سیکورٹی اسٹیٹ میں 67 برس 2 ماہ اور 3 دن (تحریر لکھتے وقت) سے جیتے بستے محنت مزدوری سے رزق کا بندوبست کرتے ہوئے کبھی ایک لمحے کیلئے بھی سیکورٹی اسٹیٹ کو مادرِ مہربان کا درجہ دیا نہ کبھی خیر کی توقع رکھی۔ ہم اگر اپنے چار اور شعور کی آنکھ سے چیزوں اور حالات کو دیکھنے سمجھنے کی کوشش کریں تو بہت سارے ان سوالات کے جواب پاسکتے ہیں جن کے عام حالات میں لبوں پر مچلنے اور فضا میں ان کے رقص سے ہم خوف کھاتے ہیں۔
ریاستی خوشنودی سے عبارت حب الوطنی مرغوب تھی نہ ہے ہم صدیوں سے یہیں انڈس ویلی میں بس رہے ہیں۔ ہمارے پُرکھے اپنے آبائی وطن سے جان بچانے کیلئے نکلے اور بالآخر انہیں یہاں پناہ ملی سو وہ یہیں کے ہوکر رہ گئے۔ لگ بھگ ساڑھے آٹھ سو سال کا عرصہ بیت گیا ماضی کی راکھ کریدنے کا کوئی فائدہ نہیں ہم جو ہیں بس یہی ہیں اپنے پورے وجود اور مقامیت کی شناخت سے گندھے۔
معاف کیجے گا بات اصل موضوع سے کچھ دور نکل گئی۔ ہم نے سیکورٹی اسٹیٹ سے بات شروع کی تھی۔ ویسے تو دنیا کی ہر جدید و قدیم ریاست ہمیشہ سیکورٹی اسٹیٹ ہی ہوئی کیا بادشاہت کیا راجگی کیا خلافت پھر اس کی کوکھ سے جنم لیتی ملوکیت جو بظاہر خلافت کہلاتی رہی۔
آدھا تیتر آدھا بٹیر کے مصداق انقلابی ریاستیں ہوں یا تاجِ برطانیہ کی چائلڈ بے بی جمہوریت سے سرشار ریاستیں اپنے اصل میں یہ سب سیکورٹی اسٹیٹس تھیں اور ہیں ہمارے ہاں سرائیکی وسیب میں کہتے ہیں "کراڑی دا نا غلام فاطمہ" مطلب نام بدلنے سے اصل نہیں بدلتا۔
سیکورٹی اسٹیٹ کا اصل یہی ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے بچے کھاتی ہے اس میں مذہبی و غیر مذہبی سیکورٹی اسٹیٹ کی کوئی تمیز ہے نا جبلت کا فرق ہم سی عامی رعایا بس رزق ہے۔ وقت کا نظام کا ریاستوں کا باقی سب جی بہلانے کے دھندے ہیں۔ آپ کس دھندے سے بہل جاتے ہیں یا بہلنا پسند کرتے ہیں یہ آپ پر منحصر ہے۔
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ بالائی سطور میں کیا لکھ دیا؟ درست سوچ رپے ہیں میں عرض کیئے دیتا ہوں کہ نصف صدی سے کچھ اوپر کی قلم مزدوری میں پیشگی لکھے پوائنٹس کی مدد سے کچھ لکھا نہ ذہن میں مضمون کے تانے بانے بُنے تحریر کی ابتدائی سطور جدھر لے جائیں چل سو چل آج بھی یہی حال ہے۔
سیکورٹی اسٹیٹ میں جینے بسنے کی اپنے حصے کی قیمت ادا کرنے کے باوجود ہم نے ہمیشہ یہی عرض کیا کہ کسی بھی سیکورٹی اسٹیٹ کا المیہ یہی ہوتا ہے کہ مالکان اسے ریاست بنانے کی بجائے تجربہ گاہ بنالیتے ہیں۔ یہ ہرفن مولا مائنڈ کے مالک بیک وقت عسکری دانش کے نوری نت سائنس کے آئن سٹان ارتقا کے ڈارون فلسفے کے ایک ہی وقت میں ابنِ رشد اور غزالی کے علاوہ بھی خود میں درجن بھر اوصاف کی چمکتی روشنی دیکھتے ہیں یعنی "ہم سب جانتے ہیں" کے زعم کا شکار ہوتے ہیں۔
فقیر راحموں کہتا ہے شاہ جی یہ سب جاننے کا زعم پالنے والے ویسے بیر کی مقعد شریف کی درست طرف نہیں جانتے "میں نے فقیر راحموں کی بات ماننا اب چھوڑ دیا ہے اس کے سر میں شہادت کا سودا سمایا ہوا ہے جبکہ میں اس شوق سے جماندرو طور پر محفوظ ہوں۔
چلیں ہم کوشش کرتے ہیں کہ اصل موضوع پر بات کرلیں لیکن اگر پھر کہیں بھٹک کر ادھر اُدھر نکل لوں تو پریشان ہونے کی بجائے ساتھ چلتے رہیں ہم بہت ساری باتیں کریں گے باتیں کرتے رہنا اس سے اچھا ہے کہ تاریخ پہ "موتا" جائے جیسا کہ ہمارے ہاں بہت سارے لوگ اس بیماری کا شکار ہیں اللہ تعالیٰ انہیں شفائے کاملہ عطا فرمائے لیکن اگر ہماری دعاوں بددعاوں سے کچھ بھلا بگڑنا ہوتا تو پاکستان ایک خالص قومیتی جمہوری ملک ہوتا اور انسانیت و آزادی کا ہردشمن صفحہ ہستی سے مٹ گیا ہوتا۔
دعاوں اور بددعاوں کی ہلاکتوں نے کم از کم ہمیں یہ ضرور سمجھا دیا کہ عمل اور جدوجہد سے کورے لوگ ہوں یا سماج دونوں تاریخ کے کوڑے دان کا رزق ٹھہرتے ہیں، ویسے اگر آپ بُرا نہ مانے تو عرض کروں تاریخ کے دسترخوان اور تاریخ کے کوڑے دان میں اتنا زیادہ فرق بھی نہیں تھوڑی سی محنت کیجے فرق جان لیں گے بس اپنے حصے کی محنت اور کام کرنے کا حوصلہ پیدا کیجے تاکہ آپ لکیر کے فقیر مصداق اوڑھی زندگی سے نجات حاصل کرسکیں۔
یہ جو سیکورٹی اسٹیٹ ہوتی ہے نا یہ کسی کی سگی نہیں ہوتی اس بندریا کی طرح جو اپنے پاوں جلنے سے بچانے کیلئے بچوں کو پاوں کے نیچے رکھ لیتی ہے آپ یوں سمجھ لیجے مذہب اور جمہوریت سیکورٹی اسٹیٹ کے بچے ہیں جب اس کے پاوں جلنے لگتے ہیں۔۔ سمجھ تو گئے ہوں گے کہ اس وقت کیا کرے گی؟
یار میں بوڑھا آدمی ہوں چند قدم چلوں یا درجن بھر سیڑھیاں چڑھوں اتروں ہانپنے لگتا ہوں کئی منٹ تک سانس بے ترتیب رہتے ہیں اور جسم بے جان اس لیئے مجھے امتحان میں نہ ڈالیں ویسے بھی ہم نے بھری جوانی میں اپنے حصے کے امتحانی پرچوں کے سوالات کے جواب سنا دیئے تھے۔
یہ جو جمہوریت یا یوں کہہ لیجے جمہوری نظام ہے یہ ہنوز دلی دور است کے مصداق معاملہ ہے دنیا کی کوئی بھی سیکورٹی اسٹیٹ جمہوریت کا تجربہ نہیں کرتی اسے طبقاتی جمہورہت مذہبی نظام اور وردی کی حکومت اچھے لگتے ہیں یہی تین برانڈ کے نظام اس کے اللوں تللوں کی پردہ پوشی کرتے ہیں یہی نہیں بلکہ وافر رزق کا بندوبست بھی۔
آپ تاریخ کے اوراق الٹ کر دیکھ لیجے جو نظام خود کو انقلاب کے طور پر پیش کررہے تھے انہوں نے نئی استحصالی اشرافیاوں کو جنم دیا۔
یہ تو ہم اور آپ ہوتے ہیں انقلاب کی جگالی کرتے طبقاتی نظاموں کو جمہوریت اور نئے جبر کو بنام انقلاب پیش کرتے ہوئے ورنہ سچ اس سے یکسر مختلف ہوتا تھا اور ہے رہے گا بھی وجہ یہی ہے کہ ہم سب کچھ بدلنا چاہتے ہیں لیکن خود کو بدلنے پر تیار نہیں، کیوں؟
یہ سوال بہت اہم ہے اور غور طلب بھی کہ آخر ہم خود کو بدلنے پر تیار کیوں نہیں ہوتے، مجھے ایسا لگتا ہے غلامی سے کشید کردہ اطاعت گزاری ہماری نس نس میں بسی ہوئی ہے۔ آپ چار اور نگاہ دوڑا کر جائزہ لیجے ہر شخص کے گلے میں کسی نہ کسی قسم کی اطاعت کا طوق ہے اور وہ اس پر خوش بھی ہے مزید خوش وہ اس بات پر ہوتا ہے کہ میں دوسروں کو اطاعت بھری غلامی سے نجات دلانے کی کوشش کررہا ہوں۔
مزید غور کریں گے تو آپ کو یہ بات سمجھنے میں آسانی ہوگی کہ سیکورٹی اسٹیٹ کے کاروبار اور تام جھام انہی مختلف الخیال اطاعت گزاری کے جذبوں کی دکانوں سے رونق پاتے ہیں۔
اس لیئے میرے عزیزو! سب سے پہلے تاریخ کے دسترخوان اور تاریخ کے کوڑے دان کے فرق کو شعوری طور پر سمجھیں دوسرے مرحلے میں تاریخ کے دستر خوان سے شکم سیری کی بجائے اپنے عصری شعور کی روشنی میں چاراور کے معاملات مسائل اور مشکلات کا تجزیہ کیجے۔
تاکہ سیکورٹی اسٹیٹ کے قلعہ سے سر ٹکرانے کی بجائے حکمت کا وہ نسخہ کیمیا پا سکیں جو سیکورٹی اسٹیٹ کے طبقاتی نظام کے کوچے سے نکلنے کی راہ سمجھا سکے۔ یاد رکھنے والی بات یہی ہے کہ عصری شعور کے بغیر طبقاتی نظام، مذہبی پاپائیت، شخصی بت پرستی اور ریاستی حب الوطنی کے ڈھکوسلوں سے نجات مشکل ہے۔
حرف آخر یہ (آج کی تحریر کا) کہ اپنے حصے کی بات کرتے رہیں بس الفاظ کے چناو کا خیال رکھیں زبان کو درندہ بنانے کی بجائے شیریں کلامی کی مہارت دیں ارتقا کبھی روکے نہیں رکا کج فہمیوں کی کھائیوں سے بچنا اتنا ہی ضروری ہے جتنا کانٹوں سے دامن بچانا اور یہ بھی کہ مسائل کا جو سورج سوا نیزے پر ہے اسے پلٹانے کیلئے حکمت و دانش سے کام لینا ہوگا ریاست کو یہ موقع نہ دیں کے وہ تپش سے پاوں محفوظ رکھنے کیلئے آپ کے بچوں کو پاوں کے نیچے رکھ لے۔
ایک کام اور بھی کرنا چاہئے وہ یہ کہ خود احتسابی ضروری ہے تاکہ ہم اور آپ جان سکیں کہ ہم اندھی تقلید کو دوام دینے والوں میں شامل ہیں یا عصری شعور کے فہم کا چراغ جلانے والوں میں؟ اس کا جواب ہی ہمارے بچوں کے مستقبل کا منظر نامہ تشکیل دینے کی بنیاد تعمیر کرے گا۔