وینزویلا کے صدر کو نیویارک اٹھا لائے ہیں۔ ری پبلکن کا انتخابی نشان ہاتھی ہے۔ جب بھی ری پبلکن کی حکومت آتی ہے جنگوں اور چودھراہٹ کی سیریز شروع ہوجاتی ہے۔ ہاتھی والوں سے سورہ فیل میں عذاب کا ذکر یاد آجاتا ہے۔ ٹرمپ پارٹی ری پبلکن کا انتخابی نشان ہاتھی ہے اور ہاتھی والوں نے اب ساو تھ امریکہ کے امیر ترین ملک وینزویلا پر چڑھائی کر دی ہے۔ وینزویلا مرکزی آمرانہ ریاستی حکمرانی کے تحت ایک وفاقی صدارتی جمہوریہ ہے۔ وینزویلا کے شمال میں بحیرہ کیریبین اور بحر اوقیانوس، مغرب میں کولمبیا، جنوب میں برازیل، شمال مشرق میں ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو اور مشرق میں گیانا سے متصل ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ بارہا وینزویلا کے صدر نکولس مادورو پر الزام عائد کر چکے ہیں کہ وہ امریکہ میں منشیات، خصوصاً فینٹینائل اور کوکین، کی آمد میں کردار ادا کر رہے ہیں۔ جبکہ مادورو سختی سے ان الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں کہ وہ کسی منشیات کارٹیل کے سربراہ ہیں۔ انھوں نے امریکہ پر یہ الزام عائد کیا تھا کہ وہ اپنی منشیات کے خلاف جنگ، کو انہیں اقتدار سے ہٹانے اور وینزویلا کے بڑے تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنے کے بہانے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ ا ن کا کہنا ہے کہ وینزویلا کا پڑوسی ملک کولمبیا دنیا میں کوکین کا سب سے بڑا پیدا کنندہ ہے لیکن اس کی زیادہ تر منشیات وینزویلا کے بجائے دوسرے راستوں سے امریکہ پہنچتی ہیں۔
امریکی حکومت نے گذشتہ مہینوں میں بہت سے تیل بردار جہازوں کی نشاندہی کی یا انھیں قبضے میں لیا جو وینزویلا کا تیل سمگل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ وینزویلا کی حکومت اس امریکی اقدام کو 'کھلی ڈکیتی اور بحری قزاقی' قرار دیتی ہے۔ یاد رہے کہ صدر وینزویلا مادورو کو ہفتے کی علی الصبح امریکی خصوصی فورسز کے اچانک آپریشن کے دوران دارالحکومت کاراکس سے گرفتار کیا گیا۔
امریکی فورسز نے رات کے درمیانی حصے میں مادورو اور ان کی اہلیہ کو ان کے بیڈروم سے اس وقت گرفتار کیا جب وہ سو رہے تھے، دونوں کو نیند کی حالت میں گھسیٹ کر باہر نکالا گیا اور فوری طور پر امریکی تحویل میں لے لیا گیا۔ چند گھنٹے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر مادورو کی ایک تصویر جاری کی، جس میں وہ امریکی جنگی جہازپر موجود دکھائی دیے، اس کے بعد نیویارک پر ایک طیارے سے اترتے دیکھا گیا، جہاں ایک درجن سے زائد سیاہ لباس میں ملبوس وفاقی اہلکاروں نے انہیں اپنی تحویل میں لیا ہوا تھا۔
صدر وینزویلا اور ایلیٹ کو پہلے ہیلی کاپٹر کے ذریعے مین ہیٹن منتقل کیا گیا، پھر وہاں سے ایک اور ہیلی کاپٹر کے ذریعے بروکلین کےمیٹروپولیٹن ڈیٹینشن سینٹر لے جایا گیا، اس وقت وہ اسی جیل میں قید ہیں۔ ٹرمپ رجیم اب وینزویلا میں بھی رجیم چینج گیم کا ارادہ رکھتی ہے۔ اصل ہدف تیل ہے۔ اس مرتبہ بھی وہی پرانی پالیسی وہی چالبازی اور سازشی پالیسی دہرائی جا رہی ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ صدر مادورو کو اقتدار سے معزول کیے جانے کے بعد امریکی آئل کمپنیاں وینزویلا میں داخل ہوں گی اور اس ملک کی تیل کی صنعت کو بحال کرنے کے لیے اربوں ڈالر خرچ کریں گی۔ سابق صدر جارج بش (سینئیر) کے دور حکومت میں پاناما کے صدر کو بھی انہی الزامات پر اغوا کیا گیا تھا۔
وینزویلا کے سابق صدر ہوگو چاویز نے اپنی وفات سے پہلے امریکہ کے ایک منصوبے سے پردہ اٹھایا تھا، جس کے تحت واشنگٹن ان پر منشیات سمگلنگ کا الزام لگاتا ہے اور پھر 'کمانڈوز' انہیں گرفتار کر لیتے ہیں۔ انھوں نے امریکہ کے جاپان پر ایٹمی حملے اور سابق امریکی صدر جارج بش کے دور میں پاناما پر قبضے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا: "انسانی تاریخ کے سب سے جارح ملک نے غیر مسلح شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرائے۔ انہوں نے پاناما پر قبضہ کیا، ہزاروں افراد کو بمباری کرکے قتل کر دیا، محلے کے محلے جلا کر راکھ کر دیئے تاکہ اس وقت کے پاناما کے صدر کو گرفتار کر سکیں اور ان پر منشیات کی اسمگلنگ کا الزام لگا سکیں"۔
چاویز نے پاناما کے اس وقت کے صدر مانوئل نوریگاکا حوالہ دیا جنہیں 1989ءمیں امریکی حملے کے وقت اغوا کرکے امریکہ منتقل کیا گیا اور منشیات کی اسمگلنگ کے الزام میں قید کر دیا گیا۔ وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وینزویلا کو کنٹرول میں رکھنے کے بیان پر واشنگٹن میں وائٹ ہاو س کے باہر مظاہرہ کیا گیا۔ وائٹ ہاو س کے باہر مظاہرین بڑی تعداد میں جمع ہوئے اور نعرے لگانے کے ساتھ مظاہرین نے "وینزویلا کے خلاف جنگ نہیں" کے بینر بھی لہرائے۔ ادھر نیو یارک شہر کے ٹائمز اسکوائر میں مظاہرین نے ریلی نکالی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔