Tuesday, 13 January 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Nusrat Javed
  4. Wasl Ka Din Aur Iss Qadar Mukhtasir

Wasl Ka Din Aur Iss Qadar Mukhtasir

امیرؔ مینائی کا ایک شعر ہے۔ اکثر بے موقع یاد آجاتا ہے۔ یہ اس "وصل" کا نوحہ ہے جس کے لئے عاشق بہت اشتیاق سے دن گن رہاہوتا ہے۔ وصل مگر کئی دنوں کے بر قرار انتظار کے بعد "اس قدر مختصر" محسوس ہوتا ہے۔ "وصل کا دن اور اس قدر مختصر" والے مصرعے کا کسی سیاسی واقعہ کے حوالے سے یاد آجانا آپ کو جائز وجوہات کی بناء پر احمقانہ محسوس ہوگا۔ میں تاہم نہایت ایمان داری سے گزشتہ کئی دنوں سے اقرار کئے چلے جارہا ہوں کہ ان دنوں مجھ پر غالب کی بیان کردہ "بک رہا ہوں جنون میں، " والی کیفیت طاری ہے۔ کہیں کی اینٹ کو کہیں کے روڑے کے ساتھ جوڑتے ہوئے نہایت ڈھٹائی سے یہ محسوس کرتا ہوں کہ میرا طرزِ تحریر Stream of Consciousnessکے تابع ہورہا ہے۔ خیالات کا برجستہ بہائو جس کی اونٹ کی طرح کوئی کل سیدھی نہیں ہوسکتی۔

"اس قدر مختصر" والی بے بسی کا احساس مجھے پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کے رویے کی وجہ سے ہوا۔ خیبرپختونخواہ کے وزیر اعلیٰ جناب سہیل آفریدی جب کراچی ایئرپورٹ پہنچے تو وہاں سندھ حکومت کے وزیراور عمر تمام مزدوروں کے حقوق کے لئے جدوجہد کرنے والے والد کے فرزند جناب سعید غنی نے ان کے سرپر سندھی ٹوپی اور گلے میں اجرک پہناکر ان کا استقبال کیا۔ سہیل آفریدی کو اتوار کے روز مراد علی شاہ صاحب نے ناشتے کی دعوت بھی دی۔ ایئرپورٹ سے روانہ ہوئے سہیل آفریدی کے قافلے کی ر اہ میں سندھ پولیس نے کوئی رکاوٹ نہ ڈالی۔

ریگولر میڈیا سے کہیں زیادہ یوٹیوب چینل کی بدولت جی دار حق گوئی سے ہماری ذہن سازی کی تگ ودو میں مصروف آزاد منش صحافیوں نے وفور جذبات میں بہہ کر اصرار کیا کہ حکومتِ پنجاب کا رویہ سندھ حکومت کے برعکس ان کی پنجاب آمد کے دوران مخاصمانہ تھا۔ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے اس کے برعکس انداز اختیار کرتے ہوئے پیغام یہ دیا ہے کہ حالات چاہے کتنے بھی دُگرگوں کیوں نہ ہوجائیں پیپلز پارٹی کسی نہ کسی صورت جمہوری روایات کو برقرار رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرتی ہے۔ کچھ امید پرستوں نے یہ توقع بھی باندھ لی کہ سہیل آفریدی کو خوش دلی سے سندھ میں خیر مقدم کرتے ہوئے پیپلز پارٹی مستقبل بعید میں تحریک انصاف کے ساتھ چند بنیادی اصولوں پر اتفاق کرنے کی گنجائش بھی نکال سکتی ہے۔ میں یوٹیوب پر امید پرستی کے بھاشن سن ہی رہا تھا تو حالات یکسر بدل گئے۔ "وصل کا دن" مختصر ہی ثابت ہوا۔ کیوں؟ اس سوال کا جواب دینے سے میں آزادیٔ اظہار کے احترام میں گریز اختیار کرنا مناسب سمجھوں گا۔

ویسے بھی میری سوچ تو ان دنوں اس کتاب پر اٹکی ہوئی ہے جسے محترمہ بے نظیربھٹو کے طویل عرصے تک معاون رہے فرحت اللہ بابر صاحب نے لکھا ہے۔ پیر کی صبح چھپے کالم میں اس کا باب 13ہی زیر بحث رہا۔ اس باب میں بابر صاحب نے انکشاف کیا ہے کہ ان کی وساطت سے امریکہ کی ڈیپ سٹیٹ نے محترمہ بے نظیر بھٹو کو یہ پیغام بھیجا تھا کہ وہ 2007ء سے قبل پاکستان لوٹنے کی کوشش نہ کریں۔ وجہ اس کی یہ بتائی گئی کہ نائن الیون کے بعد سے امریکہ نے پاکستان سے مذہبی انتہا پسندی کو جڑ سے اکھاڑنے کا فیصلہ کرلیا تھا۔ امریکی ڈیپ سٹیٹ کے خیال میں عوام میں اپنی ساکھ کھو دینے کے بعد پاکستان کی سیاسی جماعتیں اس قابل نہیں تھیں کہ مذہبی انتہا پسندی کا مقابلہ کرسکیں۔ فقط پاکستانی فوج ہی یہ فریضہ نبھاسکتی تھی اور اس ہدف کے حصول کے لئے ان دنوں کے فوجی صدر -جنرل مشرف- آمادگی کا اظہار بھی کرچکے تھے۔

محترمہ کو یہ بھی پیغام بھیجاگیا کہ فی الوقت پاکستان میں انتخاب کی گنجائش موجود نہیں ہے۔ دسمبر2001ء میں دئے اس پیغام کے بعد مگر جنرل مشرف 10اکتوبر2002ء میں انتخاب کروانے کو مجبور ہوئے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کو مگر اس میں شرکت کی اجازت نہ ملی۔ وہ جلاوطن ہی رہیں۔ ان کی عدم موجودگی میں پیپلز پارٹی نے برائہ راست ووٹوں کے حوالے سے دیگر سیاسی جماعتوں میں سے سب سے زیادہ ووٹ لئے۔ اس کے حصے میں لیکن اس کے با وجود 81نشستیں آئیں۔ پنجاب میں "سیاسی انجینئرنگ" کی بدولت جنرل مشرف کی سرپرستی میں بنائی پاکستان مسلم لیگ (ق) واحد اکثریتی جماعت کی صورت ابھری۔ واضح اکثریت مگر اسے بھی نصیب نہ ہوئی۔ پیپلز پارٹی میں سے چند "محبانِ وطن" نکالنے کے باوجود ظفر اللہ جمالی کو وزیر اعظم منتخب کروانے کے لئے "مذہبی انتہا پسندی" کو جڑ سے اکھاڑنے کا وعدہ کرنے والے جنرل مشرف کالعدم سپاہ صحابہ کے مولانا اعظم طارق کا ووٹ لینے کو مجبور ہوئے۔

بات وہیں ختم نہ ہوئی۔ عددی حقائق کی بنیاد پر پیپلز پارٹی کے مخدوم امین فہیم کو قائدِ حزب اختلاف تسلیم کئے جانا تھا۔ ان دنوں کے سپیکر قومی اسمبلی چودھری امیر حسین نے مگر مذہبی جماعتوں کے اتحاد -متحدہ مجلس عمل- کے مولانا فضل الرحمن کو یہ اعزاز بخشا۔ دینی جماعتوں کے نامزد کردہ وفد سے مذاکرات ہی کے نتیجے میں جنرل مشرف نے فوجی وردی سمیت "ملک کے منتخب صدر"کہلوائے جانے کا اختیار بھی حاصل کرلیا۔ حالانکہ موصوف جنرل ضیاء کی طرح وہ اپریل 2001ء میں ہوئے ایک ریفرنڈم کے ذریعے صدر بنے تھے۔ پولنگ بوتھ اگرچہ ان کے ریفرنڈم کے روز کچھ حلقوں کے سوا ویران ہی نظر آتے رہے۔

امریکہ کا نائن الیون کے بعد پاکستان سے "مذہبی انتہا پسندی" کو جڑ سے اکھاڑنے کا منصوبہ تھا۔ اس ضمن میں کلیدی کردار جنرل مشرف نے ادا کرنا تھا۔ ان دنوں کے صوبہ سرحد اور بلوچستان میں لیکن دینی جماعتوں کے اتحاد پر مشتمل اتحاد کی جماعتیں ہی کامیاب ہوئیں۔ ان کا انتخابی نشان "کتاب" تھا۔ اسے ہمارے سادہ لوح عوام کے لئے کلام پاک کی علامت بناکر پیش کیا گیا۔ فرحت اللہ بابر صاحب کو لہٰذا جنرل مشرف کے ذریعے مذہبی انتہا پسندی کو جڑ سے اکھاڑنے کا جو پیغام دیا گیا تھا وہ قابل عمل ثابت نہ ہوا۔ نواز شریف اور محترمہ بے نظیر بھٹو کو البتہ جلاوطن رکھتے ہوئے جنرل مشرف کے ذریعے "انتہا پسندی" کے خاتمے کے منصوبہ پر کام شروع ہوا جو ہر حوالے سے ناکام رہا۔ نیک محمد اور بیت اللہ محسود نام نہاد دہشت گردی کی جنگ کے دوران ہی نمودار ہوئے تھے۔ ان سے نبردآزما ہونے کے لئے ہم لوگ "ڈرون ٹیکنالوجی" سے آگاہ ہوئے اور اب اس ٹیکنالوجی کی جدید ترین انتہا سے بھی واقف ہوچکے ہیں۔ قصہ مختصر امریکہ کی ڈیپ سٹیٹ کے پراسرار (T)نے جو نقشہ بابر صاحب کے ذریعے محترمہ تک پہنچایا وہ ہر حوالے سے ناقابل عمل ثابت ہوا۔

امریکہ کی ڈھٹائی سے مفکر لیکن ممکن نہیں۔ 2002ء کے انتخاب ہوجانے کے بعد مجھے آج بھی پیپلز پارٹی کے کئی قد آور رہ نما یاد آجاتے ہیں جو نجی محفلوں میں اصرار کرتے رہے کہ میں اپنے انگریزی کالم کے ذریعے محترمہ بے نظیربھٹو کو قائل کرنے کی کوشش کروں کہ پیپلز پارٹی 2002ء کے انتخاب کی بدولت عوام میں سب سے مقبول جماعت ثابت ہوچکی ہے۔ اسے مخدوم امین فہیم صاحب جیسے نرم گفتار رہ نما کی قیادت میں جنرل مشرف کے ساتھ ہوشیاری سے روابط بڑھانے کی ضرورت ہے۔ یہ ہوگیا تو ایک دن مشرف کا دل قاف لیگ سے بھرسکتا ہے کیونکہ اس کے نامزد کردہ مرحوم ظفر اللہ جمالی کسی پر بھی اعتبار سے عوام میں مقبول ہونے کا امکان رکھنے والی کرشماتی شخصیت کے مالک نہیں تھے۔

جیل میں بیٹھے آصف علی زرداری نے مگر اس سوچ کو "مائنس بے نظیر بھٹو" والی گیم تصور کیا۔ ضد میں آکر رنگ میں بھنگ ڈالنے کی کوشش کرتے ہوئے اپنی جماعت کو سمجھانا شروع کردیا کہ مولانا فضل الرحمن کو پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی اور جمعیت العلمائے اسلام کے ووٹوں سمیت اگر وزیر اعظم منتخب نہیں کرواسکتی تو طاقتور اپوزیشن لیڈر کے طورپر مشرف کے سامنے لے آئے۔ اسلام آباد کے امریکی ہی نہیں چند برطانوی سفارت کار بھی پیپلز پارٹی اور ایم ایم اے کے مابین زرداری صاحب کے ذہن میں موجود اتحاد رکوانے میں مصروف ہوگئے۔ جنرل مشرف گویا ان کے چہیتے ہی رہے۔

بابر صاحب کی کتاب کے باب 13سے پیغام یہ ملتا ہے کہ عوامی مقبولیت اور اسمبلیوں میں عددی حقائق وغیرہ جمہوری نظام کے سب سے بڑے محافظ کہلاتے امریکہ اوراس کے اتحادیوں کے لئے کسی حیثیت کے حامل نہیں ہوتے۔ ان کے اپنے "منصوبے" ہوتے ہیں۔ جن کو وہ پاکستان جیسی ریاستوں کے طاقتور اداروں کی معاونت ہی سے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اپنے اہداف کے حصول میں مسلسل ناکامی کے باوجود امریکی ڈیپ سٹیٹ اپنی روایات برقرار رکھے ہوئے ہے۔ تازہ ترین مثال اس کی وینزویلا ہے۔ وہاں جمہوری روایات اور نظام کا قیام مقصود نہیں ہے۔ دنیا بھر میں 20فی صد سے زیادہ خام تیل کے ذخائر پر قابض ہونے کا ارادہ ہے۔ کاش یہ حقائق میں بچپن سے جوانی میں داخل ہوتے ہی جان چکا ہوتا اور عوام کو طاقت کا سرچشمہ تصور کرنے کے بجائے صحافت جیسے فضول شعبے میں عمر ضائع کرنے کے بجائے کوئی منا فع بخش دونمبری شروع کردیتا۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.