اِک مردِ بے درد نے پوچھا ہے کہ "درد اُٹھنا میں یہ اُٹھنا، کیا ہے؟"
عرض ہے کہ جسم کے کسی حصے میں اچانک تکلیف شروع ہوجائے تو اس کیفیت کے اظہار کے لیے درد اُٹھنا، بولا جاتا ہے۔ اُٹھنا محاورہ، ہے۔ محاورے میں حقیقی معنی نہیں لیے جاتے، مجازی معنی لیے جاتے ہیں۔ عموماً فعل ہی کی کوئی قسم استعمال کی جاتی ہے، لیکن مُراد وہ فعل نہیں ہوتا، کچھ اور ہی ہوتا ہے۔ عام بول چال میں ہم بہت سے محاورے استعمال کرتے ہیں، مگر ان کے لفظی معنی کبھی نہیں لیتے۔ مثلاً:
"میں گھر میں داخل ہوا تو بچوں نے آسمان سر پر اُٹھا رکھا تھا"۔
(سامان تو سر پر اُٹھا سکتے تھے، بچوں نے آسمان کیسے سر پر اُٹھالیا؟)
"ارے پڑوسی کا لڑکا تو میرے سر پر چڑھا جارہا تھا"۔
(لڑکا سچ مُچ آپ کے چٹیل سر پر چڑھ گیا ہوتا تو فوراً پھسل کر گِرپڑا ہوتا!)
"اُن کے کمرے میں داخل ہوا تو اُستادِ محترم مجھے دیکھتے ہی باغ باغ ہوگئے"۔
(آپ نے اُن کے کمرے میں داخل ہوکر کچھ اچھا نہیں کیا۔ داخل نہ ہوتے تو استادِ محترم حسبِ سابق انسان کے انسان ہی رہتے۔ بیٹھے بٹھائےگاندھی گارڈن، نہ بن گئے ہوتے۔)
خیر، یہ تو لفظوں کی جُگالی تھی۔ جُگت بازی سے باہر آکر جائزہ لیجے تو پہلے محاورے سے مراد لی جاتی ہے "اُدّھم مچانا"۔ دوسرے محاورے کا مفہوم ہے "بدتمیزی اور گستاخی کرنا" اور تیسرے محاورے کا مطلب ہے "خوشی سے کِھل اُٹھنا"۔
اُردو میں اور بھی بہت سے ایسے محاورے ہیں جن میں افعال اپنے اصل معنوں میں نہیں لیے جاتے۔ دیکھیے کھانا، پینا اور مارنا ایسے افعال ہیں جن کا مفہوم بچہ بچہ سمجھتا ہے۔ مگر غم کھانا، یا غصہ پینا اور ڈینگ مارنا، میں مذکور افعال، اپنے حقیقی معنوں میں نہیں لیے گئے ہیں۔
درد اُٹھنا، میں بھی اُٹھنا، مجازی معنوں میں لیا جاتا ہے۔ اُن معنوں میں جو سوال کے بعد کی پہلی سطر میں بتادیے گئے ہیں۔ اُستاد شعرا کبھی کبھی محاوروں کے الفاظ سے کھیلتے ہیں اور اشعار میں حسن پیدا کردیتے ہیں۔ اُستاد امیرؔ مینائی نے اس محاورے میں درد کے اُٹھنے سے فائدہ اُٹھایا اور خود اُٹھ کر اس پر حُسن کا جاسوس ہونے کا الزام لگایا۔ کہاکہ درد ایک جاسوس ہے اور ہدف یا نشانے کی نشان دہی پر مامور ہے۔ حُسن کا مشغلہ اپنے شکار پر ناز و انداز کے تیروں کی بوچھار کرنا ہے۔ تیر کو ناوک، کہا جاتا ہے، اداؤں کو ناز، کہہ لیجے۔ کہہ لیا؟ اچھا تو اب حضرتِ امیرؔ کا یہ شعر بھی پڑھ لیجے:
ناوکِ ناز سے مشکل ہے بچانا دل کا
درد اُٹھ اُٹھ کے بتاتا ہے ٹھکانا دل کا
طبیب صاحبان درد کو نعمت، قرار دیتے ہیں۔ درد نہ ہو تو کیسے پتا چلے کہ تکلیف کہاں ہے؟ چوٹ لگے اور درد نہ ہو تو اس کا مطلب ہے کہ جسم بے حس ہوگیا۔ درد محسوس نہ کرنا جسمانی بے حسی کے علاوہ جذباتی بے حسی کی بھی علامت ہے۔ یہ بے حسی آج کل ہماری امت کے ہر طاقتور فرد میں نظر آتی ہے۔ مولانا الطاف حسین حالیؔ تو ایسے بے حس شخص کو خدا کی رحمت سے بھی محروم قرار دیتے ہیں:
خدا رحم کرتا نہیں اُس بشر پر
نہ ہو درد کی چوٹ جس کے جگر پر
جب کہ شان الحق حقی درد محسوس کرنے کی صلاحیت کو انسان کے صاحبِ احساس ہونے کی علامت جانتے ہیں:
حیف وہ وقت کہ احساس کے قابل نہ رہوں
درد اُٹھتا ہے تو کچھ جان میں جاں آتی ہے
درد اُٹھتا ہی نہیں، کبھی کبھار چمک بھی اُٹھتا ہے۔ سو، ایک درد مند شاعر کا درد بھرا شعر ہے:
اِن اندھیروں میں تو ہر درد چمک اُٹھتا ہے
کن اُجالوں میں کسک دل کی چھپائی جائے
(یہ شاعر ہم خود ہیں) دلچسپ بات یہ ہے کہ درد، کے حروف کو سیدھا پڑھیں یا اُلٹا درد، تو درد، ہی رہے گا۔ درد ہونا، کے ایک معنی رحم کرنا اور ترس کھانا یا ترس آنا بھی ہیں۔ مثال کے طور پر:
"اے حکمرانو! کیا تمھارے دل میں غریبوں کا کچھ بھی درد نہیں؟"
ذوقؔ کو گلہ تھا:
دردِ دل سے لوٹتا ہوں، میرا کس کو درد ہے
ہوں میں حرفِ درد، جس پہلو سے اُلٹو درد ہے
ایک بار درد اُٹھ جائے توبار بار ہوتا ہے۔ کبھی کم، کبھی زیادہ۔ درد کو دُکھ کے معنوں میں بھی لیا جاتا ہے۔ کسی بات کا دُکھ ہو تو منہ سے کڑوی کسیلی باتیں بھی نکل جاتی ہیں۔ بعد کو معافی مانگنی پڑتی ہے:
رکھیو غالبؔ مجھے اس تلخ نوائی میں معاف
آج کچھ درد مرے دل میں سِوا ہوتا ہے
غالبؔ کے برعکس پروفیسر اقبالؔ عظیم اچھی قوتِ برداشت رکھتے تھے، اُنھوں نے تلخ نوائی، سے گریز کیا۔ معافی مانگنے سے بچ گئے:
چپ رہتے تو دم گھٹتا اور درد سِوا ہوتا
کچھ منہ سے نکل جاتا تو کوئی خفا ہوتا
یہ سوچ کے ہم پھر بھی بیٹھے رہے محفل میں
ہم اُٹھ کے چلے آتے تو اور بُرا ہوتا
درد کا دوا سے گہر ا تعلق ہے۔ درد ہوتا ہی اس لیے ہے کہ دوا کی جائے۔ سو، ہر دردمند کو فکر رہتی ہے کہ
"آخر اس درد کی دوا کیا ہے؟"
ہم جو جمعے کے جمعے می نویس و می نویس و می نویس، کیے جاتے ہیں تو ہمارے تمام درد آشنا اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ کالم اصلاً اُن لوگوں کا درد بٹانے کو لکھے جاتے ہیں جن کے دل میں قومی زبان کا درد ہے۔ قومی زبان قوم کا سرمایہ ہے، قوم کی شناخت ہے۔ قومی پرچم اور قومی ترانے کی طرح قومی زبان بھی قابلِ احترام ہے۔ قومی زبان کی توہین پر بھی سزا واجب ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس نے اپنے دستور میں اُردو زبان کو قومی زبان قرار دیا ہے۔ قوم و وطن سے محبت کے دعوے داروں کو جاننا چاہیے کہ ہر سطح پر قومی زبان کا استعمال حب الوطنی کا تقاضا ہے۔ بدیسی زبان میں گٹ پٹ کوئی قابلِ فخرکام نہیں، شرم و ندامت کا سبب بننے والی حرکت ہے۔ چین سے سبق لیجے۔ انگریزی گو، صدر ٹرمپ کے آگے چینیوں نے چہک چہک کرچینی زبان بولی۔ ٹرمپ صاحب کچھ بھی چُوں چاں، نہ کرسکے۔
ہمارے ہاں سرکاری سطح پر تو بڑی دردناک صورتِ حال ہے۔ مگر عوامی سطح پر اور علمی و ادبی سطح پر ہماری قومی زبان خوب پھل پُھول رہی ہے۔ ہر قسم کے سماجی ذرائع ابلاغ پر، حتیٰ کہ مصنوعی ذہانت کے میدان میں بھی اُردو کی پیش قدمیاں جاری و ساری ہیں۔ کاش ہمارے ملک کا عدالتی نظام، تعلیمی نظام، قانون سازی کا نظام اور تمام تر سرکاری نظام چلانے والے حکام بھی قوم کا درد محسوس کریں۔ غلامی کے سجدوں کا داغ سرکاری پیشانی پر دیکھ کر قوم کو جو دُکھ محسوس ہوتا ہے، کاش وہی دُکھ وہ خود بھی محسوس کریں۔ سرکار دربار میں ہر ہر سطح پر فرنگی راج رائج رکھنے والے ایک ایک فرد سے کہنے کا جی چاہتا ہے کہ انگریزی زبان کی جگہ قومی زبان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے، اے کاش!
تیرے بھی دل میں درد ہو، تیرا بھی چہرہ زرد ہو