Thursday, 19 February 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Dr. Muhammad Tayyab Khan Singhanvi
  4. Valika Social Security Hospital Ka Insan Dost Iqdam

Valika Social Security Hospital Ka Insan Dost Iqdam

صحتِ عامہ کے شعبے میں بعض اقدامات محض انتظامی فیصلے نہیں ہوتے بلکہ وہ معاشرتی شعور، ریاستی ذمہ داری اور انسانی ہمدردی کے امتزاج کی روشن مثال بن جاتے ہیں۔ حالیہ دنوں کلثوم بائی ولیکا سوشل سیکورٹی ہسپتال میں ایڈز سے متاثرہ بچوں کے لیے ادویات کی گھروں تک فراہمی کا باقاعدہ آغاز بھی ایسا ہی ایک قدم ہے جو روایتی طبی خدمات کے دائرے سے آگے بڑھ کر فلاحی ریاست کے تصور کو عملی شکل دیتا ہے۔ یہ پیش رفت کنسلٹینٹ جنرل سرجن ڈاکٹر غیاث الدین، میڈیکل سپرنٹینڈنٹ کی ہدایت پر عمل میں آئی، جس کا بنیادی مقصد اُن بچوں تک مسلسل اور بروقت علاج پہنچانا ہے جو معاشی، سماجی یا جغرافیائی رکاوٹوں کے باعث ہسپتال تک باقاعدگی سے رسائی حاصل نہیں کر پاتے۔

پاکستان جیسے ترقی پذیر معاشرے میں ایڈز محض ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ سماجی تعصب، لاعلمی اور معاشی کمزوریوں سے جڑا ہوا ایک پیچیدہ بحران ہے۔ خاص طور پر بچے، جو اپنی بیماری کے اسباب اور نتائج سے نابلد ہوتے ہیں، دوہری اذیت کا شکار بن جاتے ہیں۔ ایک طرف جسمانی کمزوری اور طویل المدت علاج کی صعوبتیں اور دوسری جانب معاشرتی رویوں کی سختی۔ ایسے میں اگر علاج کے تسلسل میں ذرا سی بھی رکاوٹ آ جائے تو اس کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔ ماہرین طب کے نزدیک ایچ آئی وی/ایڈز کے مریضوں کے لیے اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی کا باقاعدہ اور بروقت استعمال ناگزیر ہے، ادویات میں تعطل نہ صرف وائرس کی شدت میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے بلکہ مزاحمتی پیچیدگیاں بھی پیدا کر سکتا ہے۔

اسی تناظر میں گھروں تک ادویات کی فراہمی کا یہ منصوبہ محض سہولت نہیں بلکہ علاج کی حکمتِ عملی میں ایک انقلابی پیش رفت ہے۔ اس پروگرام کے تحت رجسٹرڈ بچوں کی فہرست مرتب کرکے طبی عملہ اور متعلقہ ٹیمیں اُن کے گھروں تک ادویات پہنچا رہی ہیں۔ یوں علاج کا تسلسل برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ والدین پر سفر کے اخراجات اور وقت کی تنگی کا بوجھ بھی کم ہو رہا ہے۔ یہ اقدام اس حقیقت کا اعتراف بھی ہے کہ صحت کی سہولیات تک رسائی صرف ہسپتال کی چار دیواری تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ اسے مریض کی دہلیز تک پہنچنا چاہیے۔

مزید برآں، متاثرہ بچوں کے علاج کے لیے آغا خان یونیورسٹی اسپتال کی معروف ماہر امراضِ اطفال ڈاکٹر فاطمہ میر کی خدمات کا حصول اس پروگرام کی علمی و فنی سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔ جدید طبی تحقیق اور عالمی رہنما اصولوں کی روشنی میں علاج کی فراہمی اس امر کی ضمانت ہے کہ یہ اقدام محض وقتی انتظام نہیں بلکہ معیاری اور پائیدار طبی نگہداشت کا حصہ ہے۔ جب سرکاری و نیم سرکاری ادارے ممتاز ماہرین سے اشتراک عمل کریں تو اس کے اثرات نہ صرف مریضوں بلکہ پورے نظامِ صحت پر مثبت مرتب ہوتے ہیں۔

اس منصوبے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اس نے صحت کے شعبے میں بین الاداراتی تعاون کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ کمشنر سیسی اور میڈیکل ایڈوائزر کی کاوشیں اس بات کی دلیل ہیں کہ اگر انتظامی بصیرت اور طبی مہارت یکجا ہو جائیں تو محدود وسائل کے باوجود نمایاں نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ پالیسی سازی اور عملی نفاذ کے درمیان جو خلا عموماً دیکھا جاتا ہے، وہ ایسے اقدامات سے کم ہوتا ہے۔ یہی وہ طرزِ حکمرانی ہے جس میں فیصلے کاغذی فائلوں سے نکل کر عوامی زندگی میں بہتری کا سبب بنتے ہیں۔

یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ ایڈز سے متاثرہ بچوں کی دیکھ بھال محض ادویات تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ غذائی رہنمائی، نفسیاتی معاونت اور سماجی قبولیت بھی علاج کے ناگزیر اجزا ہیں۔ گھر تک ادویات کی فراہمی کا عمل اگر کمیونٹی آگہی پروگراموں اور والدین کی مشاورت کے ساتھ مربوط ہو جائے تو اس کے اثرات دوچند ہو سکتے ہیں۔ اس سے نہ صرف بیماری کے بارے میں درست معلومات عام ہوں گی بلکہ معاشرتی تعصب کی دیواریں بھی آہستہ آہستہ منہدم ہوں گی۔

مزید یہ کہ اس اقدام کو صحتِ عامہ کے وسیع تر تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ دنیا بھر میں "کمیونٹی بیسڈ ہیلتھ کیئر" کا تصور اسی بنیاد پر فروغ پا رہا ہے کہ مریض کو نظام کے مطابق ڈھالنے کے بجائے نظام کو مریض کی ضروریات کے مطابق تشکیل دیا جائے۔ پاکستان میں اگر اس ماڈل کو سنجیدگی سے اپنایا جائے تو نہ صرف ایچ آئی وی بلکہ تپِ دق، ہیپاٹائٹس اور دیگر دائمی امراض کے علاج میں بھی نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔ کلثوم بائی ولیکا سوشل سیکورٹی ہسپتال کا یہ اقدام ایک پائلٹ ماڈل کی حیثیت اختیار کر سکتا ہے جسے دیگر اضلاع اور صوبوں تک توسیع دی جا سکتی ہے۔

سماجی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو یہ پروگرام ریاستی سرپرستی کے اس تصور کو تقویت دیتا ہے جس میں کمزور اور نادار طبقات کو خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ ایڈز سے متاثرہ بچے اکثر ایسے خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں جو پہلے ہی معاشی مشکلات کا شکار ہوتے ہیں۔ ہسپتال تک بار بار آمدورفت اُن کے لیے اضافی بوجھ بن جاتی ہے۔ جب ادویات اُن کے گھروں تک پہنچتی ہیں تو درحقیقت ریاست اُن کے دروازے پر دستک دے کر یہ پیغام دیتی ہے کہ وہ تنہا نہیں ہیں۔

اس ضمن میں شفافیت اور نگرانی کا نظام بھی نہایت اہم ہے۔ ادویات کی بروقت ترسیل، مریضوں کا ریکارڈ، علاج کی پیش رفت اور ممکنہ ضمنی اثرات کی رپورٹنگ یہ سب عناصر اس پروگرام کی کامیابی کے ضامن ہوں گے۔ اگر ڈیجیٹل نظام کے ذریعے ان امور کو مربوط کیا جائے تو نہ صرف بدعنوانی کے امکانات کم ہوں گے بلکہ پالیسی سازی کے لیے قابلِ اعتماد ڈیٹا بھی میسر آئے گا۔ لہذا اس ضمن میں صوبائی وزیر محنت محترم سعید غنی صاحب کی رہنمائی و ہدایت کی روشنی میں سندھ ایمپلائز سوشل سیکورٹی (SESSI) کو تیزی سے ڈیجیٹلائزڈ کیا جارہا ہے، جس میں بلخصوص HIMS سسٹم کے ذریعئے محنت کشوں اور ان کے لواحقین کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کے منصوبے پر تیزی سے عملدرآمد کیا جارہا ہے۔

طبی ماہرین کی رائے اس اقدام کی افادیت پر مہرِ تصدیق ثبت کرتی ہے۔ ایڈز جیسے مرض میں علاج کا تسلسل ٹوٹ جائے تو وائرس کی شدت بڑھنے کے ساتھ ساتھ ادویات کی تاثیر بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ اس لیے گھر تک فراہمی کا نظام دراصل ایک حفاظتی حصار کی مانند ہے جو بچوں کو ممکنہ پیچیدگیوں سے بچانے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ حکمتِ عملی اُن عالمی اصولوں سے ہم آہنگ ہے جو ایچ آئی وی کے علاج میں "ایڈہیرنس" یعنی باقاعدہ ادویات لینے کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔

بالآخر، یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ صحت کے شعبے میں حقیقی اصلاحات وہی ہیں جو کمزور ترین طبقات کی زندگیوں میں براہِ راست بہتری لائیں۔ کلثوم بائی ولیکا سوشل سیکورٹی ہسپتال کا یہ اقدام محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ انسانی وقار کے احترام کا عملی اظہار ہے۔ اگر اس ماڈل کو تسلسل، شفافیت اور وسعت کے ساتھ جاری رکھا جائے تو یہ نہ صرف متاثرہ بچوں کی صحت میں نمایاں بہتری لائے گا بلکہ معاشرے میں ہمدردی، ذمہ داری اور اشتراکِ عمل کی نئی روایت بھی قائم کرے گا۔ امید کی جا سکتی ہے کہ یہ پیش رفت دیگر اداروں کے لیے بھی مشعلِ راہ ثابت ہوگی اور پاکستان میں صحتِ عامہ کا منظرنامہ بتدریج زیادہ منصفانہ، مؤثر اور انسان دوست سمت اختیار کرے گا۔