حکومتی معاشی ارسطو کہتے ہیں سفارتی کامیابیوں سے عالمی ساکھ بہتر ہوئی ہے کیونکہ ہر ملک پاکستان سے تعلقات اور سرمایہ کاری کا خواہمشند ہے، بڑے بڑے منصوبوں پر کام جاری اور ترقی کا عمل عروج پر ہے۔ معدنیات سے مزید وسائل اکٹھے کیے جارہے ہیں۔ اب قرضوں سے چھٹکارہ ملے گا اِس عمل کو معاشی کامیابی قرار دیا جاتا ہے لیکن حقائق ایسے دعوؤں کی تائیدنہیں کرتے۔
حالت یہ ہے کہ برآمدات میں مسلسل کمی اور درآمدات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ملک نہ صرف قرضوں کی دلدل میں مزید دھنس رہا ہے بلکہ ملکی اِدارے مسلسل زوال پذیر ہیں یوں خسارے کاشکار ہیں لیکن حکومتی توجہ اِداروں کو خسارے سے نکالنے کی بجائے مزید قرض لیکر لینے پر ہے۔ یہ ایسا پہلو ہے جس سے حکمرانوں کی نیک نامی میں اضافہ ہونے کی بجائے کارکردگی سوالیہ نشان ہوئی ہے اور شہری یہ سوچنے پر حق بجانب ہیں کہ شاید حکمرانوں کو کسی محاسبے کا خوف نہیں اسی لیے فرائض سے غفلت کے مرتکب ہیں۔
اگر اپوزیشن کہتی تو شاید لوگ یہ کہہ کر رَد کر دیتے کہ وہ سچ بول ہی نہیں سکتی اور اُس کا تو کام ہی تنقید کرنا ہے مگر جب حکومتی خود خسارے کی نشاندہی کرنے لگے تو اِس کا ایک ہی مطلب ہے کہ صورتحال اتنی دگرگوں ہے کہ اب چھپانا ممکن ہی نہیں رہا۔ یا تو حکمران فرائض کی اِدائیگی میں غفلت کا شکار ہیں اور صرف اقتدار تک محدود ہوچکے ہیں یا اُن میں ایسی کوئی صلاحیت واہلیت ہی نہیں کہ امورِ مملکت میں کچھ بہتری لا سکیں۔ وزارتِ خزانہ کی حالیہ ایک رپورٹ چشم کشا ہے جس میں مالی سال 2025 میں سرکاری اِداروں کے مالی معاملات کی نقاب کُشائی کی گئی ہے۔
اِس کے مطابق ایک برس میں صرف پچیس اِداروں کو مجموعی طوپر 832 ارب کا نقصان ہوا ہے حالانکہ ایک برس قبل 2024 میں منافع نکالنے کے بعد یہ نقصان محض 30.6 ارب تھا مگر حیران کُن طور پر صرف ایک برس میں یہ نقصان تین فیصد اضافے سے 123 ارب ہوگیا۔ اگر زیادہ نقصان میں جانے والے اِداروں کی بات کریں تو اِن میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی 295 ارب نقصان کے ساتھ سرِ فہرست ہے۔ یادرہے کہ حکومت نے اِسے نقصان سے نکالنے کے لیے ٹول ٹیکس میں کئی بار اضافہ کیا پھر بھی اگر یہ نقصان میں ہے تو سوال یہ ہے کہ اِس کے وہ کون سے ایسے اخراجات ہیں جن کی وجہ سے یہ اِدارہ تباہی کے دہانے پر جاپہنچا ہے؟ اگر حکومت نے اِس سوال کا درست جواب معلوم کر لیا تو مجھے یقین ہے کہ تباہی کی رفتار اگر ختم نہیں تو کم ضرور ہو جائے گی۔
بجلی کی سپلائی کمپنیاں، ریلوے اور پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی بھی خسارے کا شکار ہیں خطے میں سب سے مہنگی بجلی پاکستان میں ہے اور حکومت کو جب بھی وسائل کی ضرورت پڑتی ہے تو بجلی اور تیل کے نرخ بڑھالیے جاتے ہیں۔ مہنگی بجلی سے ملک کی صنعتی حالت خراب ہوچکی مگر معاشی حالت بہتر بنانے کے بلند و بانگ دعوے کرتے ہوئے حکومت نے کبھی کوشش نہیں کی کہ بند ہوتی صنعتوں کو ارزاں نرخوں پر بجلی دیکر برآمدات میں اضافہ کیا جائے بلکہ دوہزار ارب کپیسٹی چارجز کی مد میں بغیر بجلی پیدا کیے آئی پی پیز کو دے کر خوش اور مطمئن ہے۔
اتنی بڑی واردات کا مطلب ہے کہ آئی پی پیز کو حکومتی حلقوں میں دور تک رسائی حاصل ہے اسی لیے بلاجھجک عوام کا خون نچوڑا جاتا ہے۔ ریلوے کی اربوں کی اراضی قبضہ گروپوں کے پاس ہے نیز یہ واحد ایسا شعبہ ہے جس میں مفت سفر کرنے والوں کی تعداد ہزاروں لاکھوں میں ہے جس کا کوئی تدارک نہیں کیا جارہا جس سے اِس خیال کو تقوت ملتی ہے کہ اِس اِدارے کے لوگ اِس میں ملوث ہیں۔
یہ فرائض کی بجا آوری میں کوتاہی ہے اگر اسٹیشنوں پر ایسے دروازے نصب کر دیے جائیں جو ٹکٹ دکھانے کے بعد گزرنے کا راستہ دیں تو بغیر ٹکٹ سفر کرنے والوں کی حوصلہ شکنی ہوگی نیز قبضہ گروپوں سے زمین واگزار کراکر بھی نئے منصوبوں سے آمدن بڑھائی جا سکتی ہے۔ جہاں تک پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی کی بات ہے تو اِس کے خسارے میں حکومتی فیصلوں اور مداخلت کا عمل دخل ہے حکومت نے پی آئی اے کو نجی شعبے میں دینے کے لیے واجب الادا 650 ارب ہولڈنگ کمپنی کے کھاتے میں ڈال دیے اِس کا مقصد اچھے دام لینا بتایا گیا جبکہ پہلی بار بولی میں واجب الادا 650 ارب کے ساتھ حکومت کو دس ارب کی پیشکش ہوئی جسے مسترد کردیا گیا جس کے بعد باریک واردات ڈالی گئی اور راتوں رات 650 ارب پی آئی اے کے کھاتے سے نکال کر ہولڈنگ کمپنی کے شمار میں کر دیے گئے تاکہ اچھے دام ملیں سکیں اور پھر حبیب کنسورشیم نے بولی لگائی تو حکومت نے ایک اور شاہانہ نوازش یہ کی کہ پیشکش کے 125 ارب یہ کہہ کر وصول کرنے سے انکار کر دیا کہ خریدار اِس رقم کو پی آئی اے کی بہتری پر لگا لے۔
ایسے فیصلے پسِ پردہ مفاہمت کی طرف اِشارہ کرتے ہیں اب جبکہ اپریل میں حبیب کنسورشیم بقیہ پچیس فیصد خرید کر پی آئی اے کا مکمل مالک بن جائے گا تو سوال یہ ہے کہ ملک کو اِس نجکاری کا فائدہ ہواہے؟ اِس کادرست جواب نہیں کے علاوہ کچھ اور نہیں ہوسکتا بظاہر حکومت نے نجکاری کے نام پر چند منظورِ نظر لوگوں میں پی آئی اے جیسا اِدارہ مفت بانٹ دیا ہے۔
نجکاری حالات کا تقاضا ہے مگر اِس حوالے سے ملکی مفاد کا تحفظ بھی ضروری ہے۔ اگر نجکاری کے نام پردوستوں کو نوازنا ہے تو اِسے نجکاری کا پیراہن نہ پہنائیں اصلاحات سرکاری اِداروں کی کارکردگی بہتر بنانا مشکل نہیں اِس طرح گورننس بہتر بھی بہتر ہوگی رائٹ سائزنگ سے اِداروں کو خسارے سے نکالا جا سکتا ہے لیکن حکومت دعوے تو کرتی ہے لیکن عملی طورپر ایسا کوئی فیصلہ نہیں کرتی۔
سرکاری اِداروں میں سیاسی مداخلت سے نااہل لوگوں کی بھرمار ہوچکی ہے۔ آج بھی فرسودہ طریقہ کار رائج ہے یہ عوامل اِداروں کی مارکیٹ ویلیو متاثر کرتے ہیں۔ گزشتہ برس حکومت نے 2078 ارب خسارے میں جانے والے اِداروں کو دیے۔ یہ کُل محاصل کا سولہ فیصد ہے یہ اِتنی بڑی رقم ہے جس سے تعلیم و صحت اور انفراسٹرکچر کے کئی اچھے منصوبے مکمل ہوسکتے تھے چہ جائے کہ اِدارے حکومتی آمدن بڑھانے میں حصہ دار بنتے لیکن محاصل کے ہر چھ روپے میں سے ایک روپیہ حکومت نے اپنے ماتحت اِداروں کو رواں رکھنے پر صرف کر دیا۔ اِس میں اہلیت وصلاحیت اور اصلاحات کا کتنا عمل دخل ہے؟ اِس کی نشاندہی کرنے کا فیصلہ قارئین پر چھوڑ دیتے ہیں۔