Saturday, 31 January 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Rauf Klasra
  4. Awami Khidmat Bahana, Wazir e Azam House Nishana?

Awami Khidmat Bahana, Wazir e Azam House Nishana?

ابھی سے کہا جارہا ہے کہ مریم نواز صاحبہ اگلی وزیراعظم ہوں گی۔ بقول شیر افضل مروت فیلڈ مارشل کے CDF نوٹفیکشن کے وقت یہ طے ہوگیا تھا۔ مریم نواز بھی پچھلے دو سال سے صوبے میں کارگردگی دکھانے کی بھرپور کوشش کررہی ہیں۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر ان کا ایکشن نظر آرہا ہے، ہر چھوٹے موٹے ٹوئیٹ کا وہ خود جواب دیتی نظر آتی ہیں جس سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ وہ گورنس کے ایشو پر کتنی سنجیدہ ہیں اور صوبے کے عوام کی حالت بدلنےکو بے چین ہیں۔ لہذا اگر کل کلاں ملک ان کے حوالے کیا گیا تو وہ مایوس نہیں کریں گی۔

مریم نواز کی یہ ایکٹوٹی دیکھ کر مجھے 2008/2018 تک کے وزیراعلی پنجاب شہباز شریف یاد آتے ہیں جن کے مسلسل نوٹس سے ٹی وی سکرین پر بریکنگ چلتی تھیں۔ ہر بات پر ایکشن جس پر میڈیا اور عوام جھوم اٹھتے کہ واہ کیا وزیراعلی ملا ہے۔

ہر ضلع کے ڈپٹی کمشنرز انتظار کرتے تھے کہ کب وزیراعلی نوٹس لیں اور ٹی وی سے انہیں پتہ چلے کہ فلاں افسر کے خلاف کاروائی ہوگی۔ فلاں کو ہٹا دیا گیا ہے۔ فلاں کو معطل تو فلاں کو قید کر دیا گیا ہے۔ یوں ان سے بیوروکریسی ڈرنے لگی۔

پھر وہ صحافیوں کو ہیلی کاپٹر پر ساتھ لے جاتے اور وہاں سے بریکنگ نیوز چلتی تھیں کہ دیکھا شہباز کا جلال۔ ان کا تاثر بن گیا تھا کہ ان جیسا ایڈمنسٹریٹر کوئی نہیں۔ شہباز سپیڈ نام پڑ گیا اور ان کے مقابلے نواز شریف ڈھیلے ڈھالے اور یاروں دوستوں کے ساتھ کھانے پینے لطیفے یا بیرون ملک کے دورں میں مشغول۔

یوں سمجھا گیا شہباز شریف اسلام آباد آگئے تو بہت اچھا ہوگا۔

اب دو سال سے شہباز شریف وزیراعظم ہیں۔ اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی۔ آپ نے پھر کبھی سنا کہ انہوں نے اسلام آباد میں کسی ایشو پر کوئی نوٹس لیا، ٹکرز چلوائے ہوں یا کہیں سے لگا ہو وہ اس یتیم اور لاوارث شہر کے بھی وزیراعظم ہیں؟

سب ہوشیاری، سمجھداری، نوٹس پر نوٹس، بریکنگ، بیوروکریسی کو ٹائٹ، شہباز سپیڈ سب کچھ وزیراعظم بننے تک تھا۔ اب وزیراعظم بن گئے تو سب کچھ ختم؟ اب سب ٹھیک ہوگیا ہے۔ اب وہ جہاز سے نہیں اترتے۔

اب مریم نواز صاحبہ وہی اپنے چچا کا روٹ لی چکی ہیں کہ عوام کو لگے ہر بات پر ایکشن ہوتا ہے اور وہ بھی بہت انسان دوست اور فکر مند ہیں۔

مریم نواز صاحبہ کی نیت پر شک نہیں کرتے لیکن کیا کریں دودھ کا جلا چھاچھ کو بھی پھونکیں مار کر پیتا ہے۔ کبھی شہباز شریف کو اپنے گورنس ماڈل اور امیج کی بڑی فکر تھی، اب ان کی بلا سے اسلام آباد میں کوئی مرے کوئی جیے کوئی جنگلات درخت سبزے برباد کرے، اربوں روپے ناقص انڈرپاسز/ اوورفلائی پر ضائع کرے انہیں اب کوئی نوٹس/بریکنگ یا ٹکرز سے لینا دینا نہیں۔

اب تو رانا ثناء اللہ کہتے ہیں محسن نقوی کے سامنے ہم سب پانی بھرتے ہیں۔ مشاہد حسین کہتے ہیں گریڈ بیس کا بیوروکریٹ محمد علی رندھاوا ہی اکیلا شہباز شریف پر بھاری پڑ گیا ہے کہ وزیراعظم کے پاس تو چیرمین سی ڈی اے تک سے سوال/ہٹانے تک کی اجازت تک نہیں۔

تو کیا مریم صاحبہ کی بھی یہ ساری ایکٹوٹی/بھاگ دوڑ اور گورننس ماڈل بھی شہباز شریف کی طرح صرف وزیراعظم بننے تک محدود ہے پھر کوئی جیے یا مرے غرض نہیں یا واقعی وہ جو کچھ کررہی ہیں she means it too؟

About Rauf Klasra

Rauf Klasra

Rauf Klasra is a Pakistani journalist and Urdu language columnist. He files stories for both the paper and television whereas his column appears in Urdu weekly Akhbr-e-Jahaan and Dunya newspaper. Rauf was earlier working with The News, International where he filed many investigative stories which made headlines.