Monday, 16 February 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Haider Javed Syed
  4. Friend Of Court Ki Report Aur Imran Khan Ko Lahaq Bimari

Friend Of Court Ki Report Aur Imran Khan Ko Lahaq Bimari

اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیر اعظم اور تحریک انصاف کے بانی عمران خان آنکھ کی بیماری میں مبتلا ہیں۔ سپریم کورٹ کے حکم پر فرینڈ آف کورٹ مقرر ہوئے ایڈووکیٹ سلمان صفدر نے لگ بھگ ساڑھے تین گھنٹے جیل میں ان سے ملاقات کے بعد اپنی مفصل رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروادی۔ ایک وکیل (یہ صاحب چند مقدمات میں عمران خان کے وکیل بھی ہیں) نے اپنی رپورٹ میں لکھا عمران خان کی آنکھ کی بینائی پچاسی فیصد تک متاثر ہوئی ہے، سلمان صفدر ماہر امراضِ چشم بھی ہیں یہ غالباً انہیں فرینڈ آف کورٹ مقرر کرنے والے چیف جسٹس آف پاکستان کے علم میں بھی نہیں ہوگا۔

اس رپورٹ کی بنیاد پر بیانیہ بنا اور اب تحریک انصاف کی حکومت والے صوبے خیبر پختونخوا میں کارکنوں کی ٹولیاں سڑکوں پر ہیں۔ اطلاعات کے مطابق خیبرپختونخوا کو پنجاب اور سرائیکی وسیب سے ملانے والی 6 بڑی شاہراہیں بند کردی گئی ہیں۔

اسلام آباد میں ایک دھرنا پارلیمینٹ کی عمارت کی حدود میں اور دوسرا خیبرپختونخوا ہاوس کے باہر جاری ہے۔ دونوں جگہ مشکل سے دو اڑھائی درجن ارکان اسمبلی و سینیٹ شریک ہیں۔ پنجاب اور سندھ سے تحریک انصاف کے اراکین کہاں "غائب ہوگئے" پتہ نہیں یوٹیوبرز اور سوشل میڈیا مجاہد انصافیز نے "ات" اٹھائی ہوئی ہے۔

کیا یہ یاد دلانا ضروری ہے کہ 2021 میں اُس وقت کے وزیراعظم نے اپنے سیاسی مخالفین کا تمسخر اڑاتے ہوئے کہا تھا "یہ عجیب لوگ ہیں جیل جاتے ہیں تو بیمار ہوجاتے ہیں" یا اس سے قبل 2019 میں امریکہ میں ایک سیاسی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا "ہم نے تمہیں جیلوں میں ڈالا کیونکہ تم کرپٹ ہو اب گھر کا کھانا مانگتے ہو اور سہولتیں کیا باقی تمام قیدیوں کو یہ سہولتیں حاصل ہیں؟"

اسی امریکی جلسے میں انہوں نے منہ پر ہاتھ پھیر کر کچھ اور بھی کہا تھا تب ممکن ہے انہیں یہ یاد نہ ہوکہ اقتدار دائمی طور پر کسی کی ملکیت نہیں ہوتا۔

اب پہلا بنیادی سوال یہ ہے کہ ان (عمران خان) کی ایک آنکھ کی بینائی 85 فیصد تک متاثر ہوچکی فرینڈ آف کورٹ نے یہ کس بنیاد پر لکھا؟ کیا انہوں نے جیل حکام کے پاس عمران خان کے علاج معالجے کے حوالے سے موجود ریکارڈ سے استفادہ کیا۔

خان صاحب نے بتایا یا خود سے تشخیص کرلیا؟

دوسری جانب جیل ریکارڈ کے مطابق انہوں نے اگست 2025 میں پہلی بار آنکھ میں تکلیف کی شکایت کی جس پر ڈاکٹر نے ان کا معائنہ کیا اور ڈراپس تجویز کیئے جو فراہم کر دیئے گئے۔ اگست سے دسمبر 2025 کے وسط کے درمیانی دنوں میں عمران خان کی اپنی بہنوں اور وکلا سے متعدد ملاقاتیں ہوئیں کیا ان ملاقاتوں میں یا دسمبر میں اپنے وکیل سلمان صفدر اور اس کے معاون وکیل سے اپنی ملاقات میں انہوں نے آنکھ کی بیماری کے حوالے سے کوئی بات کی؟

اسی دسمبر 2025 میں ان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان نے ان سے ملاقات کی اور ملاقات کے بعد اڈیالہ جیل کے باہر ذرائع ابلاغ و یوٹیوبرز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا "عمران خان نے کہا ہے کہ اگر مجھے اور میری اہلیہ کو کچھ ہوا تو اس کی ذمہ داری جنرل عاصم منیر پر ہوگی" اسی گفتگو کے بعد عمران خان کی ملاقاتوں پر پابندی لگائی گئی تھی۔

یہ ملاقات سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے حکومت سے رابطے پر کرائی گئی کیونکہ بیرسٹر گوہر علی خان سینیٹر راجہ ناصر عباس جعفری محمود خان اچکزئی اور اسد قیصر نے ایاز صادق سے ملاقات کرکے یقین دہانی کرائی تھی کہ بہنیں عمران خان سے ملاقات کے بعد جیل سے باہر آکر سیاسی بیان بازی نہیں کریں گی لیکن ہوا اس یقین دہانی کے برعکس، ڈاکٹر عظمیٰ خان نے جو کہا وہ بالائی سطور میں عرض کردیا ہے۔

دسمبر 2025 کی اس ملاقات کے بعد عمران خان کی دوبہنوں علیمہ خان اور ڈاکٹر عظمیٰ خان نے اپنے بھائی کی صحت کے حوالے سے اڑتی خبروں کو "بکواس" قرار دیتے ہوئے کہا ہمارا بھائی مکمل طور پر صحت مند ہے البتہ قید تنہائی کی وجہ سے غصے میں ہے۔

جیل ریکارڈ کے مطابق اڈیالہ جیل میں عمران خان کا 25 بار طبی معائنہ ہوا اڈیالہ جیل حکام نے چند دن قبل یعنی فرینڈ آف کورٹ مقرر کیئے جانے سے قبل اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروائی تھی جس دن فرینڈ آف کورٹ مقرر ہوا یہ رپورٹ کورٹ نمبر ایک میں زیربحث رہی۔

یاد رہے ہم یہ سوال نہیں اٹھا رہے کہ سپریم کورٹ نے عمران خان کے وکیل کو ہی فرینڈ آف کورٹ کیوں مقرر کیا نہ ہم لائی لگ یوٹیوبرز کے اس رولے پر بحث اٹھارہے ہیں کہ چیف جسٹس اور حکومت کے درمیان کسی معاملے پر اختلافات پیدا ہوچکے ہیں یہ اقدام اس کا نتیجہ ہے۔

اس پر بھی بحث فضول ہے کہ چیف جسٹس سے دودن قبل اقوام متحدہ کے وفد نے ملاقات میں عمران خان کے مسئلہ پر کھیچائی کی اور فرینڈ آف کورٹ اقوام متحدہ کی ناراضگی دور کرنے کیلئے مقرر کیا گیا وجہ یہی ہے کہ انصافی مجاہدین اور یوٹیوبرز اپنی ہر بات اور دعوے کو "الہامی صدا" کے طور پر پیش کرتے ہیں ان کے خیال میں سچ صرف یہی بولتے ہیں اور یہی اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہیں باقی سب اسٹیبلشمنٹ کی جیب کی گھڑی ہیں۔

عمران خان بیمار ہیں جیل مینول کے تحت ان کا طبی معائنہ اور علاج جیل حکام کے فرض منصبی کا حصہ ہے حکومت کا بھی فرض ہے کہ وہ جیل حکام کو فرائض منصبی ادا کرنے سے پہلو تہی نہ کرنے کا حکم دے۔

پچاسی فیصد تک بینائی متاثر ہوچکی کا بیانیہ جس رپورٹ کی بنیاد پر بنایا گیا یہ رپورٹ ایک وکیل کی ہے جس نے بقول اس کے عمران خان سے ساڑھے تین گھنٹے ملاقات کی اور یہ بات انہوں نے اسے بتائی اسی رپورٹ میں جیل میں انہیں حاصل سہولتوں کی تفصیل بھی درج ہے۔

یہ اس سے کہیں زیادہ سہولتیں ہیں جو عمران خان اپنے دور میں منہ پر ہاتھ پھیر کر جیلوں میں ڈالے گئے اپنے مخالفوں سے چھین لینے کا اعلان کیا کرتے تھے ان کے محب کارکن اور تازہ اتحادی اپنے احتجاج سے سماں باندھے ہوئے ہیں۔

کیا سماں باندھنے والے یہ جانتے ہیں کہ ایک سطح پر دو دوست ملکوں کے سفیروں کی کوششوں سے جو رابطے اور بات چیت ہوئی وہ ناکام رہی ناکامی کی وجہ وہ زبان دانی اور دھمکیاں ہیں جو خیبرپختونخوا سے اسلام آباد تشریف لائے چند وزرا اور ارکان اسمبلی کے دہنوں سے نکلیں۔

ہمارے ہمزاد فقیر راحموں کہتے ہیں "بات بات پر مخالفوں حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو یزید قرار دے کر خود کو حسینیؑ کہنے والے یزید سے سہولتوں علاج اور دوسرے مطالبات کیوں کررہے ہیں یزید کو تو سر دیتے ہیں اس کی جانب دستِ سوال بڑھاتے ہیں نہ اس کی اسٹیبلشمنٹ سے مطالبات کرتے ہیں"۔

پارلیمان کی عمارت کے سائے میں بیس بائیس ارکان پارلیمنٹ کا جو احتجاج بزرگ سیاستدانوں سینیٹر راجہ ناصر عباس جعفری اور محمود خان اچکزئی کی قیادت میں جاری ہے انہیں کھانے پینے اور ادویات کے حصول میں مشکلات پیش آرہی ہیں سپیکر بتائیں کہ کیفے ٹیریا کیوں بند کروایا گیا اور پولیس کو کس نے حکم دیا کہ بزرگ سیاستدانوں کے گھروں سے آنے والا کھانا اور ان کی ادویات ان تک نہ جانے دی جائیں؟

ہماری دانست میں عشق عمران میں گرفتار ان بزرگ سیاستدانوں کی دیکھ بھال سپیکر قومی اسمبلی اور حکومت کا فرض ہے تاکہ کوئی انہونی نہ رونما ہونے پائے۔

باردیگر عرض ہے جیل مینول کے تحت عمران خان کی دیکھ بھال ان کا طبی معائنہ اور علاج جیل حکام اور حکومت کا فرض ہے اس سے پہلو تہی نہیں برتی جانی چاہئے وہ ملک کے سابق وزیراعظم اور ایک بڑی جماعت کے بانی ہیں انہوں نے 1992 میں کرکٹ کا ورلڈ کپ جیتا۔

عوام الناس کے چندوں سے اپنی مرحومہ والدہ کے نام پر کینسر کے تین ہسپتال بنائے جو چندہ دینے والوں کے کینسر کے دوسرے درجہ کے مریضوں کا علاج نہیں کرتے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز ہرگز نہیں کہ ان کا علاج نہ کرایا جائے۔

اس پر دو رائے ہرگز نہیں کہ پاکستانی سیاست میں عدم برداشت آج جس معراج پر ہے اس میں سب نے اپنے اپنے وقت میں خاطر خواہ حصہ ڈالا لیکن ہمالیہ جیسی بلندی پر اس عدم برداشت کو خان صاحب ان کے حامی اور وہ اتحادی لے کر گئے جو آیات قرانی اور اقوال معصومین کی من پسند تشریح فرما کر سیاسی اختلافات کو معرکہ حق و باطل کے طور پر پیش کررہے ہیں۔

گو یہ سب غلط ہے لیکن عمران خان کے ساتھ کچھ غلط نہیں ہونا چاہئے ورنہ کوئی بھگوڑا یوٹیوبر پہلے کی طرح کوئی سستی اور گھٹیا کہانی ایک ہزار ڈالر میں بھارتی میڈیا کو فروخت کرکے جگ ہنسائی کا سامان کرسکتا ہے۔