Wednesday, 25 February 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Dr. Muhammad Tayyab Khan Singhanvi
  4. Peshawarana Baseerat Se Idara Jati Waqar Tak

Peshawarana Baseerat Se Idara Jati Waqar Tak

ریاستی نظم و نسق کی اصل قوت اس کے قوانین میں نہیں بلکہ ان افراد میں پوشیدہ ہوتی ہے جو ان قوانین کو عملی زندگی میں نافذ کرتے ہیں۔ فلاحی ادارے خصوصاً وہ ادارے جو محنت کش طبقے کے حقوق، طبی سہولتوں اور سماجی تحفظ سے وابستہ ہوں، محض انتظامی ڈھانچے نہیں بلکہ معاشرتی اعتماد کے ستون ہوتے ہیں۔ ایسے اداروں کی کارکردگی کا دارومدار جدید فکری تربیت، انسانی رویوں کی شائستگی اور پیشہ ورانہ مہارت کے اس امتزاج پر ہوتا ہے جو افسران کے کردار سے جھلکتا ہے۔ اسی تناظر میں سندھ ایمپلائز سوشل سیکورٹی انسٹی ٹیوشن میں منعقد ہونے والا حالیہ تربیتی سیشن ایک رسمی سرگرمی کے بجائے ادارہ جاتی ارتقا کی سمت اٹھایا گیا ایک معنی خیز قدم محسوس ہوتا ہے۔

پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں مزدور طبقہ اکثر معاشی غیر یقینی، صحت کے خطرات اور روزگار کے عدم استحکام کا شکار رہتا ہے، وہاں سوشل سیکورٹی کے اداروں کی ذمہ داری صرف مالی معاونت فراہم کرنا نہیں بلکہ اعتماد کی بحالی بھی ہوتی ہے۔ جب ایک مزدور کسی دفتر کے دروازے پر دستک دیتا ہے تو وہ صرف ایک درخواست گزار نہیں ہوتا بلکہ ریاست سے اپنے حق کا تقاضا کرنے والا شہری ہوتا ہے۔ اس لمحے افسر کا رویہ، اس کی گفتگو اور اس کا مسئلہ حل کرنے کا انداز پورے ادارے کی ساکھ کا تعین کرتا ہے۔ یہی وہ پہلو ہے جسے کمشنر سیسی ہادی بخش کلہوڑو نے اپنے خطاب میں نہایت واضح انداز میں اجاگر کیا کہ افسران ادارے کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں اور عوامی تاثر ان ہی کے ذریعے تشکیل پاتا ہے۔

انتظامی سائنس کی جدید تحقیق یہ ثابت کرتی ہے کہ کسی بھی ادارے میں اصلاح کا آغاز ٹیکنالوجی سے نہیں بلکہ ذہن سازی سے ہوتا ہے۔ تربیتی پروگرام اسی ذہن سازی کا ذریعہ بنتے ہیں۔ "ورکنگ آف سوشل سیکورٹی اسکیم" جیسے موضوعات پر گفتگو دراصل افسران کو یاد دلانے کا عمل ہے کہ قوانین جامد دستاویزات نہیں بلکہ زندہ نظام ہوتے ہیں جنہیں وقت کے تقاضوں کے مطابق سمجھنا ضروری ہے۔ صنعتی ڈھانچوں میں تبدیلی، ٹھیکیداری نظام کی وسعت، چھوٹے کاروباروں کی بڑھتی تعداد اور غیر رسمی معیشت کے پھیلاؤ نے مزدوروں کی شناخت اور ان کے حقوق کے تعین کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایسے میں افسر کو صرف ضابطہ پڑھ لینا کافی نہیں بلکہ اسے معاشی حرکیات اور انسانی نفسیات دونوں سے واقف ہونا پڑتا ہے۔

یہ حقیقت بھی قابل غور ہے کہ پاکستان کے سرکاری اداروں پر عمومی تنقید اکثر سست روی اور روایتی طریقہ کار کے حوالے سے کی جاتی رہی ہے۔ اس تنقید کا ایک بڑا سبب تربیت کے تسلسل کا فقدان رہا ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں افسران کو ہر چند ماہ بعد ریفریشر کورسز، ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت اور عوامی رابطہ کاری کے جدید اصول سکھائے جاتے ہیں تاکہ وہ بدلتے ہوئے ماحول سے ہم آہنگ رہیں۔ سیسی میں اس نوعیت کے پروگرام کا انعقاد اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ ادارہ اب صرف انتظامی بقا نہیں بلکہ معیار کی بہتری کی جانب بھی متوجہ ہے۔

اس تربیتی سرگرمی میں مختلف ماہرین کی شرکت بھی ایک اہم پہلو ہے کیونکہ ادارہ جاتی ترقی ہمیشہ اجتماعی دانش سے ممکن ہوتی ہے۔ سابق ڈائریکٹر تسنیم سعید کی عملی تجربے پر مبنی رہنمائی، ڈائریکٹر سی اینڈ بی ڈاکٹر غلام دستگیر کی تکنیکی بصیرت، ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز وسیم جمال کی ابلاغی حکمت عملی اور سینئر ٹرینر غلام مصطفی ہاشوانی کی تربیتی مہارت نے اس سیشن کو محض لیکچر سیریز کے بجائے عملی سیکھنے کا عمل بنا دیا۔ جدید تربیت کا بنیادی اصول یہی ہے کہ تجربہ، علم اور عملی مثالیں ایک ساتھ منتقل ہوں تاکہ شرکاء صرف سننے والے نہ رہیں بلکہ سوچنے اور سوال اٹھانے والے بن سکیں۔

اس موقع پر طبی اور انتظامی شعبوں کی نمائندگی بھی معنی خیز رہی۔ میڈیکل ایڈوائزر ڈاکٹر کامران اعوان نے اس حقیقت کی جانب توجہ دلائی کہ سوشل سیکورٹی نظام کا بنیادی مقصد مزدور کی صحت کا تحفظ ہے اور صحت کے بغیر معاشی استحکام ممکن نہیں۔ صنعتی حادثات، پیشہ ورانہ بیماریوں اور ذہنی دباؤ جیسے مسائل اب عالمی سطح پر لیبر پالیسی کا حصہ بن چکے ہیں۔ اسی طرح ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن وکیل الدین کمال شاہ کی گفتگو انتظامی نظم و ضبط اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کی اہمیت کو اجاگر کرتی دکھائی دی، کیونکہ کسی بھی فلاحی پروگرام کی کامیابی صرف پالیسی نہیں بلکہ اس کے نفاذ کے طریقہ کار سے جڑی ہوتی ہے۔

کمشنر کی جانب سے مستقبل میں آن لائن تربیتی پروگرامز کے انعقاد کا اعلان بھی بدلتے ہوئے دور کی ضرورت کا ادراک ظاہر کرتا ہے۔ ڈیجیٹلائزیشن نے دنیا بھر میں سرکاری خدمات کے تصور کو بدل دیا ہے۔ اب فائلوں کی جگہ ڈیٹا بیس، ملاقاتوں کی جگہ ورچوئل کانفرنسز اور روایتی رپورٹنگ کی جگہ ریئل ٹائم مانیٹرنگ نے لے لی ہے۔ اگر افسر ڈیجیٹل مہارت سے محروم ہو تو بہترین پالیسی بھی عملی نتائج نہیں دے سکتی۔ آن لائن تربیت نہ صرف اخراجات کم کرتی ہے بلکہ دور دراز علاقوں میں تعینات افسران کو یکساں مواقع فراہم کرتی ہے، جو صوبائی سطح کے اداروں کے لیے انتہائی اہم پہلو ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ اداروں کی ساکھ صرف بڑے فیصلوں سے نہیں بلکہ روزمرہ کے رویوں سے بنتی ہے۔ ایک مسکراہٹ، ایک واضح رہنمائی یا ایک بروقت فیصلہ عوامی اعتماد میں اضافہ کر سکتا ہے۔ کمشنر کی جانب سے خوش اخلاقی پر زور دینا دراصل اسی اصول کی توسیع ہے۔ انتظامی فلسفے میں اسے "سروس کلچر" کہا جاتا ہے جہاں افسر خود کو اختیار کا مالک نہیں بلکہ خدمت کا ذمہ دار سمجھتا ہے۔ جب ادارے کے ہر دروازے پر یہی سوچ موجود ہو تو شکایات کم اور اعتماد زیادہ ہو جاتا ہے۔

تربیتی سیشن کے اختتام پر سرٹیفکیٹس کی تقسیم ایک رسمی مرحلہ ضرور تھا مگر اس کی علامتی اہمیت بھی کم نہیں۔ یہ اس بات کا اعتراف تھا کہ سیکھنے کا عمل سرکاری ذمہ داری کا حصہ ہے۔ اگر ادارے اپنے افسران کو مسلسل سیکھنے کا موقع دیں تو وہ نہ صرف اپنی ذاتی صلاحیتوں میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ پورے نظام کو فعال بنانے میں کردار ادا کرتے ہیں۔

درحقیقت سوشل سیکورٹی جیسے اداروں کے سامنے اصل چیلنج وسائل کی کمی سے زیادہ توقعات کا بوجھ ہوتا ہے۔ مزدور، صنعتکار اور حکومت تینوں کی نظریں ایک ہی پلیٹ فارم پر مرکوز ہوتی ہیں۔ ایسے میں تربیت وہ پل بن سکتی ہے جو قانون اور انسان کے درمیان فاصلے کو کم کرے۔ سیسی میں ہونے والا یہ اقدام اسی سمت ایک مثبت اشارہ ہے کہ ادارہ اپنی داخلی اصلاح کو ترجیح دے رہا ہے۔ اگر اس تسلسل کو برقرار رکھا گیا، تربیت کو رسمی تقاریب کے بجائے عملی تبدیلی سے جوڑا گیا اور افسران کو فیصلہ سازی میں فکری آزادی دی گئی تو ممکن ہے کہ سوشل سیکورٹی کا تصور محض امداد نہیں بلکہ باوقار تحفظ کی علامت بن جائے۔ یہی وہ منزل ہے جہاں ریاستی ادارے عوامی اعتماد کے ساتھ جڑتے ہیں اور جہاں خدمت انتظامی فریضہ نہیں بلکہ اجتماعی ذمہ داری بن جاتی ہے۔