چین کے شہر شینزین میں قائم ایک بائیو ٹیکنالوجی کمپنی نے پوری دنیا کی توجہ اپنی طرف مبذول کرا لی ہے۔ یہ کمپنی ایک ایسی دوا تیار کرنے کا دعویٰ کررہی ہے جس سے انسانی عمر کو کئی سو سال تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس دوا کا بنیادی جزو انگور کے بیجوں سے حاصل ہونے والا مرکب پروسیانیڈن سی ون ہے۔ ابتدائی تجربات میں اس دوا کے ذریعے چوہوں کی اوسط عمر میں نمایاں بہتری لائی گئی ہے۔ کمپنی کا ماننا ہے کہ مستقبل قریب میں انسان کی عمر ڈیڑھ سو سال سے تین سو سال تک بڑھائی جا سکتی ہے۔ اگرچہ یہ دعویٰ ابھی سائنسی تحقیق کے ابتدائی مرحلے میں ہے لیکن اس خبر نے ایک پرانا سوال دوبارہ زندہ کر دیا ہے کہ کیا انسان واقعی موت پر قابو پا سکتا ہے اورکیا انسان کی ہمیشہ زندہ رہنے کی خواہش کا وقت آ گیا ہے؟
قدیم تہذیبوں میں آبِ حیات کی کہانیاں ملتی ہیں، کہیں اکسیر کی تلاش ہے، کہیں امرت کی جستجو، کہیں جادوئی چشموں کا ذکر اور کہیں ایسی جڑی بوٹیوں کی داستانیں جو انسان کو ہمیشہ کے لیے جوان رکھ سکیں۔ آج زمانہ بدل گیا ہے لیکن خواہش نہیں بدلی۔ فرق صرف یہ ہے کہ آج آبِ حیات کی جگہ جین ایڈیٹنگ، اسٹیم سیل، مصنوعی ذہانت، بائیو ٹیکنالوجی، نینو میڈیسن اور اینٹی ایجنگ ادویات نے لے لی ہے۔ مقصد اب بھی وہی ہے عمر کو زیادہ سے زیادہ بڑھانا اور اگر ممکن ہو تو موت کو شکست دینا۔
گزشتہ چند برسوں میں دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور سرمایہ کاروں نے عمر بڑھانے کی تحقیق میں اربوں ڈالر لگائے ہیں۔ امریکہ میں قائم Calico (جسے گوگل کی پیرنٹ کمپنی الفابیٹ نے شروع کیا) اسی مقصد کےلئے وجود میں آئی کہ بڑھاپے کے حیاتیاتی اسباب کو سمجھا جائے اور ان پر قابو پانے کے طریقے تلاش کیے جائیں۔ اسی طرح دنیا کے کئی دوسرے تحقیقی ادارے لمبی عمر، خلیاتی مرمت، جینیاتی تبدیلیوں اور جسمانی نظام کو زیادہ عرصے تک فعال رکھنے کے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔
سائنس اگر بڑھاپے کے عمل کو سست کرتی ہے، بیماریوں کا علاج دریافت کر تی ہے یا انسانی صحت کو بہتر بنا تی ہے تو یقیناًیہ ایک قابلِ قدر خدمت ہے۔ مذہب بیماری کے علاج اور انسانی جان بچانے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور خود رسول اکرم ﷺ نے مختلف بیماریوں کے علاج کی ترغیب دی ہے۔ اس لیے عمر بڑھانے کی طبی تحقیق اپنی اصل میں کوئی قابلِ اعتراض چیز نہیں مسئلہ مگر تب پیدا ہوتا ہے جب مذہب بے زار یہ تاثردینے لگتے ہیں کہ انسان موت پر قابو پا لے گا یا موت کو ہمیشہ کے لیے م¶خر کر دے گا۔ یہ دعویٰ صرف سائنسی نہیں بلکہ ایک وجودی اور فلسفیانہ دعویٰ بھی ہے جس کا تعلق انسان کی حقیقت اور کائنات میں اس کے مقام سے ہے۔
دور جدیدکے انسان کا المیہ یہ ہے کہ اس نے ٹیکنالوجی کوایک نئے مذہب کی شکل دے دی ہے۔ پہلے لوگ نجات کے لیے روحانی راستے تلاش کرتے تھے اور دور جدید کا انسان سائنس کو ہر مسئلے کا آخری حل سمجھتاہے۔ وہ یہ بھول جاتا ہے کہ سائنس کا دائرہ کار مادّی دنیا ہے۔ وہ یہ توبتا سکتی ہے کہ جسم کیسے کام کرتا ہے لیکن یہ نہیں بتا سکتی کہ انسان کیوں پیدا ہوا۔ وہ دل کی ساخت بیان کر سکتی ہے مگر محبت کی اخلاقی قدر کا فیصلہ نہیں کر سکتی۔ وہ دماغ کے نیورونز کی سرگرمی تودکھا سکتی ہے مگر یہ نہیں بتا سکتی کہ انصاف کیوں ضروری ہے یا ظلم کیوں غلط ہے۔ اسی طرح وہ زندگی کو کچھ عرصہ بڑھانے کی کوشش توکر سکتی ہے مگر یہ نہیں بتا سکتی کہ اس بڑھی ہوئی زندگی کا مقصد کیا ہوگا۔
چین کی حالیہ تحقیق، امریکہ کی بائیو ٹیک کمپنیوں کے منصوبے، رے کرزویل کی پیش گوئیاں یا ایلون مسک کے مستقبل کے خواب، یہ سب انسانی ذہانت کی غیر معمولی صلاحیتوں کا اظہار ضرور ہیں مگر ان میں سے کوئی بھی اس اٹل حقیقت کو تبدیل نہیں کرسکتا کہ انسان مخلوق ہے خالق نہیں۔ وہ قوانینِ فطرت کو سمجھ سکتا ہے، ان سے فائدہ اٹھا سکتا ہے مگر انہیں مکمل طور پر منسوخ نہیں کر سکتا۔ اگر وہ بیماریوں کا علاج دریافت کرتا ہے تو یہ بھی انہی قوانینِ کائنات کے اندر رہ کر سکتا ہے جنہیں اس نے خود پیدا نہیں کیا۔ اس لیے مناسب اور متوازن رویہ یہ ہے کہ سائنس کو انسانی خدمت کا ذریعہ سمجھا جائے، بیماریوں کے علاج اور زندگی کے معیار کی بہتری کے لیے اس کی حوصلہ افزائی کی جائے مگر اسے الوہیت کا درجہ نہ دیا جائے۔
دور جدید کے مذہب بے زاروں کا المیہ یہ ہے کہ یہ جس چیز کے ذریعے مذہب کو جھٹلانا چاہتے ہیں وہی چیز مذہب کی حقانیت کو مزید واضح کر دیتی ہے۔ چودہ سو سال پہلے قرآن نے جس حقیقت کا اعلان کیا تھا آج سائنس اس حقیقت کو مزید واضح کر رہی ہے۔ مذہب نے سیکڑوں سال پہلے کہا تھا انسان فانی ہے، اس کی زندگی محدود ہے اور موت کے بعد ایک جواب دہی ہے۔ اس لیے انسان کے لیے اصل دانش مندی یہ نہیں کہ وہ صرف اپنی عمر بڑھانے کی فکر میں لگا رہے بلکہ اصل دانش مندی یہ ہے کہ وہ اپنی باقی ماندہ زندگی کو بہتر بنائے، اپنے رب کو پہچانے، اپنے اعمال درست کرے اور اس دن کی تیاری کرے جب اسے اپنے خالق کے سامنے حاضر ہونا ہوگا۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے مذہب ابتدا سے بیان کرتا آیا ہے اور یہی وہ حقیقت ہے جسے جدید سائنسی پیش رفت بھی ثابت کر رہی ہے۔ جیسے جیسے انسان کائنات کے رازوں سے آگاہ ہو رہا ہے اتنا ہی اسے اپنی محدودیت کا احساس بھی ہو رہا ہے۔ موت اب بھی ایک اٹل حقیقت ہے اور اس حقیقت کے بعد آخرت، حساب اور جزا و سزا کا مرحلہ انسان کی اصل اور دائمی منزل ہے۔