Friday, 08 May 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Dr. Muhammad Tayyab Khan Singhanvi
  4. Abdali Missile: Difai Istehkam, Wazeh Paigham

Abdali Missile: Difai Istehkam, Wazeh Paigham

خطۂ جنوبی ایشیا ایک بار پھر اس حقیقت کی یاد دہانی کروا رہا ہے کہ امن کی بقا محض خواہشات سے نہیں بلکہ مضبوط دفاعی توازن سے مشروط ہوتی ہے۔ حالیہ دنوں میں پاکستان کی جانب سے ابدالی میزائل سسٹم کے کامیاب تجربے نے نہ صرف خطے میں طاقت کے توازن کو نئی معنویت دی ہے بلکہ یہ بھی واضح کیا ہے کہ قومی سلامتی کے تقاضوں سے ہم آہنگ پیشہ ورانہ تیاری کسی بھی ریاست کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ 3 مئی 2025 کو جنگی مشق "انڈس" کے تحت ہونے والا یہ تجربہ محض ایک تکنیکی مظاہرہ نہیں بلکہ ایک جامع دفاعی پیغام تھا، جس نے دشمن کے ممکنہ جارحانہ عزائم کے مقابلے میں پاکستان کے عزم، صلاحیت اور تیاری کو دوٹوک انداز میں نمایاں کیا۔

ابدالی میزائل سسٹم، جو زمین سے زمین تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور تقریباً 450 کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنانے کی استعداد سے لیس ہے، جدید جنگی تقاضوں کے مطابق ڈیزائن کیا گیا ایک مؤثر دفاعی ہتھیار ہے۔ اس تجربے کی اہمیت اس لیے بھی دوچند ہو جاتی ہے کہ اس میں نہ صرف میزائل کی پرواز، ہدف تک رسائی اور درستگی کا کامیاب مظاہرہ کیا گیا بلکہ جدید نیوی گیشن سسٹم، کمانڈ اینڈ کنٹرول کے مربوط ڈھانچے اور آپریشنل تیاریوں کو بھی جانچا گیا۔ یوں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ یہ تجربہ محض ایک ہتھیار کی آزمائش نہیں بلکہ ایک مکمل دفاعی نظام کی فعالیت کا عملی اظہار تھا۔

بین الاقوامی سیاست میں طاقت کا اظہار اکثر الفاظ سے زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ ایسے میں جب خطے میں کشیدگی کی فضا قائم ہو اور ہمسایہ ممالک کی جانب سے اشتعال انگیز بیانات اور گیدڑ بھبکیاں سنائی دے رہی ہوں، تو پاکستان کا یہ اقدام ایک سنجیدہ اور ذمہ دارانہ ردعمل کے طور پر سامنے آتا ہے۔ اس تجربے نے واضح کر دیا کہ پاکستان کسی بھی ممکنہ مہم جوئی کا جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے اور اس کی دفاعی حکمت عملی محض ردعمل تک محدود نہیں بلکہ پیشگی تیاری اور مؤثر ڈیٹرنس (Deterrence) پر مبنی ہے۔

دفاعی تجزیہ نگاروں کے نزدیک ابدالی میزائل سسٹم جیسے ہتھیار خطے میں اسٹریٹجک استحکام کے ضامن ہوتے ہیں۔ ان کی موجودگی دشمن کو کسی بھی غیر ذمہ دارانہ اقدام سے باز رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے کے لیے ایسے نظاموں کو نہایت اہمیت دی جاتی ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ اپنے دفاعی پروگرام کو "کم از کم قابل اعتبار دفاعی صلاحیت" (Minimum Credible Deterrence) کے اصول کے تحت آگے بڑھایا ہے، جس کا مقصد جارحیت نہیں بلکہ امن کا تحفظ ہے۔ ابدالی میزائل کا کامیاب تجربہ اسی پالیسی کا تسلسل ہے۔

یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان کی دفاعی ترقی محض عسکری میدان تک محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک مضبوط سائنسی اور تکنیکی بنیاد موجود ہے۔ مقامی سطح پر تیار کیے گئے میزائل سسٹمز اس بات کا ثبوت ہیں کہ ملک نے محدود وسائل کے باوجود تحقیق و ترقی کے میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ جدید نیوی گیشن ٹیکنالوجی، درست ہدف بندی اور تیز رفتار ردعمل جیسے عناصر اس نظام کو ایک مؤثر دفاعی ہتھیار بناتے ہیں، جو کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری اور مؤثر جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

خطے کی موجودہ صورتحال کا اگر غیر جانبدارانہ تجزیہ کیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ طاقت کا توازن ہی امن کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ یکطرفہ برتری ہمیشہ عدم استحکام کو جنم دیتی ہے، جبکہ متوازن دفاعی صلاحیتیں فریقین کو محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کرتی ہیں۔ پاکستان نے اپنے دفاعی اقدامات کے ذریعے یہی پیغام دیا ہے کہ وہ جنگ کا خواہاں نہیں، مگر اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

بھارت کی جانب سے آنے والے بیانات اور دھمکی آمیز رویے کے تناظر میں یہ تجربہ ایک واضح انتباہ بھی ہے کہ جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن کو نظرانداز کرنا کسی کے مفاد میں نہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ ذمہ دار ایٹمی ریاست ہونے کا ثبوت دیا ہے اور اس کے دفاعی اقدامات بھی اسی ذمہ داری کے عکاس ہیں۔ ابدالی میزائل کا کامیاب تجربہ اسی تسلسل کی ایک کڑی ہے، جو نہ صرف قومی سلامتی کو مضبوط بناتا ہے بلکہ عالمی برادری کو بھی یہ پیغام دیتا ہے کہ پاکستان ایک سنجیدہ اور مستحکم ریاست ہے جو امن کے قیام میں یقین رکھتی ہے۔

مزید برآں، اس تجربے نے پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت اور آپریشنل تیاریوں کو بھی اجاگر کیا ہے۔ جدید جنگی تقاضوں کے مطابق تربیت، تکنیکی مہارت اور فوری ردعمل کی صلاحیت کسی بھی فوج کی کامیابی کے بنیادی عناصر ہوتے ہیں۔ جنگی مشق "انڈس" کے دوران اس میزائل سسٹم کا کامیاب تجربہ اس بات کا ثبوت ہے کہ افواجِ پاکستان نہ صرف جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہیں بلکہ ہر سطح پر اپنی صلاحیتوں کو مسلسل بہتر بنا رہی ہیں۔

آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ ابدالی میزائل سسٹم کا کامیاب تجربہ ایک ہمہ جہت پیغام ہے دشمن کے لیے تنبیہ، عوام کے لیے اعتماد اور عالمی برادری کے لیے ایک ذمہ دار ریاست کا عملی مظاہرہ۔ یہ اقدام اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان اپنی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی استحکام کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔ موجودہ عالمی و علاقائی تناظر میں ایسے اقدامات نہ صرف ضروری ہیں بلکہ وقت کی اہم ترین ضرورت بھی، تاکہ امن کی فضا کو برقرار رکھا جا سکے اور کسی بھی ممکنہ خطرے کا بروقت اور مؤثر جواب دیا جا سکے۔