Sunday, 22 February 2026
  1.  Home
  2. Nai Baat
  3. Hameed Ullah Bhatti
  4. Mah e Ramzan Ke Ba Barkat Ayyam

Mah e Ramzan Ke Ba Barkat Ayyam

اللہ کے ہم جیسے بندوں پر بے شمار انعامات ہیں جن میں سے ایک اہم انعام رمضان کے بابرکت ایام ہیں۔ اِس پر جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے۔ اللہ اپنے بندوں کی بخشش نہ چاہتا تو ایسے انعامات سے ہر گز نہ نوازتا۔ حضور نبی کریم ﷺ نے رمضان المبارک کی بڑی فضیلت بتائی ہے۔ آپﷺ اکثر اِسے پانے کی دعا فرماتے اِس بابرکت مہینے سے اتنی محبت فرماتے کہ ماہ شعبان سے ہی نفلی روزوں کے اہتمام کا آغاز کردیتے۔

حضرت انس بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ جب ماہ رجب کا آغاز ہوتا تو آپﷺ دعا فرمایا کرتے اے اللہ ہمارے لیے رجب اور شعبان کو بابرکت بنا اور رمضان نصیب فرما جس ماہ مقدس کو پانے کی پیارے آقاﷺ دعا فرمائیں وہ کتنا بابرکت ہوگا۔ شاید اِس کا صحیح معنوں میں ہم جیسے عاجز بندوں کے لیے اندازہ لگانا مشکل ہے کیونکہ آپﷺ نے رمضان کے چاند کو بھی خیر و برکت کا چاند کہا ہے۔ اِس ماہ مقدس کو اگر عبادات، مناجات کے ساتھ رحمت و مغفرت کا مہینہ کہیں تو یہ بھی عین درست ہوگا رمضان میں مسلمانوں کی روحانی تربیت ہوجاتی ہے جس کا عکس اگر عملی زندگی میں نظر آنے لگے تو دنیا و آخرت میں کامیابی یقینی ہے۔

سحری و افطاری کو معمول بنانے کے بھی بے پناہ فیوض و برکات ہیں۔ پیارے آقاﷺ سحری سے روزے کا آغاز فرماتے حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا سحری کھایا کرو اِس میں برکت ہے۔ سحری کے حوالے سے آپ ﷺ کا فرمان ہے کہ سحری کرنے والوں پر اللہ کی رحمت ہوتی ہے۔ سحری میں زیادہ تاخیر اور افطار میں جلدی کی روایات ہیں۔ سحری کی تاکید فرمانے میں علمائے کا اتفاق ہے کہ اِس طرح روزے کو مشکل تر بنانے کی بجائے آسان رکھنے کی حکمت ہے تاکہ بندہ مومن کو عبادات کے علاوہ امور کمزوری کی وجہ سے مشکل پیش نہ آئے اور وہ معمولاتِ زندگی ادا کرنے کے قابل رہے۔ دینِ اسلام کتنا سادہ، عام فہم اور مکمل ضابطہ حیات ہے کہ اِس میں ہر پہلو کے حوالے سے وضاحت ہے اور آسانی ہے بے شک اللہ غفور و رحیم ہے اور پیارے آقاﷺ رحمت العالمین ہیں۔

رمضان میں اللہ کے حکم پر بندہ مومن دن بھر بھوک و پیاس کے باوجود نہ کچھ کھاتا ہے اور نہ ہی کچھ پیتا ہے یہ اِس امر کا اعلان ہے اللہ کے نیک بندوں کو اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لیے پیارے آقا ﷺ کے بتائے راستے پر چلنا پسند ہے اسی طرح اگر دن بھر کچھ نہ کھاتا اور نہ پیتا ہے تو جھوٹ بولنے سمیت دیگر برائیوں سے بھی بچنے کی کوشش کرتا ہے اسی لیے اِس مہینے کو اسلام میں ایک خاص اور اہم مقام ہے اور اِس ماہِ مقدس کا اسلام کے بنیادی ارکان میں شمار ہوتا ہے۔ سحری کی تیاری سے قبل جاگنے کی وجہ سے تہجد کے نوافل کی ادائیگی بھی باآسانی ممکن ہے جو قربِ الٰہی حاصل کرنے اور دعاؤں کی قبولیت کا بہترین وقت ہے جب بندہ نیند کو چھوڑ کر اپنے خالق و مالک و رازق کے سامنے جھکتا ہے تو اللہ اُس کے درجات بلند کردیتا ہے یہی حبِ الٰہی روزِ محشر نجات کا باعث بنے گی۔

ماہِ رمضان کی فضیلت سے متعلق سورہ بقرہ میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے، ماہ رمضان میں قرآن نازل کیا گیا جو بنی نوع انسان کے لیے ہدایت ہے یہ ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے جو راہ ہدایت دکھانے والی اور حق و باطل میں فرق کھول کر رکھ دینے والی ہیں۔ لہذا جو بھی ماہِ رمضان کواپنی زندگی میں پائے اُس پر لازم ہے کہ پورا مہینہ روزے رکھے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اِس کی جزا دوں گا۔ جس کا وعدہ اللہ کرے اُس کے پورا ہونے پر تو شک بنتا ہی نہیں لہذا مومنو وقت ہے عبادت کا ریاضت کا اور اجر کمانے کا، دستیاب وقت سے فائدہ اُٹھا لیں اور اپنی زندگی کو اللہ اور اُس کے رسولﷺ کے بتائے راستے کے مطابق کرلیں تاکہ دنیا و آخرت میں کامیابی ہو۔

اللہ کی رضا کے لیے روزہ رکھنا یہ ہے کہ کھانے پینے کی اشیا سے دور رہنے کے ساتھ کانوں کا بھی روزہ رکھا جائے جس کے لیے ضروری ہے کہ ایسے بُرے کلمات سُننے سے پرہیز کیا جائے جنھیں پیارے آقاﷺ نے ناپسند کیا ہو آنکھ کا روزہ یہ ہے کہ کوئی ایسے مناظر یا کوئی چیز دیکھنے سے گریز کیا جائے جسے دیکھنے کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں اسی طرح زبان کا روزہ یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ اللہ کا زکر کرے اور پیارے آقاﷺ پر درود بھیجے۔

غیبت، بداخلاقی، بدزبانی اور بُرے کلیمات کی ادائیگی سے مکمل اجتناب روزے کی قبولیت اور اجر بڑھانے میں مددگار ہوتا ہے مزید براں یہ کہ جسم کے ہر اعضا کا روزہ یہ ہے کہ اُن کا اللہ کی نافرمانی میں استعمال نہ ہو اعمالِ صالح روزے کی قبولیت و اجر کے لیے نہایت ضروری ہیں۔ جس طرح ماہِ رمضان میں عبادات کے اجر و ثواب میں اضافہ ہوجاتا ہے اُسی طرح صدقہ و خیرات کا اجر و ثواب بھی کئی گُنا بڑھ جاتا ہے۔ پیارے آقا ﷺ کی زندگی ہمارے لیے اسوہ حسنہ ہے حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ پیارے آقا ﷺ ویسے تو ہمیشہ ہی بھلائی کے کاموں کو اولیت دیتے اور سخاوت فرماتے مگر رمضان میں بہت زیادہ سخاوت فرماتے۔

ماہ رمضان کی بابرکت ساعتیں دستیاب ہیں تو آئیے مومنو اِس میں سے زیادہ سے زیادہ حصہ لینے کی کوشش کریں اِس ماہ مقدس میں غربا و مساکین کو مت بھولیں اور اللہ کے دیے گئے مال و دولت سے مناسب حصہ اللہ کی راہ میں خرچ کریں یاد رہے کہ بھوکے پیاسے ہمسائے سے بے خبری کے متعلق بھی قیامت کے روز پوچھ تاچھ ہوگی یہ مال و دولت، صحت اور مقام و مرتبہ جیسی نعمتیں سب عارضی ہیں ہمیشہ ساتھ رہنے والے اعمالِ صالح ہیں تو اِس مبارک ماہ عہد کرلیں کہ کسی کا دل نہیں دکھائیں گے کسی کا حق نہیں کھائیں اللہ کی دی نعمتوں کو مخلوقِ خدا کی خدمت کا وسیلہ بنائیں گے اور عبادت و ریاضت سے دنیا کے ساتھ آخرت سنواریں گے۔ اللہ نیتوں کے حال جانتا ہے وہ غفور و رحیم ہے وہ ہماری لغزشیں، کوتاہیاں اور بھولیں معاف فرمائے گا انشااللہ۔