Thursday, 08 January 2026
    1.  Home
    2. Guest
    3. Nusrat Javed
    4. Deedawar Se Wonder Boy Tak

    Deedawar Se Wonder Boy Tak

    چند روز قبل میرے دوست سہیل وڑائچ نے اپنے مخصوص انداز میں اپنے کالم کے ذریعے یہ عندیہ دیا کہ ہمارے ہاں سیاسی بساط کے خالق کسی "ونڈر بوائے" کی تلاش میں ہیں۔ "بوائے" کا لفظ پڑھا تو گماں ہوا کہ سیاسی بساط پر مہرے بٹھانے والے اب "دیدہ وروں" کی تلاش سے اکتا چکے ہیں۔ "دیدہ ور" کی پیدائش ویسے بھی ہمارے شاعرِ مشرق کے مطابق نرگس کے ہزاروں برس رونے سے قبل ممکن ہی نہیں۔ قیامِ پاکستان کے محض 11سال بعد البتہ کسی نرگس کے آنسو بہائے بغیر ہمارے پہلے "دیدہ ور" نمودار ہوگئے۔

    میں ان کے طلوع ہونے کا منظر دیکھنے سے محروم رہا۔ ہوش سنبھالی تو محلے کے بزرگوں سے یہ علم ہوا کہ موصوف کے نمودار ہونے سے پہلے پاکستان نکمے سیاست دانوں کے نرغے میں گھرا ہوا تھا۔ وہ ملک کو استحکام، ترقی اور خوشحالی فراہم کرنے کے منصوبے سوچنے کے بجائے ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے میں مصروف رہتے۔ ہمارے پہلے دیدہ ور نے ان سے نجات دلائی تو کھانے پینے کی اشیاء بیچنے والی دوکانوں کو مکھیوں اور گندگی سے محفوظ رکھنے کے لئے جالیاں لگنا شروع ہوگئیں۔ بازار میں مہنگی اشیاء بیچنے والے گھبرا گئے اور ان کے ترازو بھی سیدھے ہوگئے۔

    وطن عزیز کے پہلے دیدہ ور کی تعریف سنتے ہوئے مجھے مگر محلے کی دکانوں پر جالیاں لگی نظر نہ آتیں۔ ہمارے محلے کے دو کریانہ فروشوں کے ترازو بھی اکثر مشکوک تصور ہوتے تھے۔ چینی ان دنوں سرکار کے متعارف کروائے راشن ڈپوؤں سے ملاکرتی تھی۔ ہمارے غریب ہمسائیوں کی اکثریت وہاں سے چینی خرید کر ایک دوکاندار کو تھوڑے منافع کے لالچ میں بیچ دیا کرتی۔ سرکاری راشن ڈپو سے خریدی چینی کو مگر خریدنے والا دوکاندار بیچنے والے کے بتائے وزن سے کم بتاتا۔ اس کی وجہ سے دن میں کم از کم دوبار گلی میں مغلظات بھری توتکارسننے کو ملتی۔

    دیدہ ور کو اقتدار سنبھالے اگرچہ پانچ برس بھی نہیں گزرے تھے۔ پیدائشی ڈرپوک ہونے کی وجہ سے میں اگرچہ محلے کے بزرگوں سے یہ سوال اٹھانے کی جرات سے محروم تھا کہ دیدہ ور کے نمودار ہونے کے بعد جو نظم انہیں نظر آیا تھا وہ برقرار کیوں نہ رہ پایا۔ شام ہوتے ہی اگرچہ پاکستان میں "زرعی انقلاب" جاری رکھنے کے لئے دیہاتی بھائیوں کا ریڈیو پاکستان پر پروگرام شروع ہوجاتا۔ اس میں "بڑھاؤ کھیت کی پیداوار" پر اکسایا جاتا۔ اتفاق یہ بھی ہوا کہ کھیت کی پیداوار بڑھانے کے لئے زیادہ پانی کے حصول کا ان دنوں اشتہاروں میں ایک ہی حل بتایا جاتا تھا جو نجی شعبے میں بنائے ایک ٹیوب ویل کا نام تھا۔

    یہ محض اتفاق ہے کہ مذکورہ نام چار صوبوں والے آج کے پاکستان کو ون یونٹ کے ذریعے "مغربی پاکستان" کے گورنر کی یاد دلاتا تھا۔ گورنر صاحب سے ملاقات کا شرف کبھی حاصل نہیں ہوا۔ ان کی تصویر دیکھ کر مگر خوف آتا تھا۔ لمبے شملے والی پگڑی کے ساتھ ان کا چہرہ بھاری مونچھوں کی بدولت مزید دہشت زدہ کردیتا۔ صحافت کا پیشہ اختیار کرنے کے بعد مجھے ان کے دور میں اہم صوبائی وزیر رہے دو افراد کی بدولت علم ہوا کہ نواب آف کالا باغ کسی منجھے اداکار کی طرح رعب جمانے میں کامل فطری نظر آتے۔ نہایت فخر سے وہ اپنی شناخت ایک "روشن خیال" کی صورت نہیں کروانا چاہتے تھے۔

    مصر رہتے کہ ایک خاندانی جاگیر دار ہوتے ہوئے روایات کی پاسداری ان کا فرض ہے۔ ان کے دور میں لیکن لاہورکے قلعہ گجر سنگھ سے "اچھا پہلوان" کے نام سے ایک شخص غنڈے کے طورپر مشہور ہوا۔ بعدازاں وہ فلم ساز بھی بن گیا۔ فردوس اور اکمل کے ساتھ فلم ملنگی بنائی۔ اس فلم نے قصور شہر کے ایک ڈاکو کو انگریزی دور کا رابن ہڈ بناکر پیش کیا۔ اس کی تشہیر کے لئے جو Line Catch یا تعارف کروائی سطر دہرائی جاتی وہ "دن نوں راج فرنگی دا تے رات نوں راج ملنگی دا(فرانگی/انگریز) کی حکمرانی فقط دن کی روشن میں نظر آتی ہے۔ سورج ڈھلنے کے بعد ملنگی(ڈاکو) کا راج شروع ہوجاتا ہے"۔ میں نے وہ فلم سستے ٹکٹ لے کر کئی بار دیکھی۔ "ماہی وے سانوں بھل نہ جاویں" والا گانا اور اکمل کا بطور ملنگی کردار پیدائشی بزدل کو بہت بھایا۔

    سہیل وڑائچ کے ونڈر بوائے سے بہک کر "دیدہ ور" کی یاد میں کھوگیا اور جو موضوع سوچ رکھا تھا اس پر توجہ مبذول نہ رکھ پایا۔ میں نے یاوہ گوئی کے بارے میں لیکن شرمندہ ہونا چھوڑ دیا ہے۔ انگریزی ادب کے سنجیدہ استاد سمجھاتے تھے کہ ذہن میں آئے خیالات بہتے پانی کی طرح ہوتے ہیں۔ ان کو روانی سے بیان کردینا پڑھنے والے کو سحر زدہ کرسکتا ہے۔ انگریزی کی مشہور لکھاری ورجینیا وولف کا انداز تحریر بھی ایسا ہی تھا۔ اسے Stream of Consciousnessلکھتے ہیں۔ "شعور کا بہا?"۔ میرے شعور میں اگر زیادہ پانی حاصل کرنے کے لئے ایک ہی ٹیوب ویل کا نام بس چکا ہے اور ماہی وے سان وں بھل نہ جاویں والا گانا بھلانا بھی ناممکن ہے تو اس کے ذکر سے گریز کیوں کروں؟

    "نوائے وقت" جیسے روایتی اور سنجیدہ اخبار کے لئے لکھنے والوں سے قارئین مگرموضوعات پر کامل توجہ کے طلب گار ہوتے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ میں کامل توجہ اس امر پر مرکوز رکھتا کہ ہمارے ہاں نیا بندوبستِ حکومت متعارف کروانے کے لئے "ونڈر بوائے" کی ضرورت ہے یا نہیں۔ ہاں یا ناں میں جواب دینے کے بعد اپنی سوچ کو دلائل سے قابل قبول بنانے کی کوشش کرتا۔

    میرا یار سہیل وڑائچ میری طرح گھر میں گوشہ نشین ہوکر تیاگی نہیں ہوا۔ حقیقی رپورٹر کے جبلی تجسس سے خبریں ڈھونڈتا ہے۔ ہماری سیاست پر 1985ءسے جو چہرے چھائے ہوئے ہیں ان کی کثیر تعداد کے ساتھ کئی برسوں تک گھنٹوں گپ شپ لگائی ہے۔ جنرل ضیاءکے گیارہ سالوں میں یہ گماں بھی رہا کہ ان کے ساتھ مل کر جمہوریت کی بحالی کی جدوجہد میں مصروف ہوں۔ وہ پاکستان کو بدلنا چاہتے ہیں۔ یہ چہرے مگر جب حکومتوں میں آئے تو ویسی ہی حرکات اختیار کرنا شروع ہوگئے جو حکمرانوں کا شیوہ ہوتی ہیں۔ حکومتیں گرجانے کے بعد اپوزیشن میں بیٹھے ہوئے یہ دعوے کرتے کہ اب کی بار اقتدار ملا تو فلاں فلاں غلطیوں کو دہرایا نہیں جائے گا۔

    اقتدار میں لوٹنے کے بعد مگر ان ہی غلطیوں کو مزید ڈھٹائی سے دہرایا گیا۔ ربّ کا صد شکر کہ اب ان سے ملاقات ہوجائے تو اپنی "خوبیوں" کو سینہ پھلاکر اور غلطیوں کے حوالے سے سرجھکا کر ندامت کا اظہار بھی نہیں کرتے۔ موجودہ حکومتی بندوبست کے چند کرتا دھرتا شمار ہوتے لوگ تنہائی میں ملیں تو انجن کی خوبی اور ڈرائیور کے کمال کے بغیر خدا کے سہارے چلتی گاڑی کی یاد دلاتے ہیں۔ ہمارے سیاستدانوں نے ا زخود سوچنے کی اذیت سے نجات پالی ہے۔ ان کے لئے ان کی جماعتوں کے رہ نما سوچتے ہیں یا وہ جنہیں ان کے ساتھ ہائی برڈ نظام کے ایک صفحہ پر رہنا ہے۔

    سہیل وڑائچ مگر میری طر ح مردم بیزار نہیں ہوا۔ یہ ماننے کو تیار نہیں کہ سیاستدانوں نے ازخود سوچنے کی اذیت سے نجات حاصل کرلی ہے۔ ان کے ذہن میں موجود خیالات کریدنے کی لگن میں جتا رہتا ہے۔ "ونڈر بوائے" کے ممکنہ ظہور کا ذکر ایسے ہی کسی مرحلے میں موصوف کے سامنے چھڑگیا ہوگا۔ اسے کالم میں بیان کردیا۔ ذکر "ونڈر بوائے" کا چلا تو کئی یوٹیوبرز کی ہٹی بھی چل گئی۔ مجھ قلم گھسیٹ کی دیہاڑی بھی "ونڈر بوائے" کے ذکر ہی سے لگ گئی ہے۔ "ونڈر بوائے" کے انتظار نے مگر مجھے سیموئیل بیکٹ کی یاد دلادی ہے۔ ائر لینڈ میں پیدا ہوکر یہ شحض فرانسیسی زبان میں ڈرامے لکھتا رہا۔ وہ بضد تھا کہ اگر آپ کے ذہن میں لوگوں کو بتانے کے لئے کوئی اچھوتا خیال ہو تو اسے مادری زبان میں نہیں بلکہ نہایت محنت سے سیکھی کسی دوسری زبان ہی میں بیان کیا جاسکتا ہے۔ اس کے لکھے ڈراموں کو لیکن Absurdیا لایعنی شمار کیا جاتا ہے۔ ان میں کہانی آگے بڑھتی نظر نہیں آتی۔

    کردار بھی ایک ہی مقام پر ساکت ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ بیکٹ نے Waiting for Godot کے عنوان سے ایک شہرہ آفاق ڈرامہ لکھا۔ اس میں بے بس، لاچار اور مفلوک الحال دِکھتے دو اشخاص غالباََ کسی "مسیحا" کے انتظار میں عجیب حرکات میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ سہیل وڑائچ میری طرح دو ٹکے کے رپورٹر سے کالم نگار نہیں ہوا۔ انگریزی ادب کا سنجیدہ طالب علم ہی نہیں استاد بھی رہا ہے۔ مجھے شبہ ہے کہ بیکٹ کے اتباع میں سہیل نے "ونڈر بوائے" کا جھانسہ دے کر ہمیں بھی Waiting for Godot کے بے بس اورمفلوک الحال کرداروں کی طرح الجھادیا ہے۔ "ونڈر بوائے" نمودار نہ بھی ہوا تو فکر ناٹ۔ ایک اور فلمی گانا یاد رکھیے جس میں "ماہی" سہیل وڑائچ کے "ونڈر بوائے" کی طرح نہروالے پل پر آنے کا وعدہ کرکے اسے بھول جاتا ہے۔

    About Nusrat Javed

    Nusrat Javed

    Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.