Monday, 09 March 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Haider Javed Syed
  4. Jang, Mehangai, Sazayen, Taane Aur Radd e Amal

Jang, Mehangai, Sazayen, Taane Aur Radd e Amal

ایران کے خلاف امریکہ اینڈ "بُول" کی جارحیت کا ایک ہفتہ (یہ سطور لکھتے وقت) مکمل ہوگیا ہے۔ جارح ملکوں کے سنگین جنگی جرائم پر دنیا کی بڑی حکومتوں کی مجرمانہ خامشی کچھ عجیب بالکل نہیں لیکن عام آدمی اس پہ برہم ہے وہ چاہے کہیں کا بھی ہو البتہ ہندوستان اور پاکستان میں کچھ لوگ خُبثِ باطن کے مظاہروں میں جُتے ہوئے ہیں۔ فتوے اچھالے جارہے ہیں کبھی کبھی تو لگتا ہے پاکستان کی 25 کروڑ آبادی میں 70 کروڑ مفتی و علامے دندناتے پھر رہے ہیں۔ فقیر راحموں ان بدزبانوں کور چشموں اور کج بحثیوں کو "اُلامے" کہتا ہے تو میں ہنس دیتا ہوں ان "اُلاموں" کے فتووں کی چاند ماری کی زد میں ان دنوں چند دیگر کے علاوہ مولانا فضل الرحمٰن بھی آئے ہوئے ہیں۔

دوسری جانب برسوں سے بیروزگار جماعت اسلامی کیلئے نئے کارروبار کا بندوبست ہوگیا ہے سچ کہتے ہیں "جسے دے مولا اُس سے کون چھینے بھلا"۔

سوشل میڈیا کی مختلف سائٹس پر بدزبان فتوے بازوں اور تکفیر کے شوقینوں کے غول دندناتے پھرتے ہیں۔ سائبر کرائم والوں کو لگتا ہے روزہ لگا ہوا ہے کہ وہ نوٹس نہیں لے رہے۔ چلیں کوئی بات نہیں افطاری کے بعد نوٹس لے لیں گے یا عید الفطر کے بعد عید الفطر کونسا دور ہے۔ یہ سطور 18 رمضان المبارک کی صبح اور دوپہر کے درمیانی وقت میں لکھ رہا ہوں باقی 11 یا 12 روزے ہی تو رہ گئے ہیں اور بدزبان کونسا مر کھپ جائیں گے۔

یہ ہر موسم میں کھمبیوں کی طرح اُگ آتے ہیں اور "تلف" بھی نہیں ہوتے پتہ نہیں ہمارے پُرکھوں اور بڑوں نے انسان سازی کیلئے ادارے بنانے کا کیوں نہیں سوچا تھا؟

ایک دن اسی طرح کے سوال کی دستک پر فقیر راحموں کہنے لگا "یار شاہ! ہمارے پُرکھے اور بڑے کونسا آسمان سے اترے تھے ان کا خمیر یہیں کی مٹی سے گندھا ہوا تھا جیسے وہ ویسے ہم "میرے چہرے پر حیرانی پھیلتے بھانپ کر اُس نے مزید کہا "شاہ! تاریخ کو عقیدوں کے دسترخوان سے رزق فراہم کرنے کا یہی نتیجہ نکلتا ہے جو اس وقت ہمارے چاراور دِکھ بلکہ ناچ رہا ہے"۔

یہ فقیر راحموں بھی نا کچھ عجیب و غریب ہے کبھی کبھی مجھے لگتا ہے یہ کسی بین الاقوامی خفیہ ایجنسی کا نمائندہ ہے جب کبھی مجھے ایسا لگتا ہے تو ان لمحوں میں لاہور کے وہ مرحوم معلم اور دانشور یاد آجاتے ہیں جو کسی شخص کے خود سے دوبارہ سلام لینے پر اس شک کا اظہار کرتے تھے کہ "یہ بندہ مجھے سی آئی ڈی کا جاسوس لگتا ہے"۔

اچھا ویسے ہمارے ہاں کسی شخص کو کسی بھی وقت مقامی علاقائی اور بین الاقوامی خفیہ ایجنسیوں یا باہرلے ملک کا ایجنٹ دھڑلے سے قرار دیا جاسکتا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب جماعت اسلامی والے اپنے ہر مخالف کو کافر زندیق کمیونسٹ سوویت یونین کا بھاڑی (تنخواہ دار) قرار دے دیا کرتے تھے۔ پھر اللہ کا کرم ہوا 1970 کے عام انتخابات میں جماعت اسلامی اور امریکہ کے درمیان روابط طشت از بام ہوگئے لیکن وہ جماعتی ہی کیا جو مان کے دے انہوں نے امریکی فنڈنگ و خطوط کو لادین سوویت یونین کے دیسی (پاکستانی) ایجنٹوں کی کارستانی قرار دے کر دامن جھاڑ لیا۔

معاف کیجے گا آپ بھی سوچتے ہوں گے کہ میں کیا باتیں لے کر بیٹھ گیا ہوں اور بھی روگ ہیں زمانے میں جماعت اسلامی کے سوا لیکن یہ ایجنٹو ایجنٹی والی باتیں اس لئے یاد آگئیں کہ ابھی چند دن پہلے خود ہمیں کسی نے امریکی ایجنٹ اور ڈالر خور قرار دیا ہے۔ ستم یہ ہے کہ امریکی ایجنٹ قرار دینے والے شخص کے ہم عقیدہ لوگوں نے چند برس پہلے ہمیں بمعہ ہمارے دوست ملک قمر عباس اعوان اسرائیلی ایجنٹ قرار دیا تھا۔ اس سے قبل ایک طبقہ ہمیں ایرانی ایجنٹ کہتا لکھتا رہا۔ یہی نہیں ہم کوئی بات کرتے لکھتے تو وہ کہتے چلو نکلو یہاں سے جاو ایران، اب میں سوچ رہا ہوں کہ پورے پچاس برس ایران اسرائیل اور امریکہ کی ایجنٹی کرتے ہوئے جو "مال" ملنا تھا وہ کہاں گیا؟

خیر چھوڑیں ہم اور باتیں کرتے ہیں ایران کی اسرائیل اور امریکہ سے جنگ جاری ہے صدر ٹرمپ کہتے ہیں۔ ایرانی ہتھیار ڈال دیں اس سے کم پر بات نہیں ہوگی اسرائیل الگ سے بڑکیں ماررہا ہے ایرانی کہتے ہیں جس میں ہمت ہے آئے آبنائے ہرمز کھلوا لے۔

جنگ کو آج 9 واں دن ہے (آج اتوار ہے جنگ گزشتہ ہفتے کی شب شروع ہوئی تھی) دفاعی امور کے بین الاقوامی ماہرین کہتے ہیں ایرانیوں کی حالت یہ ہے کہ "ہم تو ڈوبیں گے صنم تم کو بھی برباد کرکے چھوڑیں گے" یعنی ہماری سادہ زبان میں "ککھ نی رہنا ساڈا تے تیلہ نی رین دینا امریکہ تے بُولی دا" ترجمہ آپ خود کرلیں کیونکہ ترجمہ اصل کے حُسن کا کھاجاتا ہے۔

گزشتہ روز ایرانی صدر نے کہا کہ ایران نے پڑوسی ملکوں کو نہیں بلکہ ان کی سرزمین پر قائم امریکی اڈوں پر حملے کئے۔ ٹرمپ سمیت زیادہ تر لوگوں نے اس بیان کو ایران کا معافی نامہ قرار دیا۔ اُدھر اسرائیل کی داخلی صورتحال پر دو بھارتی صحافیوں کا آنکھوں دیکھا حال اور دو میں سے ایک کی آنکھوں دیکھے حال کی لائیو گفتگو کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہیں۔ ان ویڈیوز اور چند نشریاتی اداروں کی رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ حالیہ جنگ میں اسرائیل کو بھی بے پناہ نقصان ہوا ہے جسے سنسر شپ سے اوجھل رکھنے کی کوشش ہورہی ہے۔

نقصان ایران کا بھی اندازوں سے زیادہ ہوا مگر ایرانیوں نے بحثیت قوم جس آبرو مندانہ طرز عمل کا مظاہرہ کیا اس نے دنیا کو حیران کردیا ہے۔ گزشتہ کالم میں عرض کیا تھا کہ ایران پر جارحیت کے مرتکب امریکہ و اسرائیل جمع معاونین یہ سمجھ نہیں پائے کہ افراد سے لڑنا ہے یا نظام سے؟ اب 18 امریکی انٹیلی جینس ایجنسیوں کی ایک رپورٹ منظر عام پر آئی ہے اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ "بڑے پیمانے پر جنگ بھی ایرانی حکومت کا تختہ الٹنے میں ناکام رہے گی" دوسری جانب 39 فیصد امریکی رائے عامہ جنگ کی حامی ہے 61 فیصد امریکی اس جنگ کو اپنے وسائل پر بوجھ قرار دے رہے ہیں۔

حالیہ ایران امریکہ و اسرائیل جنگ نے دنیا کو ایک نئے معاشی بحران میں دھکیل دیا ہے۔ مالدار ممالک عین ممکن ہے یہ جھٹکا برداشت کرلیں لیکن دوسری اور تیسری دنیاوں کے ممالک کا بھرکس نکل جائے گا کمزور معیشتیں کتنے عرصے میں سنبھل پائیں گی کچھ کہنا مشکل ہے۔

ہمارے ہاں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں راتوں رات 55 روپے فی لٹر اضافے سے سرمایہ داروں کی تو چاند رات ہوگئی۔ پٹرولیم مصنوعات سے 6 ارب روپے روزانہ مختلف قسم کے ٹیکس وصول کرنے والی حکومت کے اپنے اللے تللے جوں کے توں ہیں۔

ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ان حالات میں وزیروں مشیروں اور افسر شاہی کو ماہانہ مفت فراہم کیا جانے والا تیل بند کردیا جاتا مگر قربانی کیلئے ہمیشہ کی طرح عوام کی کھال اتارنا ضروری سمجھا گیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پٹرول بم چلائے جانے کے بعد مسلم لیگ ن کے مردوزن رہنماوں کے پٹرولیم کی ماضی میں قیمتیں بڑھانے کے وقت دیئے جانے والے بیانات وائرل ہوکر ریکارڈ قائم کررہے ہیں۔ رات کے اندھیرے میں عوام پر خودکش حملے والے بیانات گو پرانے ہیں مگر تازہ زخم خوردہ لوگ انہیں لے کر حکمرانوں کو آئینہ دیکھا رہے ہیں یقیناً اس کا فائدہ نہیں ہوگا کیونکہ ہماری حکمران اشرافیہ وہ کوئی بھی ہو "فول پروف" ہوتی ہے۔

وائرل بیانات میں دوتین بیانات سابق وزیراعظم عمران خان کے بھی ہیں جن میں وہ کسی جنگ کی صورت میں پٹرول مہنگا ہونے کیلئے ذہن سازی کرتے دیکھائی دیتے ہیں یہ اور بات ہے کہ ان کے عقیدت مندوں کے پاس ان بیانات کا جواز موجود ہے۔

بہرطور یہ تلخ حقیقت ہے کہ حکومت وقت نے پٹرول بم چلا کر بہت بڑا ظلم کیا مہنگائی کے بوجھ تلے سسکتے عوام کی آنکھیں باہر نکل آئی ہیں۔ ان کا یہ سوال اہم ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمت بڑھانے کی بجائے پٹرولیم لیوی میں پچاس فیصد کمی کیوں نہیں کی گئی۔ یہ پٹرولیم لیوی تحریک انصاف کے دور میں 30 روپے فی لٹر تک پہنچی تھی آج 100 روپے فی لٹر ہے یہ ان تجربہ کاروں کی معاشی پالیسی ہے جو ہمیں 2018 سے اپریل 2022 تک یہ سمجھا رہے تھے کہ تحریک انصاف کے معاشی نابغوں نے ملک کا بیڑا غرق کردیا ہے۔

اب چلتے چلتے کچھ ذکر خیر تحریک انصاف کا ہوجائے جس کے رہنماوں عمر ایوب شبلی فراز زرتاج گل مراد سعید لندن میں مقیم زلفی بخاری امریکہ میں یوٹیوبری کرتے شہباز گل سمیت 47 افراد کو گزشتہ روز جی ایچ کیو حملہ کیس میں 10-10 سال قید اور مجموعی طورپر 2کروڑ 35 لاکھ روپے جرمانے کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔ زیادہ تر سزا پانے والے رہنما اور کارکن طویل عرصے سے سیاسی اشتہاریوں کی جنت خیبرپختونخوا میں مقیم ہیں۔

عمر ایوب نے تو ہری پور سے اپنی ختم ہوئی نشست پر اہلیہ کو الیکشن بھی لڑوایا تھا پی ٹی آئی ان سزاوں کو سیاسی ہتھکنڈہ قرار دیتی ہے اور مخالف ملک دشمنی کا نتیجہ لیکن یہ سچ ہے کہ تحریک انصاف وہی کاٹ رہی ہے جو اس نے بویا تھا۔

اسی دوران عمران خان کی بہن علیمہ خان نے بھائی کی جماعت کی قیادت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ تعزیت کیلئے ایرانی سفارتخانے پہنچ گئے لیکن عمران خان کیلئے اڈیالہ جیل کے باہر نہیں آسکتے۔ تحریک انصاف کے اندر علیمہ خان کے اس بیان اور ماضی کے چند بیانات کو لے کر خاصی برہمی پائی جاتی ہے۔ کہا جارہا ہے کہ ہم تحریک انصاف کی سیاسی پالیسیوں اور فیصلوں کے پابند ہیں خان صاحب کی بہنوں کے ذاتی ملازم ہر گز نہیں۔