کہاجاتا ہے کہ 93 ہجری میں جب بنی امیہ کا عہد تھا اسلام کی سرحدیں ہندوستان تک وسعت پاگئیں، اس عہد میں کچھ خواتین کعبے کی زیارت کے لئے بحری جہازوں سے عازم سفر تھیں، اس وقت سندھ میں دیبل کی بندرگاہ تھی، راجہ داہر علاقہ کا حکمران تھا، قزاقو ں نے ان جہازوں پر قبضہ کیا، مردوں، عورتوں کو قیدی بنا لیا، تو ایک عورت نے چیخ کر کہا یاحجاج یاحجاج میری مدد کو پہنچو، کچھ مسافر کسی نہ کسی طرح بچ نکلے، انہوں نے اس عورت کی صدا حجاج بن یوسف تک پہنچائی تو اس نے جواباً کہا لبیک لبیک، روایت ہے کہ حجاج نے محمد بن قاسم کو دیبل کی بندگاہ بھیجا، وہ شیراز کے گورنر تھے، انہوں نے سندھ کو فتح کیا یہ علاقہ باب اسلام کہلایا، اُس وقت سے محمد بن قاسم کا نام ظلم کے خلاف ایک استعمارہ کے طور پر مستعمل ہے، جہاں کہیں بھی مسلم خواتین پر ظلم وستم کیا جاتا ہے، وہ فلسطین کی ہوں یا کشمیر سے ان کا تعلق ہو تو یہ صدائیں بلند ہوتی ہیں، کہ کب کوئی محمد بن قاسم بن کر آئے گا۔
ایک بار اسی صوبہ میں سندھ ہی ایک بیٹی اور اہل خانہ پر ظلم ہوا، تو بے ساختہ خیال آیا ہے، کیا اب بھی کوئی محمد بن قاسم اس سرزمین پر موجود ہے، اسکی مدد کو آسکے، سرداروں اور وڈیروں کی شکل میں قزاق تو موجود ہیں۔
اِس بیٹی کی آہ و بکاہ ہر اس شخص نے نم آنکھوں سے سنی ہے جو درد دل رکھتا یا اس میں انسانیت کی تھوڑی سی رمق باقی ہے، اپنے مرحومین کی قبروں پر جس انداز میں وہ بین کررہی تھی اور اس کارونا عرش کی بلندیوں پر تھا، میڈیا کی وساطت سے بیچاری لڑکی کی بے بسی کو سب نے دیکھاہے، یہ بہادر لڑکی گذشتہ آٹھ سالوں سے اس نظام کے خلاف برسر پیکار ہے، جو بوسیدہ ہو چکا ہے، تاج برطانیہ کا عہد غلامی کے لئے بنایا گیا تھا مگر بدقسمتی اب تلک نافذ العمل ہے، قانون کی طالبہ کی حیثیت سے اس نے اس عدالتی سسٹم کے خلاف حصول انصاف کے لئے علم بلند کیا ہے، جو عالمی سطح پر قریباً بے وقعت ہوچکا، عددی اعتبار آخری درجہ میں شمار کیا جاتا ہے۔
سندھ کے علاقہ سے تعلق رکھنی والی یہ بہادر بیٹی اپنے حصہ کی شمع وڈیرہ شاہی، جاگیرداری نظام کے خلاف جلانے میں کوشاں ہے، اس نے بہت سے لوگوں کے دلوں میں امید کے دیئے جلائے ہیں، جو مذکورہ نظام کے متاثرین میں شامل ہیں، تاج برطانیہ کا دیا ہوا یہ نظام اب بد اعتمادی اور نفرت کی علامت بن چکا ہے، اس کو برقرار رکھنے میں عوام سے زیادہ مقتدر طبقہ ہی کا مفاد ہے۔
ذر ا چشم تصور میں لائیں کہ جس گھر کے تین مرد سرداری اور وڈیرہ شاہی کے نظام کی بدولت دن کی روشنی میں سرعام قتل کر دیئے جائیں، نامزدملزمان میں حکمران پارٹی کے اراکین اسمبلی بھی ہوں تو ایک نہتی لڑکی آخر کس سے فریاد کرے گی، کس سے منصفی چاہے گی، جن کے قتل کی ایف آئی آر بھی گھنٹوں کی تاخیر سے درج ہو، وہاں انصاف کی فراہمی کس سرعت سے ہوگی؟
ہمارے اس ناکارہ نظام میں کسی انسان کی جان لینا قطعی مشکل نہیں، وڈیروں اور جاگیر داورں کے لئے تو دائیں ہاتھ کا کھیل ہے، سندھ کے علاقہ میں جہاں کچے کے ڈاکوؤں کے سامنے ریاست بھی ہاتھ جوڑ دے، وہاں کرائے کے قاتل ملنا کون سا مشکل ہے، اس ماحول میں یہ گمان رکھنا کہ قاتلوں کے خلاف بھری عدالت میں کوئی گواہی دے گا، احمقوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہے۔
ایسے میں ام رباب کا اپنے دادا، والد اور چچا کے مقدمہ قتل کی پیروی کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے، دادو کی سیشن عدالت سے جو فیصلہ ان کے خلاف آیا، سرداری، وڈیری شاہی نظام میں اسکی ہی توقع کی جاسکتی ہے، عدالت عظمیٰ اور عالیہ کے دسیوں فیصلہ جات ریکارڈ پر موجود ہیں کہ پولیس تفتیش سے کر شہادتوں تک کے مراحل میں پروفیشنل ازم کا مظاہرہ نہیں کرتی، مگر جس ضلع میں تین افراد کا ہائی پروفائل کیس زیر تفتیش ہو، اجن کاقتل کسی سردار اور وڈیرے کے ہاتھوں ہوا ہو وہاں میرٹ پر تفتیش کی توقع رکھنا ہی عبث ہے، قانونی حلقوں میں اہم سوال زیر گردش ہے کہ تینوں ملزمان میں سے کسی ایک کو بھی سزا کیوں نہیں ہوئی؟
ہرچند قوم کی بیٹی عدالت میں اپنے ابا، کا کیس ہار گئی ہے، مگر سوشل میڈیا پر اس فیصلہ کے خلاف رد عمل سے لگتا ہے کہ عوامی سطح پر وہ جیت گئی ہیں، پورے عالم سے اس فیصلہ کے خلاف اظہار رائے دراصل عدالتی اور سرداری نظام کے خلاف عوامی ریفرنڈم کے مترادف ہے۔
ذرائع وجہ عناد بتاتے ہیں کہ چانڈیو قبیلہ کے سرداروں کو قمبراور مہیڑتحصیل میں نکلنے والے تیل، گیس و دیگر معدینات کی رائلٹی ملتی ہے، رائلٹی کے اختلاف پر مقتول اکرام اللہ چانڈیو تمن دار نے برادری کے دیگر پاڑوں (یہ سب کاسٹ ہے) کے سربراہوں اور تمن داروں سے مل کر تمندار کونسل بناڈالی جس نے بظاہر سرداروں کی طاقت کو چیلنج کیا، جو تین قیمتی جانوں کے قتل کا سبب بنا ہے، حالانکہ اس رقم کی تقسیم آئینی طریقہ کار پر ہونا چاہئی تھیں، مگر اس کونسل کے قیام کو سرداروں نے اپنی شان میں گستاخی سمجھا، جس کی پاداش میں تین افراد قتل ہوگئے، ان کے انصاف کے لئے سندھ کی یہ بیٹی ماری ماری پھر رہی ہے اور اس کو بہت سی دھمکیوں کا سامنا بھی ہے۔
فیصلہ میں بریت کے بعدجس انداز میں سرداروں کے حامیوں نے گولیوں کی تھرتھراہٹ سے ان کا استقبال کیا ہے، یہ ام رباب سمیت ہر کمزور فرد کے لئے پیغام ہے کہ قانون ہر سردار کے گھر کی لونڈی ہے۔ متاثرہ خاتون نے سرداری نظام کے خلاف جس انداز سے بغاوت کاعلم بلند کیا وہ اسکا خاصا، عظمت اور جرات کا اظہار ہے۔
اس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان کی گاڑی کے آگے انہوں نے اپنا دوپٹہ پھینک کر انصاف کرنے کی استدعا کی تھی، انہوں نے چھ ماہ میں فیصلہ کرنے کی نوید سنائی تھی وہ مگر محمد بن قاسم کا کردار ادا نہ کرسکے، کچھ لوگ طاقت کی جیت اور انصاف کی ہار سے فیصلہ کی تعبیر کر رہے ہیں، سردار، وڈیرہ، جاگیر دارکسی بھی صوبہ کا ہو اس کا مانیڈ سیٹ ایک ہی ہے۔
سوال ہے سندھ کی اس بیٹی کے لئے اب محمد بن قاسم کون بنتا ہے، سول سوسائٹی نے سوشل میڈیا کی وساطت سے اپنا فیصلہ سنا دیا اب بال بڑی عدالتوں کی کورٹ میں ہے، سندھ کی اس بیٹی نے قانونی جدوجہد میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، وڈیروں، سرداروں، جاگیر داروں کی شکل میں ظلم کوچہ و بازار میں بچے جن رہا ہے دیکھنا یہ ہے کہ عدل کب صاحب اولاد ہوگا؟