Tuesday, 21 April 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Javed Chaudhry
  4. Great Game (3)

Great Game (3)

ہم بائبل پڑھیں، قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ کریں یا پھر اینتھروپالوجی کی ریسرچ دیکھیں تو ہمیں محسوس ہوگا یہ سب چند نقطوں پر متفق ہیں، مثلاً حضرت آدمؑ اور بی بی حواءؑ دونوں کا تعلق مڈل ایسٹ سے تھا اور یہ خلیج فارس کے دائیں بائیں رہتے تھے، سائنس اور بائبل گارڈن آف ایڈن کا مقام بصرہ سے 130کلومیٹر کے فاصلے پر موجود القرعہ ٹائون بتاتی ہے، یہ مقام اب سمندر میں زیر آب ہے، اسلامی روایات مزدلفہ کو حضرت آدمؑ اور حضرت حواءؑ کا مقام اتصال قرار دیتی ہیں، ہابیل اور قابیل کا واقعہ شام میں پیش آیا تھا۔

آپ یہ جان کر شاید حیران ہوں شیطان بھی عراق میں اترا تھا، اربیل میں اس کا باقاعدہ ٹیمپل اور اس کے ماننے والے موجود ہیں، یہ یزیدی کہلاتے ہیں، ان کی آبادی سات سے 15 لاکھ کے درمیان ہے اور یہ شیطان کی عبادت کرتے ہیں، ان کے عقائد کے مطابق اللہ تعالیٰ نے آدم اور حواء کو پیدا کیا اور پھر ابلیس (شیطان) کو انہیں سجدہ کرنے کا حکم دیا، ابلیس نے انکار کر دیا، یہ لوگ یہاں تک بائبل اور قرآن مجید کے دعوئوں کو تسلیم کرتے ہیں لیکن یہ اس کے بعد ایک نئی کہانی سناتے ہیں، ان کے بقول اللہ تعالیٰ نے جب ابلیس سے انکار کی وجہ پوچھی تو شیطان نے کہا میں نے ہمیشہ آپ کو سجدہ کیا، میں کسی غیراللہ کے سامنے کیسے جھک سکتا ہوں، یہ شرک ہے اور میں اس کے لیے تیار نہیں ہوں۔

یزیدیوں کے بقول اللہ تعالیٰ نے اس کا یہ جواز قبول کر لیا اور اسے شاباش دی اور بعدازاں آدم اور حواء کو جنت سے نکال دیا، یہ جب نکلے تو شیطان نے اللہ سے عرض کی، آپ مجھے بھی ان کے ساتھ جانے دیں تاکہ میں ان پر نظر رکھ سکوں، اللہ نے یہ درخواست قبول کر لی اور یوں یہ بھی اربیل کے علاقے میں بنی آدم کے قریب آباد ہوگیا، یزیدی شیطان کو اپنا امام مانتے ہیں، ان لوگوں کا سب سے بڑا ٹیمپل اربیل سے دو گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے، یزیدی دنیا میں شیطان کے واحد معلوم پجاری اور یہ ٹیمپل واحد عبادت گاہ ہے، یہ ثابت کرتا ہے یہ واقعہ آج کے عراق میں وقوع پذیر ہوا تھا، سولائزیشن کے ماہرین اربیل شہر کو دنیا کا قدیم ترین شہر قرار دیتے ہیں، ان کے بقول انسان نے کھیتی باڑی بھی یہاں شروع کی اور پہیہ اور کپڑا بھی یہیں ایجاد کیا۔

حضرت نوحؑ کا تعلق بھی عراق (میسوپوٹیمیا) کے اسی علاقے سے تھا، یہ بنیادی طور پر دو دریائوں دجلہ اور فرات کا درمیانی علاقہ تھا اور یہ میسو پوٹیمیا کہلاتا تھا، (میسو پوٹیمیا کا مطلب دو دریائوں کی درمیانی جگہ ہوتا ہے) آج کے ترکی، شام اور عراق کے بڑے علاقے میسو پوٹیمیا میں شامل تھے، طوفان نوح کے بعد یہاں خلیج فارس بن گیا اور یہ علاقے پانی کی وجہ سے مختلف ملکوں اور خطوں میں تقسیم ہو گئے، انسانوں کی آبادیاں پھیلتی رہیں، قبیلے قبیلوں سے لڑتے رہے، لوگ میسو پوٹیمیا سے باہر نکلتے رہے، آباد ہوتے رہے اور ملک بنتے، ٹوٹتے اور پھر بنتے رہے اور یوں وقت کا پہیہ آگے بڑھتا رہا۔

دنیا کے تمام قدیم ترین شہر اسی علاقے میں ہیں، واٹر ایج (طوفان نوح) کے بعد آئس ایج (برف کا زمانہ) آیا، اس زمانے میں گہرے بادلوں نے سورج کو ڈھانپ لیا تھا جس کے نتیجے میں پوری زمین جم گئی حتیٰ کہ سمندر بھی ٹھوس ہو گئے، اس زمانے میں گوشت انسانوں کی واحد خوراک تھا، اس دور میں انسانوں کا ایک گروہ رینڈئیرز کا پیچھا کرتے ہوئے سنٹرل ایشیا اور پھر آج کے روس اور وہاں سے الاسکا اور الاسکا سے آج کے امریکا پہنچ گیا، یورپ میں بھی یہی لوگ آباد ہوئے تھے۔

دوسرا گروہ گرم زمینوں کی تلاش میں برصغیر اور مشرق بعید پہنچ گیا اور تیسرا گروہ افریقہ آباد ہوگیا، یہ تینوں گروہ بعدازاں ایک دوسرے اور تیسرے سے ملتے رہے اور یوں انسانوں کی مختلف قسمیں، گروہ اور قومیتیں بنتی چلی گئیں، آپ یہ جان کر حیران ہوں گے یہ سارا کھیل دس بارہ ہزار سال سے زیادہ نہیں، یہودی اس کا دورانیہ چھ ہزار سال بتاتے ہیں، ہمیں آج انسانوں کے جو ڈھانچے دس ہزار سال پرانے ملتے ہیں وہ قدیمی انسانوں کے ہیں، وہ آدمی (حضرت آدمؑ کی اولاد) نہیں تھے، وہ ہم سے پہلے اس زمین پر آباد تھے اور بقول ڈارون وہ ارتقاء کے عمل سے گزر کر بندر، چمپینزی اور بن مانس سے انسان بنے تھے، ہم آدمی ان کا "پرومیکس" ورژن ہیں، ہمارے دماغ کا سائز ان سے دگنا بلکہ سہ گنا ہے لہٰذا ہم کون ومکان کی حدود سے باہر نکل گئے ہیں اور ہم نے وہ بھی ایجاد یا دریافت کر لیا جس کے بارے میں دوسری مخلوقات سوچ بھی نہیں سکتی تھیں۔

میں اپنے موضوع کی طرف واپس آتا ہوں، یہ سلسلہ ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوا تھا، شام کی کسی گھاٹی میں قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کر دیا اور اس کے بعد فسادات کا وہ سلسلہ شروع ہوگیا جس کے بارے میں فرشتوں نے پیشن گوئی کی تھی "یہ زمین پر فساد پھیلائے اور خون خرابہ کرے گا" (البقرہ آیت 30) آپ اگر تاریخ کا مطالعہ کریں تو آپ چار نتائج پر پہنچیں گے، اول تمام آسمانی مذاہب مڈل ایسٹ میں اترے، دوم ہابیل قابیل سے لے کر دوسری عالمی جنگ تک دنیا کی تمام بڑی جنگیں مڈل ایسٹ سے شروع ہوئیں یا یہاں پہنچ کر ختم ہوئیں۔

پہلی جنگ عظیم میں خلافت عثمانیہ ختم ہوئی، پورا مڈل ایسٹ اس وقت اس خلافت کا حصہ تھا، دوسری جنگ عظیم یورپ اور جاپان میں لڑی گئی لیکن اس کے نتیجے میں اسرائیل بنا اور اس نے مڈل ایسٹ میں تیسری جنگ عظیم کی بنیاد رکھ دی، منگول بھی مڈل ایسٹ پر حملہ آور ہوتے رہے اور امیر تیمور بھی اسی کی اینٹ سے اینٹ بجاتا رہا اور سوم دنیا کی زیادہ تر معدنیاتی دولت مڈل ایسٹ میں چھپی ہے اور دنیا اس دولت کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتی اور چوتھی آپ مشرق سے مغرب کی طرف سفر کریں یا شمال سے جنوب کی طرف آئیں آپ کو بہرحال مڈل ایسٹ میں رکنا پڑتا ہے، یہ دنیا کا سنٹرل پوائنٹ ہے۔

دنیا میں تیل اور گیس کے سب سے بڑے ذخائر بھی مڈل ایسٹ میں ہیں، دنیا کے تین بڑے مذاہب عیسائیت، اسلام اور یہودیت بھی مڈل ایسٹ سے شروع ہوئے اور دونوں قبلے بھی اسی علاقے میں ہیں چناں چہ یہ خطہ خیر، شر اور خوش حالی تینوں کا مرکز ہے، یہ سولائزیشن کی یونیورسٹی بھی ہے، تہذیبوں نے یہیں سے جنم لیا تھا اور یہیں پر ختم ہوتی رہی تھیں چناں چہ ہم کہہ سکتے ہیں آدمیوں کا سفر اسی سرزمین سے شروع ہوا اور ان کا خاتمہ بھی اسی مقام پر ہوگا اور ہم بدقسمتی سے بڑی تیزی سے اس طرف بڑھ رہے ہیں۔

ہم اب آتے ہیں موجودہ لڑائی کی طرف، انسان نے دوسری جنگ عظیم میں ایٹم بم ایجاد کر لیا، یہ اب تک کی تاریخ کا تباہی کا سب سے بڑا سورس تھا، اس سے صرف امریکا کے دشمن نہیں گھبرائے بلکہ امریکا خود بھی ڈر گیا، کیوں؟ کیوں کہ یہ ٹیکنالوجی تھی اور انسان کا کمال یہ ہے یہ علم کو محدود نہیں رہنے دیتا، دنیا کے کسی کونے میں اگر کوئی شخص کوئی چیز ایجاد کر لے تو دوسرے انسانوں کو اسے سیکھنے میں زیادہ دیر نہیں لگتی، آپ سول ایوی ایشن، بجلی اور فون کو لے لیجیے، رائٹ برادرز نے 1903ء میں پہلا جہاز اڑا دیا، یہ بمشکل 8 سے 10 فٹ اونچا جا سکا اور اس نے صرف 12 سیکنڈ پرواز کی لیکن آپ انسان کا کمال دیکھیے اس نے پہلی اور دوسری دونوں جنگیں جہازوں کے ذریعے لڑیں اور یہ جہاز کی پہلی پرواز سے صرف 66 سال بعد چاند پر اتر چکا تھا۔

انسان نے اس کے بعد صرف 103 برسوں میں رائیٹ برادرز سے ایف 35 اور جے 35 تک کا سفر طے کیا، بلب 1879ء میں ایجاد ہوا لیکن یہ تیس چالیس برسوں میں آدھی دنیا تک پہنچ چکا تھا، ٹیلی فون گراہم بیل نے 1876ء میں ایجاد کیا، اس نے نسل انسانی کی تاریخ میں پہلی بار اپنی اسسٹنٹ کو اہوئے کہا، یہ ہیلو بنا اور پھر دس برس میں پوری دنیا میں ہیلو ہیلو ہو رہی تھی، انسان نے ہیلو سے سوشل میڈیا تک کا سفر 129 برسوں میں طے کیا لہٰذا امریکا جانتا تھا ہم بلاشبہ دنیا کی پہلی ایٹمی طاقت ہیں لیکن ہم واحد نہیں ہیں، ہم زیادہ دنوں تک اس میدان میں اکیلے نہیں رہیں گے اور اگر یہ ٹیکنالوجی ایک بار نکل گئی تو تیسری جنگ دنیا کی آخری جنگ ہوگی۔

امریکا یہ بھی جانتا تھا اگلا دور جغرافیہ کا نہیں معیشت کا ہوگا اور کرہ ارض پر صرف وہ قوم حکومت کرے گی جس کے ہاتھ میں دولت کی لگام ہوگی چناں چہ امریکا نے معیشت کی لگام اپنے ہاتھ میں رکھنے اور دنیا کو تیسری عالمی جنگ سے بچانے کے لیے چند بندوبست کیے، اس نے نیویارک میں اقوام متحدہ بنائی تاکہ دنیا کے تمام تنازعے امریکا میں حل کیے جا سکیں، اس نے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف بنایا تاکہ دنیا کی معیشت کو کنٹرول کیا جا سکے، اس نے عالمی تجارت کو قابو میں رکھنے کے لیے ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن بنائی، عالمی صحت کو اپنی نظروں میں رکھنے کے لیے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن بنائی، پوری دنیا کو ڈنڈا دکھانے کے لیے نیٹو بنائی اور پوری دنیا کو اپنی مٹھی میں رکھنے کے لیے ڈالر کو واحد انٹرنیشنل کرنسی بنایا اور یوں تمام طاقتیں امریکا کے ہاتھ میں آ گئیں اور امریکا دنیا کی واحد سپر پاور بن گیا، یہ کھیل ٹھیک چل رہا تھا لیکن پھر 2000ء میں ایک نیا کھلاڑی سامنے آیا اور اس نے امریکا کو ہلا کر رکھ دیا۔

جاری ہے۔۔

بہ شُکریہ: جاوید چوہدری ڈاٹ کام

About Javed Chaudhry

Javed Chaudhry

Javed Chaudhry is a newspaper columnist in Pakistan. His series of columns have been published in six volumes in Urdu language. His most notable column ZERO POINT has great influence upon people of Pakistan especially Youth and Muslims of Pakistan. He writes for the Urdu newspaper Daily Express four time a week, covering topics ranging from social issues to politics.