Sunday, 19 April 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Javed Chaudhry
  4. Great Game (2)

Great Game (2)

حضرت آدمؑ اور حضرت حواءؑ سے متعلق قرآن اور حدیث کیا کہتی ہے ہم اب اس طرف آتے ہیں۔ میں سب سے پہلے آپ کے سامنے قرآنی حوالہ جات رکھ رہا ہوں۔ قرآن مجید میں لفظ آدم چوبیس بار آیا ہے اور سات مقامات پر حضرت آدمؑ کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جب انسان کی تخلیق کا ارادہ فرمایا تو فرشتوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: بے شک میں زمین میں اپنا نائب (خلیفہ) بنانے والا ہوں، فرشتوں نے عرض کیا "کیا آپ زمین میں ایسی مخلوق بنائیں گے جو زمین میں فساد مچائے گی اور خون بہائے گی اور ہم آپ کی تسبیح بیان کرتے ہیں آپ کی تعریف کے ساتھ اور آپ کی بزرگی بیان کرتے ہیں۔

اللہ تعالی نے فرمایا: بے شک میں خوب جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ پھر فرمایا "ہم نے انسان (آدم) کو خشک بجتی ہوئی مٹی سے بنایا اور فرشتوں سے کہا: جب میں اسے پورا بنا چکوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب اس کے آگے سجدے میں گر جانا۔ اللہ تعالیٰ نے آدمؑ کو ساری چیزوں کے نام سکھائے پھر انہیں فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایا "اگر تمہارا خیال صحیح ہے (کہ خلیفہ بنانے سے زمین کا انتظام بگڑ جائے گا) تو ذرا ان چیزوں کے نام بتاؤ؟" فرشتوں نے عرض کیا "ہم تو بس اتنا ہی علم رکھتے ہیں جتنا آپ نے ہم کو سکھایا ہے، حقیقت میں سب کچھ جاننے اور سمجھنے والا آپ کے سوا کوئی نہیں ہے"۔

پھر اللہ تعالیٰ نے آدمؑ سے فرمایا "تم انہیں ان چیزوں کے نام بتاؤ" جب آدمؑ نے فرشتوں کو سب چیزوں کے نام بتا دئیے تو اللہ رب العزت نے فرمایا "میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں آسمانوں اور زمینوں کی ساری حقیقتیں جانتا ہوں جو تمہیں معلوم نہیں ہیں، جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو وہ بھی مجھے معلوم ہے اور جو تم چھپاتے ہو اسے بھی میں جانتا ہوں اور یاد کرو جب ہم نے فرشتوں سے فرمایا: آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے، وہ جنوں میں سے تھا تو وہ اپنے رب کے حکم سے نکل گیا تو (اے لوگو!) کیا تم اسے اور اس کی اولاد کو میرے سوا دوست بناتے ہو حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں، ظالموں کیلئے کیا ہی برا بدلہ ہے۔ (پھراللہ نے پوچھا) "اے ابلیس تجھے کیا ہوا کہ تو نے سجدہ کرنے والوں کے ساتھ سجدہ نہ کیا؟ حالانکہ میں نے اس بات کا حکم دیا ہے، اس نے کہا میں اس سے بہتر ہوں آپ نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے۔

شیطان نے جواب دیا: میرا یہ کام نہیں کہ میں اس بشر کو سجدہ کروں جسے آپ نے سڑی ہوئی مٹی کے سوکھے ہوئے گارے سے پیدا کیا ہے۔ اللہ رب العزت نے فرمایا: تو اس لائق نہیں کہ تکبر کرے پس یہاں سے نکل تو مردود ہے اور روز جزا (قیامت) تک تجھ پر لعنت ہے، ابلیس نے کہا "اے میرے رب! یہ بات ہے تو مجھے اس دن تک مہلت دے دیں جب سب انسان دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا "ٹھیک ہے تجھے مہلت ہے" ابلیس نے کہا: جیسا کہ آپ نے مجھے گمراہ کیا میں آدم اور اس کی اولاد کو بہکانے اور گمراہ کرنے کے لیے آپ کی سیدھی راہ پر تاک لگا کر بیٹھوں گا، پھر میں ان کے پاس ان کے سامنے سے اور ان کے پیچھے سے اور ان کے دائیں طرف سے اور ان کے بائیں طرف سے آؤں گا اور ان میں سے زیادہ تر انسانوں کو شکر گزار نہ رہنے دوں گا۔

فرمایا اللہ تعالیٰ نے نکل یہاں سے برے حال میں مردود ہو کر جو کوئی ان میں سے تیری راہ پر چلے گا تو میں تم سب سے دوزخ کو بھر دوں گا۔ (پھر فرمایا) اور اے آدم تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو پھر کھاؤ جہاں سے چاہو اور اس درخت کے پاس نہ جانا ورنہ تم ہو جاؤ گے گنہگاروں میں سے۔ پھر بہکایا ان کو شیطان نے تاکہ کھول دے ان پر وہ چیز جو ان کی نظر سے پوشیدہ تھی ان کی شرم گاہوں سے اور بولا تمہیں تمہارے رب نے اس لیے اس درخت سے روکا ہے کہ اس کو کھانے سے تم فرشتے بن جاؤ گے یا ہمیشہ زندہ رہنے والے ہو جاؤ گے اور ان کے سامنے قسم کھائی کہ میں تمہارا دوست ہوں پھر مائل کر لیا ان کو فریب سے۔ پھر جب چکھا ان دونوں نے درخت کو تو کھل گئیں ان پر شرم گاہیں (جنت کا لباس اتر گیا) اور وہ اپنے اوپر جنت کے پتے جوڑنے لگے اور پکارا ان کو ان کے رب نے کہ کیا میں نے منع نہ کیا تھا تم کو اس درخت سے اور کہہ دیا تھا تمہیں کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے۔

وہ دونوں (حضرت آدمؑ اور حواؑ) بولے: اے رب ہمارے! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر آپ نے ہماری مغفرت نہ کی اور ہم پر رحم نہ کیا تو ہم ضرور تباہ ہو جائیں گے۔ (اللہ تعالی فرماتے ہیں) اور اس سے پہلے ہم نے تاکید کر دی تھی آدمؑ کو پھر وہ بھول گئے اور ہم نے اس میں عزم نہ پایا اور جب کہا ہم نے فرشتوں سے! آدمؑ کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے۔ پس کہا ہم نے "اے آدم یہ تیرا اور تیری بیوی کا دشمن ہے، سو تم کو جنت سے نکلوا نہ دے پھر تم مصیبت میں پڑ جاؤ گے، بے شک جنت میں تو نہ تمہیں بھوک لگتی ہے اور نہ تم ننگے ہو (جنت کے لباس میں ہو) اور نہ تمہیں پیاس لگتی ہے اور نہ دھوپ، پھر وسوسہ ڈالا شیطان نے کہا، اے آدم! کیا میں تجھے بتاؤں (درخت حیات) ہمیشہ رہنے والا درخت اور بادشاہی جو کبھی پرانی نہ ہو پھر دونوں نے کھا لیا اس میں سے پھر کھل گئیں ان پر ان کی بری چیزیں اور وہ جوڑنے لگے ان پر جنت کے پتے اور حکم ٹالا آدمؑ نے اپنے رب کا پھر راہ سے بھٹکا۔

پھر نواز دیا اس کو اس کے رب نے پھر اس پر متوجہ ہوا اور راہ پر لایا، فرمایا اللہ تعالی نے، اتر جاؤ یہاں سے سارے تم ایک دوسرے کے دشمن ہو گے پھر جب پہنچے تم کو ہماری طرف سے ہدایت پھر جو ہماری بتائی ہوئی راہ پر چلے گا سو نہ تو وہ بھٹکے گا اور نہ تکلیف میں پڑے گا۔ حوالہ جات۔ سورۃ البقرہ، سورۃ الحجر، سورۃالکہف، سورۃ الاعراف، سورۃ الاسرا، سورۃ طٰہٰ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمؑ کے دونوں بیٹوں کا قصہ (ان کانام لیے بغیر) قیامت تک آنے والی نسلوں کے لیے عبرت اور نصیحت کے طورپر پیش کیا ہے۔

اللہ تعالیٰ اپنے نبی آخرالزماں ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے، (ترجمہ) "اے محمدﷺآپ ان کو آدم کے دونوں بیٹوں کے حالات بالکل صحیح صحیح پڑھ کر سنادیں۔ جب ان دونوں نے قربانی پیش کی تو ایک کی قربانی تو قبول ہوگئی اور دوسرے کی قبول نہیں ہوئی تو وہ (قابیل) کہنے لگا کہ میں تجھے قتل کردوں گا۔ اس (ہابیل) نے کہا کہ اللہ پرہیزگاروں ہی کی نذر (قربانی) قبول فرمایا کرتا ہے۔ اگر تو مجھے قتل کرنے کے لیے مجھ پر ہاتھ چلائے گا تو میں تیرے قتل کی طرف ہرگز ہاتھ نہیں بڑھائوں گا۔ مجھے تو اللہ رب العالمین سے ڈر لگتا ہے۔ میں تو چاہتا ہوں کہ تو میرا گناہ اور اپنے گناہ دونوں اپنے سر پر رکھ لے۔ پھر دوزخیوں میں شامل ہوجا۔ ظالموں کا یہی بدلہ ہے۔ پس اسے اس کے نفس نے اپنے بھائی کے قتل پر آمادہ کردیا اور اس نے اسے قتل کر ڈالا اور خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوگیا"۔ (سورۃ المائدہ، آیات 27تا30)۔

میں نے گزشتہ کالم میں ذکر کیا تھا ہابیل اور قابیل ایک ہی لڑکی سے شادی کرنا چاہتے تھے، وہ ابتدائی زمانہ تھا، اس دور میں جب دو فریق میں اختلاف ہوتا تھا تو وہ اللہ کے حضور قربانی پیش کرتے تھے جس کی قربانی قبول ہو جاتی تھی اس کے حق میں فیصلہ ہو جاتا تھا اور جس کی بھینٹ قبول نہیں ہوتی تھی وہ اپنے دعوے سے پیچھے ہٹ جاتا تھا، یہ دونوں بھی اپنی اپنی قربانی لے کر اللہ کے دربار میں پیش ہو گئے، ہابیل اپنے گلے کا سب سے اچھا جانور لے کر آیا جب کہ قابیل نے فصل کا چھوٹا سا حصہ پیش کر دیا، اللہ نے ہابیل کی قربانی قبول کرکے اس کے حق میں فیصلہ دے دیا، قابیل کو یہ فیصلہ منظور نہیں تھا، وہ حسد کی آگ میں جلنے لگا اور اس نے ایک دن موقع پا کر اپنے بھائی ہابیل کے سر میں پتھر مار کر اسے قتل کر دیا۔

میں آپ کو یہاں یہ واضح کردوں کہ قرآن کریم میں مذکورہ شادی کا کوئی تذکرہ ہے نہ حضرت آدمؑ کے صاحب زادوں کے نام موجود ہیں، بلکہ ناموں کے بجائے آدم کے "دو بیٹوں" کا کہہ کر ذکر کیا گیا ہے۔ قابیل نے جب ہابیل کو قتل کر دیا تو اس کے بعد اس کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ نعش کا کیا کرے، اس کا تذکرہ البتہ قرآن نے ضرور کیا ہے، سورۃ المائدہ میں اللہ تعالیٰ نے نعش کی تدفین کے بارے میں یوں فرمایا، ترجمہ: "اب اللہ نے ایک کوا بھیجا جو زمین کریدنے لگا تاکہ اسے دکھائے کہ اپنے بھائی کی لاش کو کس طرح چھپائے۔ کہنے لگا، ہائے افسوس! کیا میں اس کوے کی مانند بھی نہ ہوسکا کہ اپنے بھائی کی لاش چھپا دیتا۔ سو وہ پشیمان ہونے والوں میں سے ہوگیا"۔ (سورۃ المائدہ، آیت31)۔

اب میں آپ کے سامنے حضرت آدم علیہ اسلام کے بارے میں چند ایسی روایات پیش کررہا ہوں جن میں اس بات کا تذکرہ ہے کہ وہ کس دن پیدا کیے گئے، کب جنت میں داخل کیے گئے اور کب زمین پر اتارے گئے، کس مقام پر اتارے گئے۔ آپ یہ ملاحظہ کریں۔ امام مسلم اور ابوداؤد نے ابوہریرہؓ سے نقل کیا ہے کہ نبی کریمﷺنے فرمایا: سب سے بہتر دن جمعہ کا ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے آدمؑ کو پیدا کیا۔ اسی دن وہ جنت میں داخل کیے گئے، اسی دن جنت سے نیچے اتارے گئے، اسی دن ان کا وصال ہوا اور اسی دن اس کی توبہ قبول ہوئی اور اسی دن قیامت قائم ہوگی۔ یہی بات ابن عساکرنے ابن عباسؓ سے بھی نقل کی ہے۔

زمین پرنزول کے بارے میں روایات میں یہ بات ہے کہ انہیں (حضرت آدمؑ اور حضرت حواءؑ)کو علیحدہ علیحدہ جگہوں پر اتار دیا گیا مثلاََ امام بیہقی نے البعث اور ابن عساکرنے ابن عباس اور علیؓ سے نقل کیا ہے کہ آدمؑ کو سب سے پہلے ہند کی زمین پر اتارا گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کی آب و ہوا کو تروتازہ بنایا۔ ابن سعد اور ابن عساکرنے ابن عباسؓ سے نقل کیا ہے کہ آدم کو ہند میں اور حواء کو جدہ میں اتارا گیا پھر وہ حوا کی تلاش میں نکلے حتیٰ کہ مزدلفہ میں جمع ہوئے۔ حواء مزدلفہ میں آدمؑ کے قریب ہوئیں اسی لیے مزدلفہ کہلایا اور دونوں یہاں جمع ہوئے اس لیے اس کو جمعاء بھی کہا جاتا ہے۔

حضرت عبداللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں حضرت آدمؑ کو ہند میں اور حضرت حوا کو جدہ میں اتارا گیا۔ حضرت آدمؑ انہیں تلاش کرنے نکل گئے اور عرفات کے میدان میں ان دونوں کی ملاقات ہوئی۔ حضرت ضحاکؒ فرماتے ہیں: حضرت آدمؑ اور حضرت حواءؑ جدائی کے بعد 9ذی الحجہ کو عرفات کے مقام پر جمع ہوئے اور دونوں میں تعارف ہوا اس لیے اس دن کا نام عرفہ اورمقام کا نام عرفات (یعنی پہچاننے کی جگہ) ہوا۔

جاری ہے۔۔

حضرت آدمؑ اور حضرت حواءؑ کے حوالے سے یہ کچھ قرآنی ریفرنسز، احادیث اور کچھ تاریخی حوالہ جات میں نے آپ کے سامنے گوش گزار کر دیے ہیں، مزید اس حوالے سے آپ اگلے کالم میں ملاحظہ فرمائیں۔

About Javed Chaudhry

Javed Chaudhry

Javed Chaudhry is a newspaper columnist in Pakistan. His series of columns have been published in six volumes in Urdu language. His most notable column ZERO POINT has great influence upon people of Pakistan especially Youth and Muslims of Pakistan. He writes for the Urdu newspaper Daily Express four time a week, covering topics ranging from social issues to politics.