Friday, 17 April 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Farhat Abbas Shah
  4. Pakistan Ki Nai Aalmi Position

Pakistan Ki Nai Aalmi Position

ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کوئی نئی بات نہیں، بلکہ یہ ایک طویل معاشی، مفاداتی اور جغرافیائی تنازعہ ہے جس نے کئی دہائیوں سے عالمی سیاست کو متاثر کر رکھا ہے، مگر حالیہ برسوں میں اس کشیدگی کی شدت نے ایک ایسے مرحلے کو چھو لیا تھا جہاں معمولی غلطی بھی ایک بڑے علاقائی یا حتیٰ کہ عالمی تصادم کا پیش خیمہ بن سکتی تھی۔ ایسے نازک اور حساس ماحول میں پاکستان کا بطور ثالث کردار نہ صرف حیران کن بلکہ انتہائی اہمیت کا حامل ثابت ہوا ہے۔

پاکستان نے اپنی سفارتی بصیرت، توازن اور غیر جانبداری کو بروئے کار لاتے ہوئے دونوں متحارب فریقین کے درمیان رابطے کا ایک ایسا پل تعمیر کیا جس نے نہ صرف ممکنہ جنگ کے بادلوں کو چھٹنے میں مدد دی بلکہ خطے میں امن کے امکانات کو بھی تقویت بخشی۔ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان کی اس کوشش کا اعتراف محض رسمی بیانات تک محدود نہیں رہا بلکہ ایران اور امریکہ دونوں کی جانب سے کھلے الفاظ میں اس کا ذکر بار بار کیا جا رہا ہے، جس سے پاکستان کی سفارتی ساکھ میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔

مزید برآں عالمی برادری، خصوصاً یورپی ممالک، چین، روس اور مسلم دنیا نے بھی پاکستان کے اس مثبت کردار کو سراہا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اب محض ایک علاقائی طاقت نہیں بلکہ ایک ذمہ دار عالمی کردار کے طور پر ابھر رہا ہے۔ پاکستان کی اس کامیاب ثالثی کے پس منظر میں اس کی جغرافیائی اہمیت، تاریخی تعلقات اور متوازن خارجہ پالیسی کارفرما ہے، ایک طرف پاکستان کے ایران کے ساتھ گہرے ثقافتی، مذہبی اور سرحدی تعلقات ہیں تو دوسری طرف امریکہ کے ساتھ اس کے طویل المدتی سٹریٹجک اور دفاعی روابط بھی موجود ہیں، یہی دہرا تعلق پاکستان کو ایک منفرد حیثیت عطا کرتا ہے جسے اس نے دانشمندی سے استعمال کیا ہے۔

اس موقع پر پاکستان نے نہ تو کسی ایک فریق کا اندھا ساتھ دیاہے اور نہ ہی غیر ضروری بیانات کے ذریعے ماحول کو خراب کیا ہے بلکہ خاموش، مؤثر اور نتیجہ خیز سفارتکاری کا راستہ اختیار کرتے ہوئے فوری مثبت ردعمل حاصل کیا ہے، جسے عرفِ عام میں کامیاب بیک ڈور ڈپلومیسی کہا جاتا ہے۔ یہ بہت خوش آئیند ہے کہ پاکستان کی یہ حکمت عملی کامیابی کا باعث بنی ہے۔ اس تمام عمل میں پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کے درمیان ہم آہنگی بھی قابلِ تعریف رہی، جس نے ایک واضح اور مربوط پالیسی کو ممکن بنایا۔

یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ اگر ایران اور امریکہ کے درمیان براہِ راست تصادم ہوتا تو اس کے اثرات صرف انہی دو ممالک تک محدود نہ رہتے بلکہ پورا خطہ، خصوصاً مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا، شدید عدم استحکام کا شکار ہو جاتا، تیل کی عالمی ترسیل مزید متاثر ہوتی، عالمی معیشت کو دھچکا لگتا اور دہشت گردی کے نئے خطرات جنم لیتے، ایسے میں پاکستان کی ثالثی نے نہ صرف ایک ممکنہ جنگ کو روکا بلکہ عالمی امن کے لیے ایک اہم کردار ادا کیا۔

اس پیش رفت نے پاکستان کے لیے سفارتی میدان میں نئے دروازے بھی کھولے ہیں، اب عالمی طاقتیں پاکستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھ رہی ہیں جو نہ صرف مسائل کا حصہ نہیں بلکہ ان کا حل بھی پیش کر سکتا ہے، یہ تبدیلی پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ایک بڑی کامیابی سمجھی جا سکتی ہے۔ تاہم اس کامیابی کے ساتھ ساتھ کچھ چیلنجز بھی موجود ہیں، پاکستان کو اپنی غیر جانبداری برقرار رکھنی ہوگی، اندرونی سیاسی استحکام کو یقینی بنانا ہوگا اور اقتصادی میدان میں بھی مضبوطی نہ صرف حاصل کرنا ہوگی بلکہ اس کے ثمرات عوام تک پہنچانا ہونگے تاکہ وہ اپنی اس نئی حیثیت کو برقرار رکھ سکے۔

مزید یہ کہ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اس موقع کو استعمال کرتے ہوئے علاقائی تعاون کو فروغ دے، خاص طور پر افغانستان، چین، ایران اور خصوصا" یو اے ای سمیت دیگر تمام خلیجی ممالک کے ساتھ اقتصادی اور سفارتی تعلقات کو مزید مستحکم کرے تاکہ ایک پائیدار امن کا ماحول تشکیل دیا جا سکے۔ اس تمام صورتحال میں ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ پاکستان نے اپنے سافٹ امیج کو بہتر بنانے میں بھی کامیابی حاصل کی ہے، جو ماضی میں دہشت گردی اور عدم استحکام کے تناظر میں متاثر ہوئی تھی، اسرائیل اور بھارت کے لگاتار پاکستان مخالف پراپیگنڈے کو ادراک کی کھڑکی سے باہر اٹھا کر پھینکتے ہو۔

اب دنیا پاکستان کو ایک ذمہ دار، سنجیدہ اور امن پسند ریاست کے طور پر دیکھ رہی ہے، جو عالمی مسائل کے حل میں مثبت کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ تبدیلی نہ صرف سفارتی سطح پر اہم ہے بلکہ اس کے معاشی فوائد بھی حاصل ہو سکتے ہیں، جیسے غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ، تجارتی مواقع کی توسیع اور عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد بحال ہونا۔ اس حوالے سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی میں پاکستان کا کردار ایک تاریخی سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے، جس نے نہ صرف ایک ممکنہ بحران کو ٹالا بلکہ پاکستان کو عالمی سفارتکاری میں ایک نئی پہچان بھی عطا کی، اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کامیابی کو وقتی نہ سمجھا جائے بلکہ اسے ایک مستقل پالیسی کا حصہ بنایا جائے، تاکہ پاکستان مستقبل میں بھی اسی طرح عالمی امن، استحکام اور تعاون کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے اور دنیا میں ایک مثبت اور تعمیری قوت کے طور پر اپنی جگہ مزید مستحکم کرے۔