امریکی عوام کی اکثریت اب جنگوں سے بیزار ہو چکی ہے اور ٹرمپ کی وینزویلہ پر جارحیت کو بھی مسترد کر دیا گیا ہے۔ ایران میں کشیدگی کو بھی ٹرمپ منصوبہ بندی سمجھا جا رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں جاری حکومت مخالف احتجاجات کے دوران پہلی بار ایرانی عوام کے نام براہِ راست پیغام جاری کردیا کہ ایران کے محب الوطنوں، احتجاج جاری رکھو، ملکی اداروں کا کنٹرول سنبھال لو، مدد راستے میں ہے۔
اسی بیان میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایرانی حکام کے ساتھ ہونے والے تمام مذاکراتی اجلاس منسوخ کر دیے گئے ہیں جب تک کہ ایرانی حکومت مظاہرین کا قتلِ عام بند نہیں کردیتی۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب ایرانی وزیر خارجہ نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ مظاہرین میں شامل شرپسندوں سے امریکی اسلحہ اور گولہ بارود برآمد ہوا ہے۔
انھوں نے یہ بھی بتایا کہ بیرون ملک سے آنے والی ایسی کالز بھی ریکارڈ کی گئی ہیں جن میں پولیس اور مظاہرین پر فائرنگ کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔
ایران میں 28 دسمبر سے جاری ملک گیر احتجاج میں شدت آگئی ہیں جہاں ہلاکتوں کی تعداد کے حوالے سے متضاد پریشان کن اطلاعات ہیں۔ ری پبلکن پارٹی جب بھی اقتدار میں آئی جنگوں اور بد امنی کا دور لے کر آئے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا آخری دور حکومت ہے اور وہ اپنے پہلوں کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔ امریکہ کی چودھراہٹ گو کہ پہلے سے نہیں رہی مگر اسلحہ اور تیل کی خریدو فروخت کے لیے ملکوں میں انتشار کا سبب بنا رہتا ہے۔
برسوں پہلے جب امریکہ گئی تب ذہن میں پختگی نہیں تھی اس لئے شروع میں تو اپنی ہی شناخت کے حصول میں سرگرداں رہی، یہاں میں نے بہت سے مذاہب اور فرقے دیکھے۔ اپنے لوگوں کو بھی مختلف طبقات میں تقسیم دیکھا۔ میں خود بھی تذبذب کا شکار رہی۔ مگر امریکہ کی مہربانی سمجھئے کہ اس صورتحال نے مجھے شعور بخشا اور مجھے میری شناخت دی۔ میری زندگی کا مقصد حیات اور مذہبی آگہی ملی۔ تفکر انسان کو خودی سے روشناس کرتا ہے۔ دوسروں کی طرف دیکھنے کی بجائے اپنے اندر جھانکنے سے حقیقی ادراک نصیب ہوتا ہے۔
واقعہ نائن الیون سے پہلے پاکستانی اور مسلمان ریلیکس اور آزاد زندگی گزارتے تھے۔ ہر چند کہ دوسرے درجے کے شہری تصور کیے جاتے تھے مگر انہیں عمومی زندگی میں کوئی مسئلہ درپیش نہ تھا۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے مساجد اور حلال گوشت اور مصنوعات کی دکانوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا گیا اور چند ہی برسوں میں امریکہ میں مسلمانوں کی تعداد میں دوگنا اضافہ ہوگیا۔ غیر مسلموں نے اسلام قبول کرنا شروع کر دیا۔ ایک عام سوچ یہی پائی جاتی تھی کہ امریکہ میں مسلمانوں کو ڈرانے بھگانے کے لیے واقعہ نائن الیون کیا گیا جبکہ ردعمل میں اسلام مزید پھیلنے لگا۔ لیکن مسلمانوں کے خلاف دنیا بھر میں کریک ڈاؤن شروع ہوگیا۔
پاکستان کودہشت گردی کی آگ میں جھونک دیا گیا۔ خود آگ لگائی اور خود ہی الزام لگا دیا کہ پاکستان دہشت گرد ملک ہے؟ پاکستانی واقعہ نائن الیون میں ملوث نہیں تھا مگر افغانستان کا پڑوسی ہونے کی سزا دی گئی۔ مقاصد کچھ اور تھے اور استعمال ہمیں کیا گیا۔ واقعہ نائن الیون کو ہوئے پچیس برس گزر گئے، امریکہ میں حکومتیں بدلتی رہیں لیکن پالیسی کبھی تبدیل نہیں ہوتی۔ وہی جارحانہ پالیسی وہی مسلمانوں کی تقدیر اور وہی پاکستان سے مطلب کی دوستی۔ لیکن آج پاکستان پرویز مشرف کے پاکستان سے بہتر پوزیشن پر کھڑا ہے۔
آج پاکستان کی دفاعی طاقت نے اسے دنیا میں اپنا مقام دیا ہے۔ مگر پاکستان کو پڑوسی ممالک سے دہشت گردی کا چیلنج کا سامنا ہمیشہ رہا ہے۔ مشرق وسطیٰ کی باہمی رنجش بھی پاکستان کو ڈسٹرب رکھتی ہے۔ اندرون ملک انتشار اور بغاوت کے اثرات بھی ابھی تک بھگت رہا ہے۔ ٹرمپ حکومت بظاہر پاکستان کو تھپکی اور شاباشی دے رہی ہے مگر امریکی پالیسی کسی کی دوست نہیں۔ پاکستان بھی اپنے کارڈز سوچ سمجھ کر کھیل رہا ہے۔ صدر ٹرمپ انتہا پسند فطرت کے مالک ہیں، ایران پر حملہ کرنے کا جواز بنایا گیا ہے یا فقط پریشر ڈالنا چاہتے ہیں؟
وائٹ ہاو س پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ وہ کیا کرنے والے ہیں۔ دنیا انتظار کر سکتی ہے اور اندازہ لگا سکتی ہے۔۔
ایران میں وینیزویلا جیسی کارروائی کو دہرانا شاید ممکن نہیں ہوگا۔ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے باوجود ایران وینیزویلا نہیں ہے۔ اسلامی جمہوریہ سخت جان ہے اور کسی ایک شخصیت کو ہٹانے سے پورے ملک کو امریکی مرضی کے مطابق جھکایا نہیں جا سکتا۔
امریکی حکام نے کہاہے کہ مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی طاقت کے انداز میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی، صدر کومتعدد آپشنز پیش کرنے کے لیے بات چیت جاری ہے۔ ٹرمپ کے ملاحظے کے لیے فوجی حملے کے آپشنز بھی تیار کیے جا رہے ہیں، حالانکہ انھوں نے ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا کہ اس عمل کو کب آگے بڑھانا ہے یا اور بڑھانابھی ہے یا نہیں۔