ٹرمپ ہی نہیں اس سے قبل بھی امریکہ کے جو صدر رہے ہیں اس حقیقت سے قطعاََ غافل رہے کہ وہ جنہیں پسماندہ، غریب اور لاچار قومیں سمجھتے ہیں اجتماعی یادداشت کے سہارے زندہ رہنے کی قوت حاصل کرتی ہیں۔ کسی ملک کے فقط حال پر نگاہ رکھتے ہوئے امریکہ نے مگر ہمیشہ اپنے مخالف ٹھہرائے ملک کے فوجی اور اقتصادی حقائق پر توجہ دی۔ انہیں اس ضمن میں اپنے مقابلے میں انتہائی کمزور پایا تو اس پرچڑھ دوڑے۔ انجام ہمیشہ مگر ویت نام اور افغانستان جیسا ہی ہوا۔
رواں صدی کا آغاز ہوتے ہی افغانستان کے بعد عراق پر مسلط کی جنگوں نے امریکی معیشت کو ہلاکررکھ دیا۔ اس کے ناقابل تسخیر اور دنیا کی واحد سپرطاقت ہونے کا "امیج" بھی تباہ ہوگیا۔ ان حقائق کو اجاگر کرتے ہوئے ٹرمپ اپنی ہزار ہا بشری کمزوریوں کے باوجود امریکی عوام کو اس امر پر قائل کرنے میں حیران کن حد تک کامیاب ہوا کہ اسے دوبارہ وائٹ ہاؤس بھجوادیا جائے۔ اس کا وعدہ تھا کہ امریکی صدر کے منصب پر لوٹ آنے کے بعد وہ اپنے ملک کی فوج اور وسائل کو دیگر ممالک میں ماضی کے سامراجی ممالک کی طرح "تہذیب یافتہ اور جمہوری" بنانے کے کارِ بے سود میں نہیں الجھائے گا۔ کامل توجہ فقط امریکہ کو "دوبارہ عظیم" بنانے پر مرکوز رکھی جائے گی۔
خود کو وہ امریکہ کی نام نہاد "ڈیپ اسٹیٹ"کا دشمن بناکر بھی پیش کرتا رہا۔ نہایت حقارت ورعونت کے ساتھ عوامی اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے امریکہ کی دفاعی اشرافیہ کا تمسخر اڑاتے ہوئے اس نے اپنے حامیوں کو قائل کردیا کہ امریکہ کی دفاعی صنعت سے جڑے سیٹھ زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کی ہوس میں جدید ترین ہتھیاروں کے استعمال سے دیگر ممالک پر خواہ مخواہ کی جنگیں مسلط کردیتے ہیں۔ ان جنگوں سے امریکہ کو مادی اعتبار سے حاصل کچھ بھی نہ ہوا۔ تمام تر وسائل کے زیاں کے باوجود بلکہ افغانستان جیسے ملک میں دودہائیوں سے زیا دہ قیام کے بعد امریکی افواج کو ذلت آمیز انداز میں وطن لوٹنا پڑا۔ جن طالبان کو نائن الیون کا ذمہ دار ٹھہراکر افغانستان پر جنگ مسلط کی گئی تھی وہ فاتح کی طرح کابل واپس آگئے۔ خواہ مخواہ کی جنگوں میں نہ الجھنے کے وعدے ہی نے ٹرمپ کو دوسری بار صدر منتخب ہونے کا تاریخی موقع فراہم کیا۔
وائٹ ہاؤس پہنچنے کے چند ہی ماہ بعد مگر ٹرمپ دیگر ملکوں سے اپنے ہاں آئی درآمدات پر بھاری ٹیکس عائد کرنا شروع ہوگیا۔ اس کی وجہ سے امریکہ "دوبارہ عظیم" بننے کی طرف بڑھتا نظر نہ آیا تو ٹرمپ نے اسرائیل کی مدد کے لئے گزرے برس کے جون میں ایران کے ایٹمی پروگرام کو "تباہ" کرنے کے لئے فضائی حملے شروع کردئیے۔ ایران کے بعد توجہ اپنے پچھواڑے میں واقع وینزویلا پر مبذول کردی۔
دنیا بھر میں موجودتیل کے ذخائر میں سے 20فی صد کا حامل تین کروڑ کی آبادی کا یہ ملک گزشتہ کئی برسوں سے غاصب حکمرانوں کی گرفت میں تھا۔ ان کی پالیسیوں کی وجہ سے تین کروڑ میں سے 80لاکھ افراد ہمسایہ ملکوں میں منتقل ہوکر دربدر ہورہے ہیں۔ وینزویلا کے عوام کا "مسیحا" نظر آنے کے لئے ٹرمپ نے وہاں دھاندلی زدہ انتخاب کی بدولت اقتدار پر براجمان ہوئے صدر کو اس کی اہلیہ سمیت وینزویلا میں گھس کر اغواءکرلیا۔ امریکہ لاکر دونوں میاں بیوی کو نیویارک کی سڑکوں پر ذلت آمیز انداز میں پیدل چلایا گیا۔ اس کے نتیجے میں وینزویلا کے عوام مگر خوش نہ ہوئے۔ اپنے نامقبول صدر کی توہین انہیں اپنی اجتماعی توہین محسوس ہوئی۔
ٹرمپ کو یہ گماں تھا کہ وینزویلا کو ایک نامقبول صدر سے "آزاد"کروالینے کے بعد وہ امریکہ کی تیل کے دھندے سے وابستہ کمپنیوں کے لئے اس ملک میں بھاری بھر کم سرمایہ کاری سے تیل کے دھندے کا اجارہ دار بنانے کی راہ کھول دے گا۔ امریکی تیل کمپنیوں کی اکثریت مگر وینزویلا میں سرمایہ کاری سے گھبرارہی ہیں اور ٹرمپ کو سمجھ نہیں آرہی کہ وینزویلا کے حوالے سے اب کیا کرے۔
وینزویلا کی دلدل میں گھر جانے کے باوجود ٹرمپ اب ایران کے عوام کو "آزاد" کروانے کی فکر میں مبتلا ہوگیا ہے۔ منگل کے دن امریکی وقت کے مطابق صبح اٹھتے ہی اس نے سوشل میڈیا پر ایک پیغام لکھا۔ اس کے ذریعے ایرانی عوام کو ہلاشیری دی کہ وہ سڑکوں پر مظاہرے جاری رکھیں۔ سرکاری اداروں پر قبضہ کرلیں اور ا یرانی ریاست سے مت گھبرائیں کیونکہ وہ "جلد ہی"ان کی امداد کے لئے آرہا ہے۔ سادہ ترین الفاظ میں وہ ایرانی عوام کو ان کی حکومت کا تختہ الٹنے کے لئے جنگ کی تیاری کرتا سنائی دیا۔ مذکورہ پیغام کے باوجود ایران کے عوام بتدریج معمول کی زندگی کی جانب لوٹ رہے ہیں۔ ان کی بے پناہ اکثریت ہرگز نہیں چاہتی کہ 1950ءکی دہائی کے بعد ایک بار پھر سابق شاہ کے امریکہ میں مقیم فرزند کو تہران کے "تخت" پر بٹھادیا جائے۔
ایران ایک قدیم تہذیب ہے۔ جدید سامراجی نظام سے قبل اس کی "سلطنت" کئی صدیوں تک آج کے فلسطین سے آذربائیجان تک پھیلتی اور سکڑتی رہی۔ امام خمینی کے لائے "اسلامی انقلاب" کے بعد ان کے جانشین درحقیقت قدیم ایرانی سلطنت کے احیاءکے لئے ہی لبنان میں حزب اللہ فلسطین میں حماس اور شام کی اسد حکومت کی ہر حوالے سے مدد کرتے رہے۔ عراق کو ایران نے ہمیشہ اپنا پچھواڑہ ہی تصور کیا اور وہاں اپنا اثرورسوخ برقرار رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی۔
حماس کے اسرائیل پر گوریلا حملے کے جواب میں اسرائیل نے حزب اللہ اور حماس کی عسکری قوت تقریباََ تباہ کردی ہے۔ شام کے وسیع تر حصے بھی وہ دروز ملیشیاءکی مدد سے ہتھیانا چاہ رہا تھا۔ ترکی نے مگربروقت مداخلت کرتے ہوئے اسد حکومت کا تختہ الٹنے والوں کی حمایت کرتے ہوئے اسرائیل کے عزائم کو ناکام بنادیا۔ ایران کے مشرق وسطیٰ میں اتحادیوں کی عسکری قوت کو شدید ز ک پہنچانے کے بعد اسرائیل اب تہران میں "رجیم چینج" کو بے چین ہے۔ ٹرمپ اور یورپی ممالک بھی اس تناظر میں "سیم پیج" پر آچکے ہیں۔
اجتماعی یادداشت نے مگر سعودی عرب اور قطر جیسے امریکہ کے اتحادی ممالک کو مجبور کردیا ہے کہ وہ امریکہ کو یاد دلائیں کہ ایران میں اس کی مسلط کردہ "رجیم چینج" پورے مشرق وسطیٰ کو خوفناک حد تک عدم استحکام کا شکار کردے گی۔ ان دو ممالک کے ساتھ اومان نے بھی واضح کردیا ہے کہ وہ اپنی فضائی حدود امریکہ اور اسرائیل کے ایران کی جانب پھینکے میزائل کے لئے بطور راہداری استعمال ہونے نہیں دے گا۔ ٹرمپ مگر میری ناقص رائے میں اپنا ذہن بناچکا ہے۔ ایران کے خلاف لگائی اس کی گیم وقتی طورپر کامیاب ہوبھی گئی تو طویل المدتی بنیادوں پر پورا خطہ آنے والے کئی برسوں تک عدم استحکام کا شکار ہوجائے گا۔