Tuesday, 07 July 2026
  1.  Home
  2. 92 News
  3. Qadir Khan Yousafzai
  4. Jab Aansu Bhi Riyasat Ki Zuban Bolen

Jab Aansu Bhi Riyasat Ki Zuban Bolen

تہران کی گلیوں میں چار مہینے بعد پہلی بار سکون تھا۔ سکون بھی ایسا جو خود ایک ماتم کی صورت اختیار کر گیا۔ لاکھوں افراد آیت اللہ علی خامنہ ای کے تابوت کے پیچھے چل رہے تھے۔ یہ منظر جولائی کے پہلے ہفتے میں دنیا کی ہر بڑی نشریاتی ادارے پر نشر ہوا اور اسی منظر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو حیرت میں ڈال دیا۔ ایکسیوس کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ" وہ سمجھتے تھے لوگ خامنہ ای سے نفرت کرتے ہیں، شاید یہ آنسو جھوٹے ہیں"۔ یہی ایک جملہ، اس پوری جنگ کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان پائے جانے والے فہم کے فرق کو بے نقاب کر گیا۔

یاد رکھنا چاہیے کہ اسی تہران میں، اسی سال اٹھائیس فروری کی رات، منظر یکسر مختلف تھا۔ مگر چار مہینے کی جنگ، بمباری اور تباہی نے وہی سرزمین ایک الگ کہانی میں بدل دی۔ ملک بھر میں سترہ سو سے زیادہ عام شہری ہلاک ہوئے، لاکھوں افراد بے گھر ہوئے اور مہنگائی اس حد کو چھو گئی جس نے ہر گھر کا بجٹ الٹ دیا۔ ایرانی ریال کی قدر مزید گر گئی اور افراط زر پہلے سے پچاس فیصد سے تجاوز کر چکا تھا۔ جنگ کے دوران ہونے والا مالی نقصان دو سو ستر ارب ڈالر سے زیادہ بتایا گیا۔ یہی وہ زمین تھی جہاں چار جولائی کو چھ روزہ احتجاج شروع ہوا۔ دس ملین سے زائد افراد کے شریک ہونے کی توقع کی گئی۔ سکیورٹی ماہرین نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ یہ ایک ایسا موقع ہے جہاں ایران کی تقریباً ساری بچی ہوئی قیادت ایک ہی جگہ جمع ہوگی، ایک خطرناک اور حساس صورتحال۔ ٹرمپ کا یہ کہنا کہ ہم ایک ہی وار میں ان سب کو ختم کر سکتے تھے، مگر مذاکرات کے لیے کسی کو باقی رکھنا ضروری تھا، اسی حساسیت کی گواہی دیتا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ و اسرائیل اگر چاہتے بھی تو کچھ نہیں کرسکتے لہذاوہ کچھ نہ کرسکے۔ صرف حیرت زدہ ہی رہے۔

میرا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ امریکی و اسرائیل پالیسی ساز حلقوں نے برسوں سے جس تجزیاتی چوکھٹے پر انحصار کیا، وہ خود ان کے خلاف ثابت ہوا۔ زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی نے یہ فرض کر لیا تھا کہ ایرانی عوام کی اکثریت اپنی حکومت سے اس قدر بیزار ہے کہ سپریم لیڈر کی موت پورے نظام کو زمین بوس کر دے گی۔ لیکن جو کچھ جنازے میں دکھائی دیا، وہ محض جبر کا نتیجہ نہیں تھا۔ یہ ایک ایسی ریاست کا امتحان تھا جو اپنی بقا کے لیے مذہبی جذبات، قومی وقار اور خوف کا امتزاج استعمال کرنے کا ہنر جانتی ہے۔ فروری کی والے اور جولائی کے دن آنسو بہانے والے، شاید بہت سے معاملات میں ایک ہی لوگ تھے، جن کا غصہ ملک کے اندر تھا اور غم بیرونی حملے پر۔

تہران کی جانب سے آنے والا جواب بھی اتنا ہی معنی خیز تھا۔ آرمینیا میں ایرانی سفارت خانے نے ایکس پر ایک بیان جاری کیا، جس کا لب و لہجہ عام سفارتی زبان سے کہیں زیادہ تیکھا تھا۔ " لوگوں کو قتل کیا جا سکتا ہے، مگر نظریات کو نہیں۔ آپ نے آیت اللہ خامنہ ای کو قتل کیا، مگر حقیقت میں آپ نے عطر کی ایک شیشی توڑی ہے، جس کی خوشبو ہر جگہ پھیل گئی۔ آپ یہ باتیں نہیں سمجھ سکتے کیونکہ آپ کے پاس نہ تہذیب ہے، نہ تاریخ، نہ عزت"۔ یہ الفاظ محض جوابی بیان نہیں، بلکہ ایک ایسے نظریے کا اظہار تھے جو کسی ایک فرد کی موت کو اپنی شکست نہیں سمجھتا۔

میدان میں جو کچھ نظر آیا، اس کی تہہ میں اہم حقیقت ایک ساتھ چل رہی تھیں۔ مقابل عام آدمی تھا جو اپنی مٹی پر ہونے والے حملے کو کسی آزادی کی صورت میں نہیں، بلکہ ایک زخم کی صورت میں دیکھ رہا تھا۔ اس پورے منظر نامے میں سب سے اہم بات یہ رہی کہ نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کے جنازے سے غائب رہے۔ نماز جنازہ سنیارٹی کے اعتبار سے ستانوے سالہ آیت اللہ جعفر سبحانی نے پڑھائی، جبکہ مجتبیٰ کے تین بھائی، مصطفیٰ، میثم اور مسعود، تابوت کے قریب کھڑے دیکھے گئے۔ سرکاری ذرائع نے اس غیابت کی وجہ سلامتی کے خدشات بتائی، مگر آزاد رپورٹوں کے مطابق مجتبیٰ اسی حملے میں شدید زخمی ہوئے تھے جس نے ان کے والد کی جان لی اور فروری کے بعد سے وہ کسی بھی عوامی مقام یا کیمرے کے سامنے نظر نہیں آئے۔

ایران میں 2019کے تیل مظاہرے اور 2022 کی مہسا امینی تحریک اس امر کی گواہی دیتے ہیں کہ عوام کا ایک بڑا حصہ بادی النظر اس نظام سے سخت نالاں رہا ہے۔ شیراز کی ایک استاد آتوسا مرزادے نے رائٹرز کو بتایا تھا کہ وہ کسی بیرونی طاقت کے ہاتھوں اپنے ملک کے رہنما کی موت پر خوش نہیں ہو سکتی، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ وہی خطہ جہاں احتجاج کچلے گئے تھے، وہاں لوگ خاموشی سے سڑکوں سے دور رہے۔ معیشت کی زبوں حالی، سنسرشپ اور سیاسی جبر آج بھی حقیقت ہیں اور ان حقائق سے چشم پوشی کرنا بھی درست نہیں۔ مگر یہ ماننا کہ پوری قوم یکساں طور پر اس حکومت سے نفرت کرتی ہے، اسی طرح کی سادگی ہے جس نے واشنگٹن کو حیران کر دیا۔ ایک بیرونی حملے کے سامنے، خاص طور پر ایسی قوم میں جو مغربی مداخلت کی تاریخی یاد رکھتی ہے، غصہ اور حمیت اکثر سیاسی اختلافات پر غالب آ جاتے ہیں۔

جو کچھ اس جنازے نے دکھایا، وہ یہ تھا کہ کسی ریاست کی بقا محض ایک شخص کی ذات سے وابستہ نہیں ہوتی۔ جب ایک نظریہ چالیس دن کے ماتم کو کربلا کی یاد سے جوڑ دے، تو موت شکست نہیں رہتی، بلکہ ایک نئی کہانی کا آغاز بن جاتی ہے۔ فروری کی وہ رات جب لوگ خوش تھے اور جولائی کا وہ دن جب وہی سڑکیں آنسوؤں سے تر تھیں، دونوں ایک ہی قوم کے دو چہرے تھے، ایک اپنے حکمرانوں سے تھکا ہوا، دوسرا بیرونی حملے سے زخمی۔ واشنگٹن نے شاید فوجی برتری حاصل کر لی ہو، مگر تہران کی سڑکوں پر بہنے والے آنسو یہ بتا رہے تھے کہ کچھ چیزیں بمباری سے ختم نہیں ہوتیں۔ سچ یہی ہے کہ خوف اور عقیدت جب ایک ساتھ چلتے ہیں، تو باہر سے ان کے درمیان فرق کرنا آسان نہیں رہتا اور شاید یہی وہ سبق ہے جو مستقبل کی سفارت کاری کو یاد رکھنا ہوگا۔