جنوبی ایشیا کا تزویراتی و جغرافیائی منظرنامہ ایک مرتبہ پھر ایسے نازک انعطافیۂ تاریخ پر متمکن دکھائی دیتا ہے جہاں کلاسیکی سفارت کاری، سرحدی تحفظات، نظریاتی تصادمات، خفیہ حربیاتی نظم اور بالواسطہ ریاستی محاذ آرائیاں باہم اس درجہ متداخل ہو چکی ہیں کہ ان کے مابین امتیاز کی روایتی حد بندیاں تحلیل ہوتی محسوس ہوتی ہیں۔ پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف کا حالیہ بیانیہ محض ایک رسمی سیاسی اظہار یا وقتی خطیبانہ ابال نہیں بلکہ اس تغیر پذیر جیوپولیٹیکل حقیقت کا آئینہ دار ہے جس میں ریاستیں براہِ راست عسکری تصادم کے بجائے غیر ریاستی نیٹ ورکس، نظریاتی عسکریت، استخباراتی سرپرستی اور پوشیدہ پراکسیاتی ڈھانچوں کے ذریعے اپنے خصومتی اہداف کی تکمیل کا رجحان اختیار کر چکی ہیں۔
افغانستان کے باب میں ان کا دوٹوک اور غیر مبہم مؤقف دراصل اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ اسلام آباد اب سرحد پار دہشت گردی کو محض ایک سکیورٹی چیلنج نہیں بلکہ ریاستی بقا، داخلی استحکام، جغرافیائی خودمختاری اور وفاقی سالمیت کے ہمہ گیر بحران کے طور پر متشکل دیکھ رہا ہے۔
گزشتہ دو دہائیوں کے دوران افغانستان عالمی قوتوں کے تصادمی مفادات، علاقائی بالادستی کی کشمکش، نظریاتی انتہاپسندی اور جغرافیائی رقابتوں کا ایسا محور بنا رہا جس نے پورے خطے کو مستقل اضطراب میں مبتلا رکھا۔ امریکی انخلا کے بعد یہ امید وابستہ کی جا رہی تھی کہ طالبان اقتدار ایک نسبتاً متوازن اور حقیقت پسند سیاسی نظم کی تشکیل کی جانب مراجعت اختیار کرے گا اور بالخصوص پاکستان کے ساتھ اعتماد سازی، سرحدی استحکام اور باہمی سلامتی کے نئے امکانات پیدا ہوں گے، مگر زمینی حقائق نے اس توقع کے برعکس ایک نہایت پیچیدہ اور تشویشناک صورتِ حال کو جنم دیا۔
سرحدی پٹیوں میں دہشت گردانہ حملوں کا تسلسل، کالعدم تنظیموں کی تجدیدِ فعالیت اور پاکستان مخالف عناصر کی افغان سرزمین پر موجودگی نے اسلام آباد کے تحفظات کو غیر معمولی شدت اور وسعت عطا کر دی ہے۔ یہی سبب ہے کہ پاکستانی مقتدرہ اب کابل کے طرزِ عمل کو محض سفارتی ابہام یا انتظامی کمزوری کے طور پر نہیں بلکہ ایک منظم تزویراتی تعطل اور سلامتیاتی بحران کے مظہر کے طور پر تعبیر کر رہی ہے۔
خواجہ محمد آصف کے بیان کا سب سے زیادہ اہم اور حساس پہلو افغانستان اور بھارت کے مابین بڑھتی ہوئی قربت کو ایک متحدہ سلامتیاتی چیلنج کے قالب میں پیش کرنا ہے۔ یہ تعبیر محض جذباتی سیاسی خطابت یا وقتی عوامی تاثر انگیزی نہیں بلکہ اس وسیع تر تزویراتی ادراک کی مظہر ہے جس کے مطابق بھارت براہِ راست عسکری تصادم کے مہلک مضمرات سے گریز کرتے ہوئے مغربی سرحد کو عدم استحکام سے دوچار کرکے پاکستان کو داخلی خلفشار، معاشی تھکن اور نفسیاتی دباؤ کے مسلسل گرداب میں مبتلا رکھنا چاہتا ہے۔
"دہلی اور کابل میں کوئی فرق نہیں" جیسا جملہ دراصل اسی عمیق اضطراب اور جغرافیائی تشویش کی علامتی ترجمانی ہے۔ پاکستان کے پالیسی ساز حلقوں کے نزدیک اگر افغان سرزمین پاکستان مخالف سرگرمیوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے اور کابل حکومت اس بابت تحریری، قانونی اور قابلِ نفاذ ضمانت فراہم کرنے سے گریزاں ہے تو یہ صورتحال محض سفارتی بداعتمادی نہیں بلکہ ایک فعال اور متحرک سلامتیاتی خطرے کی صورت اختیار کر چکی ہے۔
یہ امر بھی نہایت قابلِ اعتنا ہے کہ پاکستان نے اس بحران کے تدارک کے لیے عسکری راستہ اختیار کرنے سے قبل سفارتی، مذاکراتی اور بین الریاستی ذرائع کو بروئے کار لانے کی سنجیدہ کوشش کی۔ قطر، سعودی عرب اور ترکیہ جیسے مؤثر مسلم ممالک کی شمولیت اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ اسلام آباد فوری تصادم یا عسکری مہم جوئی کے بجائے مذاکراتی تفاہم اور سیاسی مصالحت کے ذریعے مسئلے کا حل چاہتا تھا۔
انیس، انیس گھنٹوں پر محیط طویل نشستیں اسی سفارتی سنجیدگی، صبر آزما تحمل اور علاقائی استحکام کی خواہش کی آئینہ دار ہیں، مگر جب کسی ریاست کی جانب سے زبانی یقین دہانیاں تو فراہم کی جائیں لیکن انہیں تحریری معاہدات، عملی اقدامات اور قابلِ توثیق ضمانتوں میں منتقل نہ کیا جائے تو اعتماد کی بنیادیں بتدریج متزلزل ہونے لگتی ہیں۔ بین الاقوامی سیاست میں محض بیانیاتی عہد نہیں بلکہ دستاویزی ضمانتیں اور عملی اقدامات فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں اور یہی وہ نکتۂ افتراق ہے جہاں پاکستان اور طالبان حکومت کے مابین فاصلہ مسلسل بڑھتا دکھائی دیتا ہے۔
"تنگ آمد بہ جنگ آمد" کا محاورہ دراصل اس نفسیاتی، عسکری اور سیاسی مرحلے کی نمائندگی کرتا ہے جہاں ریاستیں دفاعی برداشت کی آخری سرحدوں کے قریب پہنچ جاتی ہیں۔ پاکستان پہلے ہی اپنی مشرقی سرحد پر بھارت کے ساتھ ایک طویل المدت عسکری، سیاسی اور نظریاتی کشمکش میں مبتلا ہے، جبکہ مغربی سرحد پر مسلسل بدامنی، دراندازی اور دہشت گردی داخلی معیشت، قومی یکجہتی اور سماجی استحکام پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کر رہی ہے۔ اس تناظر میں وزیرِ دفاع کا یہ کہنا کہ "مشرقی اور مغربی سرحد پر ایک ہی دشمن بیٹھا ہے" محض عسکری بیانیہ نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر تزویراتی تصور ہے جس کے مطابق پاکستان کو اب دو الگ الگ خطرات نہیں بلکہ ایک مربوط، منظم اور کثیرالجہتی جیوپولیٹیکل چیلنج کا سامنا ہے۔
اس تمام صورتحال کا سب سے قابلِ غور پہلو یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جاری معرکے کو پہلی مرتبہ نسبتاً واضح قومی اتفاقِ رائے کے ساتھ "ریاستی بقا کی جنگ" کے عنوان سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ ماضی میں دہشت گردی کے مسئلے کو سیاسی وابستگیوں، لسانی تقسیمات یا صوبائی مفادات کے تناظر میں دیکھا جاتا رہا، مگر اب یہ ادراک شدت اختیار کرتا جا رہا ہے کہ اگر سرحدی عدم استحکام، پراکسیاتی تخریب کاری اور غیر ریاستی عسکریت کا بروقت سدباب نہ کیا گیا تو اس کے مضمرات پورے وفاقی ڈھانچے، قومی معیشت اور ریاستی وحدت کو اپنی گرفت میں لے سکتے ہیں۔ بلتستان سے گوادر تک سکیورٹی اہلکاروں کی قربانیوں کا حوالہ دراصل اسی قومی بیانیے کی تشکیل ہے جس میں داخلی امن کو جغرافیائی سالمیت اور ریاستی خودمختاری کے ساتھ ناگزیر طور پر وابستہ کر دیا گیا ہے۔
خطے کی موجودہ فضا اس امر کی متقاضی ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین کے استعمال سے متعلق واضح، تحریری، قابلِ عمل اور بین الاقوامی سطح پر قابلِ توثیق یقین دہانیاں فراہم کرے، کیونکہ مبہم سفارت کاری، غیر فیصلہ کن طرزِ عمل اور زبانی وعدے اب شاید حالات کے بڑھتے ہوئے بوجھ کو سنبھالنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ اگر کابل نے زمینی حقائق، علاقائی حساسیتوں اور سلامتیاتی تقاضوں کا بروقت ادراک نہ کیا تو جنوبی ایشیا ایک نئے غیر روایتی تصادم، پراکسیاتی محاذ آرائی، مسلسل عدم استحکام اور جغرافیائی اضطراب کے ایسے دور میں داخل ہو سکتا ہے جس کے اثرات نہ صرف پاکستان اور افغانستان بلکہ پورے خطے کی سیاسی، معاشی اور سلامتیاتی ساخت کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔