Friday, 15 May 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Farhat Abbas Shah
  4. Shaheed Liaqat Ki Roshani

Shaheed Liaqat Ki Roshani

پاکستان گزشتہ کی دہائیوں سے دہشت گردی کے ایک ایسے ناسور کا سامنا کررہا ہے جس نے نہ صرف ہزاروں جانیں نگلیں بلکہ پورے معاشرے کی نفسیات، معیشت، سماجی ڈھانچے اور قومی اعتماد کو بھی شدید متاثر کیا۔ خودکش حملوں اور مساجد، امام بارگاہوں، بازاروں، سکولوں، فوجی تنصیبات اور عوامی مقامات پر ہونے والی خونریزی نے ایک طویل عرصے تک پاکستانی قوم کو خوف، بے یقینی اور مسلسل اضطراب میں مبتلا رکھا۔ مگر اس تمام تاریکی کے باوجود ایک حقیقت ہمیشہ روشن رہی۔۔ اس ملک کے عام لوگ، اس کے سپاہی، پولیس اہلکار، قبائلی عوام، دیہاتی، مزدور، اساتذہ اور نوجوان دہشت گردی کے سامنے کبھی مکمل طور پر نہیں جھکے۔ انہوں نے اپنے خون سے اس وطن کی حفاظت کی قیمت ادا کی ہے۔

جنڈ کے نواحی علاقے سے تعلق رکھنے والے شہید لیاقت کا حالیہ واقعہ اسی قومی تاریخ کا ایک تسلسل ہے۔ ایک عام دیہاتی، جس کے پاس نہ کوئی سرکاری اختیار تھا، نہ جدید اسلحہ اور نہ ہی کوئی حفاظتی حصار، اس نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر خودکش بمبار کو روکنے کی کوشش کی۔ یہ عمل محض ایک فرد کی جرات نہیں بلکہ اس اجتماعی قومی شعور کا اظہار ہے جو پاکستان کے عام انسان کے اندر زندہ ہے۔ ایسے لوگ کسی نظریاتی تقریر یا سیاسی نعرے کے تحت نہیں بلکہ انسانیت اور وطن سے محبت کے جذبے کے تحت قربانی دیتے ہیں۔

دہشت گردی کی سب سے بڑی ہلاکت خیزی صرف انسانی جانوں کا ضیاع نہیں ہوتی بلکہ یہ معاشرے کے اندر خوف کو مستقل مزاجی سے بسانے کی کوشش کرتی ہے۔ دہشت گرد چاہتے ہیں کہ لوگ خوفزدہ ہوجائیں، ایک دوسرے پر اعتماد کھودیں، ریاست کمزور نظر آئے اور زندگی معمول کے مطابق نہ چل سکے۔ مگر پاکستان کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ ہر بڑے حملے کے بعد اس قوم نے خود کو دوبارہ سنبھالا ہے۔ آرمی پبلک سکول پشاور کے معصوم بچوں کی قربانی ہو، مساجد میں شہید ہونے والے نمازی ہوں، پولیس لائنز کے اہلکار ہوں یا دور دراز دیہات کے عام شہری، ان سب نے اس جنگ کی قیمت ادا کی مگر ملک کو ٹوٹنے نہیں دیا۔

پاکستان کے سیکیورٹی اداروں، خصوصاً فوج، پولیس، رینجرز اور انٹیلی جنس اداروں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ ہزاروں اہلکار شہید ہوئے، سیکڑوں خاندان اجڑ گئے اور لاتعداد لوگ عمر بھر کی معذوری کا شکار ہوئے۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت بھی اہم ہے کہ اس جنگ میں عام شہریوں نے بھی غیر معمولی کردار ادا کیا۔ کئی مواقع پر عوام نے مشکوک سرگرمیوں کی اطلاع دے کر بڑے سانحات روکے، کئی دیہات نے دہشت گردوں کے خلاف مزاحمت کی اور کئی لوگوں نے اپنی جان دے کر دوسروں کی جانیں بچائیں۔ شہید لیاقت بھی انہی گمنام مگر عظیم کرداروں میں شامل ہوگئے ہیں۔

وزیراعلی پنجاب کی جانب سے شہید لیاقت کو خراج تحسین پیش کرنا دراصل اس اجتماعی قومی احساس کا اظہار ہے کہ قوم اپنے اصل ہیروز کو پہچانتی ہے۔ اسی طرح خوشحال گڑھ چیک پوسٹ پر اٹک پولیس کے فوری اور جرات مندانہ ردعمل کی تعریف بھی اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ اجتماعی بیداری، ادارہ جاتی تیاری اور عوامی تعاون سے جیتی جاتی ہے۔

آج جب دنیا بھر میں دہشت گردی نئی شکلیں اختیار کررہی ہے اور انتہاپسندی مختلف معاشروں کو متاثر کررہی ہے، پاکستان کا تجربہ دنیا کے لیے ایک اہم مثال ہے۔ یہ ملک بے پناہ نقصان اٹھانے کے باوجود کھڑا رہا۔ یہاں بازار بھی آباد ہوئے، تعلیمی ادارے بھی کھلے، ثقافتی سرگرمیاں بھی جاری رہیں اور زندگی نے مسلسل آگے بڑھنے کی کوشش کی۔ اس مزاحمت کے پیچھے صرف ریاستی قوت نہیں بلکہ کروڑوں عام پاکستانیوں کی اجتماعی ہمت شامل ہے۔

شہید لیاقت جیسے لوگ دراصل قوموں کے خاموش ستون ہوتے ہیں۔ تاریخ میں اکثر بڑے نام محفوظ رہ جاتے ہیں مگر اصل طاقت ان بے نام لوگوں کی قربانیوں میں ہوتی ہے جو کسی صلے، شہرت یا مفاد کے بغیر اپنی جان قربان کردیتے ہیں۔ پاکستان کی مٹی آج بھی ایسے بہادر سپوت پیدا کررہی ہے جو خطرے کے وقت پیچھے ہٹنے کے بجائے آگے بڑھتے ہیں۔ یہی لوگ اس ملک کی اصل طاقت ہیں اور یہی قربانیاں پاکستان کے مستقبل کو محفوظ بناتی ہیں۔