میں جب پنجاب بیس اردو میڈیا کی منافقت اور پیٹ پرستی پر بات کرتا ہوں تو میرے بہت سارے دوست احباب ناراض ہوجاتے ہیں وہ کہتے ہیں "تم ایک متعصب اور تنگدل شخص ہو یہ بھی کہ پنجاب میں رہتے ہو اور۔۔ " میں ان دوست و احباب کی باتوں اور طعنوں کا بُرا نہیں مناتا منانا بھی نہیں چاہئے البتہ ان میں سے کچھ دوستوں کی یہ بات درست ہے کہ اردو میڈیا کے مالکان کی اکثریت مخصوص ذہنیت کی حامل ہے۔
نصف صدی سے کچھ اوپر کے ماہ و سال اردو میڈیا میں قلم مزدوری کرتے ہوئے بیت گئے یہ مشقت ابھی جاری سانسوں کی ڈور ٹوٹنے تک جاری ہی رہے گی کیونکہ مجھے اور کوئی کام بھی نہیں آتا یہاں تک کے دم درود اور تعویز گنڈے والا بھی نہیں ابا جان ترکے میں ولدیت اور نسب کے سوا کچھ نہیں چھوڑ گئے ان کے میرے نظریات میں سات سمندر حائل رہے اور ہیں لیکن ولدیت کے خانے میں ان کا اسم گرامی لکھتے ہوئے کبھی شرمندگی نہیں ہوئی۔
وہ اپنے نظریات پر پورے اخلاص سے قائم رہے یہاں تک کہ انہی نظریات پر قربان ہوگئے۔ تابوت میں بند ان کا جسد خاکی جب افغانستان سے خونی برج ملتان میں واقع ہمارے گھر لایا گیا تو چہرے کا وہی حصہ تابوت میں لگے شیشے کے سامنے تھا جو سلامت تھا اس حصے پر موجود اطمینان بھری مسکراہٹ سے میں نے یہ سبق حاصل کیا کہ انسان کا نظریہ جو بھی ہو اسے اس پر کامل استقامت سے عمل کرنا چاہئے۔
ساعت بھر کیلئے رُکیئے میں یہ عرض کیئے دیتا ہوں کہ نظریہ عمل کرنے کیلئے ہوتا ہے اوڑھنے کے لئے نہیں مطلب یہ کہ جو نظریہ آپ کو خانگی ذمہ داریوں سے فرار سیکھائے وہ نظریہ نہیں سراب ہوتا ہے سرابوں کے تعاقب میں جان اور خاندان کو جوکھم میں ڈالنا خود لذتی کے سوا کچھ نہیں۔
معاف کیجے بات کہیں سے شروع ہوئی اور کسی دوسری طرف نکل گئی سچ پوچھیں تو یہ بے اختیاری ہے ستاسٹھ برس کے سفر حیات میں نقد تجربے اٹھاون ساڑھے اٹھاون برسوں کے ہیں اب پچھلے چند برسوں سے میں جب لکھنے لگتا ہوں تو تجربے و مشاہدے اور ہڈبیتی کی باتیں خود بخود تحریر کا حصہ بن جاتی ہیں۔
خدا لگتی کہوں کہ خود ستائی کا خبط ہے نہ خودلذتی مرغوب بس یہ خواہش ہے کہ وقت اور حالات نے جو اسباق پڑھائے انہیں لفظوں کی زبان دینی چاہئے تاکہ نئی نسل کی بساط مطابق رہنمائی ہوسکے۔
خیر ہم اپنے اصل موضوع کی جانب پلٹتے ہیں میں پنجاب بیس منافق اردو میڈیا کا ناقد ہوں اس کی بہت ساری وجوہات ہیں اہم ترین وجہ یہ ہے کہ یہ پنجاب بیس اردو میڈیا اپنے قارین اور تقریباً دوعشروں سے بنے ناظرین کی آواز نہیں بنتا بلکہ اشرافیہ کے مختلف الخیال طبقات اور اسٹیبلشمنٹ کے چوبداروں کا ہمنوا ہے۔
آزادی اظہار کے حوالے سے اس کے سارے دعوے ایک رنگین سرکاری اشتہار کی مار ہیں آجکل تو ویسے ہی اس پر رنگین سرکاری اشتہارات کی بارش ہو رہی ہے سادہ لفظوں میں یوں کہہ سمجھ لیجے کہ آزادی اظہار کا مقصد میڈیا مالکان کے مفادات ہیں اس میں قصور کس کا ہے یا یہ کہ میڈیا ہاوسز میں کام کرنے والے صحافی قارین و ناظرین کے سامنے کسی بھی معاملے کے دونوں رخ رکھنے سے کیوں قاصر ہیں؟
اس کا جواب یہ ہے کہ ویج بورڈ کا اطلاق نہیں ملازمتیں عارضی معاہدوں پر ہیں کارکن صحافیوں کی یونینیں کب کی تیل لینے گئی ہوئی ہیں غیر اعلانیہ طور پر یونینز کے فرائض پریس کلبوں نے سنبھال رکھے ہیں ان حالات میں آپ قلم مزدوروں کی بڑھکوں سے جی بہلایا کیجے یا ان جمہوری نابغوں کی کہہ مکرنیوں پر جنکا ہردور میں مخصوص ایجنڈا ہوتا ہے یہ ایجنڈا واقعی ان کے ذاتی شعور کی دین ہوتا ہے یا کہیں سے تھمایا گیا؟
یہ سوال اہم اور غور طلب ہے اب ایسا کرتے ہیں کہ اہم والی بانسری میں بجاتا ہوں اور غور آپ کیجے تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے۔
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اس لمبی چوڑی تمہید کا مطلب کیا ہے مطلب بھی ہے اور مقصد بھی گزشتہ روز آپ تک یہ خبر پہنچی ہوگی کہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے قلب میں واقع داتا دربار کے قریب ایک خاتون اپنی نو دس ماہ کی بچی سمیت کھلے مین ہول میں گرکر جاں بحق ہوگئیں۔ سعدیہ نامی خاتون کی نعش دوتین گھنٹے بعد آووٹ فال روڈ کے ڈرین سسٹم سے برآمد ہوئی جبکہ بچی کی نعش اگلی صبح یعنی جمعرات کو آوٹ فال روڈ کے ڈرین سسٹم سے ملی۔
خبر بس اتنی ہے لیکن یہ اصل خبر نہیں اس المناک واقعہ کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ سعدیہ نامی خاتون اپنے شوہر ساس دس ماہ کی بچی اور ایک عزیزہ کے ہمراہ شورکوٹ ضلع جھنگ سے لاہور کی سیر اور شہر میں مقیم چند عزیزوں سے ملنے کیلئے آئی تھی۔ یہ بدقسمت خاتون بچی شوہر ساس اور ایک عزیز کے ہمراہ بدھ 28 جنوری کی سپہر کے بعد لاہور کے عین قلب میں واقع حضرت سید علی ہجویری المعروف داتا گنج بخشؒ کے مزار پر سلام و فاتحہ خوانی کیلئے پہنچی مزار سے واپسی پر سعدیہ نامی یہ خاتون اپنی دس ماہ کی بچی کے ساتھ داتا دربار بھاٹی گیٹ کے قریب کھلے مین ہول میں گرگئی یہاں سے اس المناک واقعہ سے جڑی کہانی کا دوسرا مرحلہ شروع ہوا۔
اس دوسرے مرحلے میں پہلے پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے واقعہ کو فیک نیوز قرار دیا بعد ازاں پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر سمیت لاہور انتظامیہ کے بڑے چھوٹے نہ صرف اس واقعہ کے پیش آنے سے انکاری ہوگئے یہی نہیں بلکہ پنجاب بیس اردو میڈیا کا بڑا حصہ اسے فیک نیوز بتاتا رہا اسی دوران لاہور پولیس نے مین ہول میں بیٹی سمیت گرنے والی خاتون کے شوہر ساس اور ایک دوسرے عزیز کو گرفتار کرلیا۔
گرفتار شدگان پر جھوٹ بولنے اور بلاوجہ ماحول خراب کرنے کا الزام لگانے کے ساتھ پولیس کے روایتی انداز میں ان کی "تواضع" بھی گئی پولیس حکام گرفتار شدگان پر کسی تشدد اور ان کی تواضع سے انکاری ہیں بہر حال پہلے پہل واسا اور ٹیپا کے حکام ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالتے رہے بعدازاں جب موقع پر موجود شہریوں نے بہت شور مچایا تو ریسکیو آپریشن شروع ہوا۔ اڑھائی تین گھنٹے بعد سعدیہ نامی خاتون کی نعش آوٹ فال روڈ کے ڈرین سسٹم سے ملی نعش ملنے کے بعد پولیس کو صورتحال کی سنگینی کا ادراک ہوا لیکن اس مرحلے پر بھی چند وفاداران نے کوشش کی کہ مرحومہ سعدیہ کے شوہر اور ساس سے مرضی کی ایک تحریر پر ستخط و انگوٹھا لگوا لیا جائے۔
خاتون کی نعش ملنے پر ذرائع ابلاغ کو ہوش کی پھیرکی آئی اور وہ جو کچھ دیر پہلے واقعہ کو فیک نیوز قرار دینے پر مصر تھے اب دبے دبے لفظوں میں واقعہ کے رونما ہونے کی خبر دینے لگے مگر اس انداز میں کہ حادثہ خاتون یا اس کے شوہر کی غفلت اور لاپرواہی سے پیش آیا۔
سعدیہ نامی خاتون کی نعش بدھ کو شام گئے آوٹ فال روڈ کے ڈرین سسٹم سے ملی جمعرات کی صبح دس ماہ کی بچی کی نعش بھی اسی جگہ یعنی آوٹ فال روڈ سے ہی ملی اس المناک واقعہ نے جہاں جنت نظیر لاہور کی زمینی صورتحال کو دوچند کیا وہیں میڈیا پولیس واسا ٹیپا حکام اور شہری انتظامیہ کے علاوہ صوبائی وزیر اطلاعات اور پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر کی حقائق سے لاعلمی یا چشم پوشی کو عیاں کرکے رکھ دیا۔
یہ افسوسناک واقعہ لاہور کے قلب میں پیش آیا جاں بحق ہونے والی خاتون اور بچی کے ورثا کے ساتھ نامناسب سلوک کیوں کیا گیا، ہے کسی کے پاس اس سوال کا جواب؟
ہم یہاں پنجاب بیس اردو میڈیا کی کھلی منافقت پر ماتم کرکے وقت اور الفاظ برباد نہیں کرنا چاہتے وجہ یہی ہے کہ اردو میڈیا کا بڑا بلکہ غالب حصہ ایک تنگ نظر متعصب اور اشتہارات پرست ہے رنگین اشتہارات کی کشش اسے سچ بولنے دیکھانے نشر و شائع کرنے سے روکتا ہے یہی وجہ ہے کہ لاہور میں پیش آنے والے اس افسوسناک واقعہ کے بعد کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ اگر یہ واقعہ کراچی یا پشاور میں پیش آیا ہوتا تو میڈیا کی توپیں مسلسل گولہ باری کررہی ہوتیں۔
یہ موقف غلط بھی نہیں آپ اسے فیصل آباد میں فیکٹری کا بوائلر پھٹنے اور کراچی کے گل پلازہ میں آگ لگنے کے واقعات پر لاہور بیس اردو میڈیا کے رویوں اور نشریات سے سمجھ سکتے ہیں یہی اردو میڈیا کے بڑے اور غالب حصے کا حقیقی کردار و چہرہ ہے۔