پاکستان کی معیشت ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے جہاں پالیسی سازی اب محض داخلی ضروریات تک محدود نہیں رہی بلکہ عالمی مالیاتی ڈھانچوں کے ساتھ ہم آہنگی اس کی بنیادی شرط بن چکی ہے۔ اسی تناظر میں حکومتِ پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے درمیان ایک نئی پانچ سالہ آٹو سیکٹر پالیسی پر اصولی اتفاق، محض ایک تکنیکی پیش رفت نہیں بلکہ صنعتی سمت کے تعین کا ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان اپنی پیداواری معیشت کو ازسرِنو متوازن کرنے، درآمدی انحصار کم کرنے اور تجارتی ڈھانچے کو زیادہ مسابقتی بنانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔
اس نئی پالیسی کے تحت سب سے اہم تبدیلی گاڑیوں کی درآمدات پر لاگو ویٹڈ ایوریج ٹیرف میں تدریجی کمی ہے، جسے 2030 تک 10.6 فیصد سے کم کرکے 7.4 فیصد تک لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ یہ محض عددی تبدیلی نہیں بلکہ ایک وسیع تر معاشی فلسفے کی عکاسی کرتی ہے، جس کے تحت ریاست بتدریج تحفظاتی (Protectionist) پالیسیوں سے ہٹ کر زیادہ کھلی اور مسابقتی منڈی کی طرف بڑھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس تبدیلی کا براہِ راست اثر مقامی آٹو انڈسٹری، درآمدی گاڑیوں کی قیمتوں اور صارفین کی قوتِ خرید پر پڑے گا۔
اسی فریم ورک کے تحت یہ بھی طے پایا ہے کہ درآمدات پر کسی قسم کی اضافی ریگولیٹری ڈیوٹی (RD) نافذ نہیں کی جائے گی۔ یہ فیصلہ اس بات کی علامت ہے کہ حکومت اور آئی ایم ایف دونوں اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ بار بار کی جانے والی اضافی ڈیوٹیز نے نہ صرف مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا کی بلکہ طویل المدت سرمایہ کاری کے رجحان کو بھی متاثر کیا۔ اب پالیسی کا زور یکساں اور قابلِ پیش گو ٹیکس نظام کی طرف منتقل کیا جا رہا ہے، جو سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی کے لیے بنیادی شرط ہے۔
ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں، جو یکم جون 2026 کے قریب پیش کیے جانے کا امکان ہے، ویٹڈ ایوریج ٹیرف کو 10.6 فیصد سے کم کرکے 9.5 فیصد تک لایا جائے گا۔ یہ مرحلہ وار کمی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پالیسی ساز اچانک جھٹکے دینے کے بجائے تدریجی اصلاحات کے اصول پر عمل پیرا ہیں، تاکہ مقامی صنعت کو بھی ایڈجسٹ ہونے کا موقع مل سکے۔ اقتصادی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ یکدم لبرلائزیشن اکثر کمزور پیداواری ڈھانچوں کے لیے شدید دباؤ کا باعث بنتی ہے، اس لیے یہ تدریجی حکمتِ عملی نسبتاً متوازن سمجھی جا رہی ہے۔
اس وسیع تر پالیسی فریم ورک کے تحت ایک نئی جامع آٹو پالیسی تیار کی جا رہی ہے جو اس وقت ابتدائی مراحل میں ہے اور جلد ہی اسے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ شیئر کیا جائے گا۔ یہ امر اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ پاکستان کی صنعتی پالیسی اب مکمل طور پر عالمی مالیاتی نگرانی اور مشاورت کے دائرے میں آ چکی ہے، جہاں قومی ترجیحات اور بین الاقوامی شرائط کے درمیان ایک نازک توازن قائم رکھنا ناگزیر ہو چکا ہے۔
وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت ہارون اختر کے مطابق یہ پالیسی ایڈوانس اسٹیج میں داخل ہو چکی ہے اور اسے جلد ہی وزیراعظم اور وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ اس کے بعد اسے عوامی سطح پر جاری کیا جائے گا، جو اس بات کی علامت ہے کہ حکومت اس پالیسی کو نہ صرف ایک تکنیکی دستاویز بلکہ ایک قومی صنعتی وژن کے طور پر پیش کرنا چاہتی ہے۔ تاہم اس وژن کی کامیابی کا انحصار صرف اعلان پر نہیں بلکہ اس کے عملی نفاذ اور ادارہ جاتی صلاحیت پر ہوگا۔
اگر اس پیش رفت کا تجزیہ وسیع تر اقتصادی تناظر میں کیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ پاکستان ایک ایسے مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں اسے بیک وقت کئی دباؤ کا سامنا ہے: ایک طرف بیرونی مالیاتی شرائط، دوسری طرف داخلی صنعتی تحفظات اور تیسری طرف صارفین کی بڑھتی ہوئی توقعات۔ آٹو سیکٹر چونکہ ایک کثیر الجہتی صنعتی شعبہ ہے جو اسٹیل، پلاسٹک، الیکٹرانکس اور لیبر مارکیٹ سمیت کئی ذیلی شعبوں سے جڑا ہوا ہے، اس لیے اس میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کے اثرات معیشت کے وسیع حصے تک پہنچتے ہیں۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کی آٹو انڈسٹری طویل عرصے سے محدود مقابلے، بلند قیمتوں اور درآمدی انحصار جیسے مسائل کا شکار رہی ہے۔ اس نئی پالیسی کے تحت اگرچہ مارکیٹ کو زیادہ کھولا جا رہا ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ سوال بھی ابھرتا ہے کہ کیا مقامی صنعت اس مسابقتی دباؤ کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے؟ اگر مقامی پیداواری صلاحیت کو بروقت بہتر نہ بنایا گیا تو ممکن ہے کہ درآمدات میں اضافہ وقتی طور پر صارفین کو فائدہ دے لیکن طویل مدت میں مقامی صنعت کو نقصان پہنچائے۔
دوسری جانب یہ پالیسی اس امر کی بھی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستان اب عالمی اقتصادی نظام میں زیادہ گہرائی سے ضم ہونے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اس عمل میں خودمختار پالیسی سازی کی گنجائش نسبتاً محدود ہوتی جا رہی ہے، کیونکہ مالیاتی نظم و ضبط اور قرضوں کے معاہدے اکثر پالیسی کے خدوخال متعین کرتے ہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں معاشی خودمختاری اور عالمی انضمام کے درمیان ایک مستقل کشمکش جاری رہتی ہے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب عالمی معیشت خود بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔ مہنگائی، سپلائی چین کی رکاوٹیں اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی نے ترقی پذیر ممالک کے لیے پالیسی سازی کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی یہ کوشش کہ وہ اپنی صنعتی پالیسی کو ایک منظم اور مرحلہ وار فریم ورک میں ڈھالے، ایک مثبت مگر چیلنجنگ قدم ہے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ یہ آٹو پالیسی صرف ٹیکس یا ڈیوٹی میں کمی کا معاملہ نہیں بلکہ ایک وسیع تر معاشی نظریے کی تبدیلی کا اظہار ہے۔ یہ نظریہ اس بات پر مبنی ہے کہ معیشت کو زیادہ کھلا، مسابقتی اور عالمی نظام سے ہم آہنگ بنایا جائے۔ تاہم اس کی کامیابی کا دار و مدار اس بات پر ہے کہ ریاست، صنعت اور سرمایہ کار تینوں کس حد تک ایک مربوط حکمتِ عملی کے تحت آگے بڑھتے ہیں۔
اگر یہ توازن قائم رہتا ہے تو یہ پالیسی پاکستان کی صنعتی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہو سکتی ہے، بصورتِ دیگر یہ محض ایک اصلاحاتی دستاویز بن کر رہ جائے گی۔