Friday, 02 January 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Haider Javed Syed
  4. Naya Saal Aur Kuch Nayi Purani Baatein

Naya Saal Aur Kuch Nayi Purani Baatein

لیجے سال 2025 بیتا لیا گیا۔ اس بیتائے برس میں بھی انگت لوگوں کے خواب ان کی آنکھوں میں ٹوٹے اور آنکھیں زخمی ہوئیں۔ پچھلا برس دوسروں کی طرح ہمارے لئے بھی قدرے ناخوشگوار ہی رہا۔ اب کیا کیا سنائیں اور بتائیں بس فقط یہی کے "دُکھ اور طرح کے ہیں اور دوا اور طرح کی"۔ سیاست ریاست سماج اور معیشت کسی بھی حوالے سے کوئی اچھی خبر نہیں نہ دستک کی امید ہے۔ اس برس میں چند پیارے بچھڑ گئے چند پیارے ممتا کی محبتوں اور دعاوں سے محروم ہوگئے ممتا (ماں) جسکا کوئی نعم البدل نہیں۔

مجھے رواں عہد کے شاندار شاعر انجم سلیمی کا شعر یاد آرہا ہے فقط مجھے نہیں یہ شعر ہر اس شخص کو یاد آتا ہے جو ماں کی ممتا اور دعاوں سے محروم ہے۔ ہماری دانست میں ماں کے حوالے سے انجم سلیمی کا یہ ایک شعر عشروں اور صدیوں کا سفر طے کرکے ایک دن ضرب المثل ٹھہرے گا۔ وہ درست کہتے ہیں ماں کا کوئی متبادل نہیں کوئی بھی نہیں، دینداروں کی اس حوالے سے اپنی متھ ہے کہ خدا ستر ماوں سے زیادہ کریم اور محبت کرنے والا ہے۔

ہم اس پر مکالمہ اٹھا سکتے ہیں لیکن ہمارے چار اور ایسا گھٹیا تعصب دندناتا پھر رہا ہے کہ ہر شخص کو جان کے لالے پڑے ہیں۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں کس سماج میں پیدا ہوئے اور پھنسے اس سماج میں مذہب اور عقیدے ہروقت خطرے میں رہتے ہیں۔

ایک نوجوان شاعر کے شعر کا مفہوم کچھ یوں ہے پگڑیاں جرائم و بے رارویوں کے باجود اونچی رہتی ہیں لیکن آنچل ایک من گھڑت الزام پر قیمت اور قدر کھو دیتے ہیں۔

معاف کیجے گا ہم بھی کیا باتیں لے بیٹھے ہیں ایسی باتیں تو اب بندکمروں میں کی جانی چاہئیں کیونکہ عقیدہ پرست گلیوں میں دندناتے پھرتے ہیں۔

میرے کچھ دوستوں کو شکوہ ہے کہ اب کم کم لکھتا ہوں کچھ کا خیال ہے کہ مسلط جبر سے ڈرگیا ہوں چند ایک اس جبر کی ہمنوائی کی پھبتی کستے ہیں گو ان باتوں سے فرق نہیں پڑتا اپنی محنت مزدوری کی روٹی کھاتے شخص کو لیکن پھر بھی یہ کہنا ضروری ہے کہ اس درشنی فیشنی ماحول میں اپنی فہم کے مطابق بات کرنا از بس ضروری ہے۔ لوگ کیا کہتے اور سوچتے ہیں اس سے فرق نہیں پڑتا خالی خولی واہ واہ سے چولہے نہیں جلتے۔

چلیں اس بات کو بھی اٹھا رکھیئے ہم عصری موضوعات پر بات کرتے ہیں۔ مہنگائی ہے بیروزگاری بھی گھٹن بھی ہے چھبیس کروڑ لوگ جہاں کھڑے ہیں یہ کوئی قابل ذکر یا قابلِ فخر مقام ہرگز نہیں اور "مقامِ محمود" وہ تو صدیوں کی مسافت پر ہے۔

ہم آگے بڑھتے ہیں آگے بڑھتے رہنا ہی زندگی ہے قدم قدم چلتے بڑھتے رہنا چاہئے ہمارے چار اور جو فضا اور حالات ہیں یہ ہمارے کرموں کا ہی پھل ہیں۔ مسائل کا سورج سوا نیزے پر ہے، ویسے یہ سوا نیزے پہ کب نہیں تھا۔ ہم سفر حیات کے 67 برسوں کے سنگِ میل عبور کر آئے ہیں ان 67 برسوں میں جو دیکھا بھگتا محسوس کیا وہ بہت دلچسپ ہے۔ ہماری نسل نے چار فوجی حکمران بھگتے ہماری آنکھوں کے سامنے ملک دولخت ہوا بھٹو پھانسی چڑھائے گئے بینظیر بھٹو سڑک پر مار دی گئیں۔

بلوچستان کے حالات کم از کم ہماری جوانی کے دنوں سے ہی ایسے تھے جیسے اب ہیں ہماری ریاست نے انگنت تجربے کیئے ماسوائے محبتوں کے گلاب بونے کے۔

ہمارے ہمزاد فقیر راحموں کا کہنا ہے کہ ریاستیں یہی کچھ کرتی ہیں البتہ کچھ ریاستیں شہری حقوق کی چھتری اوڑھ لیتی ہیں اس لئے لوگ ان کے اصل سے واقف نہیں ہوپاتے۔ تیسری دنیا کی ریاستوں کی ایک خوبی ہے وہ عدل و مساوات کی چھتری نہیں تانتیں، عرض کیا ایسا کیوں ہے؟ بولے شاہ جی زندگی سیکھاتے سیکھاتے سیکھاتی ہے تیسری دنیا کی ریاستیں بھی ایک دن سیکھ جائیں گی کہ کچھ خرچہ مرچہ لوگوں پر بھی کرتے رہنا چاہئے۔

بات پھر دور نکل گئی جس وقت یہ سطور لکھ رہا ہوں لاہور سمیت تقریباً سارا پنجاب ہی دھند میں چھپا ہوا ہے امسال جاڑا (سردی) قدرے تاخیر سے آیا ہے۔ میدانی علاقوں میں بارش ابھی کُھل کر نہیں ہوئی البتہ پشاور سے کراچی تک بدزبانیوں کی موسلا دھار بارشیں ہورہی ہیں ایسی ایسی گالیاں اور سوقیانہ جملے سننے کو مل رہے ہیں کہ اللہ توبہ کرتے بنتی ہے۔

کراچی میں بھائی الطاف حسین کے ہمدردوں اور مصطفیٰ کمال ننگی گالیوں اور الزامات سے کھیل رہے ہیں پنجاب اور خیبرپختونخوا حکومت کے چند ذمہ داران کے درمیان بھی "زبان دانی" کے ملاکھڑے جاری ہیں۔ ان پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے باوجود یہ جانتے ہوئے بھی کہ اب یہ زبان ہماری مروجہ سیاست کا رزق ہے۔

جتنے اصلاح پسند اور عبادتگاہیں ہمارے ہاں دستیاب ہیں ان کے ہوتے ہوئے اخلاقیات و اقدار کے جنازے روزانہ اٹھتے ہیں۔ کیا اصلاح پسندوں اور عبادتگاہوں کے وارثوں کو اپنے کج تلاش نہیں کرنا چاہئیں؟ یہ سوال ہے کاش اس پر ٹھنڈے دل سے غوروفکر کی زحمت کرلی جائے لیکن کیا انتہاوں میں تقسیم سماج میں غوروفکر کی پھکی کھانے کو کوئی تیار ہے؟ ہمارا جواب نفی میں ہے۔

پاکستانی سیاست اور سماج کے رنگ ڈھنگ نرالے ہیں یہاں ظالم و مظلوم اور محب وطن و غدار بدلتے رہتے ہیں۔ کل کے ظالم آج مظلوم اور کل کے غدار آج محب وطن ہیں۔ دن بدلیں گے تو کردار ہی نہیں چہرے بھی بدل جائیں گے دن بدلیں نہ بدلیں کردار اور چہرے بدلنے کا موسمی کھیل ریاست کی چھتر چھایا میں ہوتا ہے یاد رہے ہمارے ہاں درست یا غلط ریاست اسٹیبلشمنٹ کو سجمھا جاتا ہے۔

گو معنوی اعتبار سے یہ درست نہیں لیکن عملی طور پر ایسا ہی ہے۔ ان سطور میں ہم نصف صدی سے عرض کرتے آرہے ہیں کہ عالمی سامراج کی مرضی و منشا سے مستقبل کا جو نقشہ پچھلی صدی کی درمیانی تین دہائیوں میں بُنا گیا اس کے نتائج یہی ہونا تھے سامراج ہو یا ریاستیں یہ خواب بیچتی ہیں اور تعبیریں ہتھیا لیتی ہیں۔

فقیر راحموں کہہ رہا ہے "شاہ تم صاف سیدھی بات کیوں نہیں کرتے کہ ریاستیں تعبیریں چوری کرلیتی ہیں" اب بتائیے کہ کون اس گھٹن سے اٹے سرد موسم میں پنگا مول لے کم از کم ہمارا ایسا کوئی ارادہ نہیں۔

پچھلے برس مطالعہ بہت کم ہوپایا اس کی وجہ کچھ معروضی اور کچھ ذاتی حالات ہیں حالانکہ کتابیں خریدیں بھی اور کچھ دوستوں نے بھی عنایت کیں ذہنی آسودگی مطالعے کیلئے ازبس ضروری ہے بس وہی نہیں ہے خیر امید پہ دنیا قائم ہے سو ہمیں بھی امید بلکہ یقین ہے کہ اس برس گر جیتے رہے تو خوب پڑھیں گے پہلے پچھلے برس نہ پڑھی جاسکنے والی کتابیں پڑھیں گے پھر نئی منگوائیں گے۔

یہاں تک لکھ پایا تھا کہ سماعتوں پر فقیر راحموں کے قہقہے نے دستک دی ہم نے سر اٹھا کر اس کی جانب دیکھا تو اُس نے ہنستے ہوئے کہا "یار شاہ جی تم کتابوں کے معاملے ندیدے ہو اس لئے یہ مت کہو کے پہلے پچھلے برس کی بچی کتابیں پڑھوں گا پھر نئی کتابیں منگواوں گا" یہ تم سے نہیں ہوگا اس لیئے وہ کہو جو کرسکو۔

اللہ کی شان ہے اب فقیر راحموں کے بھاشن بھی سننا پڑتے ہیں ویسے کہتا وہ درست ہے ہم ایسے ہی ہیں۔

ملک میں سردی بڑھ رہی ہے اور سیاست کے میدان میں گرمی ایک وقت تھا جب کچھ لوگ رات کو یہ کہہ کر سوتے تھے زرداری تو گیا رے لیکن اگلے دن ویسا نہیں ہوتا تھا آجکل کچھ لوگ انقلاب کاشت کرکے سوتے ہیں صبح اسی ماحول میں بیدار ہوتے ہیں۔

خیر ان باتوں کو الگ سے اٹھا رکھتے ہیں ان کا فائدہ بھی کوئی نہیں یہاں طبقاتی جمہوریت ہو کہ انقلاب بھری تبدیلی دونوں اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں اس لئے اب سوچنا ترک کردیا ہے۔

آپ بھی کم سوچا کیجے کیونکہ ہر بلاول ہے دیس کا مقروض و بدحال اور پاوں ننگے ہیں بینظیروں کے یہ صورتحال کب تبدیل ہوگی کچھ کہنا ممکن نہیں۔

ہمارے ایک عزیز سید محمد اسد شاہ گزشتہ روز کہہ رہے تھے شاہ جی آپ پیپلز پارٹی پر اس کے موجودہ کردار کے حوالے سے کچھ نہیں لکھتے؟ ان کی بات درست اور شکوہ بجا ہے لیکن لکھا کیا جائے پیپلز پارٹی اسی طبقاتی نظام کا حصہ ہے اور طبقاتی نظام میں یہی ہوتا ہے جو ہم سب بھگت رہے ہیں۔

بہر حال ہم دعاگو ہیں کہ یہ نیا سال پچھلے سال سے کچھ مختلف ہو یہ اس کے باوجود ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ فقط دعاوں سے دن نہیں بدلتے۔۔