Friday, 24 September 2021
  1.  Home/
  2. Orya Maqbool Jan/
  3. Makhloot Muashre Ki Zameen Par Boi Gayi Zahreeli Fasal (2)

Makhloot Muashre Ki Zameen Par Boi Gayi Zahreeli Fasal (2)

کون اس بات کا ماتم کر رہا ہے کہ جدید سیکولر لبرل اخلاقیات کی کوکھ سے جنم لینے والے معاشرے کی زد میں آ کر صرف مسلمانوں کا تہذیب و تمدن ہی تباہ ہوا ہے۔ یہ ماتم تو پوری انسانیت کا ہے جو اب ایک تماش بینوں کا ہجوم بن چکی ہے اور اس نے اس دُنیا کو ایک بہت بڑے سٹیڈیم میں تبدیل کر دیا ہے جس کے بیچوں بیچ عورت پُتلی تماشے کی طرح تماش بینوں کی ضرورت کے مطابق کرتب دِکھا رہی ہے۔ نسبتاً کم غلیظ اذہان کیلئے وہ صرف فیشن انڈسٹری کی ماڈل ہے جو اپنے اعضائے جسمانی کی مناسب نمائش سے ہر وہ مال بیچنے کیلئے اپنی صلاحیتیں صرف کرتی ہے جو اُسے دیا جاتا ہے۔ تماش بینوں کے ذوقِ نظر اور اشتہا کے مطابق فیشن شو کی منڈھیر (Ramp) پر وہ با اندازِ دلربائی کیٹ واک کرتی ہے۔ دُنیا بھر کی فیشن انڈسٹری کی مصنوعات اس خاتون کو مرکزِ نگاہ اور شمع محفل بنانے میں مصروف ہیں۔ پائوں کے ناخن سے لے کر سر کے بالوں تک اس "بیچاری" کا ہر عضو بازار کی زینت ہے، جہاں اس کی حیثیت اور مرتبہ و مقام اس کی جسمانی پیمائش اور ظاہری صورت کی جاذبیت کی بنیاد پر متعین کیا جاتا ہے۔

اسی فیشن انڈسٹری کے فانوس کے گرد لاتعداد صنعتیں طواف کر رہی ہیں جن میں سب سے مکروہ، انٹرٹینمنٹ کی صنعت ہے، جو دُنیا بھر کی سیاحت کا رات کا چہرہ (Night Life) ہے۔ یہ نچلی سطح پر جسم فروشی سے شروع ہو کر مساج پارلروں، سیکس کلبوں سے ہوتی ہوئی جہانِ فلم و ڈرامہ میں داخل ہوتی ہے۔ فلم اور ڈرامہ کی دُنیا میں کہیں جنسی ہیجان پیدا کرنے کیلئے صرف ایک معمولی سا سیکس سین ہی فلم میں داخل کر لیا جاتا ہے اور کبھی کبھار پوری فلم ہی فحاشی کا مرکز تخلیق ہوتی ہے۔ پوری دُنیا جو اِ س وقت ایک تماش بین گروہ ہے، اس کے سامنے اس سارے تماشے کا مرکزی کردار عورت اور صرف عورت ہے۔ مرد وہاں صرف ایک مہمان اداکار کے طور پر جلوہ گر ہوتا ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ کروڑوں لڑکیاں فحش فلموں میں کام کر چکی ہوں گی، لیکن مردوں کی تعداد لاکھوں میں بھی نہیں۔ اِسی طرح جسم فروشی، ڈانسنگ کلب، مساج پارلر اور دیگر تمام فحاشی کے اڈے عورت کے ہی دَم قدم سے آباد ہوتے ہیں۔ مردوں کا وجود اکثر اوقات دوسرے درجے کے سہولت کار والا ہوتا ہے یا جیسے سکیورٹی گارڈز، مارکیٹنگ والے اور منیجر وغیرہ۔ کیا یہ سب کچھ جو دُنیا میں ہو رہا ہے، صرف مسلم معاشرے کا ماتم ہے؟ نہیں … ہرگز نہیں …یہ پوری انسانیت کے زوال کا ماتم ہے۔

دُنیا جس میں اس وقت اقوامِ متحدہ کے نزدیک سالانہ چالیس لاکھ جسم فروش عورتیں اپنے ملکوں سے خرید کر یا اغواء کر کے بڑے بڑے شہروں میں بٹھائی جاتی ہیں۔ اس مہذب دُنیا کے اُجڑنے کے المیے کو یار لوگوں نے صرف مسلمانوں کے اکیلے ماتم کرنے کی وجہ قرار دے کر اس پر مشہور فرانسیسی فلسفی راجر گرائوڈی (Roger Garaudy) کا یہ فقرہ چسپاں کر دیا کہ "اسلام ازم دراصل اسلام کی ایک بیماری ہے"۔ مسلمانوں کے ماتم کی صرف ایک وجہ یہ ہے کہ ہم ایک ایسی نسل سے تعلق رکھتے ہیں جس نے مسلم معاشرے کے خوبصورت چہرے کے آخری زمانے کو دیکھا ہے۔ ہو سکتا ہے ہماری نسل کے دُنیا سے چلے جانے کے بعد ماتم کرنے والا بھی کوئی نہ رہے۔ اس المیے سے دُنیا کے ہر ملک میں وہ نسل ضرور گزری ہے جس نے تہذیب اُجڑتے اپنی آنکھوں سے دیکھی تھی۔ جب یورپ میں شروع شروع میں اس تہذیبی تبدیلی کا آغاز ہوا تو وہاں بھی ہماری طرح ماتم کرنے والے بہت تھے۔ کبھی سولہویں اور سترہویں صدی کے انگلینڈ میں چلنے والی بنیاد پرستی (Puritanism) کی تحریک کا جائزہ لیں کہ کیسے پہلے انگلینڈ اور پھر یورپ اپنی عفت مآب باحیاء تہذیب کے تحفظ کیلئے اُٹھ کھڑا ہوا تھا۔ اپنے معاشرے کو بچانے کیلئے یہ انکی آخری چیخ تھی جو ایک تحریک کی صورت یورپی معاشرے میں "انتہائی احتیاط" (Puritanism) کے نام پر بلند ہوئی۔

یہ "آواز" پکارتی رہی کہ ہمیں انفرادی اور اجتماعی زندگی اللہ کے احکامات کے مطابق گزارنا چاہئے۔ ان کے ہاں عورت کا ایک ایسا تصور تھا جو خاندان میں تربیت و تعلیم اور محبت و سرشاری کا مرکز تھی جسے وہ "Godly Women" اللہ کے بتائے اصولوں کے مطابق زندگی گزارنے والی عورت کہتے تھے۔ ان لوگوں کی تحریک نے ایک دفعہ تو سیکولرازم اور لبرل ازم کے کارواں کے راستے روک لیے تھے مگر چرچ کے اختلافات اور مذہبی طبقوں کی تعیش پسندی نے سیکولر اخلاقیات کا راستہ ہموار کر دیا اور آج پورے یورپ میں مذہب اجتماعی نہیں بلکہ ذاتی زندگی سے بھی نکل چکا ہے۔ اگر راجر گرائوڈی کے مطابق اسلام ازم ہی اسلام میں ایک بیماری ہے تو پھر سیکولرازم پوری انسانی تہذیب کی بیماری ہے، جس نے صدیوں پرانی انسانی اخلاقیات اور شرم و حیا سے آراستہ بستیوں کو اُجاڑ کر رکھ دیا اور آج اس بیماری کے تعفن میں لتھڑی، عورت کی مظلوم لاش دُنیا کے میدان کے بیچوں بیچ پڑی ہے۔ تشدد سے زخمی، جنسی مطالبات کی تھکن سے چُور، شمع محفل بننے کی آراستگی کے مصنوعی پن سے دلبرداشتہ، بیک وقت گھر اور معاشی میدان میں بھاگنے کی وجہ سے نُچڑی ہوئی۔

المیہ یہ ہے کہ گذشتہ دو سو سال کی اس جنگ میں عورت کے ہاتھ میں نہ عزت آئی، نہ مقام و مرتبہ۔ ماں کے مقامِ حرمت سے گری، بیوی کی دلنواز کرسی سے لڑھکی، بہن کی غیرت کے پائیدان سے پھسلی اور ہاتھ کیا آیا؟ مردوں کی طرح دفتروں میں مزدوری و محنت اور گدھوں والی زندگی۔ ہر ملک کی سیاست میں ابھی تک دستِ نگر ہے اور دیگر تمام شعبہ ہائے زندگی میں اس کا حصہ شاید ایک فیصد سے بھی کم اہمیت کا حامل ہے۔ کس قدر دُکھ کی بات ہے کہ اس عورت کو مرد سے مقابلے کے خواب دکھا کر پہلے اس سے اپنا گھر تباہ کروایا گیا اور اسی تباہی کیلئے اسے خواب ایسے دیئے گئے جو اگلی کئی صدیوں تک بھی پورے نہ ہو سکیں۔ زہریلی فصل جو بوئی گئی تھی اس کے کانٹے اب دُنیا بھر میں پھیل چکے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ زمانہ برق رفتار ہو چکا ہے۔ 1918ء میں دُنیا میں اِسی کرونا خاندان کا "سپینش فلو" پھیلا تھا مگر آہستہ آہستہ، یعنی دو سالوں میں جا کر کہیں دُنیا بھر میں پھیلا۔ لیکن آج کی تیز رفتاری دیکھیں کہ دسمبر 2019ء میں چین کے شہر "ووہان " سے شروع ہونے والا "کرونا " مارچ 2020ء میں سات سمندر پار امریکہ تک جا پہنچا تھا اور چند ماہ بعد اس نے پوری دُنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ انسانی تہذیب کی عفت و عصمت اور با حیا زندگی کازوال دُنیا بھر میں پھیلے سیٹلائٹ سے منسلک میڈیا کے زورِ بازو سے ہے۔

آپ کا اخلاقی، معاشرتی نظام صرف چند منٹ کا اشتہار، ایک آدھ گھنٹے کا ڈرامہ اور کچھ ثانیوں کا فحش فلم کا کلپ برباد کر سکتا ہے۔ اس تہذیبی زوال تلے کچلی ہوئی عورت کی روداد اقوامِ متحدہ کے تحقیقی ادارے "UN Women"کی رپورٹوں کے ان شواہد کے حوالے سے دیکھئے۔ اعداد و شمار کے مطابق دُنیا میں 73 کروڑ 60 لاکھ عورتیں تشدد کا شکار ہوتی ہیں جن میں سے 64 کروڑ عورتیں اپنے موجودہ یا سابقہ خاوندوں اور بوائے فرینڈز کے ہاتھوں تشدد سہتی ہیں۔ صرف 2017ء میں 87 ہزار عورتیں قتل ہوئیں جن میں سے 50 ہزار کو ان کے شوہروں، سابقہ شوہروں یا بوائے فرینڈوں یا سابقہ بوائے فرینڈوں نے قتل کیا۔ سب سے بدقسمت وہ کمسن بچیاں ہیں جو 19 سال سے کم ہیں اور میڈیا کی ترغیبات کے تحت کسی کے ساتھ رہنا شروع کرتی ہیں یا اس کی محبت میں گرفتار ہوتی ہیں۔ ایسی بچیوں میں سے ہر تیسری بچی بدترین تشدد کا شکار ہوتی ہے۔ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ کیا صرف ایک صدی قبل دُنیا کے کسی بھی معاشرے خواہ یورپ ہو یا افریقہ، ایشیاء ہویا آسٹریلیا، ایک گھر اتنا ظالم، متشدد، ہیجان انگیز اور خوفناک تھا۔ ہرگز نہی ںتھا۔ (ختم شد)

About Orya Maqbool Jan

Orya Maqbool Jan is a columnist, writer, poet and civil servant from Pakistan. He has written many urdu columns for various urdu-language newspapers in Pakistan. He has also served as director general to Sustainable Development of the Walled City Project in Lahore and as executive director ECO, Cultural Institute, Tehran and information secretary to the government of the Punjab.