Thursday, 05 March 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Javed Chaudhry
  4. Arbon Ka Kya Qasoor Hai?

Arbon Ka Kya Qasoor Hai?

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے، یہ ففتھ جنریشن اور سٹیلتھ ٹیکنالوجی سے لیس ہے یعنی اسے دنیا کا کوئی جہاز، کوئی میزائل اور کوئی ریڈار پکڑ نہیں سکتا، اس کے پائلٹس بھی محفوظ رہتے ہیں، یہ ہر لحاظ سے پرفیکٹ ہے بس اس میں ایک کمی ہے اور اس کمی کو پٹرول یا آئل کہتے ہیں اگرفضا میں اس کا تیل ختم ہو جائے، اس کا آئل ٹینک لیک کر جائے یا بروقت یہ فیولنگ کے لیے کسی محفوظ اڈے پر نہ اتر سکے تو اس کے تمام سسٹم شٹ ڈائون ہو جائیں گے اور یہ گر کر تباہ ہو جائے گا، یہ پہلی مثال ہے۔

دوسری مثال اے آئی کلائوڈ ہے، امریکا نے ہفتہ 28 فروری کو آیت اللہ خامنہ ای کواس کلائوڈ کے ذریعے شہید کیاتھا، یہ دنیا میں اے آئی کلائوڈ کے ذریعے کسی ہائی ویلیو ٹارگٹ کو ہٹ کرنے کی پہلی مثال تھی، اے آئی کلائوڈ نے آیت اللہ خامنہ ای کی تلاش سے لے کر حملے اور حملے سے نعش کی تصویر تک سارا کام خود کار نظام کے ذریعے کیا اور یہ ہر لحاظ سے پرفیکٹ تھا، یہ اے آئی کلائوڈ بھی ہر لحاظ سے مکمل اور پرفیکٹ ہے بس اس میں بھی ایک خامی ہے اور اس خامی کو پاور (بجلی) کہتے ہیں، اگر بجلی چلی جائے اور بیک آپ بیٹریاں پاور لیس ہو جائیں تو سسٹم شٹ ڈائون ہو جائے گا اور دنیا کا یہ پرفیکٹ کلائوڈ بھی مفلوج ہو جائے گا، یہ حقیقت ہے ایف 35 کی طرح بجلی کے لیے بھی فیول چاہیے، آج بھی بجلی کی پیداوار کا فوری اور سب سے بڑا ذریعہ تیل ہے اگر دنیا میں تیل ختم ہوگیا تو اے آئی کلائوڈ سے لے کر ساری سوشل ٹیکنالوجی ٹھپ ہو جائے گی، یہ دوسری مثال تھی۔

آپ اب تیسری بھی ملاحظہ کیجیے، امریکا دنیا کی واحد سپر پاور ہے، اسے سپرپاور اس کے جوہری ہتھیاروں اور ٹام ہاک میزائل اور بی ٹو بامبر جیسے طیاروں نے بنایا اور اس وار ٹیکنالوجی کا مکمل انحصار آئل پر ہے اگر تیل ختم ہو جائے یا اس پر قبضہ ہو جائے تو بی ٹو بامبر اڑیں گے، میزائل چلیں گے اور نہ ہی نیوکلیئر بم ایکٹو ہو سکیں گے اور یوں سپر پاور ایک ہی رات میں ختم ہو جائے گی اور چوتھی مثال چین ہے۔

چین اس وقت پوری دنیاکا فیکٹری ایریا ہے، آپ دنیا کے کسی حصے میں ضرورت کی کوئی چیز اٹھا کر دیکھ لیں آپ کو اس کے نیچے "میڈ ان چائنہ" لکھا ملے گا، امریکا میں ہر سال چار جولائی کو نیشنل ڈے منایا جاتا ہے، اس دن پورے امریکا میں جھنڈے لہرائے جاتے ہیں، آپ یہ جان کر حیران ہوں گے چار جولائی کے 90 فیصد امریکی جھنڈوں کی پشت پر "میڈ ان چائنہ" کا سٹکر چسپاں ہوتا ہے، چین کی80 فیصد آبادی لادین ہے لیکن حجاز مقدس کی نوے فیصد جائے نمازیں اور تسبیحیاں چین سے درآمد ہوتی ہیں، ویٹی کن سٹی اور یروشلم کی دیوار گریہ کے سامنے ملنے والے مذہبی نشان بھی چین میں بنتے ہیں۔

دنیا میں سب سے زیادہ سولر پینلز اور سب سے زیادہ الیکٹرک گاڑیاں بھی چین بناتا ہے، وال مارٹ دنیا میں سٹورز کی سب سے بڑی چین ہے، اس کے ساڑھے دس ہزار سٹورز ہیں، ہر سٹور میں ڈیڑھ لاکھ اقسام کی مصنوعات ہوتی ہیں، اس کے کل ملازمین کی تعداد 21 لاکھ ہے، اگر ان سب کو فوجی یونیفارم پہنا دی جائے تو یہ دنیا کی سب سے بڑی فوج ہوگی جب کہ اگر وال مارٹ کی پارکنگز کا ایریا اکٹھا کیا جائے تو یہ امریکی ریاست فلوریڈا کے کل ایریا کے برابر ہوگا، وال مارٹ کے مالکان یعنی والٹن فیملی کے بارے میں کہا جاتا تھا، یہ لوگ اگر روز اپنے کسی دفتر، ویئر ہائوس یا سٹور کا دورہ کریں تو انہیں اپنے پہلے سٹور پر واپس آنے میں 37 سال لگیں گے اور یہ برینڈ ایک گھنٹے میں دو ملین ڈالر کماتا ہے لیکن آپ چین کا کمال دیکھیے وال مارٹ کی 83 فیصد مصنوعات چین سے آتی ہیں اور جس دن چین کی مصنوعات بند ہوگئیں اس دن وال مارٹ ختم ہو جائے گا اور یہ امریکا کی ایک کمپنی میں چین کے اثرات ہیں جب کہ امریکا کی نوے فیصد کمپنیاں وال مارٹ کی طرح چینی شکنجے میں ہیں اور چین کی اس ماس پرڈکشن کے پیچھے صرف ایک فورس ہے اور اس فورس کا نام آئل ہے اگر آئل ختم ہو جائے تو بجلی بند ہو جائے گی اور اگر بجلی بند ہوگئی تو فیکٹریاں بند ہو جائیں گی اور اگر فیکٹریاں بند ہوگئیں تو چین کا دیوالیہ نکل جائے گا اور اگر چین دیوالیہ ہوگیا تو دنیا کے ستر اسی فیصد برینڈز بند ہو جائیں گے اور اگر برینڈز بند ہوگئے تو پوری دنیا کا معاشی پہیہ رک جائے گا۔

لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں آئل ماڈرن لائف کا خون ہے، یہ ختم تو ماڈرن لائف یا سولائزیشن ختم چناں چہ پھر ہم یہ کہہ سکتے ہیں جس کے پاس آئل اور گیس ہوگی وہی سپر پاور ہوگا، صرف اسی کے میزائل، جہاز اور بم چلیں گے اور صرف اسی کی فیکٹریاں آباد رہیں گی دنیا میں اس وقت تیل کے سب سے بڑے ذخائر وینزویلا میں ہیں جب کہ سعودی عرب دوسرے، ایران تیسرے، کینیڈا چوتھے اور عراق پانچویں نمبر پر آتا ہے۔

گیس کے سب سے بڑے ذخائر روس کے پاس ہیں، دوسرے نمبر پر ایران، تیسرے پر قطرے، چوتھے پر ترکمانستان، پانچویں پر امریکا، چھٹے پر چین اور ساتویں نمبر پر وینزویلا آتا ہے، ہم اگر روس، ایران اور قطر کے ذخائر کو اکٹھا کرلیں تو یہ دنیا کا گیس کا 51 فیصد ذخیرہ بنے گا، دنیا میں اس وقت جو تیل نکالا جا رہا ہے اس میں امریکا پہلے، سعودی عرب دوسرے، روس تیسرے، کینیڈا چوتھے، چین پانچویں، عراق چھٹے، ایران ساتویں، برازیل آٹھویں، یو اے ای نویں اور کویت دسویں نمبر پر آتا ہے، ہم اگر ان دس ملکوں کا جغرافیہ دیکھیں تو سعودی عرب، عراق، ایران، یو اے ای اور کویت یعنی پانچ ملک گلف میں واقع ہیں، گیس کا 51 فیصد حصہ بھی اسی خطے میں ہے گویا سولائزیشن کا پچاس فیصد انحصار خلیج فارس یا بحرہ عرب پر ہے، اس وقت دنیا کا 47 فیصد آئل اور 50 فیصد گیس عرب ملکوں سے آ رہی ہے جب کہ روزانہ 20 سے 25 فیصد آئل خلیج فارس کی آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے اور یہ مقام ایران کے قبضے میں ہے، تیل اور گیس کی اس اہمیت سے امریکا اور چین دونوں واقف ہیں۔

امریکا دوسری جنگ عظیم کے بعد ان ذخائر پر قابض ہوگیا تھا جب کہ چین نے 1980ء کی دہائی میں اس فیلڈ میں قدم رکھا اور یہ آہستہ آہستہ آگے بڑھتا چلا گیا یہاں تک کہ یہ دنیا میں تیل کا سب سے بڑا خریدار ہوگیا اور امریکا کے مقابلے میں کھڑا ہوگیا لیکن اس کے باوجود آئل اور گیس کی مارکیٹ پر امریکا کی اجارہ داری رہی مگر پھر چین نے دنیا کے سب سے بڑے خریدار کا کارڈ کھیلا اور آئل کے تین بڑے ذخائر وینزویلا، ایران اور کینیڈا کو ہاتھ میں لے لیا، یہ سودا امریکی آئل کمپنیوں کو قبول نہیں تھا چناں چہ یہ لوگ 2017ء میں پہلی بار ڈونلڈ ٹرمپ کو وائیٹ ہائوس میں لے آئے، ٹرمپ نے پہلے دور میں چین کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی لیکن یہ کام یاب نہ ہو سکا لہٰذا آئل کمپنیاں اسے دوسری بار لے کر آئیں اور اس نے آتے ہی دنیا کے کڑاکے نکال دیے۔

آپ اگر ٹرمپ کے پچھلے ایک سال کا تجزیہ کریں تو یہ آپ کو صرف آئل کی پاور کنٹرول کرتا نظر آئے گا یہاں تک کہ غزہ کا بورڈ آف پیس بھی تیل پیدا اور خریدنے والے ملکوں پر مشتمل ہے اور اس کا مقصد آئل پر کنٹرول کو مزید مضبوط بنانا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ نے 3 جنوری 2026ء کو وینزویلا پر حملہ کیا اور یہ صدر نکولس مادورو اور اس کی اہلیہ کو اٹھا کر نیویارک لے آیا، وینزویلا میں مرضی کی حکومت بنائی اور اس کا تیل ان امریکی کمپنیوں میں بانٹ دیا جو ٹرمپ کو اقتدار میں لے کر آئی تھیں، اس نے اس کے بعد ایران پر حملہ کر دیا، ایران کا نیوکلیئر پروگرام محض بہانہ تھا اصل ٹارگٹ ایران کا تیل اور گیس ہے اگر نیوکلیئر ایشو ہوتا تو ایران حملے سے دو دن قبل جنیوا میں یورینیم کو 60 فیصد سے ڈی گریڈ کرکے 3 اعشاریہ 6 فیصد تک لانے کے لیے تیار ہوگیا تھا، اس کے بعد حملے کا کوئی تک نہیں بنتا تھا جب کہ امریکا نے فوری حملہ کر دیا، کیوں؟ کیوں کہ اسے یہ خطرہ پیدا ہوگیا تھا ایران ہماری ساری شرائط مان لے گا جس کے بعد حملے کا کوئی جواز نہیں رہے گا لہٰذا اصل ایشو آیت اللہ، ایران کی حکومت اور نیوکلیئر پروگرام نہیں تھا اصل مسئلہ ایران کا تیل اور گیس ہے۔

ہم اب اس سوال کی طرف آتے ہیں ایران چار دن سے مسلسل قطر، عراق، بحرین، یو اے ای، سعودی عرب اور اردن پر حملے کر رہا ہے، امریکا ان ملکوں کی حفاظت کیوں نہیں کر رہا، اس کی وجہ بھی بہت دل چسپ ہے، عرب ملکوں کی آبادی کم لیکن وسائل بے شمار ہیں، برطانیہ اور امریکا ان وسائل سے لطف اندوز ہونے کے لیے یہاں پہلے کم زور بادشاہت لے کر آئے اور پھر یہ ان بادشاہوں کو دفاع کے نام پر لوٹنے لگے، امریکا نے پورے گلف میں درجنوں اڈے بنائے، ان میں اپنے ہزاروں فوجی کھپائے اور پھر عربوں کو کھربوں ڈالرز کا دفاعی سازوسامان بیچا، امریکا اس کے ساتھ ساتھ ڈویلپمنٹ کے نام پر بھی عرب ملکوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹتا رہا۔

آپ کسی عرب ملک میں چلے جائیں آپ کو وہاں ہزاروں کی تعداد میں بلند عمارتیں، پانچ پانچ رو کی ہزاروں کلومیٹر لمبی سڑکیں، سمندر کے اندر شہر اور بیس بیس کلومیٹر لمبے ائیربیس ملیں گے، گلف کے تمام ممالک کی ائیرلائینز بین الاقوامی ہیں اور ان کے پاس دنیا کے سب سے بڑے ایروپلین فلیٹس ہیں، آپ اگر قطر ائیرویز، ایمریٹس، اتحاد ائیرلائین، سعودی ائیرلائین اور کویت ائیر ویز کے جہاز اکٹھے کرلیں تو یہ دنیا کا سب سے بڑا بیڑا بن جائے گا، ان ملکوں نے یہ جہاز کس سے خریدے؟ جی ہاں امریکا اور یورپ سے اور ان ائیرلائینز کو چلا کون رہا ہے؟ جی ہاں اسرائیلی کمپنیاں چناں چہ امریکا، یورپ اور اسرائیل نے عربوں کو ڈیفنس کے نام پر بھی لوٹااور ڈویلپمنٹ کے نام پر بھی ان کی جیبیں خالی کیں اور اگر اس کے بعد بھی ان کے پاس رقم بچ گئی تو یہ عربوں کو سرمایہ کاری کا لالچ دے کر یہ رقم بھی سمیٹ کر لے گئے۔

آپ یقیناََ اس حقیقت سے بھی واقف ہوں گے عربوں کا سارا سرمایہ امریکا اور یورپ کے بینکوں میں پڑا ہوا ہے یا لندن، پیرس اور نیویارک کی پراپرٹی میں دفن ہے چناں چہ یہ لوگ عربوں کا تیل بھی لے گئے اور سرمایہ بھی، اس جنگ کے بعد بھی یہی ہوگا، جنگ کے بعد عرب ملکوں کی تعمیر نو شروع ہوگی، صحرائوں میں نیو کلیئر بنکر بنائے جائیں گے تاکہ عرب کھرب پتی اگلی جنگ کی صورت میں ان میں پناہ لے سکیں، ائیرپورٹس بھی ری پیئر ہوں گے، زخمی جہازوں کی جگہ نئے جہاز خریدے جائیں گے اور تباہ حال عمارتوں کی انشورنس کے لیے بھی نئے قوانین بنائے جائیں گے اور اس کا مالی فائدہ کس کو ہوگا؟ امریکا، یورپ اور اسرائیل کی کمپنیوں کو ہوگا چناں چہ پھر امریکا کو عربوں کی حفاظت کی کیا ضرورت ہے؟

دوسرا اگر مسلم دنیا آپس میں لڑ کر کم زور ہو جاتی ہے یا یہ ایک دوسرے کو مار کر تباہ ہو جاتے ہیں تو اس کا بھی اسرائیل، یورپ اور امریکا کو فائدہ ہوگا لہٰذا پھر اسے عربوں کو ایران سے بچانے کی کیا ضرورت ہے؟ ہمیں اب یہ نقطہ سمجھ آ جانا چاہیے یہ اسلام اور عیسائیت یا اسلام اور یہودیت کی جنگ نہیں یہ تیل اور گیس کی لڑائی ہے اور امریکا ان دونوں پر مکمل قبضہ چاہتا ہے، یہ چین میں انرجی کرائسیس پیدا کرکے اس کی فیکٹریاں بند کرنا چاہتا ہے اور یہ عربوں کا سارا سرمایہ چوری کرکے انہیں بھکاری بنانا چاہتا ہے، کہانی صرف اتنی ہے اگر یہ جنگ یہودیت اور اسلام یا اسلام اور عیسائیت کی ہوتی تو ڈونلڈ ٹرمپ عیسائی ملک وینزویلا پر حملہ کیوں کرتا اور یہ عیسائی صدر نکولس مادورو کو اغواء کرکے نیویارک کیوں لاتا اور یہ عیسائی ملک کینیڈا کے عیسائی صوبے البرٹا میں علیحدگی پسندی کی تحریک کیوں چلاتا؟

مسئلہ صرف تیل ہے اور یہ تیل اگر وینزویلا میں ہوگا تو امریکا اس پر حملہ کرے گا، اگر ایران میں ہوگا تو یہ ایران پر حملہ کرے گا اور اگر یہ البرٹا میں ہوگا تو امریکا اسے کاٹ کر کینیڈا سے الگ کر دے گا مسئلہ بس صرف یہ ہے اگر آپ کو اب بھی یقین نہیں آ رہا تو پھر آپ میرے ایک سوال کا جواب دیجیے، امریکا تمام تر جوہری گستاخیوں کے باوجود شمالی کوریا پر حملہ کیوں نہیں کر رہا؟ کیوں کہ اس کے پاس تیل نہیں ہے اور اگر تیل ہوتا تو یہ ایران اور وینزویلا سے پہلے شمالی کوریا میں بیٹھا ہوتا۔

بہ شُکریہ: جاوید چوہدری ڈاٹ کام

About Javed Chaudhry

Javed Chaudhry

Javed Chaudhry is a newspaper columnist in Pakistan. His series of columns have been published in six volumes in Urdu language. His most notable column ZERO POINT has great influence upon people of Pakistan especially Youth and Muslims of Pakistan. He writes for the Urdu newspaper Daily Express four time a week, covering topics ranging from social issues to politics.