قدرت اور کوشش کے درمیان بحث ہمیشہ کنفیوژ کر دینے والی ہوتی ہے، جبروقدر کے فلسفے پر بڑے بڑے فلسفی ابہام کا شکار ہوجاتے ہیں، مجھے تو یہ مثال بھی کبھی سمجھ نہیں آتی کہ جب انسان ایک پاؤں اٹھا لے اور کھڑا رہے تو یہ اس کا اختیار ہے مگر وہ دوسرا پاؤں نہیں اُٹھا سکتا، بہرحال ہوسکتا ہے کہ بہت ساروں کو یہ سمجھ آجاتی ہو اور اسی طرح ہم کسی کی قسمت کے بارے کیسے جان سکتے ہیں کہ وہ کیسے ہوگی مگر ہندو دھرم میں توباقاعدہ طور پرکنڈلی لکھی جاتی ہے اور غیرہندوؤں میں بھی بہت سارے ستاروں کی چالوں پر نظر اور ان کی سمجھ رکھتے ہیں۔
میں نے برس ہا برس ستارہ شناسوں کے ساتھ دسمبر کے آخری دنوں میں بہت سارے پروگرام کئے ہیں اور ان میں سے ستر، اسی فیصد کی پیشین گوئیاں غلط ثابت ہوئی ہیں مگر یوں بھی ہوا ہے کہ بیس، تیس فیصد کی درست جیسے شیخ طارق اقبال جنہوں نے میرے پروگرام میں کرونا کا نام لئے بغیر ایسی تبدیلی کی پشین گوئی کی جس میں دنیا نے پہلی اور دوسری جنگ عظیم سے زیادہ متاثر ہونا تھا اور پھر یہ پیشین گوئی درست بھی ثابت ہوگئی۔ اسی طرح سامعہ خان ہیں جو عمران خان کی ذاتی زندگی کے بارے میں بہت ساری درست پیشین گوئیاں کرکے اپنا اعتبار اور اعتماد قائم کر چکی ہیں۔
ویسے یہاں بہت سارے یہ بھی کہتے ہیں کہ کئی ستارہ شناس سیاسی چالوں کے ماہرین سے ممکنہ حرکیات بارے پوچھ لیتے ہیں یا ان کی اپنی پسندناپسند ہوتی ہے جس کی بنیاد پر وہ دعوے کر دیتے ہیں۔ کئی تو ایسے ہوتے ہیں جو کسی ایک ٹی وی کے پروگرام میں ا یک دعویٰ کرتے ہیں اور دوسرے ٹی وی کے پروگرام میں ا س کے بالکل برعکس اور ان میں سے کوئی نہ کوئی تو درست ثابت ہوتا ہی ہے اور وہ اسے لے کر مارکیٹ میں شور مچا دیتے ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ سب قانون امکانات سے تعلق رکھتا ہے اور اسی کو سامنے رکھ کر پیشین گوئیاں کر دی جاتی ہیں ورنہ ستاروں کوہم انسانوں کی تقدیروں کی کیا خبر جو علامہ اقبال کے شعر کے مطابق خود فراخی افلاک میں خواروزبوں ہیں۔
معاملہ صرف ستارہ شناسی تک نہیں ہے بلکہ خود تقدیروں بارے بھی ہے جس کا میں نے سب سے پہلے ذکر کیا۔ ہم اپنی تقدیر میں جس شے کو سب سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں وہ مال و دولت ہے۔ اب کسی ارب اور کھرب پتی کا بیٹا اور تقدیر لے کر پیدا ہوتا ہے اور کسی رکشے والے کا بالکل دوسری۔ ہم میں سے اسی سے نوے فیصد اپنے والدین کی ہی کلاس میں اوپر نیچے ہو کے زندگی پوری کرجاتے ہیں، ہاں، ایک دو ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جو اپنی کلاس بدل لیتے ہیں۔
یہ بات کسی کو سمجھ نہیں آ سکتی کہ ایک شخص ساری زندگی کلرک رہ کے گزار جاتا ہے اور دوسرا اس جیسا شخص ہی حکمران بن جاتا ہے اوراس کے تابع ہزاروں، لاکھوں، کروڑوں ہوجاتے ہیں۔ معاملہ صرف حکمرانی کابھی نہیں ہے بلکہ اس سے بھی آگے کا ہے کہ کچھ حکمران، مرنے کے بعد بھی زندہ رہ جاتے ہیں اور کچھ اپنی زندگی میں ہی مر جاتے ہیں۔ کیا یہ سب کچھ قدرت کرتی ہے یا اس میں ان کی کوششوں کا کوئی عمل دخل ہوتا ہے۔
میں نے بہت ساروں کو یہ بھی کہتے سنا ہے کہ یہ ماں باپ کی دعائیں بھی ہوتی ہیں جو زندگی میں کامیاب کرتی ہیں جیسے میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف، ڈوبتے ہیں پھر پورے زور سے نکلتے ہیں۔ یقینی طور پرارب پتی خاندان ہونے کے باوجود انہوں نے اپنے والد اور والدہ کی بہت خدمت کی ہے۔ ان کے سامنے کبھی اُف تک نہیں کی اور میں اس وقت کی بات کر رہاہوں جب ان میں سے بڑا بھائی دو مرتبہ وزیراعظم اور چھوٹا بھائی وزیراعلیٰ رہ چکا تھا۔ ان کی جلاوطنی کے بعد واپسی ہوئی تو ائیرپورٹ پر لینڈ کرنے کے بعد داتا دربار گئے اور رات کوئی بارہ ایک بجے گھر پہنچے۔ تب الیکٹرانک میڈیا بہت زیادہ نہیں ہوتا تھا اور اخبارات کی لوکل کاپیوں کے جانے کا وقت تھا۔ پتا چلا کہ ان کے والد صاحب (میاں محمد شریف) سوچکے ہیں اور ان میں کسی کی اتنی جرات نہیں تھی کہ وہ اپنے والد کو جگا سکتے۔
ہم نے بہت مرتبہ ایسی تصاویر اور ویڈیوز دیکھیں کہ میاں نواز شریف بار بار وزیراعلیٰ اور وزیراعظم ہونے کے باوجود اپنی والدہ کی وہیل چیئر خود دھکیل رہے تھے۔ ہم مانتے ہیں کہ انہوں نے اپنے والدین کی بہت خدمت کی اور بہت دُعائیں لیں مگر دُعائیں توبہت سارے والدین دیتے ہوں گے تو سب بچوں کی قسمت نواز شریف اور شہباز شریف جیسی کیوں ہوتی؟ کہتے ہیں کہ عمران خان نے اپنی والدہ کے نام پر باقاعدہ کینسر ہسپتال بنا دیا مگر انہیں ایک ہی بار وزارت عظمیٰ ملی اور اب مجھے نہیں علم کہ وہ جیل سے باہر کب آئیں گے۔
شاید بات قسمت کی ہی ہے ورنہ دُعائیں تو بہت سارے لوگ کرتے ہیں اور کوشش بھی۔ میں حیران ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے میا ں شریف کی اولاد کو پانچ مرتبہ وزارت عظمیٰ اور چھ مرتبہ آدھے سے زیادہ پاکستان پر مشتمل صوبے پنجاب کی وزارت اعلیٰ دے دی اور ابھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ کہا جار ہا ہے کہ اگلے وزیراعظم میاں شہباز شریف ہی ہوں گے یا مریم نواز، جنہوں نے پنجاب کی گورننس سے اپنی سی وی بہت زیادہ مضبوط کر لی ہے اور انہیں اپنے والد کی سپورٹ بھی حاصل ہے۔
یہ عجیب وغریب کاونٹ ہے جس میں پاکستان میں ہر اچھی، کامیاب اور عوامی شے اسی خاندان کی حکمرانی سے منسوب ہے جیسے پاکستان میں انٹرنیٹ آیا، موبائل فون آیا، پرائیویٹ چینلز آئے، پہلی بار میٹرو بس بنی، موٹروے بنی، میٹرو ٹرین آئی تو یہی لائے، اللہ تعالیٰ نے انہی کی حکمرانی کو اعزاز دیا کہ اس میں پاکستان ایٹمی طاقت بننے کا اعلان کرے جس کے بعد کسی دوسرے ملک کی ہمت نہ رہے کہ اس پر باقاعدہ جنگ مسلط کر سکے اور اگر جنگ کرے بھی تو بھاگ نکلے۔
نواز شریف کے پہلے دور میں ہی آزادی کشمیر پورے عروج پر پہنچی۔ اسی خاندان کی حکمرانی تھی کہ پاکستان نے غزہ میں امن کے قیام میں اہم ترین کردارادا کیا اوراس کے بعد امریکہ ایران جنگ رکوانے کا سارا کریڈٹ ان ہی کے پاکستان کے پاس ہے، جی ہاں، پاکستان میں سب سے کم افراط زر ہو یا معاشی ترقی کی تیز رفتار وہ بھی اسی خاندان کے دور میں نظر آتی ہے۔ یقینی طور پر یہ قرآن کا سورہ نجم میں فیصلہ ہے کہ انسان کو وہی کچھ ملتا ہے جس کے لئے وہ کوشش کرتا ہے مگر کیا یہ سب اعزازات کسی دوسرے کو کسی کوشش سے مل سکتے ہیں، میرا نہیں خیال کہ یہ ممکن ہے، یہاں تو قدرت ہی کی بات کی جا سکتی ہے کہ وہ جس پر چاہے مہربان ہوجائے۔
ہارڈ ورک اور سمارٹ ورک کی بحث الگ مگریقین کیجئے میں آج تک قدرت اور کوشش کے درمیان فرق کونہیں ڈھونڈ سکا۔ اگر آپ کو کوئی حتمی جواب معلوم ہو تو مجھے ضرور بتائیے گا تاکہ میں اپنی حکمت عملی ترتیب دے سکوں، کیا یہ دعا اور کوشش کے سنگم پرکوئی راستہ ہے؟