ایڈووکیٹ ایمان زینب مزاری اور ان کے شوہر ایڈووکیٹ ہادی علی چٹھہ کو متنازعہ ٹیویٹ کے مقدمے میں گزشتہ روز ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکہ کی عدالت سے مجموعی طور پر 17، 17 برس کی سزا سنادی گئی ان دونوں کو جمعہ کے روز پولیس نے اس وقت گرفتار کیا جب وہ اسلام آباد ہائیکورٹ بار کے صدر اور دیگر وکلاء کے ہمراہ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے دفتر سے ضلع کچہری میں پیش ہونے کے لئے جارہے تھے ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے وقت گرفتاری مرد پولیس اہلکاروں کی جانب سے ایمان مزاری سے ناشائستہ رویہ اپنانے کا بھی الزام لگایا۔
ایمان زینب مزاری سابق وفاقی وزیر محترمہ شیریں مزاری کی صاحبزادی اور مرحوم رکن قومی اسمبلی سردار عاشق محمد خان مزاری کی نواسی ہیں اپنے طور و اطوار کی بنا پر وہ ایک طبقے میں ہیرو سمجھی جاتی ہیں جبکہ ایک طبقہ ان پر بعض کالعدم بلوچ عسکری تنظیموں کے ہم خیالوں کے موقف کی ہمنوائی کا الزام بھی لگاتا ہے ان کی ہیرو گیری یا ان پر ایک طبقے کے الزامات ہمارا موضوع ہرگز نہیں۔
البتہ ان کی گرفتاری کے وقت پولیس اہلکاروں کے ناشائستہ رویہ کے حوالے ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر واجد گیلانی نے جو الزامات عائد کئے وہ خاصے سنگین ہیں لاریب مرد پولیس اہلکاروں کو اس نامناسب اور قوانین کے منافی طرز عمل کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے تھا گو پولیس حکام ایک خاتون پولیس اہلکار کے بوقت گرفتاری ہمراہ ہونے کے دعویدار ہیں لیکن یہ سطور لکھے جانے تک کسی ذریعے سے اس امر کی تصدیق نہیں ہوپائی اس طور یہ کہنا درست ہوگا کہ خاتون کی گرفتاری کیلئے موجود قوانین کی خلاف ورزی سے اچھا تاثر پیدا نہیں ہوا۔
ایمان زینب مزاری اور ان کے شوہر کی گرفتاری کو بلاسفیمی بزنس گروپ کے متاثرین کی قانونی امداد کے حوالے سے پیش کرکے کچھ حلقے یہ الزام لگارہے ہیں کہ یہ گرفتاری بظاہر متنازعہ ٹیویٹ کیس میں عمل میں لائی گئی لیکن درحقیقت یہ بلاسفیمی بزنس گروپ کے پیچھے موجود قوتوں کا ہدف تھا جو حاصل کرلیا گیا۔
یہ بات کتنی درست ہے اور کتنی غلط اس پر بحث اٹھانے کی بجائے یہ عرض کرنا مناسب ہوگا کہ وکالت کے شعبہ سے تعلق رکھنے والے اس جوڑے نے بلاسفیمی بزنس گروپ کے متاثرین کیلئے طویل عدالتی جنگ لڑی یقیناً کچھ لوگ ان کے اس عمل سے خوش نہیں تھے اسی طرح ایمان مزاری بلوچ مسنگ پرسن کے ورثا اور بلوچ یکجہتی کونسل کے لئے نہ صرف قانونی مشاورت فراہم کرتی رہیں بلکہ انسانی حقوق کی ایک سرگرم کارکن کے طور پر مختلف فورمز پر اپنا موقف بھی پیش کرتی دیکھائی دیں۔
اپنی گرفتاری سے دودن قبل ایمان مزاری شوہر کے ساتھ اسلام آباد ہائیکورٹ بار کے عہدیداران کے ہمراہ ہائیکورٹ کے احاطے اپنے بیگز کے ساتھ پہنچیں تب ان کا کہنا تھا کہ وہ سامان ہمراہ لائی ہیں اگر کسی نے گرفتار کرنا ہے تو کر لے اس گفتگو کے بعد اگلے 48 گھنٹے انہوں نے ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے دفتر میں بسر کیئے جہاں تحریک انصاف کے رہنماوں کے علاوہ مختلف الخیال سیاسی و سماجی اور انسانی حقوق کیلئے سرگرم عمل کارکنان ان سے یکجہتی کے لئے پہنچے یکجہتی کا اظہار کرنے والوں میں سینیٹ میں قائد حزب اختلاف سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری بھی شامل تھے۔
ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے دفتر میں اٹھتالیس گھنٹوں اپنے قیام کے دوران انہوں نے متعدد بار ذرائع ابلاغ کے وہاں موجود نمائندوں سے جذباتی انداز میں گفتگو کی اس دوران ان سے یہ بھی سوال ہوا کہ اگر وہ گھر سے سامان لے کر گرفتاری کیلئے آئی ہیں تو بار ایسوسی ایشن کے دفتر تک کیوں محدود ہیں؟ ان کا جواب تھا کہ میں اس ملک کے نظام انصاف کا حقیقی چہرہ دنیا کو دیکھانا چاہتی ہوں غالباً وہ اسی نظام انصاف کی بات کررہی ہوں گی جس نے کچھ عرصہ قبل اُس وقت کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ان کے ایک سخت موقف پر درج ہوئے مقدمے میں اس بنیاد پر ریلیف دیا تھا کہ "وہ آئندہ محتاط رویہ اپنائیں گی"۔
ایمان مزاری کو ان کے شوہر کے ہمراہ گرفتاری کے بعد عدالت میں پیش کیئے جانے پر پولیس ان دونوں کے جسمانی ریمانڈ کی خواہستگار تھی لیکن عدالت نے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہفتے کی صبح جب انہیں عدالتی حکم پر جیل سے ویڈیو لنک کے ذریعے عدالتی کاروائی میں شامل کیا گیا تو ان کی متعلقہ جج سے شدید تلخ کلامی ہوئی انہوں نے متعلقہ جج پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے اپنے شوہر کے ہمراہ عدالتی کاروائی کا بائیکاٹ کردیا۔
ان کے بائیکاٹ کے بعد عدالتی سماعت جاری رہی بعد ازاں انہیں اور ان کے شوہر کو مجموعی طورپر سترہ سترہ برس کی سزائیں سنادی گئیں قانونی ماہرین کا ایک بڑا طبقہ عدالتی فیصلے کا ناقد ہے اس کا موقف ہے کہ عدالت کو سمری ٹرائل کا طریقہ نہیں اپنانا چاہئے تھا اور نہ ہی انہیں دفاع کے حق سے محروم کرنا چاہئے تھا اس فیصلے سے کچھ دیر بعد ایمان مزاری والدہ انسانی حقوق کی سابق وفاقی وزیر محترمہ شیریں مزاری نے ایک انٹرویو میں کسی کا نام لئے بغیر الزام لگایا کہ " یہ لوگ میری بیٹی کو جان سے مارنا چاہتے ہیں "۔
بظاہر یہ بہت سنگین الزام ہے اپنے انٹرویو میں انہوں نے جو باتیں کیں ان میں سے ممتا کے جذبات والے جملوں کو ایک طرف رکھ کر فقط اس الزام پر کہ " کچھ لوگ میری بیٹی کو جان سے ماردینا چاہتے ہیں " پر بات ہونی چاہئے کیونکہ یہ نہ صرف سنگین الزام ہے بلکہ بعض حلقے اس الزام کو ایمان مزاری کی جانب سے اپنے ایک مقدمے میں ڈی جی آئی ایس پی آر کو طلب کرنے کی درخواست کے تناظر میں دیکھ اور پیش کررہے ہیں بہر حال معاملہ کچھ بھی ہو الزام انتہائی سنگین ہے۔
ایڈووکیٹ ایمان زینب مزاری کو اپنے سخت انداز تکلم کے باعث اپنے لئے پسندیدگی اور ناپسندیدگی ہردوطرح کے جذبات کا سامنا کرنا پڑتا رہا ہے ان کے ناقدین بھی ان پر الزامات لگاتے ہوئے توازن سے محروم ہوجاتے ہیں تو ان کے وہ حامی بھی انصاف نہیں کرپاتے جو انہیں محترمہ عاصمہ جہانگیر ایڈووکیٹ مرحومہ کا دوسرا جنم قرار دیتے ہیں۔
مرحومہ عاصمہ جہانگیر ایڈووکیٹ انتہائی سخت بات کرتے ہوئے الفاظ کے چناو میں کمال مہارت کا مظاہرہ کرتی تھیں مقابلتاً متنازعہ ٹیویٹ کے مقدمہ میں شوہر کے ہمراہ سترہ برس کی سزا پانے والی نوجوان قانون دان الفاظ کے اس وسیع ذخیرے سے محروم دیکھائی دیتی ہیں جو "کاٹ دار موقف کو حلوہ بناکر مخالف کے دہن کا ذائقہ بدل دے"۔
ہم اور آپ کہہ سکتے ہیں کہ وقت بہت بڑا استاد ہے سیکھاتے پڑھاتے سیکھا دیتا ہے یہاں یہ سوال اہم ہوگا کہ جذبات کے سرکش گھوڑے پر بغیر لگام کے سواری سوار کے ساتھ کیا کرتی ہے؟ ہم کہہ سکتے ہیں کہ " یہی جو ایمان زینب اور ان کے شوہر کے ساتھ ہوا "۔
لیکن میری رائے قدرے مختلف ہے اپنی رائے عرض کرنے سے قبل اس امر کا اظہار ضروری ہے کہ متنازعہ ٹیویٹ کے مقدمے میں عدالتی سماعت کے آخری دن ہفتے کو جو کچھ ہوا اس سے انصاف کے تقاضے عینِ انصاف کے تناظر میں پورے ہوتے دیکھائی نہیں دیئے۔
ہم آگے بڑھتے ہیں کالم کی ان آخری سطور میں بارِدیگر ایک بات عرض کرنا چاہتا ہوں پڑھنے والوں کو تکرار لگے گی مگر کڑواسچ یہی ہے جو میں ان سطور میں لگ بھگ نصف صدی سے عرض کرتا آرہا ہوں وہ یہ کہ ہم اور آپ ایک سکہ بند سیکورٹی اسٹیٹ میں جی بس رہے ہیں یہاں آئیڈیل ازم سے زیادہ تدبر و تحمل کے ساتھ مناسب ترین الفاظ میں اپنی بات کہنا ازبس ضروری ہے کیونکہ اگر آپ الفاظ کے چناو کے ہنر سے محروم ہیں تو خود اپنے لئے مشکلات پیدا کرلیں گے لیکن اگر سخت ترین بات کو حلوہ بناکر مخالف کے دہن کا ذائقہ بدلنے پر قادر ہوں گے تو یہ آپ کو سیکورٹی سیٹیٹ کے قلعہ کی دیواروں سے سر ٹکرانے سے محفوظ رکھے گی۔
بنیادی طور پر ایک خاص فہم کے طبقاتی نظام میں سے جمہوریت اور آزادی اظہار کیلئے راستہ نکالنا لمبی جدوجہد کا سفر ہے یعنی سیکورٹی سٹیٹ میں جینے بسنے کے ڈھنگ پہلے سیکھنا ہوں گے اگلے مراحل اس کے بعد طے ہوں گے ہماری نسل بھی اپنی جوانی کے ماہ و سال میں سلیقے سے بات کرنے پر کلہاڑا مارکہ زبان استعمال کرنے کو بہادری سمجھتی تھی تب ہم یہ سمجھتے تھے کہ ہماری سرکش جوانی کی چند ٹکروں سے قلعہ کی دیوار پاش پاش ہوجائے گی لیکن وقت نے یہ سمجھا دیا کہ جدوجہد ضروری اور اہم ہے ٹکریں مارنے اور زبان درازی سے، قارین محترم! کالم کے دامن میں گنجائش تمام ہوتی ہے پھر کبھی اس موضوع پر مزید باتیں کریں گے۔