Sunday, 13 September 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Nasir Naqvi
  4. Itni Bhi Kya Jaldi Thi

Itni Bhi Kya Jaldi Thi

جانے والے کبھی نہیں رکتے، اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا لیکن جانے والے اپنے پیچھے ایک داستان چھوڑ جاتے ہیں داستان اور کہانی بھی انہی لوگوں کی ہوتی ہے جو کچھ کرکے جاتے ہیں، باقی سب تو جانوروں کی طرح دنیا میں آئے، کھایا پیا، جیسے تیسے زندگی گزاری اور چل دئیے بلکہ مٹی کے پتلے مٹی ہو گئے، باقی بچی مٹی کی ڈھیری اور جب اس کا بھی کوئی وارث مڑ کر نہیں لوٹا تو وہ بھی ختم۔ برسوں بعد کسی کو یاد ستائی اور وہ شہر خاموشاں پہنچا تو مٹی کی ڈھیری کی جگہ ایک سنگ مرمر کی قبر نے اسکا استقبال کیا۔ گورکن سے پوچھ گچھ کی تو اس نے بڑے اطمینان سے جواب دے دیا۔۔ باؤ جی، قبر نالے خبر۔۔ کبھی نہیں سنا آپ نے؟ جو اپنے پیاروں کی قبروں کا خیال نہیں رکھتے ان قبروں کے مکین بدل جاتے ہیں، یہ تو آپ نے سنا ہی ہوگا کہ قیامت پر ایک ایک قبر سے ستر ستر مردے نکلیں گے، وہ کیسے ہوگا؟

ایسے ہی ہوگا، قبرستانوں کی زمینیں پڑے پڑے بڑھتی نہیں، یہ آپ جیسے لوگوں کی مہربانی کوتاہی سے یہاں خود جگہ بن جاتی ہے۔ بات اس کی سو فیصد درست ہے وہ ان پڑھ ہوتے ہوئے بھی اپنی "ریاست خاموشاں" کے معاملات سے بے خبر نہیں لیکن ہم لوگ عقل و دانش رکھتے ہوئے بھی شہر کے اندیشے میں مبتلا ہیں، اپنی آ خری منزل شہر خاموشاں کو بھولے ہوئے ہیں لیکن مالک دو جہان نے درست حساب کتاب لگایا ہوا ہے۔ اسے اولاد آ دم کی حرص و ہوس کا اندازہ تھا اسی لیے اس نے نہ صرف خالی ہاتھ دنیا میں بھیجا بلکہ سب کو خالی ہاتھ ہی واپس بلایا۔ پھر بھی یہ سب کچھ دیکھتے، جانتے ہوئے بھی سب کچھ سمیٹنے کی فکر میں لگی ہوئی ہے۔ اس کا احساس دنیا کی رنگینیوں اور بھول بھلیوں نے مار ڈالا ہے۔ ہمارے ارد گرد اور آس پاس سے روزانہ کوئی چھوٹا بڑا رخصت ہو کر اپنے مالک حقیقی کے حضور پیش ہو جاتا ہے پھر بھی ہم سانسوں کے نازک بندھن کو فراموش کرکے عمروں کے چکر میں پڑے ہوئے ہیں حالانکہ یہ بھی پتہ ہے کہ دنیا میں آ نے کی ترتیب ہے جانے کا کوئی شیڈول کسی کو نہیں معلوم۔ صرف وہی جانتا ہے جو جان و جہان کا حقیقی مالک ہے۔

جنت کے خواہشمند الحمدللہ" ہم اور آ پ، سب ہی ہیں لیکن جانے کی نہ کسی کو جلدی ہے اور نہ ہی اس کے لیے کچھ خاص کرنے کے موڈ میں ہیں اس لیے کہ ہم امت محمدی میں شمار کیے جاتے ہیں لہذا امید قوی ہے کہ اللہ اپنے محبوب کے غلاموں کو جہنم میں نہیں ڈالے گا جبکہ دین حق اللہ کے پسندیدہ مذہب اسلام نے ہر شے کھول کھول کر بتا دی ہے۔ پھر بھی ہم کچھ کرنے کے بجائے توکل اللہ پر نہ صرف جی رہے ہیں بلکہ مرنے کو بھی تیار ہیں۔ ایسے میں اگر کوئی ہنستا مسکراتا، محبت و اخلاص کا پیکر، ہر کسی کا مددگار، غم گسار، انکساری کی تصویر ایک خوبصورت فریم سے گر کر چکنا چور ہو جائے تو دل ایک بار دھک کرکے بیٹھ ضرور جاتا ہے، گزشتہ ہفتے ایسا ہی واقعہ ہوا کہ اچانک سوشل میڈیا پر خبر چلی کہ علم و ادب کا ایک چمکتا دمکتا ستارہ ٹوٹ کر خاک میں مل گیا، زندہ دلوں کے ادبی ثقافتی منفرد شہر لاہور کا "عاشق، دنیا سے منہ موڑ گیا تو یقین نہیں آ یا۔ فوراََ ڈاکٹر فرحت عباس شاہ اور پروفیسر ناصر بشیر سے رابطہ کرکے پوچھا کہ ڈاکٹر فخر عباس کی خبر غلط ہے نا؟

دونوں نے تصدیق کر دی کہ نہیں درست ہے۔ وہ جس طرح دنیائے ادب میں آیا اور شہرت مقبولیت کی جھنڈے گاڑے، اسی طرح ایک پوشیدہ دشمن "ہیپا ٹائٹس" حملہ آ ور ہوا اور دنوں میں اس کی زندگی چھیننے میں کامیاب ہوگیا، اردو ادب کی دنیا سوگوار ہوگئی، تین بیٹے اور تین بیٹیاں نو عمری میں یتیم ہوگئیں، شریک حیات تنہا رہ گئی اور ابھی زندگی کا طویل سفر باقی ہے۔ ایسے میں ذہن میں ایک سوال ابھرتا ہے کہ ڈاکٹر فخر عباس تم تو ہزاروں لاکھوں ادب نوازوں کا فخر تھے، تمہیں اتنی بھی کیا جلدی تھی؟

یقیناََ اس کا جواب یہی ہوگا کہ اصل منزل تو یہی ہے۔ مالک سے ملیں، خالق سے ملیں، اس کی حمد و ثنا کریں۔ ایسا میں صرف اس لیے کہہ رہا ہوں کہ حضرت کی آخری پوسٹ یہ تھی "جو دنیا پر توکل کرے وہ کبھی ملغوب نہیں ہوگا اور جو خدا سے مستمسک ہو، وہ کبھی شکست نہیں کھائے گا"۔ وہ شیخوپورہ میں پیدا ہوئے، علامہ اقبال میڈیکل کالج سے ڈاکٹر بنے، زمانہ طالب علمی سے ہی ادبی دنیا میں کارنامے انجام دیتے ہوئے وارد ہوئے اور سنجیدہ اور مزاحیہ شاعری میں اپنی منفرد پہچان بن گئے، دل کی خواہش ان کی واضح تھی کہ۔۔

ابھی تلک تو نہیں ہے مگر یہ خواہش ہے۔۔
خدا کرے کہ تعلق میرا حسین سے ہو۔۔

اور یہ خواہش ان کی بر بھی آئی۔ زندگی کا آ خری سفر صحت و سلامتی کے ساتھ "کربلا و نجف" کا کیا لیکن پوشیدہ دشمن "ہیبٹائٹس" نےعراق میں ہی وار کر دیا اور پھر وہ سنبھل نہیں سکے۔ آ ئی۔ سی۔ یو میں چند روز گزرے اور فرشتہ اجل انہیں سفر آخرت پر لے گیا۔ جو دنیا میں آیا ہے اسے واپس بھی جانا ہے لیکن دنیاوی اعتبار سے ابھی ان کے جانے کے دن نہیں تھے۔ مسیحا جناح ہسپتال لاہور میں "ہیڈ آ ف میڈیسن" تھے جتنی ملازمت کی ھمیشہ اپنے سے زیادہ دوسرے کا خیال رکھا، کرونا کے خطرناک دور سے اب تک ہر کسی کی مسیحائی کی، نہ کوئی ہے انا، نہ شہرت کا گھمنڈ، کوئی شکوہ نہ شکایت، مسکراتا چہرہ مسکراتا ہوا دنیا سے لوٹ گیا۔

اس موقع پر ڈاکٹر فخر عباس کے ایک دوست ڈاکٹر باسط کی ایک پوسٹ دیکھی بلکہ ان کے تمام پیاروں نے دیکھی ہوگی۔۔

رہنے کو سدا دہر میں آ تا نہیں کوئی
تم جیسے گئے ایسے بھی جاتا نہیں کوئی

اک بار تو خود موت بھی گھبرا گئی ہوگی
یوں موت کو سینے سے لگاتا نہیں کوئی

جانے والے چلے گئے، ان سے پہلے بھی بہت سے گئے ہیں اور بعد میں بھی بہت ہی سے جائیں گے لیکن ڈاکٹر فخر عباس نے بہت کم وقت میں زیادہ محبتیں سمیٹیں بلکہ ان کا دعویٰ تو صرف لاہور سے محبت کا تھا پھر بھی ان کے عاشق اور چاہنے والے لا تعداد پائے گئے کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ موت جسم کو آ تی ہے شخصیت، فکر اور فن کو ہرگز نہیں آ تی، اس لیے قدرت نے ان کی لاہوری محبت کو ایسی جلا بخشی کہ انہیں برسوں بھلایا نہیں جا سکے گا۔۔

یہ جو لاہور سے محبت ہے
یہ کسی اور سے محبت ہے

مجھ کو اک دور سے محبت ہے
اس کی ہر طرز مجھ کو بھاتی ہے

اس کے ہر طور سے محبت ہے

محبت یک طرفہ تھی کہ دو طرفہ؟ یہ راز تو اب راز ہی رہے گا لیکن محبت سچی ضرورت تھی کہ وہی وجہ شہرت بنی حالانکہ ان کا سنجیدہ اور مزاحیہ کلام موجودہ دور میں کسی سے کم نہیں۔ سادہ ملنسار، عاجز مزاج، اصول پرست، صاف گو، لطیف طبع انسان تھے۔ دعا ہے کہ مالک کائنات انہیں اسی طرح اگلے جہان میں بھی مسکراتا ہوا رکھے اور ان کے پسما ندگان کے لیے آسانیاں پیدا کرے کیونکہ فخر عباس اپنے معاشرے، اردو ادب، بزم دوستاں اور ریاست پاکستان کا فخر تھا ہم اور آپ کتنی مرتبہ کہیں کہ اتنی بھی کیا جلدی تھی؟ لیکن سانسوں کا حساب اس مالک حقیقی کے پاس ہے جس کی اپنی حکمت اور اپنا نظام ہے۔ وقت مقررہ سے نہ ایک پل کم نہ زیادہ۔