Sunday, 05 April 2026
  1.  Home
  2. Express
  3. Khalid Mehmood Rasool
  4. Food Security: Dakhli Masail Aur Aalmi Supply Shocks

Food Security: Dakhli Masail Aur Aalmi Supply Shocks

​پاکستان کا زرعی شعبہ اس وقت سہ طرفہ مسائل میں گھرا ہوا ہے۔ ایک طرف داخلی پالیسیوں کا تضاد اور سالہا سال کی پیداواری تنزلی ہے تو دوسری طرف موسمیاتی تبدیلیاں پیداوار کو متاٹر کر رہی ہیں اور اب تیسرا محاذ مشرقِ وسطیٰ میں ایران اسرائیل کشیدگی کی صورت میں کھلا ہے جس نے عالمی سپلائی چین، کو لرزا کر رکھ دیا ہے۔ فوڈ سیکورٹی ملک کے لئے قومی سلامتی، کا سنگین چیلنج ہے۔ کسان پہلے ہی گوں ناگوں مسائل کا شکار تھا، لیکن اب تیل کی نئی قیمتوں اور ایران جنگ سے جڑے سپلائی شاکس، نے تمام کاشتکاروں بالخصوص چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاشتکاروں کو مزید مشکلات میں دھکیل دیا ہے۔

گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران پاکستان کے زرعی منظرنامے پر جو سب سے بڑی ضرب لگی، وہ حکومت اور کسان کے درمیان اعتماد کا رشتہ، ٹوٹنا تھا۔ پاکستان اکنامک سروے 2024-25 کے اعداد و شمار گواہی دیتے ہیں کہ زراعت کی شرح نمو جو کبھی معیشت کا انجن تھی، اب محض 0.56 فیصد پر رینگ رہی ہے۔ خاص طور پر گندم کے معاملے میں حکومت کی اوپن مارکیٹ، پالیسی نے چھوٹے کسان کو شدید اور غیر متوقع جھٹکا دیا۔ گزشتہ سال گندم کی بے جا درآمد اور پھر مقامی خریداری سے حکومتی لاتعلقی نے مارکیٹ میں جو بے یقینی پیدا کی، اس کا اثر کسانوں میں عمومی اضطراب اور کی صورت میں نظر آ رہا ہے۔

اس سال کسان گندم اور چینی سمیت کئی اجناس کی وافر پیداوار کے باوجود بین الصوبائی نقل و حرکت پر پابندیوں کی وجہ سے مناسب قیمت نہ ملنے کی مشکل میں پھنس کر رہ گیا ہے۔ مارکیٹ میں۔ دوررس۔ ل استحکام اور۔ کاشتکاروں کے اعتماد بحال کرنے کا تقاضا ہے کہ صوبوں کے درمیان نقل و حرکت۔ کی پالیسی پر نظر ثانی کی جائے، اس کے ساتھ ساتھ فاضل پیداوار کی بروقت برآمدی بندوبست کرنے کی بھی ضرورت ہے تاکہ طلب و رسد کا مارکیٹ میکنزم متناسب رہے اور کسان کو مناسب قیمت مل سکے۔

عالمی ادارے FAO (ادارہ برائے خوراک و زراعت) اور IPC کی مارچ 2026 کی تازہ ترین رپورٹس بتاتی ہیں کہ پاکستان کی 21 فیصد آبادی یعنی تقریباً ساڑھے سات ملین افراد تیسرے درجے، (Crisis Level) کے غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ اسی تناظر میں ورلڈ بینک کی پیداواری خلیج، (Yield Gap) رپورٹ ایک اور چشم کشا حقیقت کی مظہر ہے کہ پاکستان میں گندم کی فی ایکڑ پیداوار عالمی اوسط سے 40 فیصد کم ہے۔ اگر ہم صرف بھارتی پنجاب سے اپنا موازنہ کریں تو وہاں کی فی ایکڑ پیداوار ہم سے 35 فیصد زیادہ ہے۔ یہ فرق زمین کی زرخیزی کا نہیں بلکہ جدید بیج، ٹیکنالوجی، بہتر مارکیٹنگ، قرضوں کی فراہمی اور حکومتی پالیسیوں میں تضاد کا نتیجہ ہے۔

اس گھمبیر صورتحال میں ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان حالیہ فوجی تصادم نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے سائے عالمی توانائی کی منڈیوں پر براہِ راست اثر انداز ہوئے ہیں۔ خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ پاکستان جیسے ملک کے لیے، جس کا زرعی ڈھانچہ مکمل طور پر درآمدی ایندھن پر کھڑا ہے، ایک مہلک جھٹکا ثابت ہو سکتا ہے۔ حکومت کے وقتی سپورٹ کے اقدامات قابل قدر ہیں لیکن مکمل۔ تلافی کے کئے ناکافی ہیں۔

​ایران جنگ کے نتیجے میں تیل کی سپلائی میں رکاوٹ نے ٹریکٹرز، ٹیوب ویلز اور کٹائی کی مشینوں کے کرایوں میں 20 فیصد تک اضافہ سنا گیا ہے۔ چھوٹا کسان جو پہلے ہی کھاد کی بوری 12 سے 15 ہزار روپے میں خریدنے پر مجبور تھا، اب ڈیزل کی نئی قیمتوں کے سامنے بے بس ہو چکا ہے۔

​پاکستان کی کھاد کی صنعت کا انحصار گیس اور ایندھن پر ہے۔ عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتوں کا بڑھنا براہِ راست یوریا اور ڈی اے پی کی قیمتوں کو متاثر کرتا ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) کے مطابق، اگر ان پٹ لاگت اسی تناسب سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں خریف کی فصلوں کی پیداوار میں مزید 10 سے 12 فیصد کمی کا خدشہ ہے۔

​ ایران کے راستے ہونے والی زمینی تجارت اور آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) میں کشیدگی نے بحری مال برداری کے کرایوں (Freight Charges) کو ریکارڈ سطح پر پہنچا دیا ہے۔ پاکستان جو اپنی خوردنی تیل کی ضروریات کا 90 فیصد درآمد کرتا ہے، اب اس امپورٹ بل، میں اربوں ڈالر کے اضافے کا سامنا کر رہا ہے، جس کا بوجھ براہِ راست عام صارف کی جیب پر پڑے گا۔

ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) کی "پاکستان اکنامک آپ ڈیٹ 2026" واضح کرتی ہے کہ اگر زراعت میں دوررس اسٹرکچرل اصلاحات اور پیداواری صلاحیتوں میں اضافے کے اقدامات نہ اٹھائے گئے تو پاکستان کی۔ زرعی پیداوار میں کمی کے سبب مستقبل میں ملک کا تجارتی خسارہ کنٹرول کرنا ناممکن ہو جائے گا۔

​موجودہ تناظر میں سب سے بڑا چیلنج سپلائی شاکس، کے اثرات کو کم کرنا ہے۔ جب عالمی منڈی میں خوراک کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو پاکستان جیسے ملک میں جہاں غریب اپنی آمدنی کا 50 فیصد سے زائد خوراک پر خرچ کرتا ہے، وہاں سماجی بے چینی، (Social Unrest) لازمی ہے۔ حالیہ مہینوں میں سبزیوں اور دالوں کی قیمتوں میں جو اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، خدشہ ہے حالیہ عالمی سپلائی چین کے سبب مزید مشکلات کا باعٹ ہو سکتا ہے۔

​حکومتی سطح پر جو اقدامات نظر آ رہے ہیں، وہ عارضی ریلیف، تو ہو سکتے ہیں لیکن پائیدار حل نہیں۔ زراعت کو اب محض ایک روایتی پیداواری سیکٹر کے طور پر نہیں بلکہ ایک انڈسٹری، کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔

​اول، ہمیں کلائمیٹ ریزیلنٹ، بیجوں کی طرف فوری منتقلی کرنی ہوگی تاکہ بدلتے موسموں کا اثر کم سے کم ہو۔ اس کے ساتھ ہی روایتی اور۔ فرسودہ مارکیٹ نظام کے نئے تقاضوں سے اہم آہنگ کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے۔

​دوم، انرجی سیکٹر میں زرعی ٹیوب ویلز کی سولرائزیشن اب کوئی انتخاب نہیں بلکہ ضرورت بن چکی ہے تاکہ ہم عالمی تیل کی قیمتوں کے رحم و کرم پر نہ رہیں۔ علاوہ ازیں میکنایزیشن اور پیش قیمت نئی فصلوں کے اہتمام بھی ضروری ہے۔

​سوم، ورلڈ بینک کی تجویز کے مطابق، ہمیں گندم کی خریداری کے پرانے اور کرپٹ نظام کو ختم کرکے براہِ راست کسان کو کیش کریڈٹ، کا نظم وضع کرنا ضروری یے۔ علاؤہ ازیں کسان دوست مارکیٹ پالیساں اور بندوبست، اسٹوریج اور آسان قرضوں کی فراہمی کا سہل اور موٹر نظام وضع کرنا ہو ہوگا تاکہ مڈل مین کا کردار ختم یا کم ہو سکے۔

​پاکستان کی غذائی بقا یعنی فوڈ سیکورٹی کا راستہ کھیتوں، سے گزرتا ہے۔ کسان جو اس مٹی کا وارث ہے، گزشتہ کئی دہائیوں مختلف نوعیت کے اسٹرکچرل مسائل کے سبب زرعی پیداوار میں کمی کا شکار ہے۔ ایران جنگ سے جنم لینے والے نئے جغرافیائی و معاشی چیلنجز نے کسان کے لئے مشکلات کا نیا پنڈورہ باکس کھول دیا ہے۔ اس وقت۔ حکومت کو تمام کاشتکاروں بالخصوص چھوٹے کسان کو سہارا دینے اور مارکیٹ کی بے ترتیبی یعنی Analmolies کو دور کرنے کی اشد اور فوری ضرورت ہے تبھی ملکی کی فوڈ سیکیورٹی، ممکن ہو پائے گی۔