دورِ حاضر کی ہر موذی بیماری کا سبب بالآخر ذہنی دبائو ثابت ہورہا ہے۔ اس سے بچائو کے لئے ہر ڈاکٹر اپنے ہاں گئے مریض کو ان دنوں دیگر احتیاطوں کا تذکرہ کرتے ہوئے سوشل میڈیا سے پرہیز بھی لازمی ٹھہرا رہا ہے۔ محض صحافت سے رزق کماتے افراد کے لئے مگر یہ ممکن ہی نہیں ہے۔ بڑی مشکل سے سوشل میڈیا کے استعمال کو محدود سے محدود تر کرنے کے قابل ہوا ہوں۔ اس کے باوجود گزرے ہفتے کے جمعہ کی شام سے جب بھی اپنے فون یا لیپ ٹاپ پر سوشل میڈیا کی کوئی ایپ (App) کھولی تو وہاں جمعیت العلمائے اسلام کے رہنما مولانا فضل الرحمن صاحب کی ایک تقریر کے چند ٹکڑے چھائے نظر آئے۔
مزید بڑھنے سے قبل یہ وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کہ مولانا فضل الرحمن کے نظریات سے برملا اختلاف کے باوجود میں ان کی کشادہ دلی کی دل سے عزت کرتا ہوں۔ وہ ہم جیسے لبرل گنہگاروں کو حقارت کی نگاہ سے نہیں دیکھتے۔ گفتگو کو ان ہی موضوعات تک محدود رکھنے کی کوشش کرتے ہیں جو خالصتاََ سیاسی معاملات سے تعلق رکھتے ہوں اور اس ضمن میں اپنے مؤقف کو انتہائی مدلل انداز میں اجاگر کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ پارلیمان میں ان کی تقاریر "ایمان کی حرارت" کے جلال کے بجائے منطق کی بنیاد پر اٹھائے جمال کا اظہار ہوتی ہیں۔ بدترین سیاسی اختلافات کے دنوں میں بھی میں نے انہیں کبھی غصے میں بے قابو ہوتے نہیں دیکھا۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تقریر مگر جب بھی دیکھتا ہوں تو پہلا خیال یہ آتا ہے کہ میں غالباََ کسی اور مولانا فضل الرحمن کا شناسا رہا ہوں۔ جس تقریر کا حوالہ دے رہا ہوں وہ پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کے دوران ہوئی تھی۔ وہاں ایوان صدر سے "پارلیمانی نظرثانی" کے لئے بھجوایا ایک قانون زیر بحث تھا۔ مذکورہ قانون کم سنی میں بچوں اور بچیوں کو شادی کے بندھن میں باندھنے کو قابل تعزیر جرم قرار دیتا ہے۔ کم سنی میں شادی کو قابل تعزیر ٹھہرانے کے خلاف مولانا کے پاس وافر دلائل موجود تھے۔ ان کے ہوتے ہوئے بھی مولانا اور ان کے ساتھی مگر مذکورہ قانون کی منظوری رکوا نہ سکے۔ وہ قانون پاس ہوگیا تو مولانا غضب کے عالم میں اٹھے اور پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے منظور ہوئے قانون کی برسرِ عام خلاف ورزی کے ارادے کا اظہار تلخ ترین الفاظ کے استعمال سے کرنا شروع ہوگئے۔ خود کو ریاستِ پاکستان کے تمام ستونوں اور اداروں پہ بالادست تصور کرنے والے انہیں بے بسی کے عالم میں سنتے رہے۔
مولانا فضل الرحمن صاحب سے عرصہ ہوا ملاقات نہیں ہوئی۔ آخری ملاقات ہونے تک وہ مگر اپنے ہی مسلک کے کئی انتہا پسند اور جنگجو افراد کے برعکس نہایت جرأت وبہادری سے آئین اور جمہوریت کی بالادستی کا دفاع کیا کرتے تھے۔ ان کے والد مرحوم -مولانا مفتی محمود-ایک جید اور انتہائی قابل احترام عالم تھے۔ 1973ء کے آئین کی تیاری اور اس کی متفقہ منظوری میں انہوں نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ آئین کی حمایت میں مولانا کی سب سے اہم دلیل یہ ہوتی ہے کہ اگر یہ کسی بھی صورت "خلافِ اسلام" ہوتا تو ان کے والد اسے منظور کروانے کے بجائے مخالفت کو ڈٹ جاتے۔
آئینِ پاکستان اور جمہوری اصولوں کی پاسداری نے بالآخر مولانا فضل الرحمن کی زندگی خطرے میں ڈال دی۔ جمہوری نظام کے برعکس "خلافت" کے احیاء کے لئے نمودار ہوئی داعش جیسی تنظیموں نے جمہوری نظام کا دفاع کرنے کے "جرم" میں مولانا کے خلاف 70سے زیادہ صفحات پر مشتمل ایک دستاویز جاری کردی۔ اس کا یک نکاتی پیغام مولانا کی سیاست کو "مبادیاتِ دین"کی خلاف ورزی ثابت کرنا تھا۔ ایسی "خلاف ورزی" کی ناپختہ ذہنوں میں جو سزا مقرر ہے اس کا ذکر کرنے سے بھی خوف آتا ہے۔ مولانا کی جو تقریر سوشل میڈیا پر وائرل ہے وہ ایسے ہی اذہان کی فکری جیت شمارہوگی۔
سادہ ترین پیغام یہ جائے گا کہ عمر تمام جمہوری نظام کی حدود میں رہتے ہوئے فروغ اسلام کی جدوجہد میں مصروف رہے مولانا فضل الرحمن اپنی سیاست کے اختتامی دور میں پارلیمان سے کاملاََ مایوس ہوچکے ہیں۔ اس کے نتیجے میں پارلیمان کی مبادیاتِ دین سے مبینہ دوری اسلام کے نام پر بھڑکائے اذہان کو داعش جیسی انتہا پسند تنظیموں کی جانب ہی دھکیلے گی۔ اس جانب مگر کسی نے توجہ ہی نہیں دی ہے۔ جوش خطابت میں مولانا کا "باغیانہ" خطاب سوشل میڈیا پر لوگوں کا لہو گرمائے چلاجارہا ہے اور یہ واقعہ عین ان دنوں میں نمودار ہوا جب ہماری ریاست یہ طے کئے نظر آرہی ہے کہ سوشل میڈیا اورخصوصاََ ٹویٹر نے جواب ایکس کہلاتا ہے ہمارے نوجوانوں کو "گمراہ" کردیا ہے۔ وہ اس پلیٹ فارم کو ریاست اور اس کے نگہبان اداروں کو نیچا دکھانے کے لئے استعمال کررہے ہیں۔ وقت آگیا ہے کہ "بے لگام" ہوئے ان نوجوانوں کو پیکا جیسے قوانین کے تحت دل دہلا دینے والی طویل سزائیں سنائی جائیں۔
پیدائشی بزدل ہونے کی وجہ سے میں سرکار کی جی حضوری والی صحافت کے مقابلے میں جی داری دکھانے کے قابل ہی نہیں۔ مولانا کی "سب پہ بالادست" ادارے سے ایک قانون کی منظوری کے فوراََ بعد ہوئی تقریر مگر فون یا لیپ ٹاپ کھولتے ہی سامنے آجاتی ہے تو ذہن میں ہر بار یہ سوال اٹھتا ہے کہ مولانا کی پارلیمان کے فلور پر ہوئی "باغیانہ تقریر" جو سوشل میڈیا پر وائرل ہوچکی ہے اورقابل تعزیر ٹھہرائی ٹویٹس کے درمیان کیا فرق ہے۔ دونوں ہی وسیع تر تناظر میں ریاستی نظام سے بددلی کا اظہار ہیں۔ ٹویٹس لکھنے کے جرم میں ملوث نوجوان عبرت کا نشان بنادئیے گئے ہیں۔
مولانا مگر دھج سے "سب پہ بالادست" پارلیمان سے ایک قانون کے منظوری کے فوراََ بعد سینہ پھلاکر اس کی خلاف ورزی کا برسرِ عام اظہار کرتے ہوئے اطمینان سے گھر چلے گئے۔ یہ سب سوچتے ہوئے ذہن میں یہ سوال بھی اٹھا کہ اگر میں 18 سے 35 سال کے درمیان والی عمر کا عام پاکستانی نوجوان ہوں جو سکول کے بعد کسی کالج نہیں جاسکا۔ بے ہنر ہونے کی وجہ سے باعزت روزگار سے بھی محروم ہوں تو میرا پریشان دل کس کی پیروی کو ترجیح دینا چاہے گا؟ مولانا فضل الرحمن یا، یہاں تک پہنچنے کے بعد خیال آیا کہ طبیبوں نے زیادہ سوچنے سے منع کررکھا ہے کیونکہ یہ فشار خون کی جانب دھکیل دیتا ہے۔