بھلے وقتوں کی بات ہے کہ کسی گائوں میں امام مسجد رہا کرتے تھے، مسجد کمیٹی نے انکی ماہانہ تنخواہ دو سو روپے مقرر کی، اہل دیہہ اسے کھانا دیا کرتے تھے، پھر ایسا ہوا کہ انکی زوجہ بیمار پڑ گئیں، دیسی ٹوٹکے علاج کے لئے آزمائے گئے مگر زیادہ افاقہ نہ ہوا اور وہ اللہ کو پیاری ہوگئیں، مولوی جی تنہا رہ گئے، انکی سادگی دیکھیں انہوں نے مسجد کمیٹی کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا کہ آپ جو تنخواہ مجھے دیتے ہیں، اب اس کا نصف مجھے ادا کیا کریں کیونکہ میری بیوی وفات پا چکی ہے اور میرا اس رقم میں گزارہ ہو جائے گا۔
روایت ہے کہ انقلابی شاعر جید صحافی فیض احمد فیض کو60 کی دہا ئی میں کراچی کے ایک معروف سرکاری کالج میں رئیس ادارہ کی ذمہ داری سنبھالنے کی پیش کش ہوئی، جس کو انہوں نے قبول کر لیا، شرائط طے ہوئیں، انہیں معاہدہ پر دستخط کرنے کو کہا تو اس وقت انہیں جو تنخواہ دینے کی آفر ہوئی وہ ان کے اندازے بہت زیادہ تھی، انہوں نے معاہدہ قبول کرنے کے لئے ایک روز کا وقت مانگا، اگلے ورز انہوں نے معاہدہ میں پیش کردہ آدھی تنخواہ پرکام کرنے کی حامی بھر لی اور وقت لینے کی وجہ بتائی کہ میں نے اپنے گھر کے تمام اخراجات کا اندازہ لگانے کے لئے وقت مانگا تھا۔
اسی طرح کی ایک اور روایت ہے کہ کراچی کے معروف انگریزی اخبار میں کام کرنے والے جید ایڈیٹر کو لاہور سے نئے شائع ہونے والے انگریزی اخبارمیں ڈبل تنخواہ پر کام کرنے کی جب پیش کش ہوئی تو انہوں نے یہ کہہ کر ٹھکرا دی جب معاوضہ ڈبل دیا جارہا ہے، اس کی قیمت کسی نہ کسی صورت میں مجھے ہی ادا کرنا پڑے گی۔ ایسی قیمتی شخصیات اس عہد میں اب نا یاب ہیں۔
متنازع آئینی ترمیم پر اختلاف کے نتیجہ میں عدالت عظمی ٰ سے مستعفی دو جسٹس صاحبان نے باقی مالی اور سماجی مراعات کے علاوہ کروڑوں روپے کی پنشن یہ جانتے ہوئے بھی اپنی جیب میں ڈال لی کہ اس ریاست کی غالب آبادی غربت کی لکیر کے نیچے سانس لے رہی ہے، انصاف کی فراہمی میں یہ ریاست دنیا بھر میں قریباً نچلے درجہ پر ہے۔ وہ چاہتے تو جسٹس کارنیلئس ثانی بن سکتے، مگر ایسا دل اور حوصلہ کہاں سے لاتے۔
کہا جاتا ہے کہ بلی چوہے کے کھیل میں چوہا اپنی بل سے نکل کر بھاگ کھڑا ہوا، بلی نے اسے گھیر لیا، مگر ایک لائن لگا کر شرط رکھ دی کہ اس کو پارکرے تو بل میں داخل ہونے کے لئے اس کو محفوظ راستہ دیا جائے گا، چوہے نے سوچا فاصلہ بہت کم ہے مگر آفر بہت بڑی ہے، اس میں یقیناً بلی کا مفاد زیادہ اور میری جان کو خطرہ ہے، سرکار کی طرف سے مختلف اتھارٹیز میں جب من پسند افراد کو بھاری بھر تنخواہوں کے عوض ملازمتیں گڈ گورننس کے نام پر دی جاتی ہیں، تووہ بلی چوہے کا کھیل محسوس ہوتاہے۔
جنرل ضیاء الحق نے غیر جماعتی انتخابات کے بعد اراکین پارلیمنٹ کو ترقیاتی فنڈ فراہم کرنے کی جس " بدعت" کا آغاز کیا تھا، وہ سلسلہ ہنوز جاری ہے، جنرل صاحب کو ترقیاتی کاموں سے زیادہ اپنا اقتدار عزیز تھا، اس لئے قومی خزانہ ان پر لٹا یا گیا، بعد ازاں اقتدار پارٹیوں نے اس روایت کو جاری رکھا اورحسب ضرورت اراکین کو استعمال کرتے ہوئے اپنا الو سیدھا کرنے کی منفی سیاست کی، ایسا فنڈ آئینی ترمیم لانے یا مخالفین کو زیر کرنے میں امرت دھارا ثابت ہو رہی ہے، اراکین پارلیمنٹ اس سے بھی دو قدم آگے بڑھے، اپنی جیب گرم کرنے کے بعد شاہراہوں اور سرکاری عمارات کی تعمیر کی ذمہ داری ٹھیکیداروں کو سونپ دی، کمیشن د ینے اور لینے والے دونوں بخوبی سمجھتے تھے، کہ نذرانہ دیا کیوں جا رہا ہے۔
تیسری دنیا میں نئی واردات کے ماخذ بھی ارباب اختیار ہیں، جنہوں نے ملک بھر کی بار کونسل کی مالی مشکلات کو دل کے قریب سے محسوس کیا ان کے عہدے داران کی جیب میں بھاری بھر فنڈز ڈال دیئے، کمال یہ تھا کہ دونوں فریقین جانتے ہیں کہ کون کس کی قیمت لگا رہا ہے، مہذب ممالک میں مگر ایسی کوئی مثال نہیں ملتی، چین، جنوبی کوریا اور کرغستان کے علاوہ فنڈز کی شکل میں زبان بندی کی قیمت کسی پریس کلب کو ادا نہیں کی جاتی۔
ساٹھ کی دہائی میں اگر فیض احمد فیض یہ سمجھ سکتے ہیں کہ انکے خاندان کی مالی ضرویات کیا ہے، تو آج کی افسر شاہی، تاجر، ڈاکٹرز، وکلاء اپنے گھریلو بجٹ سے نابلد کیوں ہیں، یہ جانتے ہوئے کہ اس ملک کا غریب نہ تو ڈاکٹر کی بھاری فیس ادا کر سکتا ہے، نہ ہی انصاف خرید سکتا ہے، پھر بھی انکی مجبوری سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے، فارما سیٹوکل کمپنیز اور ڈاکٹر ز کے مابین بھی بلی اور چوہے کا کھیل جاری ہے، دونوں ایک دوسرے کا شکار کرتے ہیں، ہر دو فریقین میں سے سب جانتا ہے کہ کس کی قیمت کیا ہے۔ ریٹائرڈمنٹ کے بعد دوبارہ ملازمت لینے والوں کو یہ خیال کیوں نہیں ستاتا کہ ملک کا نوجوان بے روزگاری کے کرب میں مبتلا ہے، کاش انہیں فیض جیسی قناعت پسندی میسر آجائے تو بڑی تعداد میں عوام بہتر علاج کرا سکتی ہے، اسے بھی انصاف اور نسل نو کو روزگار مل سکتا ہے۔
انگریزی فلموں میں دکھایا جاتا ہے، کہ سادہ لوح فرد اگر کسی گینگ کے ہتھے چڑھ جاتا، تو پہلے اسکی خوب خاطر مدارت کی جاتی ہے، اس پر دستک شفقت رکھا جاتا ہے، اس سے قربت بڑھا کر اس کا اعتماد لیا جاتا ہے، پھر اس کو "دھندے" پر لگانے کے لئے میدان میں اتار دیا جاتا ہے، جس کا بھیانک انجام موت کی شکل میں سامنے آتا ہے۔
یہ کھیل عالمی سطح بھی جاری ہے، داخلہ یا خارجہ پالیسیاں ہوں، جنگ و جدل کا میدان ہو، ڈالروں کی بارش ہو، بڑی طاقتیں چھوٹی ریاستوں پر دست شفقت رکھتی ہیں، انکی تعریفوں کے پل باندھ دیتی ہیں، انہیں اعتماد میں لیتی ہیں، سادہ لوح فرد کی طرح تیسری دنیا کے حکمران بھی یہی سمجھتے ہیں، کہ سپر پاورز صرف ان کی ہمدرد ہیں وقت آنے پر انہیں مگر میدان میں اتار دیتی ہیں، جب پانی سر سے گزر جاتا ہے تو انہیں احساس ہوتا ہے، کہ انکی معمولی خدمات کا بھاری بھر معاوضہ کیوں دیا گیا ہے، مسلم دنیا کے حکمرانوں کی غزہ کے امن بورڈ میں شرکت پر بلی اور چوہے کے کھیل میں نجانے کیوں مماثلت کا احسا س ہوتا ہے، Voltaire نے کہا ہے کہ جن کی زندگی کا نصب العین ملک وقوم کی خدمت ہو، انہیں شرف، امتیاز، دولت کی احتیاج نہیں رہتی۔