Monday, 16 February 2026
  1.  Home
  2. Nai Baat
  3. Muhammad Irfan Nadeem
  4. Kam Umri Ki Shadi, Qanoon Aur Fitrat

Kam Umri Ki Shadi, Qanoon Aur Fitrat

یہ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارے کی کہانی ہے۔ والد اپنی بیٹی کو لینے آئے تو دیکھا کہ وہ اجنبی لڑکوں کے ساتھ ضرورت سے زیادہ فری اور حدود سے تجاوز کر رہی ہے۔ گھر آ کر والدین نے سمجھانے کی کوشش کی تو بچی رو دی۔ اس کا کہنا تھا اس کی صرف دوستی ہے اور وہاں سب ایسے ہی ہیں۔ کچھ مہینوں بعد یہ دوستی اذیت میں بدل گئی اور والدین کو نفسیاتی ڈاکٹر، ادارے کی انتظامیہ اور پولیس کی مدد لینا پڑی۔ والدین نے بچی کو نفسیاتی صورت حال سے نکالنے کے لیے نکاح کا فیصلہ کیا، مگر انہیں بتایا گیا قانون اس کی اجازت نہیں دیتا۔ اٹھارہ سال سے کم عمری کی شادی جرم ہے۔

یہ کسی ایک گھر کی کہانی نہیں بلکہ ہمارے شہروں، گاؤں، گلی محلوں اور تعلیمی اداروں کی روزمرہ حقیقت بن چکی ہے۔ پہلے وفاقی حکومت نے اٹھارہ سال سے کم عمری کی شادی پر پابندی لگائی تھی اب پنجاب حکومت نے بھی کم عمری کی شادی پر پابندی اور اسے فوجداری جرم قرار دینے کا آرڈیننس جاری کر دیا ہے۔ دونوں حکومتوں کی طرف سے یہ پابندی ایک گہرے فکری، تہذیبی اور مذہبی تصادم کی علامت ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ اٹھارہ سال سے کم عمر لڑکے یا لڑکی کی شادی پر سزا مقرر کر دی گئی ہے بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ریاست نے ایک ایسا پیمانہ مقرر کیا ہے جو نہ فطرت سے ہم آہنگ ہے، نہ معاشرتی حقائق سے اور نہ ہی اسلامی تصورِ نکاح سے۔

اسلام نے نکاح کو محض ایک سماجی معاہدہ نہیں بنایا بلکہ اسے انسانی زندگی کے فطری اور اخلاقی تقاضوں کا محافظ قرار دیا ہے۔ بلوغت خواہ وہ بارہ سال کی عمر میں ہو یا تیرہ میں، انسانی وجود میں ایک تبدیلی برپا کر دیتی ہے۔ جسم بدلتا ہے، جذبات بیدار ہوتے ہیں، خواہشات انگڑائیاں لیتی ہیں اور اگر اس مرحلے پر انہیں کوئی جائز، محفوظ اور اخلاقی راستہ نہ دیا جائے تو وہ راستے خود تلاش کر لیتی ہیں۔ ایسی صورت میں اکثر وہ راستے فرد، خاندان اور معاشرہ سب کے لیے تباہ کن ثابت ہوتے ہیں۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ دور جدید میں بچے بہت جلد بالغ ہو رہے ہیں۔ خوراک، ماحول، سوشل میڈیا اور طرزِ زندگی نے بلوغت کی عمر کو نمایاں طور پر کم کر دیا ہے۔ بارہ تیرہ سال کا بچہ آج وہ سب کچھ محسوس کر رہا ہوتا ہے جو کبھی بیس بائیس سال میں ہوتا تھا۔ سوال یہ ہے کہ ریاست اس حقیقت کو کیوں تسلیم نہیں کر رہی؟ کیا وہ آنکھیں بند کرکے محض کیلنڈر کی ایک تاریخ کو قانون کا معیار بنانا چاہتی ہے؟

آپ حکومت و ریاست کا تضاد دیکھیے کہ ایک طر ف اس کا اصرار ہے کہ اٹھارہ سال سے پہلے شادی نہیں ہو سکتی مگر اسی حکومت کی سرپرستی میں چلنے والے تعلیمی اداروں، تفریح گاہوں، پارکوں، شاپنگ مالز اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر نوعمر لڑکے لڑکیاں آزادانہ تعلقات قائم کر رہے ہیں۔ وہاں کوئی نکاح نامہ درکار نہیں، کوئی عمر کی قید نہیں، کوئی پولیس نہیں، کوئی آرڈیننس نہیں۔ وہاں جذباتی استحصال بھی ہو رہا ہے، جسمانی نقصان بھی، نفسیاتی بگاڑ بھی اور روحانی تباہی بھی مگر ریاست خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ یہ کیسا تضاد ہے کہ جہاں دو خاندان مل بیٹھ کر ایک تعلق کو قانونی، سماجی اور اخلاقی تحفظ دینا چاہیں تو وہاں ریاست سخت ترین سزاؤں کی دھمکی دیتی ہے اور جہاں تعلقات چوری چھپے، غیر ذمہ دارانہ اور اکثر استحصالی بنیادوں پر پنپ رہے ہوں وہاں ریاست کو نہ غیرت آتی ہے، نہ فکر، نہ قانون سازی کی جلدی۔

اسلام نے نکاح کو آسان اور زنا کو مشکل بنانے کا اصول دیا تھا۔ آج ہم الٹا سفر کر رہے ہیں۔ نکاح کو مشکل، مہنگا، قانونی پیچیدگیوں میں جکڑا ہوا اور خوفناک بنا دیا گیا ہے جبکہ ناجائز تعلقات کو عملاً آزادی حاصل ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ نوجوان نسل صحت کے مسائل کا شکار ہو رہی ہے، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، عدمِ تحفظ، احساسِ جرم اور روحانی خلا بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ سب وہ مسائل ہیں جن پر حکومت کی کوئی سنجیدہ پالیسی نظر نہیں آتی۔ حکومت اگر واقعی بچوں کے حقوق کے تحفظ میں سنجیدہ ہے تو اسے یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کم عمری میں قائم ہونے والے ناجائز تعلقات کس قدر تباہ کن ہیں۔ ان تعلقات میں نہ کوئی ذمہ داری ہوتی ہے، نہ کوئی مستقل مزاجی، نہ کوئی سماجی تحفظ۔ لڑکیاں اکثر استعمال ہو کر چھوڑ دی جاتی ہیں اور ان کی آخری پناہ گاہ دار الایمان ہوتی ہے۔ لڑکے جذباتی انتشار کا شکار ہو کر نفسیاتی بن جاتے ہیں۔ مگر ان سب برائیوں کے باوجود قانون کا نشانہ صرف نکاح بن رہا ہے۔

یہی وہ نکتہ ہے جہاں مذہبی ذہن رکھنے والا ایک عام پاکستانی بدگمان ہوتا ہے۔ اسے محسوس ہوتا ہے کہ شاید ریاست کسی مغربی ایجنڈے کے زیرِ اثر ہے، جہاں خاندان کو کمزور، نکاح کو غیر ضروری اور آزادی کو مطلق خیر سمجھا جاتا ہے۔ اگر کم عمری پر پابندی کا یہ قانون واقعی ریاست کا اپنا ایجنڈا ہوتا تو یہ مقامی اقدار سے جڑا ہوتا، اسلامی تہذیب سے ہم آہنگ ہوتا۔ حکومت اور ریاست کبھی ایسا قانون نہ بناتی جو فطرت کے خلاف اور معاشرتی حقائق سے متصادم ہو۔

یہ بات بھی اہم ہے کہ اسلام نے نکاح اور مباشرت کے درمیان فرق واضح کیا ہے۔ نکاح کا جواز ایک چیز ہے اور ازدواجی تعلقات کی عملی اجازت دوسری۔ اگر لڑکی جسمانی طور پر تیار نہ ہو تو شوہر کو بھی صبر کا حکم دیا گیا ہے۔ یعنی شریعت نے معاملے کو نہایت توازن کے ساتھ دیکھا ہے، اندھی اجازت دی، نہ غیر فطری پابندی لگائی۔ مگر ہمارا جدید قانون اس باریکی کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں۔

ریاست کو یہ حق ضرور ہے کہ وہ ظلم، جبر اور استحصال کو روکے۔ اگر کہیں زبردستی کی شادی ہو رہی ہے، اگر بچی کی صحت کو خطرہ ہے، اگر اس کی رضامندی شامل نہیں تو وہاں مداخلت نہ صرف جائز بلکہ ضروری ہے۔ مگر ایک عمومی پابندی جو ہر صورت، ہر خاندان اور ہر بچے پر یکساں لاگو ہو وہ انصاف نہیں بلکہ زیادتی کے زمرے میں آتی ہے۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ قانون محض سزا کا نام نہیں، بلکہ رہنمائی اور اصلاح کا ذریعہ ہوتا ہے۔ جب قانون سماج کی نبض سے کٹ جائے تو وہ احترام کھو دیتا ہے، لوگ اسے چکمہ دینے کے راستے تلاش کرتے ہیں، جعلی دستاویزات بنتی ہیں، نکاح چھپ کر ہوتے ہیں اور یوں ایک اور اخلاقی بحران جنم لیتا ہے۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس مسئلے کومغربی ایجنڈے کے بجائے عقل، فطرت اور دین کی روشنی میں دیکھیں۔ سوال یہ نہیں کہ کم عمری کی شادی اچھی ہے یا بُری بلکہ سوال یہ ہے کہ ہم نوجوان نسل کو کس طرف دھکیل رہے ہیں۔ کیا ہم انہیں ایک محفوظ، ذمہ دار اور باوقار راستہ دے رہے ہیں یا انہیں غیر یقینی، غیر محفوظ اور گناہوں سے بھرے راستوں پر چھوڑ رہے ہیں؟ اگر حکومت واقعی سنجیدہ ہے تو اسے تعلیم میں اخلاقی تربیت، میڈیا پر فحاشی کی روک تھام، سوشل میڈیا کے بے لگام مواد پر کنٹرول اور نوجوانوں کے لیے صحت مند سرگرمیوں کے فروغ پر بھی اسی تیزی سے کام کرنا چاہیے جس تیزی سے وہ نکاح پر پابندی لگا رہی ہے۔ ورنہ یہ قانون محض کاغذی کارروائی بن کر رہ جائے گا اور معاشرہ اسے توڑنے کے لیے مزید اخلاقی برائیوں میں مبتلا ہوگا۔

آخر میں حکومت و ریاست سے ایک سوال کہ وہ کس سمت جا رہی ہیں؟ وہ سمت جہاں ریاست فطرت سے لڑتی ہے یا وہ سمت جہاں قانون فطرت کا ہاتھ تھام کر چلتا اور آگے بڑھتا ہے؟