مجھے نہیں پتہ سڈنی شیلڈن کے ناول کا 1989 کا پہلا پیپر بیک ایڈیشن کتنے ہاتھوں سے گزر کر انارکلی کے اتوار بازار کے فٹ پاتھ تک پہنچا ہوگا۔ کس نے لاہور کی شاپ سے کب پہلی دفعہ خریدا اور یہاں تک کیسے پہنچا۔ شاید بچوں نے اولڈ مین کے گزرنے بعد یہ ردی میں بیچ دیا ہوگا یا پھر۔۔
جب گزرے اتوار شام کے قریب میں لاہور میں پاک ٹی ہاوس والی انٹری سے داخل ہوکر ہر طرف پھیلی پرانی کتابوں کو الٹ پلٹ کررہا تھا کہ میرے مطلب کی ان میں سے کون سی کتابیں ہیں تو اچانک میری نظر اس ناول اور پرانے ٹائٹل پر پڑی تو میں رک گیا۔ یوں لگا جیسے وقت ٹھہر گیا ہو۔
یہی ناول میں نے 1990 میں اپنی خالہ کے لاہور گلبرگ ای تھری واقع گھر سےاٹھایا تھا۔ میرے خالو میجر نواز ملک پڑھنے کے بہت شیدائی تھے۔ ان جیسا کتابوں خصوصا تھرلر ناولز کا رسیا میں نے زندگی میں کم دیکھا ہوگا۔ انہیں کبھی فارغ نہ دیکھا۔ ہر وقت کوئی نہ کوئی ناول ہاتھ میں ہوتا۔
میں اس وقت لیہ کالج میں بی اے کا طالبعلم تھا اور انگلش لٹریچر میرا آپشنل سبجیکٹ تھا۔ میں ہر سال گرمیوں کی چھٹیوں میں لاہور خالہ کے گھر دو تین ماہ کزنز ساتھ گزارتا تھا۔ وہیں ان کے گھر فرسٹ فلور پر میجر صاحب کی بیڈ سائیڈ پرایک کیوٹ سی تنکوں والی بک شیلف تھی جہاں انگریزی ناولز بڑی ترتیب سے رکھے ہوتے تھے۔ میں آتے جاتے للچائی نظروں سے انہیں دیکھتا تھا۔ کبھی کبھار اٹھا کر ہاتھوں میں لے کر ان کا لمس محسوس کرتا۔
خالہ نے ایک دن دیکھا تو مسکرا کر کہا تم لے جائو۔ بس یہ خیال رکھنا ایسا ناول نہ لے جانا جو نواز پڑھ رہے ہوں ورنہ انکوائری شروع ہو جائے گی۔ یوں میں سمجھداری سے پہلے چیک کرتا کہ جو ناول میں چوری چھپے اٹھا کر لے جارہا ہوں وہ میجر صاحب پڑھ تو نہیں رہے؟ جو ناول کسی صحفے سے الٹا پڑا ہوتا تو مطلب وہ پڑھ رہے تھے۔ اسے ٹچ نہ کرتا اور تنکوں والی بک شیلف سے تین چار ناول اٹھا کر اپنے ساتھ لیہ کالج ہوسٹل لے جاتا تھا۔
یہ ناول مجھے اتنا پسند آیا تھا کہ جب واپس لیہ ہوسٹل پہنچا تو میں نے اس کا ترجمہ کرنے کا سوچا۔
لیہ میں "صبح پاکستان" کے نام سے انتہائی قابل احترام صحافی انجم صحرائی صاحب ہفت روزہ نکالتے تھے۔ شاید آج بھی وہ ہفتہ روزہ نکالتے ہیں۔
میں ڈی ایچ کیو ہسپتال کے سامنے ان کے اخبار کا سائن بورڈ پڑھ کر ان کے دفتر گیا۔ انہیں بتایا میں قریب ہی لیہ کالج ہوسٹل رہتا ہوں۔ انہوں نے بڑی عزت سے بٹھایا اور چائے منگوائی۔ لکڑیوں کی آگ پر پر بنی اس دودھ پتی چائے کا ذائقہ آج تک نہیں بھولا۔ انہیں میرا آئیڈیا پسند آیا اور کہا ٹھیک ہے آپ ترجمہ کریں اس ناول کا میں ہر ہفتے اسے قسط وار چھاپ دوں گا۔
یوں ہر ہفتے اس ناول کی قسطیں چھپنا شروع ہوگئیں۔ جب میں ہر ہفتے انہیں ترجمہ کرکے نئی قسط دینے جاتا تو وہ بڑی عزت سے بٹھا کر پہلے چائے پلاتے، پھر کچھ گپ شپ لگاتے اور اب تو بسکٹس بھی کھلاتے تھے۔ میری حوصلہ افزائی کرتے۔ میں پورا ہفتہ انتظار کرتا کہ جا کر قسط بھی دوں گا اور چائے بھی پی لوں گا جو لکڑیوں کی آگ پر بنتی تھی اور اس کا ذائقہ ہی کمال کا ہوتا۔
میں اس بات کا کریڈٹ انجم صحرائی صاحب کو دیتا ہوں کہ ایک عام سے بی اے لٹریچر کے طالبعلم کا ترجمہ کیا ہوا ناول چھاپتے تھے۔ ورنہ کون اپنے اخبار کا آدھا صحفہ کسی گمنام طالبعلم کی غلط سلط اردو میں کیا گیا ترجمہ چھاپتا۔
میں ہوسٹل میں رات گئے اس ناول کا ترجمہ کرتا تھا۔ اس وقت کمپیوٹر کا تصور تک نہ تھا لہذا ہاتھوں سے ہی کاغذ پر لکھتا تھا۔
پہلے ڈرافٹ ترجمہ ہاتھ سے لکھتا۔ پھر صاف کرکے اپنے تئیں غلطیاں نکال کر دوبارہ لکھتا۔ پھر جب اس قسط کی کتابت ہوتی تو بھی انجم صحرائی صاحب کہتے ایک نظر دیکھ لیں۔
اب تقریباََ 32 برس بعد اسی ناول کا وہی پہلا پیپر بیک ایڈیشن لاہور انارکلی بازار کے فٹ پاتھ پر میرے سامنے رکھا تھا۔
میں نے دکاندار سے قیمت پوچھی۔ اس نے بے نیازی سے کہا سو روپے۔
وہ مجھ سے ہزار روپیہ بھی مانگتا تو میں بلاجھجک دے دیتا کیونکہ یہ ایڈیشن اب نایاب ہوچکا تھا۔ میں نے کئی دفعہ یہی ایڈیشن تلاش کرنے کی کوشش کی تھی کہ اس کے ساتھ کچھ لوگ اور کچھ یادیں جڑی ہوئی تھیں۔ ان برسوں میں اس ناول کے کئی مختلف ایڈیشن چھپے لیکن یہ والا ٹائٹل اور ایڈیشن کبھی نظر نہ آیا تھا اور مجھے اس کی ہی تلاش تھی۔
انار کلی کے شام کے اس لحمے اس بیزار دکاندار کو علم ہوتا کہ اس ناول ساتھ میری کیا کیا یادیں اور نسلٹیجا جڑا ہوا ہے تو اگر وہ مجھ سے منہ مانگی قیمت مانگتا تو بھی دے دیتا۔
اتنے برسوں میں دنیا کتنی بدل گئی تھی۔ لیکن بعض یادیں اور لوگ ہمیشہ آپ کی یادوں میں رہتے ہیں۔
اس پرانے ناول کو ہاتھ میں تھامے کھڑا رہا۔ یہ پہلا ناول تھا جو میں نے ترجمہ کیا تھا۔ پہلی محبت کی طرح شاید آپ کو اپنی پسندیدہ پہلی کتاب بھی نہیں بھولتی۔
اس ناول کا لمس مجھے 1990 میں اپنے لیہ کالج ہوسٹل لے گیا۔ میرا خیال تھا 32 سال بڑا عرصہ ہوتا ہے۔ کالج ہوسٹل کی وہ خاموش راتیں میں بہت پیچھے چھوڑ آیا تھا لیکن اس ناول کو ہاتھ میں تھامے اور اس کے ٹائٹل پر ہاتھ پھیرتے یاد آیا کہ آپ ماضی سے جتنا بھی بھاگ لیں وہ کسی نہ کسی دن، کسی نہ کسی شکل میں آپ کے سامنے آن کھڑا ہوتا ہے اور آپ کے پائوں پتھر کے ہو جاتے ہیں۔
وہی لاہور شہر جہاں 1990 میں خالہ کے گھر سے میجر صاحب کی تنکوں والی بک شیلف سے یہ ناول اٹھایا تھا، اسی سڈنی شیلڈن کا ناول Sands of Times 32 سال بعد میرے پائوں کی بیڑی بن کر میرے سامنے تھا۔