Monday, 26 January 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Nusrat Javed
  4. Sadar e Mumlikat Ke Eterazat Aur Bill Ki Parliman Se Manzoori

Sadar e Mumlikat Ke Eterazat Aur Bill Ki Parliman Se Manzoori

پارلیمانی جمہوریت کی اصل قدر مجھے روایتی سیاستدانوں کی تمام تر مخالفتوں کے باوجود 1985ء کے برس ہوئے غیر جماعتی انتخاب، کی بدولت وجود میں آئی قومی اسمبلی کی کارروائی کے بغور مشاہدے کی بدولت نصیب ہوئی تھی۔ جنرل ضیاء کی سخت گیر آمریت کے دبائو تلے وجود میں آئی اس اسمبلی کی کارکردگی یاد کرتے ہوئے گزشتہ تین دہائیوں سے جمہوریت اور عوامی حقوق کے اپنے تئیں اصلی تے ووڈے چمپئن بنے افراد کے رویے کا جائزہ لیتا ہوں تو شرم محسوس ہوتی ہے۔ بتدریج بلکہ یہ سوچنا شروع ہوگیا ہوں کہ پارلیمانی بالادستی، کے ایسے محافظوں کے ہوتے ہوئے آدھا تیتر آدھا بٹیر نظر آتے حکومتی بندوبست کو کسی بھی نوعیت کا کوئی خطرہ لاحق ہونے کے دور دور تک امکانات موجود نہیں ہیں۔ موجودہ حکومتی بندوبست کے محافظ سیاستدانوں کے تنقیدی جائزے سے قبل مگر اپنے(صحافت کے) گریبان میں جھانکنا بھی ضروری ہے۔

خبر، کے حوالے سے انگریزی کے پانچ الفاظ کلیدی شمار ہوتے ہیں جو اسی زبان کے حرف W سے شروع ہوتے ہیں۔ سادہ ترین الفاظ میں یوں کہہ لیں کہ خبر، کے لیے پڑھنے ا ور سننے والوں کو یہ بتانا ضروری ہے کہ کب اور کہاں کس (اہم) شخص نے کس موضوع پر کیا بات کی یا کون سا قدم اٹھایا۔ اس فارمولے کو ذہن میں رکھیں تو خبر، کے لیے اردو کے حرفک، سے شروع ہونے والے چھے سوالات کا جواب فراہم کرنا لازمی ہے۔

مذکورہ فارمولہ ذہن میں رکھتے ہوئے اس حقیقت پر بھی توجہ دیں کہ گزرے ہفتے جمعہ کی صبح پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلوایا گیا تھا۔ اسے بلوانے کی وجہ صدر مملکت کی جانب سے پارلیمانی نظرثانی، کے لیے بھجوائے تین قوانین کی منظوری تھی۔ ان میں سے ایک قانون ملک بھر میں وزیر اعظم شہبازشریف کے پسندیدہ دانش، سکولوں کا جال پھیلانے کا خواہاں تھا۔ بقیہ دو کا تعلق گھریلو تشدد اور انسانی حقوق کے معاملات سے تھا۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ سے باقاعدہ منظور ہوئے ان قوانین کو صدرِ مملکت نے اپنے دستخطوں سے منظور کرنے کی بجائے پارلیمانی نظرثانی، کے لیے واپس بھجوادیا۔

ان دنوں ایوان صدر میں آصف علی زرداری صاحب بر اجمان ہیں۔ وہ مملکتِ پاکستان کے صدر ہونے کے علاوہ چار (پی) والی پیپلز پارٹی (پارلیمنٹرین) کے صدر بھی ہیں۔ ان کی جماعت شہباز شریف کا حصہ بنے بغیر اس کی کلیدی حامی ہے۔ اس تعلق کو ذہن میں رکھتے ہوئے آصف علی زرداری کے دفتر سے قومی اسمبلی اور سینیٹ سے باقا عدہ منظور ہوئے قوانین کا پارلیمانی نظرثانی، کے لیے واپس لوٹائے جانا میرے لیے باعثِ حیرت تھا۔ اس حقیقت کے ادراک کے باوجود کہ ہمارے آئین کی شق 65 صدر مملکت کو یہ اختیار فر اہم کرتی ہے۔ اتحادی اور حامی جماعتوں کے اشتراک سے پاس ہوئے قوانین کا سہولت کار یا دوست جماعت کے نامزد کردہ صدر کی جانب سے واپس بھجوائے جانا مگر صحافی، ہونے کا دعویٰ کرنے والے ہر شخص کے لیے حیران کن ہونا چاہیے تھا۔ ہمارے ہمہ وقت متحرک میڈیا نے مگر اس خبر، پر توجہ ہی نہ دی۔

عرصہ ہوا ذاتی طورپر رپورٹنگ سے ریٹائر ہوچکا ہوں۔ نام نہاد حالاتِ حاضرہ، پر اپنی نوکری خطرے میں ڈالے بغیر تبصرہ آرائی سے ڈنگ ٹپاتا ہوں۔ پنجابی کا ایک محاورہ مگر متنبہ کرتا ہے کہ چور اپنا پیشہ چھوڑ دینے کے باوجود گھروں کے دروازوں پر لگے قفل کا جائزہ لینے کو جبلی طورپر مجبور محسوس کرتا ہے۔ اخبارات میں پارلیمانی کارروائی کے نام سے شائع ہوئی خبروں اور تبصروں کو لہٰذا مزید غور سے کنگھالنا شروع کردیا۔ کسی بھی ساتھی سے مگر جبلی طور پر ذ ہن میں آئے سوال کاجواب نہیں ملا۔

اپنے ذہن میں اٹکے سوال سے تنگ آکر ایک نوجوان ساتھی سے رجوع کیا۔ وہ مجھ سے کم از کم 20برس جونیئر ہے مگر پارلیمانی کارروائی پر جس انداز میں نگاہ رکھتا ہے اس کا مشاہدہ کرتے ہوئے جوانی یاد آجاتی ہے۔ اسے مجبور کیا کہ اس امر کا سراغ لگائے کہ آصف علی زرداری نے بطور صدر پاکستان وزیر اعظم کے ایک انتہائی پسندیدہ پراجیکٹ(دانش سکول) کے ملک بھر میں پھیلانے پر کیا اعتراض اٹھائے ہیں۔ اپنے ساتھی کی نوکری کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے اس کا نام نہیں لکھ رہا۔ اس نے مگر دیوانے رپورٹر کی لگن سے صدر مملکت کے دفتر سے جاری ہوئے اس خط کی نقل حاصل کرلی جس کے ذریعے دانش سکولز اتھارٹی بل، کے نام پر پارلیمان سے منظور ہوئے قانون کو پارلیمانی نظرثانی کے لیے 16دسمبر2025ء کو واپس لوٹادیا گیا تھا۔

اس خط کے ذریعے وزیر اعظم کو مطلع کیا گیا کہ صدر مملکت نے دانش سکولوں کے قیام کے متعلق دونوں ایوانوں سے منظور ہوئے قانون پر غور کے بعد اسے پارلیمانی نظر ثانی کے لیے بھجوانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس خواہش کے ساتھ کہ مذکورہ قانون میں دانش سکولوں کے قیام کے لیے اس صوبے کی رائے کا حصول بھی یقینی بنایا جائے جہاں وفاقی حکومت ایسے سکول کا قیام عمل میں لانا چاہتی ہے۔

وہ خط پڑھنے کے بعد آئین کی موجودہ شقوں کو نگاہ میں رکھتے ہوئے ایوانِ صدر کی جانب سے اٹھایا اعتراض واجب سنائی دیا۔ اپنے سابقہ دورِ صدارت کے دوران آصف علی زرداری نے نہایت لگن سے آئین میں 18ویں ترمیم منظور کروائی تھی۔ مذکورہ ترمیم کے تحت تعلیم کا شعبہ کاملاً صوبائی حکومتوں کے سپرد کردیا گیا تھا۔ اس ترمیم کے ہوتے ہوئے وفاقی حکومت صرف اسلام آباد ہی میں نئے سکول متعارف کرواسکتی ہے۔ دیگر صوبوں میں دانش سکولوں کے قیام کے لیے کم ازکم زمین کا حصول صوبائی حکومت کی معاونت ہی سے ممکن بنایاجاسکتا ہے۔

اپنے نوجوان ساتھی کی محنت کے نتیجے میں حاصل ہوئے خط کو پڑھنے کے بعد میں سادہ لوح یہ سوچنے کو مجبور ہوا کہ پیپلز پارٹی جمعہ کے روز ہوئے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کے دوران دانش سکولوں کے حوالے سے منظور ہوئے قانون کو ہو بہو منظور کرنے کی بجائے اس میں چند ایسی ترامیم متعارف کروانے پر زور دے گی جو اس امر کو یقینی بنائیں کہ صوبوں میں دانش سکولوں کے قیام کے لیے وہاں کی حکومتوں کو شریک کار بنایا جائے گا۔ اس امر پر زور دیتے ہوئے پیپلز پارٹی یہ پیغام دیتی نظر آئے گی کہ وہ 18ویں ترمیم کے حوالے سے کسی بھی نوعیت کی لچک دکھانے کو ہرگز آمادہ نہیں۔

میرے تخریبی، اندازے کے قطعی برعکس دانش سکولز سے متعلق منظور ہوئے قانون کو ایوانِ صدر سے آئے اعتراضات کو نظرانداز کرتے ہوئے ہو بہو پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کی منظوری کے لیے پیش کردیا گیا۔ پیپلز پارٹی کی نشستوں سے مگر کوئی مزاحمت نہ ہوئی۔ فقط مولانا فضل الرحمن کی جے یو آئی کے سینیٹر کامران مرتضیٰ صاحب نے سپیکر صاحب کو یاد دلایا کہ صدرِ مملکت نے مذکورہ بل پر اعتراض لگاکر دستخط کرنے سے انکار کردیا ہے۔ ان کی جانب سے اٹھائے اعتراض کے باوجود پیپلز پارٹی کے کسی رہنما نے اٹھ کر سب پہ بالادست، تصور ہوتی پارلیمان کو یہ بتانے کی زحمت ہی گوارہ نہ کی کہ اس جماعت کی جانب سے ایوان صدر میں بٹھائے آصف زرداری نے دانش سکولز کے بارے میں کیا اعتراضات اٹھائے تھے اور مذکورہ اعتراضات کو پارلیمان نے غور کے قابل کیوں تصور نہیں کیا؟ ان کے صدر کی جانب سے واپس بھجوایا بل بلکہ پیپلز پارٹی کی حمایت سے دوبارہ اپنی اصل صورت میں منظور کرلیا گیا۔ 18ویں ترمیم کے تناظر میں پیپلز پارٹی نے کم ازکم تعلیم کے حوالے سے لچک دکھادی ہے۔ اب اٹھارویں ترمیم کے تناظر میں مزید کی توقع بھی باندھی جاسکتی ہے۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.