Wednesday, 21 January 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Ali Raza Ahmed
  4. Desi Sakhta Chanay

Desi Sakhta Chanay

مزاح نگاری ایک مشکل سخن وری ہے اور نثر لکھتے ہوئے بھی کافی worry ہونا پڑتا ہے پھر کہیں جا کے نام "وری" ہوتی ہے۔ کسی کو گدھا کہے بغیر دیگر"ہن ہنائے" الفاظ سے ثابت کرنا پڑتا ہے کہ تو کیا جانے زعفران کی کیا قدر؟ جبکہ ویرانی کے بغیر ہی بس سطریں گوندھ کر الو بنانا پڑتا ہے اگر یہ بھی نہ بن سکے تو کم از کم "بھاالو" تو بن پائے گا۔ سیدھے الفاظ بلکہ براہ راست لفظی حملے سے مزاح کے مداح بھی ناراض ہو سکتے ہیں اور ان کی آنکھ میں اپنا ہی بال آسکتا ہے۔ بہرحال مزاح نگار کی بات کا برا منانے کی بجائے خود کو راضی رکھنا چاہئے اسی کو"رضا قاریاں" کہتے ہیں۔ مزاح نگار تو یہ بھی کہہ دیتا ہے کہ جو خبریں نہیں پڑھتایہ اس کی کج فہمی ہے اور جو پڑھتاہے یہ ہے اس کی خوش فہمی۔۔

ڈاکٹر محمد یونس بٹ کی کتاب شناخت پریڈ 2 چھپ چکی ہے۔ دھائیاں قبل شناخت پریڈ اول شائع ہوئی تھی تو اس وقت سے ہم سب اس امید سے تھے کہ اب کس کس کی قسمت میں اس کی شناخت پریڈ کا ہونا لکھا ہے چنانچہ شناخت پریڈ 3 آنے تک یہ انتظار ختم ہوا۔ اس کتاب میں ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں کہ "بٹوں کو سمجھنا اتنا مشکل نہیں ہوتا جتنا سمجھانا" اپنی شناخت پریڈ کرتے ہوئے مزید لکھتے ہیں کہ "شاعر ادیب مجھے ڈاکٹر محمد یونس بٹ کا بیٹا سمجھ کر شفقت سے پیش آتے ہیں"۔

ایک اور مضمون میں معروف مصنف کے بارے کہتے ہیں "وہ انتظار نہیں کر سکتا اور انتظار کرتے ہوئے اسے بخار ہو جاتا ہے اور بخار کے درجے سے پتا چلتا ہے کہ انتظار زنانہ ہے یا مردانہ"۔ انتظار حسین کے دھیمے مزاج کے بارے میں ہی کہتے ہیں کہ "کہیں بیٹھ کر چائے کا آڈر دیں تو بیرا مذاق سمجھتا ہے"، انہیں کے بارے میں مزید لکھتے ہیں "ایک ایسا آدمی ہے کہ اس کا بس چلے تو ہر مہینے تنخواہ لینے کی بجائے کئی برس پہلے وصول کی ہوئی تنخواہ یاد کرکے گھر کا خرچ چلالے"۔

اسی کتاب میں شیخ رشید کے بارے میں کہتے ہیں "انہیں پبلسٹی پسند نہیں چنانچہ وہ کسی کی مالی امداد کا چیک دیں تو اس پر بھی دستخط نہیں کرتے۔ وہ جنازوں اور شادیوں پر ضرور جاتے ہیں لیکن کسی کو ان دو موقعوں پر اپنے ہاں آنے کا موقع نہیں دیا"۔ اسی کتاب میں لکھتے ہیں "راحت فتح علی خان اُس خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جس میں باجی چھوٹے سائز کے باجے کو کہتے ہیں۔ کسی نے پوچھا سونے سے پہلے کیا لیتے ہیں کہنے لگے جمائی"۔ ثاقب نثار کے بارے میں کہتے ہیں کہ "ان کے قوم پر بڑے احسان ہیں سب سے بڑا یہ کہ وہ اب چیف جسٹس نہیں ہیں"۔ بہرحال ڈاکٹر محمد یونس بٹ صاحب کو اپنی سخن وری سے دیسی ساختہ شناخت پریڈ کرکے ہر خاص و عام کو طنز و مزاح کے شیشے میں اتارنا آتا ہے۔

شیشے میں اتارنا: اگر آپ کے پاس دانشمندانہ آرٹ یا طاقت ہو تو آپ کسی بھی شخص کو اپنے شیشے میں اتار سکتے ہیں بھلے وہ پنڈی کا مفلر شیخ ہی کیوں نہ ہو ورنہ کچھ لوگ ان جیسوں کو اپنے آہنی ہاتھوں سے بھی شیشے میں اتار نے کا ہنر رکھتے ہیں۔ پھر وہ شیشے میں اترا ہوا شخص ٹوٹے ہوئے شیشے کی طرح خطرناک بھی ہو سکتا ہے۔ ویسے یہ فن کسی کسی کو آتا ہے ورنہ کسی کو شیشے میں اتارنے سے پہلے اسے شیشہ دکھا بھی بیٹھتا ہے۔ انسان کی جبلت ہے کہ وہ ہر دوسرے انسان کو اپنی عینک کے شیشے میں اتارنا چاہتا ہے بھلے اس کام میں اس کو شیش محل بھی بنانا پڑے۔ بعض اوقات مجبوری میں شیش ناگ کو اپنے شیشے میں اتارنا اپنے لئے ہی شیخ ناک بن جاتا ہے اور اس شیش ناگ کی چاہت خود اسے ہی خطرے کی جانب لے جاتی ہے۔ بہرحال اس کا یہ "چاہتا ہے" سے "چاہتا تو" کا لفظی سفر جاری رہتا ہے۔ یہ شیشہ گری باوجود کوشش کے اس سے نہیں چھوٹتی کیونکہ چور چوری سے جائے مگر ہیراپھیری سے نہیں جاتا۔

چور چوری سے جائے ہیرا پھیری سے نہ جائے: انسان کی سائیکی ہے کہ وہ اچھی اور پرکشش جنس مخالف کو اپنی طرف متوجہ کراتا ہے۔ اگر وہ فلمیں دیکھنا چھوڑ بھی دے تو شارٹ کلپ نہیں چھوڑتا اور اسی وجہ سے شوشل میڈیا کے گماشتے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ پہلا اعتراض تو یہ ہے کہ چور چوری سے جائے ہی کیوں؟ تاوقیکہ اس پر ہیرا پھیری کا "سنہری" الزام آئے۔ وہ وقت گزر گیا جب ایک معاشی "فیقے" غورث کو Extention کی ٹینشن ہوتی تھی اب صرف اپنی پڑی ہے مگر اب وہ سب کے سب اپنے آخری حربے استعمال کر رہے ہیں اور سر پر تابوت باندھے کھڑے ہیں۔ بہرحال لبِ لباب یہ ہے کہ بھلے کوئی معمولی چور بھی ہو اسے اپنے کام سے کام میں مکمل استحکام رکھنا چاہئے۔ توبہ تائب ہونا اس کی شرست اور اس کے منفرد ہنر کے منافی ہے۔ چوری لاکھ کی ہو یا سلاخ کی گھڑی کی ہو یا ہو کلاک کی، اس کے آگے سینہ زوری زیادہ دیر نہیں چلتی پھر ایک وقت ایسا آتا ہے جب آپ کو دیسی ساختہ لوہے کے چنے چبانے پڑتے ہیں۔

لوہے کی چنے چبانا: ہمارے اگر اعلان کیا جائے کہ لوہے کے چنے چبانے کے بعد حلوہ ملے گا تو دیکھئے گا وہاں بھی لائنیں لگی ملیں گی۔ ظاہر ہے انہیں چباتے ہوئے کم از کم دانت اپنی جگہ چھوڑیں گے یا وہ ثابت قدم نہیں رہیں گے۔ جو کسی کے لئے گھڑا کھودتا ہے وہ خود ان میں گر جاتا ہے۔ وہ اور کچھ نہیں تو دانت ضرور تڑوا بیٹھتا ہے۔ لہذا ایسے طعنہ زن خود بھی آہنی چنے چبانے کے قریب پہنچ جاتے ہیں۔ پھر لوگ ان سے ایسے فکاہیہ سوال کرتے ہیں کہ آپ کس منہ سے لوہے کے چنے چبا رہے ہو؟

کس منہ سے: یہ محاورہ بھی اپنا سا منہ لئے ہوئے ہے یعنی بندہ محاورے سے بھی پوچھ سکتا ہے کہ تم نے کس منہ سے اردُو کی ڈکشنری میں گھس آئے ہو۔ یہ تو بالکل ایسے ہی ہے جیسا کہ برطانیہ میں سیاسی پناہ حاصل کرنے والوں سے برطانیہ نے کبھی نہیں پوچھا کہ تم نے کس منہ سے ہمارے ہاں منہ کیا ہوا ہے کیونکہ انہوں نے بھی سینکڑوں سال برصغیر کی طرف منہ کیے رکھا۔ بیوٹی پالر والے بھی کسی سے یہ نہیں پوچھتے کہ تم کس منہ سے ادھر آئے ہو اور اب بن سنور کر کدھر منہ کر رہے ہو۔