ڈیووس میں دو بڑے ایونٹ ہوئے۔ ایک تو وہی غزہ کی سرکوبی، معاف کیجئے گا، غزہ کی حفاظت کیلئے بننے والے "بورڈ" کے معاہدے پر دستخط ہو گئے۔ اب غزہ کے ساتھ کیا کرنا ہے، یہ فیصلہ ٹرمپ، نیتن یاہو اور ٹونی بلیئر کی تگڑم ہی کرے گی۔ بورڈ میں 8 مسلمان رکن بھی شامل ہیں جو بورڈ کے ہر اجلاس میں شریک ہو کر "ہم کو عبث بدنام کیا" کی تصویر بلکہ تفسیر بن کر بیٹھا کریں گے۔ واقعی یہ بہت بڑا ایونٹ تھا لیکن اس سے بھی بڑا ایونٹ یہ تھا کہ پاکستان کے وزیر خزانہ قبلہ اورنگ جمع زیب صاحب نے خطاب کیا اور یہ دل خوش کن اطلاع دی کہ پاکستان میں مہنگائی کئی گنا کم ہو چکی ہے۔
تقریر سن کر ہر خاص و عام کا دل باغ باغ ہوا۔ ان کی خدمت میں عرض ہے کہ یہ گراں قدر اطلاع جو انہوں نے ڈیووس والوں کو دی، پاکستانیوں کو بھی دے دیں وہ ناحق ہر شے کی قیمت تین تین چار چار گنا زیادہ دے رہے ہیں۔ ظاہر ہے انہیں پتہ ہی نہیں ہے کہ اتنی سستائی ہوگئی ہے۔ پتہ ہوتا تو یوں کاہے کو منڈی جا کر جیبیں خالی کرکے واپس گھروں کو آتے۔ نیز عوام ہی نہیں، کارخانے داروں، تاجروں اور دکانداروں کو بھی یہ اطلاع دینا ضروری ہے کہ مہنگائی کئی گنا کم ہوگئی ہے تاکہ وہ جو سال دو سال پہلے کے مقابلے میں تین تین چار چار گنا زیادہ مہنگی چیزیں بیچ رہے ہیں، انہیں تین تین چار چار گنا سستی بیچنا شروع کریں۔
تاریخ میں یہ منفرد باب پہلی بار لکھا گیا ہے کہ ایک ملک میں مہنگائی اتنی کم ہوگئی لیکن کسی کو پتہ ہی نہیں چلا، نہ بیچنے والوں کو، نہ خریدنے والوں کو۔
***
روس کے صدر پیوٹن ان دنوں سبھی سے ناراض ہیں اور برطانیہ سے تو بہت ہی ناراض ہیں حالانکہ روس کی پٹائی یوکرائن کر رہا ہے، برطانیہ نہیں۔ کل ان کا ا یک بیان دیکھا جس میں وہ برطانیہ کو طعنے دے رہے تھے۔ ایک طعنہ خصوصیت سے دلچسپی والا تھا۔ یہ کہ برطانیہ اپنے نام کے ساتھ سے عظمیٰ کا لفظ نکال دے، کیونکہ اب وہ عظمیٰ نہیں رہا۔
برطانیہ عظمیٰ یعنی گریٹ بریٹن۔ صدر پیوٹن کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ ہر "معقول" آدمی کی طرح وہ بھی مطالعے وغیرہ کی عادات بد سے دور ہیں۔ برطانیہ عظمیٰ والی بات کرکے انہوں نے یہ بات ثابت بھی کر دی۔
برٹن کے ساتھ گریٹ کا لفظ اس لئے نہیں آتا کہ برطانیہ کوئی بڑی سلطنت تھا۔ یعنی یہ کہ برٹش ایمپائر آدھی دنیا پر پھیلی ہوئی تھی اس لئے برٹن کو گریٹ کہا جانے لگا۔ اصل میں یہ تو چھوٹے برٹن سے تمیز کیلئے کہا گیا۔ چھوٹا برٹن بڑے برٹن کے ساحل کے سامنے فرانس میں ہے جسے برٹنی کہا جاتا ہے، کبھی اسے برٹن بھی کہا جاتا تھا اور یوں مغالطہ ہو جاتا تھا چنانچہ تمیز کیلئے اصلی والے برٹن کے نام کے ساتھ گریٹ کا لفظ لگا دیا گیا۔ چھوٹا برطانیہ یعنی لٹل برٹن آج فرانس کا ایک صوبہ یا ریجن ہے اور مشہور شہر رینز اس کا دارالحکومت ہے۔ اسے محض بریٹنی بھی کہا جاتا ہے۔
***
دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ برطانیہ بہت ہی مشہور اور معروف ملک ہے۔ دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا "سامراج" رہا ہے، مشہور کیوں نہ ہوتا لیکن درحقیقت اس نام کا دنیا میں کوئی ملک ہے ہی نہیں اور نہ کبھی تھا۔ اقوام متحدہ کی فہرست دیکھ لیں، اس نام کا کوئی ملک اس میں درج نہیں ہے۔ اصل میں تو یہ ایک جزیرے کا نام ہے جس کا نقشہ بھی بہت انوکھا ہے۔ ایک عجیب و غریب جانور جو پھسکڑ مار کر بیٹھا ہوا ہے اور پیٹ نکلا ہوا ہے (یعنی جہاں پر دہلیز ہے)۔ پھر قدرے پتلی گردن (شمالی انگلینڈ) اور اس کے اوپر کھلے ہوئے منہ والا بے ڈھنگا سر (سکاٹ لینڈ)۔ منہ اس انداز سے کھلا ہے جیسے وہ بڑی تکلیف میں ہو۔ حالانکہ تکلیف میں تو ساری د نیا اس کی وجہ سے تھی۔
ہاں تو دراصل یہ پھسکڑ مار کر بیٹھے جانور سے مشابہ یہ جزیرہ خود کوئی ملک نہیں، ایک ملک کا حصہ ہے اور اس ملک کا نام یو کے، یعنی یونائٹیڈ کنگڈم یعنی متحدہ بادشاہت ہے۔ جب یہ بادشاہت بنی تھی تو اس میں ایک اور جزیرہ آئر لینڈ بھی شامل تھا، پھر آئرلینڈ کا بڑا حصہ الگ ہوگیا البتہ اس کا چھوٹا سا سرا بدستور بادشاہت میں رہا۔
یوکے کا نام اتنا معروف نہیں جتنا جزیرے کا چنانچہ سبھی اس ملک کو برطانیہ ہی کے نام سے جانتے ہیں۔ اس نے دنیا بھر پر راج بھی اسی نام سے کیا یعنی برٹش ایمپائر کے نام سے، یو کے ایمپائر کے نام سے نہیں اور اس کی فوج بھی برٹش آرمی کہلاتی ہے، یو کے آرمی نہیں۔
انگریز گورے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔ امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ وغیرہ۔ سب کی ماتربھومی برطانیہ کا جزیرہ ہے لیکن یہ ماتر بھومی اب گوروں کا گڑھ نہیں رہی۔ کالے بھورے لوگ دنیا بھر سے یہاں آکر آباد ہو رہے ہیں اور گوروں کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے، اب اس نقل مکانی کو روکنے کیلئے قانون بن رہے ہیں۔ نہ بنتے تو خدشہ تھا کہ گورے اقلیت ہی نہ بن جائیں۔ پھر کسی دن ایک خبر یوں چھپتی کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے برطانیہ کی سیاہ نام اکثریت کے ہاتھوں انگریز اقلیتی برادری پر مظالم کی مذمت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ گوروں کو بھی ووٹ کا حق دیا جائے۔
***
خبر ہے کہ قومی اسمبلی کا یوٹیوب چینل غائب ہوگیا خبر کے متن سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان میں قومی اسمبلی نام کا کوئی ادارہ موجود ہے جس کا یوٹیوب چینل غائب ہوگیا ہے۔ لیکن لگتا نہیں ہے کہ ایسا کوئی ادارہ پاکستان میں ہے۔
ہوتا تو غزہ کی سرکوبی کیلئے، معاف کیجئے گا، غزہ کی حفاظت کیلئے بنائے جانے والے ٹرمپی بورڈ میں شمولیت سے پہلے اس سے مشورہ کیا جاتا۔ مشورہ تو کجا، قومی اسمبلی کو خبر تک نہیں دی گئی۔
خیر، قومی اسمبلی ہے یا نہیں ہے، اس سے قطع نظر، یوٹیوب چینل کا سراغ لگانا بہرطور ضروری ہے۔