کہتے ہیں کسی ملک میں قحط پڑی تولوگ بھوک کے مارے درختوں کے پتے، لکڑ، گھاس اورپتھروغیرہ کھاناشروع ہوگئے۔ انہی دنوں ہمارے پی ٹی آئی کے نادان بھائیوں اوردوستوں کی طرح بادشاہ وقت کی بھولی بھالی شہزادی کاکہیں بھوک کے ان ماروں پرگزرہواتوان کوپتے، گھاس اورپتھرکھاتے ہوئے دیکھنے پرحیرت سے پوچھنے لگی کہ یہ لوگ گھاس، پتے اورپتھرکیوں کھارہے ہیں۔ وزیروں اورمشیروں نے بتایاکہ قحط ہے جس کی وجہ سے لوگ یہ کھارہے ہیں۔
پتہ ہے ملکہ یوتھیانے کیاکہا۔ وہ فرمانے لگی جب قحط ہے تویہ لوگ دہی اورچاول کیوں نہیں کھاتے۔ بیس کلوآٹے کاتھیلاتین ہزارکاہندسہ کب کاکراس کرچکاہے، چینی، گھی، چاول اورکھانے پینے کی دیگربنیادی اشیاء کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کررہی ہیں۔ لوگ مہنگائی، غربت اوربیروزگاری کے باعث فاقہ کشی پرمجبورہیں اوراس بھولی بھالی شہزادی کے نادان بھائی آج اس ملک میں پوچھتے پھررہے ہیں کہ لوگ شٹرڈاؤن ہڑتال کیوں نہیں کررہے۔
ان نادانوں کوکوئی یہ توبتائے بادشاہ گان سلامت احتجاج، جلسے، جلوس، ہڑتال اورمظاہرے خالی پیٹ نہیں ہوتے۔ جہاں گھروں میں فاقے ہوں، جہاں لوگ روٹی کے ایک ایک نوالے کے لئے دربدرپھررہے ہوں وہاں پھرشٹرڈاؤن نہیں سیاست ڈاؤن ہڑتالیں ہوتی ہیں۔ سیاست بعدکی شئے ہے پہلے بھوک سے جان وجہان کوبچانازیادہ اہم ہے۔ کاش کہ اپنی مردہ سیاست میں جان ڈالنے کے لئے دوسروں کوفاقوں پرمجبورکرنے والوں کواس کااحساس ہو۔ کپتان کے کھلاڑیوں کی توخیرانہیں ویسے بھی کسی اچھے اوربرے سے کوئی فرق نہیں پڑتالیکن ان کی وجہ سے پی ٹی آئی اورکپتان کاجوحال ہواہے اس پرافسوس ہوتاہے۔ وہ پی ٹی آئی جس کی ایک کال پرکبھی لمحوں میں ہزاروں لوگ گھروں سے نکل آیا کرتے تھے اب حال یہ ہوگیاہے کہ بیگانے کیا؟
اپنے بھی احتجاج کانام سن کرناک چڑھانے لگتے ہیں۔ کپتان کے نام پرکھلاڑیوں کے حالیہ احتجاج نے پی ٹی آئی کی مقبولیت، تبدیلی اورسونامی کی حقیقت دنیاکے سامنے اشکارہ کردی ہے۔ پی ٹی آئی کے وہ کرتادھرتاجواس خوش فہمی میں پھولے سمائے نہیں جارہے تھے کہ ان کی کال دینے سے پہلے کپتان کے لاکھوں عقیدت مندوں ومریدوں نے گھروں سے نکل کرملک کوجام کردیناہے۔ حالیہ تاریخی احتجاج نے بیچ چوراہے میں اس خوش فہمی کوبھی ہوامیں اڑاکررکھ دیاہے۔ قدرت کانظام بھی بڑانرالہ ہے وہ جوکل تک کالے چشمے لگاکرغریب کارکنوں کے سلام کاجواب دینابھی گوارانہیں کرتے تھے۔
دنیانے دیکھاکہ عزت سیاست بچانے کے لئے وہ جھولیاں پھیلاکرلوگوں سے شٹرڈاؤن ہڑتال کرنے کی بھیک مانگتے دکھائی دے رہے تھے۔ احتجاج، ہڑتال اوردھرنے ایسے نہیں ہوتے۔ ڈنڈے کے زورپردکانیں، مارکیٹس اوربازاربندکرنے کوغنڈہ گردی اوربدمعاشی کانام تودیاجاسکتاہے ہڑتال اوراحتجاج کانہیں۔ کپتان کے اناڑی کھلاڑیوں کویہ بات ماننی پڑے گی کہ احتجاج، ہڑتال اوردھرنوں کے لئے نوبت اب کال سے گال پرآچکی ہے۔ وہ جوکبھی کپتان کی ایک کال پرلوگ احتجاج اورہڑتال کے لئے نکل پڑتے تھے اب کھلاڑیوں کی منتوں ترلوں پربھی نہیں نکل رہے۔
پی ٹی آئی کی ناکام ہڑتال میں کسی اورکیلئے کچھ ہے یانہیں لیکن اس میں کپتان کے کھلاڑیوں کے لئے بہت بڑاسبق ہے کہ خالی خولی نعروں پردیوانوں اورپروانوں کوبھی زیادہ دیرتک ٹرخایانہیں جاسکتا۔ زمانہ جدید، لوگ ماڈرن اورگلی محلوں میں پھرنے والے چھوٹے موٹے لیڈروں کے اندھے مقلدبھی اب تھوڑے تھوڑے باشعورہوچکے ہیں۔ وہ وقت اب تقریباگزرنے والاہے جب لیڈراورپارٹیوں کے بڑے بڑے سیٹھ وعہدیدارعام لوگوں اورکارکنوں کوتعمیر، ترقی، تبدیلی اورخوشحالی کے نام پرٹرک کی بتی کے پیچھے لگاکرسیاسی دکانیں چمکایاکرتے تھے۔ خیبرپختونخواکے مختلف علاقوں میں پی ٹی آئی کے سیٹھ لوگوں کے پاس شٹرڈاؤن کرنے آئے توآگے سے ایک ہی سوال پوچھاگیاکہ تیرہ سالوں میں آپ نے کیاکیا؟
کپتان کے کھلاڑی تیرہ سال سے خیبرپختونخوامیں سیاست کررہے ہیں۔ یہ قیدی نمبراٹھ سوچارکانعرہ لگاکراحتجاج بھی کرتے ہیں اورہڑتال بھی لیکن انہیں عمران خان کے نام پرصوبے کی ترقی اورعوام کی خوشحالی کے لئے کام کرتے ہوئے موت پڑتی ہے۔ کیاکپتان نے ان کھلاڑیوں کواچھے اورمثبت کام کرنے سے منع کیاہواہے؟ کیاخیبرپختونخوامیں اچھے کام کرنے پرپابندی ہے اگرنہیں توپھریہ لوگ کرتے کیوں نہیں؟ جیل میں عمران خان ہیں یہ تونہیں۔
ماناکہ کپتان اپنے اعمال کی وجہ سے جیل میں ہوں گے لیکن کپتان کوڈی تک پہنچانے میں ان کھلاڑیوں کاکرداراورہاتھ بھی کچھ کم نہیں۔ یہ چاہتے توحقیقی تبدیلی کے بل بوتے پرکپتان اورپارٹی کے لئے بہت کچھ کرسکتے تھے۔ تیرہ سال کاعرصہ کوئی کم نہیں لوگ دواورتین سال میں عوام کے دل جیت جاتے ہیں اوریہ تیرہ سال میں بھی عوام کااعتمادحاصل نہیں کرسکے۔ ماردھاڑاوراحتجاج کی سیاست بہت ہوچکی، یہ صوبہ اورملک اس طرح کی سیاست کامزیدمتحمل نہیں ہوسکتا۔ ایسے فضول قسم کے ڈراموں سے کپتان اورپارٹی کوبھی کوئی فائدہ نہیں۔ پورے ایک صوبے کی حکومت تیرہ سال سے تحریک انصاف کے پاس ہے۔
کپتان کے کھلاڑیوں کوآئے روزکے احتجاج، مظاہروں اوردھرنوں پراپنی اورصوبے کی توانائیاں ضائع کرنے کے بجائے ملک کی تعمیروترقی اورعوام کی خوشحالی پرصرف کرنی چاہئیں۔ صوبہ ترقیاتی کاموں سے آباداورعوام خوشحال ہوں گے توپھرلوگ ایک کال پرشٹرڈاؤن بھی کریں گے، احتجاج کے لئے بھی نکلیں گے اوردھرنو ومظاہروں میں بھی شریک ہوں گے لیکن اگرآپ عوام اورصوبے کے وسائل ماردھاڑاوراحتجاج پرجھونک کرعوام وصوبے کوتماشابنائیں گے توپھرایک نہیں آپ خان کے نام پرہزارکالیں بھی دیں انجام یہی ہوگا۔ اس لئے کپتان کے کھلاڑیوں کوکھوکھلے نعروں اوراحتجاجی سیاست سے نکل پراب عوام اورصوبے کی ترقی پرخصوصی توجہ دینی چاہئیے۔
جذباتی تقریروں، خالی نعروں اوراحتجاجی سیاست سے توکپتان کی رہائی سمیت کچھ نہیں ہوااب ایک باردل وجان سے عوامی خدمت کانسخہ استعمال کرکے دیکھ لیناچاہئیے جہاں تیرہ سال نعروں، دعوؤں اوراحتجاج پرلگادیئے وہاں اگرایک سال تجربے کی بنیادپر عوامی خدمت پرلگادیاجائے تواس میں کیاحرج؟ ویسے ہمارے خیال میں پی ٹی آئی کے پاس اب سیاسی روٹ وموڈ تبدیل کرنے کے سوا نہ کوئی راستہ ہے اورنہ کوئی چارہ۔