمہ داری اِن پر آن پڑی ہے دفتا ً انکی زندگی کا رنگ بدل گیا۔

کسی ادنی تعامل کے بغیر انہوں نے جاہلیت کے مقابلہ میں اسلام کے راستہ کو اپنے لئے منتخب کیا، بیت لیتے ہوئے مجمع عام میں صاف کہا شاہی طریقہ کے برعکس تمہیں آزاد کرتا ہوں جس کو چاہو خلیفہ مقرر کرو، لوگوں نے برضا ورغبت کہا کہ ہم آپ کو ہی اپنا خلیفہ بناتے ہیں، اس کے بعد خلافت کی عنان اپنے ہاتھ میں لی، سب سے پہلے شاہانہ کروفر، فرعونی انداز، قیصرو کسریٰ کے درباری طریقے رخصت کئے پہلے روز لوازم شاہی کو ترک کرکے وہ طریقہ اختیار کیا جو مسلمانوں کے خلیفہ کا ہونا چایئے۔

اس کے بعد وہ تمام امتیازات جو شاہی خاندان کے لوگوں کو حاصل تھے، انکو تمام حیثیتوں سے عام مسلمانوں کے برابر کردیا، تمام جاگیریں جو شاہی خاندان کے قبضہ میں تھیں اپنی جاگیر سمیت بیت المال کو وآپس کردیں، تمام جائدادیں، زمینیں ناجائزکو قابضین کے قبضہ سے اصل مالکان کو وآپس کروایا، بیت المال اپنی ذات اور اپنے خاندان والوں پر حرام کر دیا، حتیٰ کہ خلیفہ ہونے کی حیثیت سے تنخواہ تک نہ لی، اس تغیر سے انکی ذات کو مالی نقصان جو پہنچا اس کا اندازہ اس سے لگائیں کہ پچاس ہزار کی جگہ صرف دو سو اشرفی سالانہ آمدن رہ گئی۔

ظالم گورنرو ں کو الگ کیا، صالح افراد تلاش کرکے یہ ذمہ داری انہیں دی، تمام ناجائز ٹیکس جو شاہان بنی امیہ نے عائد کئے تبدیل کر دیئے، غیر مسلم رعایا کے ساتھ جو ناانصافیاں کی گئی تھیں انکی تلافی کی، ان کے تمام حقوق بحا ل کئے جو شریعت کی رو سے انہیں حاصل تھے، عدالت کو انتظامی حکومت کے دخل سے آزاد کیا، وسیع پیمانے پر عوام کی تعلیم کا اہتمام کیا، زکوۃ کی تحصیل کا انتظام ازسر نو درست کیا، بیت المال کو عام مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لئے وقف کردیا۔

سید ابو اعلی مودوی ٖؒ نے اپنی شہرہ آفاق کتاب "خلافت ملوکیت" میں حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے اوصاف حمیدہ بیان کرتے ہوئے لکھا کہ ان کے عہد میں اسلامی نظام حکومت دوبارہ زندہ ہوا۔ اسلام کے اس مجدد کو صرف ڈھائی سال کام کرنے کا موقع ملا، اس مختصر مدت میں انہوں نے انقلاب برپا کر دکھایا۔

اسلامی حکومت کی بڑی حریف روم کی سلطنت تھی، انکی وفات کی خبر سن کر قیصر روم نے کہا مجھے حیرت تو اس شخص پر ہے، جس کے قدموں کے نیچے دنیا تھی اور پھر اسے ٹھکرا کر اس نے فقیرانہ زندگی بسر کی ہے۔ راوی کا بیان ہے کہ مصر کے گورنر ولیدؓ کے زمانہ میں لوگ جب باہم گفتگو کرتے تو باغات اور عمارات موضوع ہوتے، سلیمان بن عبدالملک کا زمانہ آیا تو عوام کا مذاق شہوانیت کی طرف متوجہ ہوا جبکہ عمر بن عبدالعزیز حکمران ہوئے تو جہاں چار فرد ملتے نماز، روزہ، قرآن کا ذکر چھیڑا جاتا۔

عمر بن عبدالعزیز بھی شاہی خاندان کے چشم و چراغ تھے، مگر جب تخت نشین ہوئے تو اپناطرز زندگی بدل ڈالا، عرب دنیا کے شاہی خاندانو ں کے لئے انکی سادہ ترین حیاتی میں سبق کا بڑا سامان موجود ہے، کہا جاتا ہے کہ بنی امیہ کی حکومت کے92سالہ تاریک دور میں حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کا ڈھائی سالہ عہد روشنی کی حیثیت رکھتا ہے۔

آج کے ڈیجیٹل عہد میں اگر کوئی ریاست اپنی عوام کو آسودگی دینے کی متمنی ہو، عدل و انصاف کے نفاذ میں مخلص ہو، ناجائز قابضین سے زمینیں اور جائیدادیں چھڑوانا چاہتی ہو، غیر مسلموں کے حقوق ادا کرنا چاہتی ہو، عدلیہ کو حکومتی دباؤ سے آزاد رکھنا چاہتی ہو، قیصرو کسریٰ کے درباری طریقہ جات سے نجات چاہتی ہے، ٹیکس کے ظالمانہ نظام کی اصلاح چاہتی ہے، زکوۃ اور عشر کے نفاذ سے غربت ختم کرنے کی آرزو مند ہو، تو اس کے لئے حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کی طرز حکومت کا رول ماڈل قابل تقلید ہے۔

قریباً تین دہائیوں سے اقتدار پر براجمان دو بڑی سیاسی جماعتوں اور پندرہ سال سے خیبر پختون خواہ میں برسر اقتدار تحریک پارٹی کی اس سے زیادہ نااہلی کیا ہوگی کہ جن مسائل کا شکار عوام آج سے چالیس سال پہلے تھے آج بھی وہی درپیش ہیں، باودری آمر بھی شریک جرم سے استثناء نہیں لے سکتے، ہمارا پنجابی والا "ہاسہ" نجانے کیوں نکل جاتا ہے جب مقتدر طبقہ کہتا ہے اللہ تعالیٰ نے ہمیں دوبارہ موقع دیا تو ملک کی تقدیر بدلیں گے۔

کل ہی بات ہے بنگلہ دیش کی نگران حکومت کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر یونس نے 18 ماہ کی قلیل مدت میں اپنی ریاست کے خزانہ میں 9ارب ڈالر کا اضافہ کیا ہے، انہیں بھی اسی طرح کے مسائل درپیش رہے تیسری دنیا کے حکمرانو ں کو عمومی طور پر ہوا کرتے ہیں، مگر انہوں نے قومی خزانہ کو امانت سمجھ کر اس میں اضافہ کیا، ہمارے ہاں قومی خزانہ کو امانت سمجھنے کی روایت تو سرے ہی سے عنقا ہے۔

اب تو ہرعوامی سروے ارباب اختیار کو عوام میں انکی مقبولیت کا آئینہ دکھا رہا ہے، پھر بھی انہوں نے دوبارہ اقتدار میں آکر قوم کی تقدیر بدلنے کے خواہش دل میں پال رکھی ہے، یہی کہا جا سکتا ہے کہ ہزاروں خواہشیں ایسی ہر خواہش پے دم نکلے۔ مگر انقلاب لانے کے لئے حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کی طرح اڑھائی سال بھی کافی ہوتے ہیں۔