Thursday, 05 March 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Dr. Muhammad Tayyab Khan Singhanvi
  4. Baluchistan Mein Insdad e Dehshat Gardi Ki Nai Jehat

Baluchistan Mein Insdad e Dehshat Gardi Ki Nai Jehat

بلوچستان ایک طویل عرصے سے داخلی سلامتی، ریاستی رِٹ اور غیر ریاستی تشدد جیسے پیچیدہ چیلنجز کی زد میں رہا ہے، مگر حالیہ برسوں میں صوبائی حکومت کی جانب سے اختیار کی گئی کثیر جہتی انسدادِ دہشت گردی حکمتِ عملی اس امر کی غماز ہے کہ ریاست اب محض ردِعمل کے مرحلے سے نکل کر ایک منظم، مربوط اور پائیدار سیکیورٹی ماڈل کی طرف بڑھ رہی ہے۔ فوج، سیکیورٹی فورسز اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ساتھ قریبی اشتراک کے تحت بلوچستان حکومت نے جس جامع مہم کا آغاز کیا، اس کا بنیادی مقصد صرف دہشت گردوں کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ ان کے پورے ماحولیاتی نظام، سہولت کاری، مالی معاونت، لاجسٹکس اور بیانیاتی پشت پناہی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ یہ مہم محض علامتی یا محدود کارروائیوں تک محدود نہیں رہی بلکہ صوبے بھر میں انٹیلی جنس بنیادوں پر مسلسل، وسیع اور ہمہ وقت آپریشنز کیے گئے۔ ایک ہی برس میں نوے ہزار سے زائد کارروائیاں اور سینکڑوں دہشت گردوں کا ہلاک یا ناکارہ ہونا اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ عسکریت پسند نیٹ ورکس کو غیر معمولی دباؤ کا سامنا رہا۔ یہ صورتحال محض عددی کامیابی نہیں بلکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست نے دشمن کے انفراسٹرکچر، نقل و حرکت اور فیصلہ سازی کی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

اس مہم کی سب سے نمایاں خصوصیت اداروں کے مابین ہم آہنگی کا فروغ ہے۔ ماضی میں معلومات کی کمی، رابطے کے فقدان اور اختیارات کے تداخل جیسے مسائل مؤثر کارروائیوں میں رکاوٹ بنتے رہے، مگر صوبائی انٹیلی جنس فیوژن اینڈ تھریٹ اسیسمنٹ سینٹر کے قیام نے اس خلا کو بڑی حد تک پُر کر دیا ہے۔ مختلف اداروں سے حاصل ہونے والی معلومات کا یکجا ہونا نہ صرف خطرات کے بروقت تجزیے میں مدد دے رہا ہے بلکہ مشترکہ کارروائیوں کو بھی مؤثر اور تیز تر بنا رہا ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر صورتحال رپورٹس کے تبادلے نے فیصلہ سازی کو انفرادی سوچ سے نکال کر اجتماعی حکمتِ عملی میں بدل دیا ہے، جو کسی بھی جدید سیکیورٹی ماڈل کی بنیاد سمجھی جاتی ہے۔

انتظامی اور ساختی اصلاحات نے بھی اس حکمتِ عملی کو مضبوط سہارا دیا ہے۔ بی ایریا کو اے ایریا میں تبدیل کرنے کا فیصلہ محض ایک انتظامی تبدیلی نہیں بلکہ ریاستی رِٹ کے نفاذ کی جانب ایک علامتی اور عملی قدم ہے۔ ایسے علاقے جو برسوں سے گرے زونز کی حیثیت رکھتے تھے، اب یکساں پولیسنگ اور حکمرانی کے دائرے میں لائے جا رہے ہیں، جس سے نہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی عمل داری بڑھی ہے بلکہ عوامی اعتماد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اسی تناظر میں محکموں کے درمیان دہرے پن کا خاتمہ اور انٹیلی جنس نظام کی تنظیمِ نو اس بات کی علامت ہے کہ ریاست اب وسائل کے بہتر اور مؤثر استعمال کی طرف گامزن ہے۔

جدید دور میں سیکیورٹی محض بندوق اور وردی تک محدود نہیں رہی بلکہ اطلاعات اور بیانیے کی جنگ بھی اتنی ہی اہم ہو چکی ہے۔ حکومتِ بلوچستان نے اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے غلط معلومات، افواہوں اور مخالف پروپیگنڈے کے مقابلے کیلئے ایک منظم اطلاعاتی حکمتِ عملی اختیار کی ہے۔ پیشگی، حقائق پر مبنی ابلاغ نے ردِعمل کی سیاست کو پیچھے دھکیل دیا ہے، جبکہ نگرانی کے جدید نظام نے سوشل اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر ابھرنے والے منفی بیانیوں کا بروقت جواب ممکن بنایا ہے۔ یہ پہلو اس لیے بھی اہم ہے کہ انتہا پسند عناصر اکثر بیانیاتی خلاؤں سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور جب ریاست اس میدان میں مؤثر ہو جائے تو شدت پسندی کی فکری بنیادیں کمزور پڑنے لگتی ہیں۔

قانونی اور عدالتی اصلاحات اس کثیر جہتی مہم کا ایک اور مضبوط ستون ہیں۔ نئے قوانین، ترامیم اور قواعد کا نفاذ اس بات کی علامت ہے کہ ریاست نے انسدادِ دہشت گردی کو محض آپریشنل مسئلہ نہیں بلکہ ایک قانونی اور ادارہ جاتی چیلنج کے طور پر تسلیم کیا ہے۔ پراسیکیوشن کی بہتری، گواہوں کے تحفظ اور فیس لیس عدالتوں جیسے اقدامات نے نہ صرف انصاف کے عمل کو تیز کیا ہے بلکہ اس پر عوامی اعتماد بھی بڑھایا ہے۔ حراستی مراکز میں انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ سیکیورٹی اور قانون کی حکمرانی کو ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ تکمیل سمجھا جا رہا ہے۔

ڈیجیٹائزیشن نے سیکیورٹی گورننس کو ایک نئی جہت دی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے نگرانی، فیلڈ مانیٹرنگ، لاجسٹکس ٹریکنگ اور مالی امور کی شفافیت نے نہ صرف کارکردگی میں اضافہ کیا ہے بلکہ بدعنوانی اور نااہلی کے امکانات کو بھی کم کیا ہے۔ جیو ٹیگنگ، بایومیٹرک حاضری اور ڈیجیٹل ڈیش بورڈز جیسے اقدامات نے سیکیورٹی نظام کو روایتی انداز سے نکال کر ڈیٹا پر مبنی فیصلہ سازی کی طرف منتقل کر دیا ہے، جو کسی بھی پائیدار ماڈل کی بنیادی شرط ہے۔

انسدادِ دہشت گردی کے ساتھ ساتھ منشیات اور غیر قانونی معیشت کے خلاف کارروائیاں اس امر کی عکاس ہیں کہ ریاست نے دہشت گردی کے مالی وسائل کو نشانہ بنانے کو ترجیح دی ہے۔ پوست کی کاشت کی تلفی، غیر قانونی انفراسٹرکچر کی مسماری اور مشتبہ افراد کی نگرانی نے اس گٹھ جوڑ کو کمزور کیا ہے جو شدت پسندی کو مالی آکسیجن فراہم کرتا ہے۔ اسی طرح غیر قانونی تارکینِ وطن کی واپسی کے عمل نے شناخت، سہولت کاری اور سیکیورٹی خدشات کو بڑی حد تک کم کیا ہے۔

مجموعی طور پر یہ تمام اقدامات اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ بلوچستان میں سیکیورٹی اب محض وقتی آپریشنز کا نام نہیں رہی بلکہ ایک جامع، قانونی، تکنیکی اور ادارہ جاتی ڈھانچے میں ڈھل چکی ہے۔ یہ ماڈل اس تصور پر قائم ہے کہ امن بندوق سے نہیں بلکہ قانون، انصاف، شفافیت اور ریاستی رِٹ کے یکساں نفاذ سے قائم ہوتا ہے۔ اگر یہی تسلسل برقرار رہا تو بلوچستان نہ صرف دہشت گردی کے اندھیروں سے نکل سکتا ہے بلکہ ایک مستحکم، محفوظ اور ترقی کی راہ پر گامزن صوبے کے طور پر ابھر سکتا ہے، جہاں ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد ہی سب سے بڑی سیکیورٹی ضمانت بن جائے۔