دنیا بھر میں پھیلے مسلمانوں کی بے پناہ اکثریت باہمی یا مسلکی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے نہایت خلوص اور یکسوئی سے غزہ میں اسرائیل کے ہاتھوں فلسطینیوں کے قتل عام کے بارے میں متفکر اور پریشان ہے۔ پریشانی کی وجوہات واجب اور قابل احترام ہیں۔ صیہونی ریاست کے ہاتھوں غزہ کی پٹی تک محصور ہوئے فلسطینیوں کے سفاکانہ قتل عام کی مذمت کرتے ہوئے لیکن ہم مسلمان سوڈان اور لیبیا کے تلخ حقائق سے قطعاََ غافل ہیں۔
ان دو ممالک میں سے سوڈان میں جاری خانہ جنگی خصوصی توجہ کی مستحق ہے۔ اس کی وجہ سے لاکھوں سوڈانی اپنے ملک کی فوج کی دو دھڑوں میں تقسیم کی وجہ سے ابھری جنگ کی وجہ سے 2023ء کے اپریل سے کسی بھی متحارب فریق کے حامی یا مخالف ہوئے بغیر ان کی جانب سے ایک دوسرے پر پھینکے مہلک اور جدید ترین ہتھیاروں کی زد میں آنے کی وجہ سے ہلاک ہورہے ہیں۔ متحارب فریقین میں سے ایک فریق دوسرے فریق کے زیر نگین علاقے کو "آزاد" کروانے کے بعد اپنے فوجی داخل کرتا ہے تو وہاں مقیم نوجوانوں کے قتل عام کے بعد خواتین کو مفتوحہ سمجھتے ہوئے زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ گھروں اور ویرانوں میں خوف سے دبکے خاندان رات کے اندھیروں میں نقل مکانی کے مواقع ڈھونڈتے ہیں۔ "مفتوحہ" علاقوں میں قحط سالی کی وجہ سے روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں بچوں اور خواتین کی ہلاکتیں رپورٹ ہورہی ہیں۔
مصیبتوں میں گھرے افراد کوآفتوں کے موسم میں امداد پہنچانے والے عالمی خیراتی ادارے گزشتہ کئی دہائیوں سے غریب سے غریب تر ہورہے ہیں۔ عالمی کساد بازاری نے خیرات کو مائل انسانوں کو خوفزدہ بنارکھا ہے۔ اس کے باوجود چند خیراتی ادارے (جن کی بیشتر تعداد غیر مسلموں پرمشتمل ہے) کامل بھول کی زد میں آئے سوڈانیوں کوزندہ رہنے میں مدد پہنچانے کی کوشش کررہے ہیں۔ مسلسل خانہ جنگی کی وجہ سے ہوئی نقل مکانی اور قحط سالی کے شکار افراد کی تعداد مگرہزاروں نہیں لاکھوں میں ہے۔ ان میں سے ہرایک کوزندہ رہنے کے بنیادی وسائل بھی فراہم نہیں ہوپارہے۔
اپنے ہاتھ میں موبائل فون رکھنے کی وجہ سے دنیا بھر کے بارے میں "باخبر" محسوس کرنے کے باوجود ہم مسلمانوں اور خصوصاََ پاکستانیوں میں سے چند سو سے زیادہ لوگوں کوبھی علم نہیں ہوگا کہ سوڈان میں اپریل 2023ء سے سوڈانی فوج کے دو دھڑوں میں بٹ جانے کے بعد برپا ہوئی جنگ کی وجہ سے مسلمانوں کے ایک گروہ کے ہاتھوں دوسرے گروہ کے ساتھ کیا ظلم ہورہا ہے۔ غزہ کی صورتحال پر جذباتی اور طویل بھاشن دینے والے سوڈان کے ذکر سے گریز کرتے ہیں۔ غزہ میں محصور فلسطینیوں کوزندہ رہنے کے لئے لازمی تصور ہوتی اشیاء پہنچانے کی کوشش بھی ہوتی ہے۔ سوڈان کے بارے میں لیکن ایسی کوششیں ہوتی نظر نہیں آتیں۔
سوڈان پر گزشتہ دوبرسوں سے چھائے مسلسل عذاب کا ذکر کرتے ہوئے یہ ذکر کرنے کو بھی مجبور ہوں کہ یہ ملک افریقہ اور وہاں کی اسلامی تہذیب کا شاندار نمائندہ رہا ہے۔ دریائے نیل کی بدولت یہ ملک قابل رشک حد تک زرخیز اور قدرتی وسائل سے مالا مال رہا۔ آج بھی سونا پیدا کرنے والے ملکوں میں سرفہرست ہے۔ سونے کی کانیں اوروہاں سے خام سونا نکال کر اسے عالمی مارکیٹ تک پہنچانے کے دھندے مگر دوحصوں میں بٹی سوڈانی فوج کے کامل قبضے میں ہیں۔ وہ سونے کے ذخائرکو رائج الوقت قیمت سے کہیں کم پر بیچ کر اپنے مخالف فوجی دھڑے کو تباہ کرنے کے لئے مہلک ترین ہتھیار خریدنے کے جنون میں مبتلا ہیں۔
مان لیتے ہیں کہ اقوام متحدہ جیسے اداروں کو مسلمانوں پر نازل ہوئے عذاب سے کوئی دلچسپی نہیں۔ مسلمان ملکوں نے مگر بہت چائوسے او آئی سی کے نام سے ایک تنظیم 1970ء کی دہائی کا آغاز ہوتے ہی تشکیل دی تھی۔ پاکستان، انڈونیشیا اور مصرجیسے فوجی اعتبار سے طاقتور ممالک اس کے بنیادی اراکین میں شامل ہیں۔ مذکورہ تنظیم کوتیل کی دولت سے مالا مال مسلم ملکوں کی سرپرستی بھی میسر رہی۔ بے پناہ وسائل کے ہوتے ہوئے بھی لیکن او آئی سی خود کو ایک منظم اور بااثر ادارے میں تبدیل نہیں کرپائی۔ 1980ء کی دہائی میں کامل 6برس تک جاری رہی ایران-عراق جنگ اس کی بے بسی کا سب سے بڑا ثبوت تھی۔
اپنی وقعت گنوادینے کے باوجود آج بھی نیک نیت افراد کی کاوشوں سے او آئی سی کوایسی صورت دی جاسکتی ہے جوسوڈان جیسے ملکوں میں اس کی اپنی فوج میں تقسیم کی وجہ سے ابھرے دو دھڑوں کے مابین جنگوں سے عام سوڈانی مردوں، بچوں اور عورتوں کی جانیں بچانے کے علاوہ انہیں جنسی زیادتیوں، نقل مکانی اور قحط سے محفوظ رکھ سکے۔ ایسا مگر ہونہیں رہا۔ وسائل سے مالا مال چند "اسلامی ملک" بلکہ دو مختلف دھڑوں میں تقسیم ہوئی سوڈانی فوج میں سے اپنے پسند کے دھڑے کو مالی اور جنگی مدد فراہم کرتے ہوئے دوسرے دھڑے کی تباہی یقینی بنانے میں مصروف ہیں۔ عام سوڈانی کی فکرکے بجائے کسی ایک فریق کوخانہ جنگی میں جتوانے کے جنون میں مبتلا ہوجانے کی اصل وجہ سوڈان میں سونے کے وسائل اور کاروبار پر کامل کنٹرول کی خواہش ہے۔
مسلمان ملکوں کا نام نہاد "آزاد" میڈیا غزہ کی صورت حال رپورٹ کرنے میں دن کے کئی گھنٹے لگادیتا ہے۔ سوڈان کے بارے میں لیکن ایک لفظ بھی ادا نہیں کرپاتا۔ جو بے رخی برتی جارہی ہے اس کی بدولت دنیا بھر کے مسلمانوں کی نہایت قلیل تعداد سوڈان پر نازل ہوئی قیامت کے بارے میں باخبرہے۔ سوڈان کے بارے میں ہمارے نام نہاد "آزاد" میڈیا اور دونمبری "دانشوروں " کی اپنائی غفلت درحقیقت اس قابل مذمت منافقت کا ٹھوس اظہار ہے جوہم مسلمانوں نے عرصہ ہوا اپنارکھی ہے۔ اقبال نے اس کا ذمہ دار سامراج کی غلامی کوٹھہرایا تھا۔ لاہور میں مقیم رہتے ہوئے بھی پہلی جنگ عظیم کے دوران خلافت عثمانیہ کے زوال کی وجہ سے دنیا بھرکے اسلامی ملکوں میں پھیلے ہیجان پرکڑی نگاہ رکھی۔
مولانا ظفر علی خان جیسے اخبار نویسوں سے تقاضہ کرتے رہے کہ وہ دیگر صحافیوں کے ساتھ ہیجان میں گھرے ممالک کے دورے کریں اوروہاں کے تازہ ترین حالات سے مسلمانوں کوآگاہ رکھیں۔ مولانا محمد علی جوہر جیسے لکھاریوں نے عثمانی خلافت کے خلاف برپا سازشوں کے ذکر سے تحریک خلافت جیسی شاندارتحریک کوجلابخشی۔ آج کے مسلمان کا سب سے بڑا المیہ مجھ جیسے قلم گھسیٹ اور ڈنگ ٹپائو "کالم نگار" ہیں جوغزہ میں اسرائیل کی جانب سے مسلط کئے قتل عام کے خلاف ماتم کنائی کرتے ہوئے اپنی تحریروں کے لئے زیادہ سے زیادہ شیئرز اور لائیک حاصل کریں گے۔ اپنے قارئین کومگرسوڈان کے حقائق کے بارے میں بے خبر ہی رکھنا چاہیں گے۔