Tuesday, 13 January 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Javed Chaudhry
  4. Sohail Afridi Ka Akhri Jalsa

Sohail Afridi Ka Akhri Jalsa

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا، تھوڑی دیر دائیں بائیں دیکھا اور پھر خشک لہجے میں پوچھا "آپ مارشل لاء کب اٹھا رہے ہیں؟" جنرل صاحب یہ سن کر حیرت سے اس کی طرف دیکھنے لگے اور پھر وقت کا دھارا بدلتا چلا گیا، وہ کون تھا، اس کا نام محمد خان جونیجو تھا اور جنرل صاحب تھے فاتح افغانستان جنرل ضیاء الحق اور سن تھا 1985ء، دنیا کے ہر آمر کا ایک آنے کا دن ہوتا ہے اور ایک جانے کا، جنرل ضیاء الحق اس دن آنا شروع ہو گئے تھے جس دن ذوالفقار علی بھٹو نے دو تہائی اکثریت کے لیے قبل از وقت الیکشن کا فیصلہ کیا تھا اورجنرل ضیاء کی رخصتی کا سفر اس وقت شروع ہوگیا تھا جب امریکی صدر ریگن نے انہیں یونیفارم اتار کر سویلین صدر بننے کا مشورہ دیا۔

جنرل ضیاء الحق ذہین انسان تھے، وہ امریکی نبض پڑھ لیتے تھے، انہیں اس دن محسوس ہوگیا مجھے اب آمریت کو جمہوریت کا برقعہ پہنانا ہوگا چناں چہ انہوں نے 1984ء میں اپنے "باس" کی تلاش شروع کر دی، پیر صاحب پگاڑا شریف جنرل ضیاء کے بہت قریب تھے، انہوں نے انہیں اپنا مرید محمد خان جونیجو دے دیا، جونیجو صاحب سانگھڑ کے علاقے سندھڑی کے درمیانے درجے کے زمین دار تھے، کیمبرج یونیورسٹی اور برٹش انسٹی ٹیوٹ آف ایگری کلچر سے فارغ الحتصیل تھے۔

پرانے سیاست دان بھی تھے لیکن شکل و صورت اور چال ڈھال سے کم زور اور مسکین دکھائی دیتے تھے، سیاست میں ان کا کوئی دھڑا بھی نہیں تھا، لوگ ان کے نام سے بھی واقف نہیں تھے، ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے دور میں ان کو ٹھیک ٹھاک رگڑا لگایا تھا جس کی وجہ سے یہ سیاست سے تائب ہو گئے تھے، جنرل ضیاء نے اقتدار میں آنے کے بعد انہیں 1978ء میں ریلوے کا وزیر بنادیا لہٰذا یہ جنرل صاحب کو اپنا محسن سمجھتے تھے۔

پاکستان کی تاریخ ہے ہمارے ہر طاقتور جنرل نے ہمیشہ ایک ایسے کم زور وزیراعظم کا انتخاب کیا جو فائلیں پڑھے بغیر ان پر سائن کر دے اور انہیں ایکسٹینشن پر ایکسٹینشن دیتا چلا جائے اور دوسری طرف ہر وزیراعظم ایک ایسا کم زور آرمی چیف تلاش کرتا رہا جو اپنے لالچ میں اسے برداشت کرتا رہے اور اس کی تمام خامیوں اور حماقتوں پر خاموش رہے چناں چہ وزیراعظم اور آرمی چیف دونوں ہر دور میں "سوٹ ایبل باس" تلاش کرتے رہے اور اس تلاش میں ملک کا بیڑا غرق ہوگیا۔

جنرل ضیاء الحق بھی ایک ایسا ہی سوٹ ایبل باس تلاش کر رہے تھے، جو آئے، وزیراعظم بنے، کابینہ کے اجلاس کی صدارت کرے اور چپ چاپ جنرل ضیاء الحق کی خواہشوں پر جمہوری مہر لگا دے، اس باس کا اندھا ہونا بھی ضروری تھا تاکہ اسے مارشل لاء، ایمرجنسی اور یونیفارم نظر نہ آ سکے، جنرل ضیاء کو محمد خان جونیجو میں یہ ساری خوبیاں نظر آ رہی تھیں، وہ بھٹو سے عداوت رکھتے تھے، کم زور اور مسکین دکھائی دیتے تھے، سیاسی دھڑا نہیں تھا۔

جنرل ضیاء الحق ان کے محسن تھے اورآخری خوبی یہ پیر پگاڑا کے مرید تھے اور پیر صاحب جنرل صاحب کے دوست تھے چناں چہ انہیں وزیراعظم بنانے کا فیصلہ کر لیا گیا لیکن اعلان کے دوسرے ہی دن پہلی ملاقات میں جونیجو صاحب نے جنرل ضیاء الحق سے پوچھ لیا "آپ مارشل لاء کب اٹھا رہے ہیں؟" اور یہ سوال بم بن کر جنرل ضیاء کے سر میں پھٹ گیا لیکن برداشت کے سوا اب کوئی چارہ نہیں تھا یوں محمد خان جونیجو وزیراعظم بن گئے اور انہوں نے اسمبلی میں اپنی تقریر میں فرما دیا "جمہوریت اور مارشل لاء اکٹھے نہیں چل سکتے" یہ دوسرا بم تھا لیکن پھر بم کے اوپر بم گرتے چلے گئے۔

وزیراعظم نے مارشل لاء کے خاتمے کے لیے خصوصی پارلیمانی کمیٹی بنا دی جس کے بعد جنرل ضیاء الحق 30 دسمبر 1985ء کو مارشل لاء اور ایمرجنسی کے خاتمے پر مجبور ہو گئے، جونیجو صاحب اگر یہاں تک محدود رہتے تو بھی شاید گزارا ہو جاتا لیکن انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی بے نظیر بھٹو کو پاکستان آنے کی اجازت دے دی، بے نظیر اس وقت برطانیہ میں جلاوطنی کاٹ رہی تھیں اور پوری دنیا کا خیال تھا جب تک جنرل ضیاء زندہ ہیں یہ واپس نہیں جا سکیں گی لیکن یہ کام جنرل صاحب کی زندگی میں ہوگیا اور ان کے اپنے وزیراعظم کے ہاتھوں ہوگیا، محترمہ بے نظیر بھٹو 10 اپریل 1986ء کو لاہور اتریں، پورے لاہور نے باہر نکل کر ان کا استقبال کیا اور اس استقبال نے جنرل ضیاء الحق کے قدموں سے زمین کھینچ لی۔

ہم اگر آج پیچھے مڑ کر دیکھیں تو ہمیں محسوس ہوگا محمد خان جونیجونے وزیراعظم بننے کے بعد جتنے بھی قدم اٹھائے ان کا مقصد جنرل ضیاء الحق کو زچ اور کم زور کرنا تھا، جنرل ضیاء نے عالمی عروج دیکھا تھا، وہ امریکا اور یورپ کی آنکھوں کے تارے رہے تھے، وہ ملک کے سیاہ و سفید کے مالک بھی رہے تھے لیکن اب وہ اپنے ہی تخلیق کردہ باس کے شکار ہو رہے تھے اور باس روز ان کی انا کی پرتیں اتارتا چلا جا رہا تھا، جنرل ضیاء کے اعصاب بہت مضبوط تھے، وہ ہر صدمہ، ہر وار برداشت کر گئے لیکن جب جنیوا اکارڈ سے قبل 5 مارچ 1988ء کو محمد خان جونیجو نے اسلام آباد میں آل پارٹیز کانفرنس بلائی اور اس میں محترمہ بے نظیر بھٹو کو اپنے ساتھ بٹھا لیا تو یہ ان کے لیے قابل قبول نہیں تھا۔

یہ اونٹ کی کمر پر آخری تنکا تھا، جو نیجو اگر یہاں بھی بس کر دیتے تو شاید معاملات کنٹرول میں رہتے لیکن انہوں نے اس کے بعد اونٹ کو ٹھڈا بھی مار دیا، انہوں نے افغانستان پر جنیوا اکارڈ کر دیا، یہ جنرل ضیاء کی منشاء کے خلاف تھا اور یوں محمد خان جونیجو 29 مئی 1988ء کو چین کے دورے سے واپس آ رہے تھے، یہ فضا میں تھے اور جنرل ضیاء الحق نے ان کی حکومت اسمبلیوں سمیت تحلیل کر دی، وزیراعظم اسلام آباد ائیر پورٹ پر اترے تو وہ وزیراعظم نہیں تھے، یہ اس کے بعد باقی زندگی دوبارہ وزیراعظم بننے کی کوشش کرتے رہے مگر اقتدار، شہرت اور دولت اگر ایک بار چلی جائے تو یہ بہت کم لوگوں کو دوبارہ نصیب ہوتی ہے اور محمد خان جونیجو ان خوش قسمت لوگوں میں شامل نہیں تھے۔

تاریخ کی سب سے بڑی خوب صورتی یہ ہے آپ اس کا تجزیہ کر سکتے ہیں اور آپ کو اگر اللہ تعالیٰ نے عقل دی ہو تو آپ اس سے سبق بھی سیکھ سکتے ہیں لیکن المیہ یہ ہے انسان تاریخ سے سبق نہیں سیکھتا، ہمارے آج کے سیاست دان بھی محمد خان جونیجو سے سبق نہیں سیکھیں گے تاہم یہ ان واقعات کا تجزیہ ضرور کر سکتے ہیں اور تجزیے کے مطابق اگر جونیجو صاحب آگ کو پھونک نہ مارتے اور سنبھل کر چلتے تو آج حالات قدرے مختلف ہوتے۔

جنرل ضیاء الحق نے انہیں موقع دیا تھا، یہ میاں شہباز شریف کی طرح سنبھل سنبھل کر قدم رکھتے جاتے تو درمیان میں دراڑ نہ آتی اور یوں آج کی تاریخ قدرے مختلف ہوتی، مجھے بعض اوقات محسوس ہوتا ہے شہباز شریف نے جونیجو کے انجام سے سبق سیکھا اور یہ اس لیے احتیاط سے چل رہے ہیں، جونیجو اگر رک جاتے تو مارشل لاء نے بہرحال ختم ہو جانا تھا، یہ اس کے قدرتی وقت کا انتظار کر لیتے، دوسرا اگر وہ یہ غلطی کر بیٹھے تھے تو پھر محترمہ بے نظیر بھٹو کو واپس لانے کی کیا ضرورت تھی؟ چلیں یہ بھی ہوگیا تو پھر افغان ایشو پر آل پارٹیز کانفرنس بلانے کی کیا ضرورت تھی، آپ نے یہ بھی کر لیا مگراس میں محترمہ کو ساتھ بٹھانے اور ان کی موجودگی میں جنرل ضیاء الحق کی پالیسی کا تبریٰ کرنے کیا ضرورت تھی چناں چہ نتیجہ سامنے تھا، آپ جب چوٹ پر چوٹ لگاتے چلے جائیں گے تو اس کا کوئی نہ کوئی رزلٹ تونکلے گا اور وہ نکل گیا۔

آپ یہاں محترمہ کا سیاسی ظرف دیکھیے، محمد خان جونیجو نے محترمہ بے نظیر بھٹو کے لیے اپنے اقتدارکی قربانی دی تھی، محترمہ کو جواب میں انہیں عزت دینی چاہیے تھی اور اقتدار میں آنے کے بعد انہیں شریک اقتدار بھی بنانا چاہیے تھا لیکن آپ سیاست کی ستم ظریفی دیکھیے محترمہ نے جونیجو کی طرف مڑ کر بھی نہیں دیکھا اور یوں جونیجو صاحب صرف 61 سال کی عمر میں امریکا میں کینسر کے ہاتھوں انتقال کر گئے لہٰذا پھر ان کی ساری اصول پرستی اور جمہوریت نوازی کا کیا فائدہ ہوا؟ اب یہی غلطی بلاول بھٹو کر رہے ہیں۔

پیپلز پارٹی نے 27 ویں ترمیم کے دوران اسٹیبلشمنٹ کو دو تین مرتبہ بلیک میل کرنے کی کوشش کی، ترمیم کی منظوری سے ایک رات قبل بھی ٹھیک ٹھاک پھڈا ہوگیا تھا لیکن بہرحال ترمیم نے ہونا تھا اور یہ ہوگئی مگر درمیان میں دراڑ آ گئی، یہ معاملہ یہاں تک رہتا تو بھی حالات ٹھیک ہو سکتے تھے لیکن پیپلز پارٹی نے 11 جنوری کو پی ٹی آئی کو باغ جناح میں جلسے کی اجازت دے کر اس دراڑ میں مزید اضافہ کر دیا، سہیل آفریدی کراچی جانا چاہتے تھے، یہ چلے جاتے لیکن پیپلز پارٹی نے ائیرپورٹ پر ان کا استقبال کرکے دوسری غلطی کر دی، یہ غلطی بھی برداشت ہو سکتی تھی لیکن پھر جلسے کی اجازت دے دینا، لوگوں کا نکل آنا اور پھر سہیل آفریدی کی تقریر کا میڈیا پر چل جانا یہ ناقابل برداشت ہے اور اونٹ کی کمر پر تنکے ہیں۔

میں تاریخ کا طالب علم ہوں چناں چہ میں حالات کی یہ تبدیلی دیکھ کر بڑی آسانی سے کہہ سکتا ہوں یہ سہیل آفریدی کا آخری جلسہ اور بلاول بھٹو کی آخری ڈھیل تھی، آفریدی کو اب مزید جلسوں اور بلاول بھٹو کو مزید اجازتوں کی اجازت نہیں ملے گی، بلاول بھٹو جونیجو صاحب جیسی غلطی کر بیٹھے، انہوں نے دشمنوں کو گھر بھی بلا لیا اور انہیں چھت پر کھڑے ہو کر تقریر کا موقع بھی دے دیا، یہ غلطی ناقابل معافی ہے، یہ ہاتھی کے منہ سے گنا کھینچنے کے مترادف ہے چناں چہ یہ اب سزا بھگتنے کے لیے تیار ہو جائیں، سہیل آفریدی بھی اب تیاری کر لیں، یہ بھی ہاتھی کے پائوں سے نہیں بچ سکیں گے۔

About Javed Chaudhry

Javed Chaudhry

Javed Chaudhry is a newspaper columnist in Pakistan. His series of columns have been published in six volumes in Urdu language. His most notable column ZERO POINT has great influence upon people of Pakistan especially Youth and Muslims of Pakistan. He writes for the Urdu newspaper Daily Express four time a week, covering topics ranging from social issues to politics.