کچھ ہستیاں ایسی ہوتی ہیں جن کے جانے سے صرف ایک گھر یا خاندان نہیں بلکہ ایک پورا عہد رخصت ہو جاتا ہے۔ علم و فضل کی محفلیں سونی ہو جاتی ہیں اور روحانیت کے وہ چشمے خشک ہونے لگتے ہیں جن سے پیاسی روحیں سیراب ہوا کرتی تھیں۔ گزشتہ دنوں ایسی ہی ایک ہستی جامعہ اشرفیہ کے مہتمم اور جید عالم دین مولانا فضل الرحیم اشرفی خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ یہ محض ایک عالمِ دین کی وفات نہیں تھی بلکہ ایک ایسے شفیق مربی، مخلص استاد اور صاحبِ دل انسان کا بچھڑنا تھا جس کی مثال آج کے قحط الرجال کے دور میں ملنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔
میرا ان سے رشتہ صرف ایک عقیدت مند کا نہیں بلکہ مجھے ان سے تلمذ کا وہ اعزاز حاصل ہے جو زندگی کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔ وہ ایک ایسے استاد تھے جو صرف کتاب نہیں پڑھاتے تھے بلکہ طالب علموں کے دلوں میں علم کی شمع روشن کر دیتے تھے۔ ان کی شخصیت میں علم کی ہیبت کے ساتھ ساتھ ایسی شفقت اور نرمی تھی کہ ان سے ملنے والا ہر شخص، چاہے وہ کوئی بڑا عالم ہو یا مبتدی طالب علم، یہی محسوس کرتا تھا کہ مولانا اسے سب سے زیادہ چاہتے ہیں۔ وہ ہر ایک کو اپنا بنا لینے کے فن سے واقف تھے۔ ان کی شفقت کے سائے اتنے گھنے تھے کہ ان کی موجودگی میں طالب علم خود کو تنہا محسوس نہیں کرتا تھا۔ وہ طلبا کے حق میں بے حد نرم دل تھے، ان کی غلطیوں پر چشم پوشی کرنا اور انہیں پیار و محبت سے سمجھانا ان کا خاصہ تھا۔ آج کے دور میں جہاں استاد اور شاگرد کا رشتہ محض رسمی ہو کر رہ گیا ہے، مولانا فضل الرحیم اشرفی صاحب ایک روحانی باپ کی طرح سروں پر سایہ فگن تھے۔
مولانا فضل الرحیم اشرفی صاحب کی زندگی کا ایک طویل حصہ مسندِ تدریس پر گزرا۔ وہ کئی سال سے بخاری شریف کا درس دے رہے تھے۔ بخاری شریف پڑھانا کوئی معمولی کام نہیں، یہ وہ عظیم سعادت ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے چیدہ چیدہ بندوں کو عطا فرماتا ہے۔ جب وہ بخاری شریف کے اوراق پلٹتے اور امام بخاریؒ کی روایات کو بیان کرتے، تو محسوس ہوتا تھا کہ علم و معرفت کے موتی بکھر رہے ہیں۔ ان کے درس میں جو سکون اور وقار ہوتا تھا، وہ الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ وہ جب قال رسول اللہ (ﷺ) کہتے، تو ان کے چہرے پر ایک خاص قسم کی چمک اور عقیدت دیدنی ہوتی تھی۔ وہ حدیث کے لفظوں کی روح تک پہنچتے تھے اور طلبا کو بھی اسی راستے کا مسافر بناتے تھے۔ ان کی تدریس میں صرف علم نہیں بلکہ ایک خاص قسم کی برکت شامل ہوتی تھی جو سننے والوں کے دلوں کو مسخر کر لیتی۔
اللہ تعالیٰ نے انہیں جہاں علم کی دولت سے نوازا تھا، وہیں ان کی آواز میں ایک سحر انگیز کشش بھی رکھی تھی۔ ان کے لہجے میں جو حلاوت تھی، وہ خاص طور پر اس وقت عروج پر ہوتی جب وہ قرآنِ کریم کی تلاوت فرماتے۔ مولانا جب قرآن پڑھتے تھے تو ایسا لگتا تھا جیسے دل کی بنجر زمین پر رحمت کی بارش ہو رہی ہو۔ ان کی قرات اتنی خوبصورت اور دلنشین ہوتی کہ سننے والا اپنی جگہ ساکت و جامد رہ جاتا۔ قرآن کے الفاظ ان کے لبوں سے نکل کر براہِ راست سننے والے کے دل میں اتر جاتے تھے۔ وہ قرآن کی تلاوت صرف زبان سے نہیں بلکہ دل کی گہرائیوں سے کرتے تھے، یہی وجہ تھی کہ ان کی تلاوت میں ایک ایسا اثر تھا جو پتھر دلوں کو بھی پگھلا دیتا تھا۔
مولانا کی شخصیت کا ایک اورخوبصورت پہلو ان کی رقعت آمیز دعا تھی۔ دعا میں جو تاثیر اور عاجزی ان کے ہاں دیکھی، وہ بہت کم کہیں نظر آتی ہے۔ جب وہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتے، تو ان کی آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑی جاری ہو جاتی۔ ان کی التجاؤں میں اپنے رب کے حضور وہ سادگی اور بیچارگی ہوتی تھی جو اللہ کی رحمت کو جوش میں لانے کے لیے کافی ہوتی۔ وہ جب امتِ مسلمہ کے لیے، اپنے ملک کے لیے اور انسانیت کے لیے گڑگڑا کر دعا کرتے، تو محسوس ہوتا تھا کہ کوئی سچا عاشق اپنے معشوق کے سامنے اپنی پوری جھولی پھیلا کر کھڑا ہے۔ ان کی دعاؤں کی وہ گونج آج بھی میرے کانوں میں رس گھولتی ہے اور محسوس ہوتا ہے کہ ان کا وہ لہجہ اب بھی کہیں فضاؤں میں موجود ہے جو اللہ سے مانگنے کا ہنر سکھاتا تھا۔
اہلِ اللہ اور علمائِ حق کا اس دنیا سے رخصت ہونا کوئی معمولی واقعہ نہیں، رسول اللہ ﷺ کی ایک مشہور حدیث کا مفہوم ہے کہ اللہ تعالیٰ علم کو لوگوں کے سینوں سے کھینچ کر نہیں اٹھائے گا بلکہ علما کی وفات کے ذریعے علم کو اٹھا لے گا۔ جب کوئی جید عالم دین اٹھتا ہے، تو علم کا ایک پورا باب بند ہو جاتا ہے۔ مولانا فضل الرحیم اشرفی صاحب کا جانا بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ان کا اٹھ جانا ملتِ اسلامیہ کے لیے ایک ایسا خسارہ ہے جس کی تلافی ممکن نہیں۔ وہ ایک ایسی مضبوط دیوار تھے جو فتنوں کے سامنے کھڑے تھے، وہ ایک ایسا چراغ تھے جو اندھیروں میں راہ دکھاتے تھے۔
ان کی وفات محض ایک فرد کی وفات نہیں بلکہ ایک ادارے، ایک مکتبِ فکر اور ایک عظیم روایت کے خاتمے کا عنوان ہے۔ ان کی پوری زندگی اسلام کی خدمت، اشاعتِ علم اور انسانیت کی فلاح کے لیے وقف تھی۔ وہ جامعہ اشرفیہ کے نظم و ضبط سے لے کر طلبا کی تربیت تک ہر معاملے میں خود پیش پیش رہتے تھے۔ ان کی انتظامی صلاحیتیں بھی کمال کی تھیں، لیکن ان سب پر ان کی درویشی اور عاجزی غالب رہتی تھی۔ ان سے ملنے والا ہر شخص ان کے اخلاق کا گرویدہ ہو جاتا۔ وہ کسی سے ملتے وقت یہ نہیں دیکھتے تھے کہ سامنے والا کس رتبے کا حامل ہے، بلکہ وہ ہر ایک سے ایک ہی طرح کی اپنائیت اور محبت سے ملتے تھے۔ ان کی مسکراہٹ میں ایک ایسی شفقت تھی جو اداس دلوں کے لیے مرہم کا کام کرتی تھی۔
ایک شاگرد کی حیثیت سے جب میں ان کے ساتھ بیتے ہوئے لمحات کو یاد کرتا ہوں، تو میرا دل بھر آتا ہے۔ ان کا وہ نرم لہجہ، وہ نصیحت آمیز جملے، وہ شفقت بھری نگاہیں اور وہ علم کا سمندر، سب کچھ اب ایک یاد بن چکا ہے۔ وہ بخاری شریف کے سبق میں جس طرح عشقِ رسول کے موتی پروتے تھے، اس کی تاثیر اب بھی میرے رگ و پے میں موجود ہے۔ انہوں نے ہمیں صرف کتابیں نہیں پڑھائیں بلکہ زندگی جینے کا فن سکھایا۔ انہوں نے سکھایا کہ علم کے ساتھ عمل کتنا ضروری ہے اور تقویٰ کے بغیر علم کی کوئی وقعت نہیں۔ وہ خود اپنے علم کا بہترین نمونہ تھے، ان کی زندگی ان کے کہے ہوئے لفظوں کی عملی تفسیر تھی۔
آج جب وہ ہمارے درمیان نہیں رہے، جامعہ اشرفیہ کے در و دیوار، طلبا، اساتذہ اور دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ان کے لاکھوں شاگرد آج یتیمی کا احساس کر رہے ہیں۔ ان کا خالی مصلیٰ، ان کی وہ مسندِ تدریس اور ان کی وہ جگہ جہاں سے وہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتے تھے، سب ان کی خوشبو کو تلاش کر رہے ہیں۔ لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ اللہ والے کبھی نہیں مرتے۔ وہ اپنے اخلاق، اپنے علم، اپنی تعلیمات اور اپنے پیچھے چھوڑے ہوئے لاکھوں تلامذہ کی صورت میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ مولانا فضل الرحیم اشرفی صاحب بھی ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ ان کی دی ہوئی روشن تعلیمات مشعلِ راہ بن کر ہمیں سیدھا راستہ دکھاتی رہیں گی۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ استاد محترم مولانا فضل الرحیم اشرفی صاحب کی قبر کو نور سے بھر دے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے پسماندگان و تلامذہ کو صبرِ جمیل عطا کرے۔ ان کی برکات سے ہمیں ہمیشہ فیضیاب فرمائے اور ان کا خلا پر کرنے کے لیے ایسے ہی مخلص اور جید علما پیدا فرمائے۔ علم کی جو شمع انہوں نے روشن کی تھی، اللہ کرے کہ وہ تاقیامت فروزاں رہے اور ان کے لگائے ہوئے پودے امتِ مسلمہ کے لیے سایہ دار درخت بن کر پھل دیتے رہیں۔